1761

اُستانی جی قسط 24

اس دفعہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پہلی والی پھدی  نہیں میں نے راحیلہ کی چوت میں لن ڈال دیا ہے کیونکہ آنٹی کی پھدی میں  راحیلہ کی چٹائی سے پانی کا سیلاب آیا ہوا تھا ۔۔۔۔اور چوت اندر سے کافی گرم ہو گئی تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے لن ڈالا اور گھسے مارنے لگا ۔۔۔ یہ دیکھ کر راحیلہ بھی جوش میں آ گئی اور ۔۔۔جیسے مجھے چود رہا تھا ۔۔۔۔ ایسے ہی اس بڑھیا کو بھی چود ۔۔۔ اور۔میں نے  آنٹی کی چوت میں بتتدریج گھسوں کی رفتار میں اضافہ کرنا شروع کر دیا اور ۔۔۔ آنٹی کی  تنگ چوت  کو بہت مارا۔۔۔۔۔  یہاں تک کہ میرے  لن سے پانی کا ۔۔۔اخراج نزدیک آ گیا اور  مجھے سرخ ہوتے دیکھ کر بولی ۔۔۔چھوٹنے لگے ہو؟ تو میں نے کہا یس۔۔۔ میں جا رہا ہوں ۔۔۔تو وہ بولی۔۔۔۔ اس بڑھیا کی چوت کو ۔ اپنی منی سے بھر دے ۔۔۔۔ اور اس کی بات سُن کر ہی میرے لن نے ۔۔۔۔۔  گاڑھے پانی کا سارا ۔۔۔رس ۔۔۔۔۔نفیسہ بیگم کی چوت میں اتارنا شروع کر دیا۔۔۔ 

  جب میرے لن  کا پانی پوری طرح سے آنٹی کی چوت میں  بہہ گیا ۔۔۔تو میں اٹُھا  اور آنٹی کی شلوار سے اپنا لن صاف کیااور کپڑے پہن کر راحیلہ کی طرف  اگلے اقدام کے بارے میں جاننے کے لیئے دیکھا تو ۔۔۔وہ بولی۔۔۔ تم اپنےگھر جاؤ ۔۔۔ میں سب سنبھال لوں گی۔۔۔۔چنانچہ میں نے جلدی سے گھر آگیا اور۔۔۔ بستر پر لیٹ کر آج کے حادثے کے بارے میں میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔ ابھی مجھے گھر آئے ۔۔کچھ ہی دیر ہوئی تھی ۔۔۔ کہ  ہمارے دروازے پر ایک ذوردار دستک ہوئی۔۔۔۔ پھر دوسری ۔۔۔۔۔پھر تیسری۔۔۔۔ اور پھر  ہمارا دروازہ مسلسل بجنے لگا۔۔۔۔ میں دوڑ کر باہر گیا اور دروازہ کھولا تو سامنے والی شخصیت کو دیکھ کر میرے پیروں تلے سے زمیں نکل گئی۔۔۔۔اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔۔۔ وہ شخصیت اور کوئی نہیں ۔۔۔نفیسہ بیگم کی تھی ۔۔اس کے بال  بکھرے ہوئے تھے اور اس کی آنکھیں  سُرخ  انگارہ  ہو رہیں تھیں اور ان سے شعلے نکل رہے تھے  اور  ایک وحشت ناچ رہی تھی۔۔۔۔۔ نفیسہ بیگم کو دیکھ کر جو پہلا خیال میرے ذہن میں آیا وہ بھاگنے کا تھا ۔۔۔۔ابھی میں بھاگنے کی سو چ ہی رہا تھا کہ نفیسہ بیگم آگے بڑھیں ۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہمارے  دروازے  کے عین سامنے کھڑی نفیسہ بیگم  نے مجھے  ایک دھکا  دیا  اور تیزی سے   گھر کے اندر داخل ہو گئی  اس کے پیچھے پیچھے میں بھی دروازے سے اندر آ گیا ۔۔اور پھر  جیسے ہی میں اس کی طرف  مُڑا  ۔۔۔ نفیسہ بیگم نے آگے بڑھ کر مجھے  گریبان سے پکڑ لیا اور  مجھ پر اوپر تلے تھپڑوں کی بارش کر دی  ۔۔۔ اور  کہنے لگی  حرامزادے   اس حرافہ کے کہنے پر میرے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی تھی ؟؟؟ ۔۔  تو میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور بولا ۔۔۔ آئی ایم سوری آنٹی لیکن  وہ موقع ہی ایسا بن گیا تھا ۔میری سوری والی بات  نے  گویا   جلتی  پر  تیل کا  کام کیا       اور وہ  مزید اشتعال  میں آ گئیں  اور انہوں نے اسی غصے کی حالت میں  ایک  زور دار  لات  مجھے رسید کی اور  بولی  ۔ موقعے کے بچے ابھی  بتاتی ہوں تیری ماں کو کہ تم نے میر ے ساتھ کیا حرکت کی ہے ۔امی کا زکر سُن کر حقیقتاً  میری گانڈ پھٹ گئی ۔۔اور میں جواب میں کوئی مناسب الفاظ تلاش  کر  ہی رہا تھا کہ  ۔۔۔  اتنے میں امی  جو  کہ محلے میں کسی ختم پر جانے کے لیئے تیار ہو رہیئں تھیں بھی  کمرے  سے باہر آ گئیں  اور وہ  نفیسہ آنٹی کا  حلیہ دیکھ کر ایک دم ٹھٹھک گئیں ۔۔ اور بڑے حیرت بھرے لہجے میں کہنے لگیں ۔۔ یہ تمہیں کیا ہوا   نفیسہ ؟   امی کا سوال سُن کر آنٹی نے   ایک نظر میری طرف دیکھ تو میں نے امی سے آنکھ بچا کر ا ن  کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔انہوں نے ایک نظر میرے بندھے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور ایک ٹھنڈی سانس بھر کر امی سے کہنے لگیں  ۔۔ کچھ نہیں یار ۔۔۔کل رات سے بڑا تیز  بخار چڑھا  ہوا  تھا ۔۔۔اور میں دوائی کھا کر سو گئی تھی ۔۔ابھی اٹُھی ہوں تو سارا جسم  درد کر رہا ہے سو میں یہاں آ گئی اور  سوچا  تمھارے بیٹے سے دوائی  منگوا لوں ۔۔آنٹی کی بات سن کر  میری جان میں جان آئی اور میں نے بڑے  ہی مشکور انداز میں آنٹی کی طرف دیکھ کر  ہلکا سا سر جھکا دیا ادھر آنٹی کی بات سُن کر امی نے کہا ارے نفیسہ  تم کیسی بات کر رہی ہو؟ یہ میرا نہیں تمھارا بھی بیٹا ہے ۔۔ پھر ان سے کہنے لگیں تم نے   ختم پر نہیں جانا ؟؟؟؟؟۔۔۔ تو ان کی بات سن کر نفیسہ بیگم کہنے لگی ۔۔۔ میری حالت کو تم دیکھ ہی رہی ہو ۔۔۔ خود ہی بتاؤ ایسی حالت میں میں تمھارےساتھ  سکینہ کے ختم پر جا سکتی ہوں ؟ تو امی نےنفیسہ بیگم  کی  طرف دیکھ کر ہمدردری سے سر ہلا یا اور بولیں ۔۔۔بات  تو تم ٹھیک کہہ رہی ہے   اس کے بعد امی نے میری طرف دیکھا اور بولیں ۔۔۔  بیٹا  آنٹی نے جو دوائی کہی ہے فوراً لا کر انہیں لا کر کھلاؤ  ۔۔۔ پھر اس کے بعد وہ آنٹی  کی طرف گھومیں اور بولیں ۔۔نفیسہ تم دوائی کھا کر یہیں ریسٹ کرو میں ختم سے ہو کر آتی ہوں اور اس کے ساتھ ہی امی حضور   ماسی سکینہ کے ختم پر جانے کے کیئے گھر سے نکل گئیں۔۔

