1244

اُستانی جی قسط 23

کیونکہ اب   وہ  رونا  دھونا بھول کر ۔۔۔۔ میرے زبان کی چوسائی کے مزے لینے لگی اور پھر  اس دوران وہ  میرے ساتھ بلکل  چپک  کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اس کے اس طرح چپکنے سے نیچے سے میرے لن نے سر اٹُھایا اور ایک دم مست ہاتھی کی طرح تن کر اس کی   ٹانگوں سے  گزرتا ہوا  اس کی پھدی کے نرم لبوں سے جا ٹکرایا۔۔جیسے  ہی  میرے لن کی نوک نے راحیلہ کی پھدی کی  نوک کو ٹچ کیا  جیسے ہی میرے لن نے اس کی  چوت کے نرم لبوں کو ٹچ  کیا ۔ مزے کی ایک تیز لہر نے میرے سارے بدن میں دوڑنا شروع کر دیا اور ۔۔ میں نے اس کو بڑی ہی مضبوطی  ہے اپنے ساتھ لگا لیا   ۔۔ اور اس سکے ساتھ ہی میں نے اس کے منہ سے ۔۔اوئی  ۔۔ کی آواز سنی اور اس کے ساتھ ہی اس نے  ایک سسکی بھری۔۔۔ تو میں نے اس سو پوچھا راحیلہ جی۔۔ کیا ہوا ؟؟  میری بات سُن کر وہ اپنا منہ میرے  کان کے قریب لا کر   بولی ۔۔۔ تمھارا ۔۔۔یہ۔۔)لن کو ہاتھ لگا کر( مجھے  چُبھ  رہا ہے ۔۔۔ اور پھر اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنی پھدی کی لائین پر سیٹ کر کے میری طرف دیکھ کر  دیکھنے لگی  ۔۔۔ اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھ کر میں تو اس پر نہال ہو گیا اور اس سے بولا ۔۔۔۔۔ آئی لو یو ۔۔۔راحیلہ جی ۔۔ میرا محبت بھرا جملہ سن کر اس کی آنکھوں میں  چمک سی آئی اور پھر وہ سرگوشی میں بولی۔۔۔۔ پھر تو مجھے نہیں بلیک میل کرو گے ؟ تو میں نے  آپ کو اس سے کہا میں پہلے  بھی کب  بلیک میل کیا ہے ؟؟؟ تو وہ اسی مستی بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ مجھے بلیک میل نہ کرنا ۔۔۔ بس جیسے تم کہو گے میں کروں گی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹوں کو ایک بار پھر میرے ہونٹوں کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔۔    کافی دیر کسنگ کرنے کے بعد جب اس نے خود ہی اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ہٹائے ۔۔۔ تو   میں نے اس سے کہا ۔۔۔ راحیلہ  جی سوری اگر  میری کوئی بات آپ کو برُی لگی  ہو تو ۔۔ پھر مزید