امی کے جاتے ہی میں نے آنٹی کی  طرف  بڑی مشکور نظروں سے دیکھا اور بولا ۔۔۔آنٹی جی  آپ کا  بہت بہت  شکریہ  ۔۔۔  میری بات سُن کر  وہ کہنے لگیں ۔۔۔  مجھے ایک بات بتاؤ ؟ تو میں نے ان سے کہا آپ پوچھو  تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔  تمھارا اس گشتی کے ساتھ کب سے چکر چل رہا ہے تو میں نے جواب دیا ۔۔۔ آپ یقین کریں گی کہ آنٹی کہ آج میرا ان کے ساتھ  فرسٹ ٹائم  تھا۔۔۔ اور  اس سے قبل کہ وہ کوئی مزید بات کرتی میں نے ان سے کہا آنٹی جی کیمسٹ سے کون سی دوائی لانی ہے تو میری بات سُن کر وہ کہنے لگی میری دوائی کیمسٹ کے پاس نہیں بلکہ تمھارے پاس ہے ۔۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر خود ہی  ہمارا مین گیٹ لاک کیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر میرے  کمرے میں لے گئیں اور مجھے دھکا دیکر بستر پر گرا  کر  اپنی شلوار اتارتے ہوئے اشتعال انگیز لہجے میں  بولیں  ۔۔ گانڈو خود تو  فارغ ہو کر  بڑے  مزے سے گھر آ گئے  اور  مجھے  ویسے  کا ویسا ہی چھوڑ دیا اور  میں ان کی بات سُن کر حیران رہ گیا اور بِٹر بٹِر ان کی طرف دیکھنے لگا یہ دیکھ کر وہ تھوڑے جلال میں بولیں زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔جلدی سے  تم بھی اپنی شلوار اتارو۔۔۔ اور میں ان کا یہ  رویہ دیکھ کر حیران ہو گیاا ور دستی اپنی شلوار اتار کر  بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔

ادھر آنٹی نے بھی اپنی شلوار اتار دی   اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔اس وقت  ظاہر ہے کہ میرا  لن بیٹھا ہوا تھا  چنانچہ انہوں نے  میری طرف دیکھا اور بولیں ۔۔۔  اس وقت تو  بڑا  تنا  ہوا  کھڑا  تھا تمھارا ۔۔۔یہ۔۔۔ اور اب کیسے مرا  ہوا  ہے ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولیں کھڑا کر اسے ؟ تو میں نے کہا وہ جی جی۔۔۔ اور آنٹی کی طرف دیکھتے ہوئے  لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ ا اور اسے  ہلانے لگا  لیکن خوف کے مارے میرا لن کھڑا نہ ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر آنٹی بولی ۔۔رہنے دو  ۔۔۔ میں ہی کچھ کرتی ہوں اور پھر وہ میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گئیں اور میرا لن  ہاتھ میں  پکڑ کر بولیں ۔۔۔یہ   کیسے کھڑا ہو گا؟ تو میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ اگر آپ تھوڑا سا ۔۔۔منہ ۔۔۔ میں لے لیں تو یہ دستی کھڑا ہو جائے گا۔۔۔ میری بات سُن کر وہ کہنے لگی ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ منہ میں لینے  سے  تو مردے  کا بھی کھڑا ہو اور پھر وہ نیچے جھکی اور میرے لٹکے ہوئے بالز کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا  اور ان پر  اپنی زبان کی نوک کو  بڑے سویٹ  انداز  میں  پھیرنے  لگیں ۔۔۔۔۔۔  پھر اس کے بعد ان کی زبان میرے مرجھائے ہوئے لن کی طرف بڑھی اور پھر اچانک ہی  انہوں نے میرا لن اپنے منہ میں لیا اور ایک چوسا لگایا اور پھر فوراً  میرے لن کو اپنے ہی منہ سے نکال کر بولیں۔۔۔ آ کر دھویا نہیں تھا؟ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔سوری آنٹی فرصت ہی نہیں ملی ۔۔۔  میری بات سُن کر وہ  چُپ ہو گئیں اور دوبارہ سے لن کو منہ میں لیکر کر چوسنے لگیں ۔۔   

ان کی کوششوں سے میرا لن سر اٹُھانے لگا اور جیسے ہی  میرا لن نیم جان ہوا ۔۔ آنٹی نے لن کو منہ سے نکلا اور اس پر ہلکے ہلکے تھپڑ مارتے ہوئے ۔۔شہوت سے بھر پور لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ جلدی سے کھڑا ہو جا ۔۔ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔ تھوڑا صبر کر لیں ۔۔کھڑا  ہو جایئے گا آنٹی ۔۔۔ میری بات سُن رک انہوں نے بڑی  مجروح  ۔ نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں کوئی مجبوری ہے تو میں یہ کر رہی ہوں نا۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا شیخ صاحب کے ہوتے ہوئے  آپ کو کیا مجبوری ہے آنٹی ؟ میری بات سُن  کر وہ تڑپ اٹُھیں اور کہنے لگیں ۔۔۔ یقین کرو گے جب سے شیخ نے اس گشتی کے ساتھ شادی کی ہے میں نے ایک دن بھی اس کو  نہیں کرنے دیا ۔۔۔ نفیسہ بیگم کی بات سن کر میں  حیران ہو گیا اور حیرت سے پوچھا ۔۔۔  راحیلہ کے ساتھ شادی کو کتنا عرصہ ہو  گیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگیں پانچ سال۔۔۔ ان کی بات سے مجھے ازحد افسوس ہوا ۔۔۔ اور بولا ۔۔  لیکن کیوں آنٹی ؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔ کچھ بھی بس ضد۔۔۔!!!! کہ   میرے ہوتے ہوئے اس نے دوسری شادی کیوں کی ۔۔ اور پھر میرے لن کی طرف متوجہ ہوئیں   جو   اب فل  جوبن میں تو نہیں تھا لیکن  جوبن کے قریب قریب پہنچ  چکا  تھا  ۔۔۔یہ دیکھ آنٹی کھڑی  ہو گئیں ۔۔۔ اور پھر میرےلن کوہاتھ میں  پکڑتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو ادھر ادھر کیا اور  پھر میرے لن  کی  نوک کو  اپنی پھدی کے دانے کے  سامنے کیا اور اور پھر میرے لن کی نوک  کو اپنے دانے پر رگڑنے لگیں ۔۔۔۔ اتنی دیر میں میرا لن اپنے فل جوبن پر آ گیا اور  مستی میں  لہرانے لگا ۔۔ یہ دیکھ کر  انہوں نے  ایک نظر میرے لن کی طرف دیکھا  اور پھر میری طرف دیکھ کر بولیں بڑی جلدی کھڑ ا ہو گیا ہے ؟ 

ٹوپے کو اپنے دانے پر رگڑنے کے کچھ  انہوں نے لن کو پکڑ کر اپنے چوت کی موری پر رکھا اور آہستہ آہستہ اپنے اندر لینے لگیں  افُ ان کی چوت اتنی  ٹائیٹ تھی کہ میرا لن پھنس پھنس  کر ان کی چوت میں اترنے لگا  جب میرا   سارا  لن ان کی ٹائیٹ چوت میں اتر گیا تو وہ  تھوڑا  سا آگے جھکیں اور اپنی قمیض  کو  اوپر اٹُھا  لیا  اور اپنے پستانوں کو ننگا کر کے بولیں ۔۔۔  میں گھسے مارتی ہوں تم میرے پستان چوسو ۔۔۔  سو میں بستر پر لیٹے لیٹے   تھوڑا  سا اوپر کو اٹُھا اور اور ایک ہاتھ ان کی کمر پر رکھا اور اپنا منہ ان کے پستانوں کی طرف لے گیا اور دیکھا تو  ان کے دونوں پستانوں کے نپلز اکڑے کھڑے تھے  میں نے ان کے بائیں  پستان کو  اپنے  منہ میں ڈالا اور  اسے چوسنے لگا۔۔۔  دوسری طرف آنٹی میرے     لن  کو اپنی پھدی میں لیکر کر تھوڑا اور نیچے  ہو گئیں  اور مجھ پر  اس طرح  جھکیں کہ جس سے ان کی بالوں والی چوت  کا موٹا دانہ میرے لن کے اوپری حصہ سے ٹچ ہونے لگا ۔۔۔ اس طرف سے مطمئن ہونے کے بعد انہوں نے  اپنے   چوت اور دانے کو میرے جسم سے رگڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ پہلے ان کی سپیڈ  دھیمی تھی ۔۔۔ پھر تیز ہوئی ۔۔۔۔ اور پھر ان کی سپیڈ اپنی بلندیوں کو چھونے لگیں ۔۔۔ پیچھے سے وہ اپنی ٹائیٹ پھدی   میں میرا لن ان آؤٹ کر رہیں تھیں جبکہ آگے سے وہ  اپنا دانہ میرے جسم سے رگڑ رہیں تھیں ۔اور ساتھ ساتھ ان کے منہ سے لزت بھری سسکیوں کا طوفان بھی نکل رہا تھا ۔۔آہ ہ ہ ۔۔۔ ہوں ۔۔۔اوُں ں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔ ان کے  پستان چوسنے کے ساتھ ساتھ   مجھے ان کی ٹائیٹ پھدی کا اس قدر مزہ آ رہا تھا کہ  ایک دفعہ ان کا نپل منہ سے نکال کر میں نے ان سے پوچھا کہ۔۔آنٹی  جی آپ کی چوت کے ٹشو اتنے  ٹائیٹ کیوں ہیں؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔۔ ان کو ڈھیلا کرنے کے لیئے ہی تیرے پاس آئی ہوں ۔۔ پھر انہوں نے اپنے دھکوں کی سپیڈ  آہستہ کی اور خود ہی بولیں ۔۔۔۔  یہ جو تیرے لن کے گرد میری چوت کے ٹشو لپٹے ہوئے ہیں  اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ   میری پھدی کو تمھارے لن کی بڑی سخت  ضرورت ہے اور میں اسی ضرورت کے  ہاتھوں مجبور ہو کر تمھارے پاس آئی ہوں ۔۔۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ ۔۔۔آنٹی چوت کے یہ ٹشو کس طرح ڈھیلے ہو ں گے تو وہ  ۔۔گھسے مارتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔دیکھتے جاؤ ۔۔۔اور پھر تیز  تیز  گھسے  مارنے لگیں ۔۔ 

انہی گھسوں کے دوران  میں نے دیکھا کہ اچانک ہی آنٹی کا چہرہ لال سرخ ہو گیا تھا اور ان کی سانس لینے کی رفتار بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی ان کے منہ سے سسکیوں کے تعداد میں اضافہ ہونے لگا اور  پھر وہ چلانے لگیں ۔۔۔۔۔افُ۔ ف ف ف۔۔میں۔۔۔۔۔ میری پھ۔۔پھ۔۔دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ہ ۔۔۔۔۔ان کے منہ سے الفاظ  ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھےاور پھر رررر۔۔میں نے دیکھا کہ ان کی چوت کی ٹشو میرے لن کے گرد مزید ٹائیٹ ہو نا  شروع  ہو گئے   اور۔۔ اس کے ساتھ ہی آنٹی نے جم کر گھسے پہ گھسا  مارنا  شروع کر دیا   اور ۔۔۔پھر کچھ  ہی دیر بعد  میں نے محسوس کیا کہ ان کی چوت کو دیواروں سے پانی   بڑی سپیڈ سے نکل نکل کر نیچے کو بہنے لگا  تھا ۔۔۔۔ اور  پانی نکلنے کے ساتھ ہی  میرے لن  پر آنٹی کی چوت کی گرفت ڈھیلی ہونا شروع ہوگئی۔۔۔ یہاں تک کہ آخری گھسے پر بلکل ہی ختم ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی آنٹی نے اپنی  چوت سے میرا لن  نکلا اور بستر پر سیدھا  لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگیں۔۔۔۔  میں اٹُھا اور  اپنی ایک میلی بنیان  سے پہلے تو اپنا لن صاف کیا اور پھر آنٹی کی چوت  اندر   تک صاف کر دی۔۔۔ جب میں ان کی چوت کو صاف کر رہا تھا  تو اس وقت ان کے سانسوں کی رفتار کافی دھیمی پڑ چکی تھی ۔۔۔  سانس بحال ہوتے ہی انہوں نے مجھ سے پہلے سوال یہ کیا کہ کیا تم بھی فارغ ہو گئے ہو تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔یہ سن کر وہ کہنے لگیں میں  ہاتھ سے فارغ کر دو ں تو میں نے کہا نہیں آنٹی ۔ ایسے ہی ٹھیک ہے یہ سن کر وہ بولی۔۔۔اچھا  تو  مجھے

شلوار  پہنا دو ۔۔۔اور میں نے ان کو شلوار پہنائی تو وہ اٹُھیں اور بولیں ۔۔۔۔  بڑے عرصے بعد   چودائی سے اتنی  زبردست خماری چڑھی ہے پھر وہ چلتی ہوئیں امی کے کمرے میں گئیں اور بولی امی کے آنے تک مجھے  سونے دینا ۔۔۔۔اور امی کے بستر پر لیٹتے ہی سو گئیں ۔۔۔۔

آنٹی کے سوتے ہی میں سیدھا واش روم گھسا اور  نہا دھو کر ٹیوشن کے لیئے تیار ہو کر جیسے ہی میں گھر سے نکلنے لگا امی اور ان کی چند دوست  گھر میں داخل ہوئیں اور انہوں نے آتے ساتھ ہی  نفیسہ بیگم کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتلایا کہ وہ  تو اسی وقت سے  دوائی کھا کر آ پ کے  کمرے میں سو  رہی  ہیں  اور باہر گھر سے باہر نکل گیا ۔۔ ۔۔ اور پھر ندا میم کے گھر جا کر دستک دی تو جواب میں انہوں نے ہی دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر برس پڑیں اور بولیں ۔۔  اتنی لیٹ۔!!!! میں کب سے تمھارا انتظار کر رہی تھیں پھر کہنے لگیں تم یہیں رکو میں ابھی آئی ۔۔ اور پھر چند ہی سکینڈ کے بعد ندا میم ہاتھ میں لاک لیئے باہر آئیں اور گھر کو تالا لگا کر بولیں چلو چلیں ۔۔۔۔اور ہم استانی جی کے گھر کی طرف چل پڑے ۔۔راستے میں میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔ شاہینہ میم چلی گئیں؟ تو وہ کہنے لگیں ہاں یار آج صبع  ہی وہ لوگ روانہ ہوئے ہیں ۔۔۔ایسی ہی باتیں کرتے کرتے ہم استانی جی کے گھر پہنچ گئے اور اندر جا کر دیکھا تو  استانی جی سبق پڑھا  چکیں تھیں اور اب بچوں کا ہوم ورک چیک کر رہیں تھیں۔۔۔ند ا کو دیکھتے ہی  استانی جی مسکرائیں اور بولیں آج  لیٹ ہو ۔۔۔ تو  ند ا  میم نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔ کیا کروں یار تم کو تو پتہ ہی ہے کہ ایک جندڑی  اور دکھ ہزار ہیں ۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولیں یہ تو ٹا ئم پر آ گیا تھا  لیکن    چونکہ میں تھوڑا  بزی تھی اس لیئے کام ختم کرتے کرتے یہ وقت ہو گیا پھر انہوں نے مجھے اشارہ کیا اور میں جا کر باقی سٹوڈنٹس کے ساتھ ٹھیک اسی جگہ جا کر بیٹھ گیا کہ جہاں پر کچھ عرصہ قبل   میں ناول پڑھتا ہوا ۔۔۔پکڑا گیا تھا۔  

  ابھی میں بیگ  رکھ کرپرانے دوستوں سے سلام دعا ہی کررہا تھا کہ میرے کانوں میں استانی جی کی کرخت آواز گونجی ۔وہ مجھے  اپنے پاس بلا رہیں تھیں ۔۔۔ میں  جلدی سے اٹُھا اور استانی جی کے پاس چلا گیا  پہلے تو انہوں نے مجھے بڑا سخت  گھور کر دیکھا اور پھر بولیں ۔۔۔۔۔  اگر تم نے اس دفعہ بھی کوئی حرکت کی ۔۔یا میں نے کہیں سے سُن کی تو تمھاری چمڑی ادھیڑ کر رکھ دوں گی۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔۔۔اور میری اس بات کو محض دھمکی ہی نہ سمجھنا ۔۔۔   پھر اس کے بعد انہوں نے مجھے کچھ مزید دوائی دی ۔اور اچھی خاصہ ڈانٹ کے  ۔۔ مجھے واپس جانے کہو کہا  اور پھر توھڑی دیر بعد   انہوں نے ہوم ورک دیا اور خود ندا میم کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئیں ۔۔  یوں  استانی جی کے گھر میری روٹین کی پڑھائی شروع ہو گئی اس کے ساتھ ساتھ میری غیر نصابی سرگرمیاں بھی جاری رہیں لیکن اس وقت میں اپنا زیادہ فوکس استانی جی پر ہی رکھوں گا ۔۔۔  استانی جی  کے ہاں میں نے اپنی ساری توجہ  پڑھائی اور صرف پڑھائی پر پر ر کھی اور اس کام میں میڈم ندا نے میرے ساتھ بڑا تعاون کیا ۔۔۔  اور   میری طرف سے استانی جی کا دل کافی حد تک صاف کیا ۔۔۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند ہی دنوں میں استانی جی  کا رویہ میرے ساتھ بلکل نارمل ہو گیا  ۔۔ورنہ اس سے قبل تو انو ں نے مجھ پر بڑی  ہی کڑی نگاہ رکھی ہوئی تھی ۔۔  

 اس کےساتھ ساتھ میڈم ندا کے ساتھ میری سیکس سروس  بھی جاری تھی لیکن اتفاق ایسا تھا کہ  کوشش کے باوجود بھی ابھی تک  میں ان کو چود نہ سکا تھا ۔۔ ایک دن کی  بات ہے کہ  چھٹی کے بعد میں میڈم ندا کے ساتھ ہی ان کے گھر گیا  او وقت میڈم نداکو  میں نے ربے سے  پاکستانی  ایکٹریسوں کی ننگی فوٹوؤں  اور  جنسی کہانیوں والا رسالہ " چٹان" لا کر دیا ہوا تھا ۔۔  چنانچہ   استانی جی کے گھر سے واپسی  پر جب  میں نے ان سے اس رسالہ  کی بابت بات کی اور کہا کہ میڈم اس کا کرایہ چڑھ گیا ہے۔۔ میری بات سن کر میڈم  ایک دم چونک گئی اور بولی ۔۔۔اوہ۔۔۔ پہےا یاد  دلانا  تھا  نا یار ۔۔۔۔میں زیبا ۔۔۔۔۔ ابھی ان کے منہ سے  زیبا ۔۔۔ ہی نکلا تھا  کہ اچانک  ان کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور  وہ ایک دم چپ ہو گئیں اور پھر بات کو بناتے ہوئے  بڑی  ہی پریشان نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔ وہ زیبا کے گھر ہی کہہ دیتے نا ۔۔۔  ان کے منہ سے زیبا میم کا لفظ سن کر میں کچھ کچھ بات سمجھ گیا  لیکن چپ رہا ۔۔۔ ادھر وہ  تھوڑا ہکلا کر کہہ رہیں تھیں ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔وہ رسالہ مجھ سے  کل لے لینا ۔اورہاں  کرائے کی فکر نہ کیا کرو ۔۔۔۔ اور میں نے سر ہلا  دیا ۔۔

     میڈم کے سامنے تو میں چُپ رہا  تھا ۔۔میڈم کے منہ سے زیبا کا  نام سُن کرپہلے تو میں

بڑا حیران  ہوا ۔۔۔پھر۔۔ میرے ا ندر ہی اندر ۔۔کھچڑی پکنا  شروع ہو گئی تھی ۔۔ ۔۔۔۔  اور میں چپکے  چپکے   قیافے  لگانے  لگا ۔۔۔  لیکن کسی نتیجے  پر نہ پہنچا ۔۔لیکن ایک شک میرے زہن میں ۔۔ جگہ بنا چکا  تھا ۔۔۔۔   یہ اگلے دن کی بات ہے  میں میڈم سے سبق لے رہا تھا کہ  وہ زیبا میم کو کہنے لگیں   زیبا میں گھر جا  رہی  ہوں ۔۔۔ اور پھر جاتے جاتے مجھے ایک خفیہ اشارہ کر گئیں جس کا مطلب تھا کہ  چھٹی کے بعد میں اس کے گھر آؤں ۔۔۔ چنانچہ چھٹی کے بعد میں سیدھا ان کے گھر  جا کر دروازہ کھٹکھٹایا  تو اندر سے انہوں نے  آواز دی آ جاؤ ۔۔۔دروازہ کھلا  ہے اور میں ان کے گھر داخل ہو گیا   دیکھا تو  سامنے  ندا میم صحن میں بیٹھی   رات کے کھانے کے   لیئے سبزی وغیرہ چھیل رہیں تھیں جبکہ ان کے کام والی  ان کے وہیڑے کو دھو رہیں تھی ۔۔۔ مجھے دیکھ کر میم اپنی جگہ سے اٹُھی اور  بولی ایک منٹ بیٹھو میں ابھی آئی اور وہ اندر کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔ اور کچھ دیر بعد واپس آئیں تو   اخبار میں لپٹی ہوئی کوئی چیز ان کے ہاتھ میں تھی   اور میں سمجھ گیا کہ یہ  ۔۔چٹان ۔۔ رسالہ ہو گا  ۔۔  انہوں نے ایک نظر  اپنی کام والی پر ڈالی  جو اس وقت تک ان  سارا  وہیڑہ   دھو چکی تھی   چنانچہ ا نہوں نے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس  سے کہنے لگی ۔۔حمیداں ۔۔ زرا بھاگ کر چھت سے سوکھے کپڑے تو اتار لاؤ ۔۔۔ اور حمیداں ماسی نے ان کی بات سُن کر ہاں میں سر ہلایا اور تھکے تھکے قدموں سے سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔۔ جب ماسی چھت پر پہنچ گئی تو انہوں  نے وہ  رسالہ  میرے ہاتھ میں پکڑادیا ۔۔کیونکہ میں یہ رسالہ پہلے ہی پڑ ھ چکا  تھا اور اس کی   تصویریں بھی دیکھ چکا تھا اس لیئے میں نے ان سے پوچھا کیسا لگا یہ رسالہ؟؟ ویسے بھی  یہ ہماری روٹین تھی کہ  ہر رسالہ پڑھنے کے بعد ہم اس بارے میں۔گرم گرم تبصرہ ضرور کیا کرتے تھے اسی لیئے جب میں نے ان سے رسالے کی بابت پوچھا ۔۔    تو انہوں نے جواب دینے سے پہلے ایک نظر اپنے چھت کی طرف دیکھا اور بولیں ۔۔۔ رسالہ اچھا ہے کہانیاں بھی  کافی گرم ہیں لیکن جو مزہ وہی وہانوی کی کہانیوں کا ہے   وہ   مزہ مجھے ان کہانیوں میں نہیں مل سکا ان کی بات سُن کر میں نے ان سے کہا ۔۔۔ آپ ٹھیک  کہہ  رہی ہو میم ۔۔ وہی  وہانوی صاحب کی کہانی  کا  اپنا ایک الگ ہی  مزہ ہے ۔۔۔پھر میں نے بھی ایک نظر چھت پر دیکھا اور ان کے مموں کو دبا کر بولا ۔۔۔اچھا یہ بتائیں۔۔۔تصویریں کیسی  لگیں تو وہ کہنے لگیں تصویریں ۔۔۔ خاص کر اداکارہ  رانی کی ننگی فوٹو نے بڑا مزہ دیا ہے  لیکن  ایک بات ہے ان کی  تصویروں کی  کوئی کوالٹی نہیں ہوتی اور اوپر سے یہ تصویریں  ہوتی بھی بلیک انڈ وہائیٹ ہیں ۔۔۔ اور پھر  بڑی حیرت سے کہنے لگیں د یکھو رانی کس قدر بڑی  اداکارہ  ہے  اور  دیکھو وہ  کس مزے سے بڑے بڑے ممے نکلے ٹانگیں اٹُھا کر  پلنگ پر ننگی لیٹی ہوئی  تھی ۔۔۔  تو میں نے ان سے کہا میڈ م آپ نے ہیرؤئین ناول نہیں پڑھا ؟ اس میں یہی تو بتایا گیا ہے کہ جب کوئی نئی لڑکی آتی ہے تو اس وقت کے فلم ساز  و دیگر فلم سے وابسطہ  لوگ کس طرح اس کو بلیک میل کر کے اس کی پھدی مارتے ہیں اور اس کی تصوریں وغیرہ بھی کھینچ لیتے ہیں ۔۔۔اور جب وہ کوئی بڑی ایکٹریس بن جاتی ہے    تو  اس کی یہی ننگی  تصویر یں کس قدر مہنگی بکتی ہیں ۔۔

 

میری بات سن کر ندا میم بولی ہاں  مجھے یاد آگیا ۔۔۔  پھر کہنے لگی ۔۔۔ ویسے  بھی  یار یہ کون سے شریف گھرانوں کی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ان میں آدھی ہیرا منڈی اور آدھی چکلے سے آتی  ہیں۔ اس لیئے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ ہاں جب یہ مشہور ہو جاتی ہیں تو   پھر معزز  بن جاتی  ہیں ۔۔اتنی گرم گفتگو کے بعد میرا لن کھڑا ہو گیا اور انہوں نے باتیں کرتے کرتے جب نیچے کی طرف دیکھا تو بولی ۔۔ہا ہ ہ ہ ۔۔ اس کو کیا ہوا۔۔؟ تو میں نے کہا   میڈم یہ آپ کی سیکسی باتوں سے کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔ میری بات سُن کر انہوں نے  ایک بار پھر ایک نظر  چھت پر ڈالی اور پھر میرا لن ہاتھ میں پکڑ کر بولی ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔ ان باتوں سے  میں بھی نیچے سے بھیگ چکی ہوں ۔۔۔  ندا میم  کے منہ سے یہ بات سُن کر میں نے فوراً  ہاتھ بڑھا کر ان کی پھدی پر رکھا تو وہ نیچے سے ان کی شلوار کافی گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کو بازو سے پکڑا اور اندر لے گیا ۔۔۔ وہ میرے ساتھ چلتے ہوئے بولی ۔۔۔ کیا کر رہے ہو ماسی آ جائے گی ۔۔۔ تو میں نے کہا  بس ایک چمی لینی ہے۔۔۔ اور ویسے بھی ایک آپ کی سست ماسی ۔۔۔  جب تک سیڑھیاں اترے گی تب تک میں آپ کے گورے گال چوم  چکا   ہوں گا۔۔۔ اسی دوران میڈم کا کمرے آ گیا اور اندر جاتے  ہی  میں نے میڈ م کے ساتھ ایک زور دار کس کی اور پھر ان کو کرسی پر بٹھا دیا اور ان کی ٹانگیں اوپر اٹُھانے لگا تو وہ بولی ۔۔۔ارے ارے۔۔۔۔ تو میں نے کچھ نہیں بس ایک آدھ گھسہ ہی ماروں گا اور پھر میں نے میڈم کی شلوار کے اوپر سے ہی اپنا لن ا ن کی چوت پر رکھا اور کچھ دیر رگڑتا رہا    اسی دوران  شاید میرا  تھوڑا سا ٹوپا ان کی چوت میں بھی گیا تھا ۔۔۔۔ابھی میں اپنا لن ان کی چوت میں تھوڑا  اور بھی  آگے لے جانا  چاہتا  تھا کہ  میڈم نے  مجھے  دھکا  دیا اور اٹُھ  کر بولی ۔۔۔۔ یور ٹائم از اوور ۔۔۔۔۔۔ماسی کسی وقت بھی آ سکتی ہے  میرے ساتھ باہر آ گئی ۔اور پھر  اپنے مموں سے پیسے نکالتے ہوئے بولیں آج ان کو نہیں چوسا ۔۔۔تو میں نے  کہا کہ آج آپ کی پھدی کی باری تھی ۔۔۔ تو وہ ہسے کر کہنے لگی۔۔۔ ۔۔ میری پھدی اتنی سی باری سے خوش نہیں ہو گی ۔۔تو میں نے کہا ۔۔ پھر لمبا ٹائم نکالیں نا ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔جہاں اتنے دن صبر کیا ہے  کچھ دن اورصبر کر لو ۔ میرے زہن میں ایک آئیڈیا آ رہا ہے ۔۔۔۔  ان کی بات سُن کر میں نے ان کے ہاتھ سے ایک دن زائد رسالہ رکھنے  پر کرائے کے پیسے لیئے  اور   جاتے جاتے ۔۔۔ ان سے پوچھا اب کون سا رسالہ  لاؤں؟تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔یار ایک فرمائیش۔۔۔۔پھر وہ ایک دم رکیں اور پھر بڑے  مشکوک انداز میں کہنے لگیں۔۔ میرا مطلب ہے اس دفعہ میری فرمائیش پر تم  انگریزی  فوٹوؤں والا  رسالہ لاؤ ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی کوشش کرنا  کہ اس میں ایسے فوٹو  زیادہ ہوں کہ جس میں گوری کے ساتھ  کالا سیکس کر رہا ہو۔۔۔ اور کالا بھی  وہ جس کا ہتھیار ۔۔تم سے بھی یا  کم از کم تمھارے جتنا ہو۔۔میں نے ان کی بات سنی رسالہ اپنی شلوار کی   ڈب میں  لگایا  ۔۔اور مزاحیہ انداز میں بولا آپ کا مطلب ہے سفید پھدی میں کالا لن ؟  تو وہ بھی ہنس کر بولی ۔۔۔ ہاں حبشی کا  کالا لیکن بڑا لن ۔۔۔۔ اور میں نے سر ہلا  دیا ۔۔۔۔ ۔۔اور  دل  ہی دل میں ۔۔۔۔ میم کے منہ سے نکلا  لفظ ۔۔۔۔فرمائیش ۔۔۔۔ کے بارے میں اندازے لگاتا  ہوا  ربے کی دوکان کی طرف چلا  گیا۔۔۔۔پھر وہاں سے  میڈم کی فرمائیش پر  گوری میم اور کالے حبشی والا  رسالہ لیا  اور حسبِ معمول سب سے پہلے اس کو خود  دیکھا۔۔۔واؤؤؤ ۔۔۔ کیا زبردست رسالہ تھا ۔۔۔ کیا زبردست گوریاں تھیں ۔۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت ۔ایک سے بڑھ کر ایک  سیکسی   ۔۔۔ اور   ہاں میڈم کی فرمائیش کے عین مطابق سب حبشیوؤں کے  لن  کالے  موٹے اور لمبے لمبے تھے  ۔اور ان میں خاص بات یہ تھی کہ رسالے میں   زیادہ تر تصویریں  گانڈ مارنے کی تھیں ۔۔۔ رسالہ دیکھ کر میں اتنا گرم ہو گیا کہ ۔میں رسالہ ہاتھ مین پکڑے سیدھا ۔۔ واش روم میں گیا اور اپنے پسند کا فوٹو سامنے رکھ کر مُٹھ ماری اور پھر ٹھنڈا ہو کر رسالہ ڈب میں لگایا اور  میڈ م ندا کے گھر چلا گیا ۔۔۔اسی وقت  میڈم کا بیٹا دکان سے چھٹی کر کے گھر آیا تھا ۔۔۔ لیکن اس ٹائم وہ  نہانے کے لیئے واش روم تھا ۔۔۔۔ اس لیئے نے جلد ی سے وہ رسالہ میڈم کے حوالے کیا اور  واپس  گھر آ گیا۔۔۔

 اگلے دن میں  حسبِ معمول میں استانی جی کے گھر پہنچا تو  ان کے پاس دوسرے محلے کی کچھ عورتیں بیٹھیں ہوئی تھیں۔۔ جن کی وجہ سے وہ ۔۔۔ ان اجنبی عورتوں سے گپ شپ کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ہم کو  بھی ڈیل کر رہی تھیں ۔۔۔ جیسے ۔۔۔  زیادہ شور نہ کرو بچوں ۔۔۔ اوئے  فلانے ۔۔۔۔ آرام سے بیٹھ۔۔۔ اور ۔۔ اس  کے ساتھ ہی انہوں نے ندا میم سے کہا کہ ندا  تم زرا  بچوں کا ہوم ورک چیک کر  لو۔۔۔   زیبا میم کی بات سُن کر  میڈم سب بچوں کو باری باری بلا کر ان کے ہوم ورک وغیرہ چیک کرنے لگیں ۔۔اپنی باری آنے پر میں نے   اپنا بیگ اٹھایا اور  ندا میم کے پاس پہنچ گیا ۔۔ اس وقت وہ کسی دوسرے سٹوڈنٹ کی کاپی چیک کر کے اس پر کچھ لکھ رہی تھیں اس لیئے جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا تو وہ کاپی پر لکھتے ہوئے بولیں کل کے ہوم ورک والی کاپی نکلو ۔۔ مطلوبہ کاپی میں نے پہلے سے ہی نکال کر اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی اس لیئے جیسے ہی انہوں نے کہا کہ کل والے کام کی کاپی نکالو تو میں نے  جھٹ سے اپنی کاپی ان کے حوالے کر دی ۔۔۔ اس وقت وہ اس سٹوڈنٹ کی کاپی پر ستخط کر رہیں تھیں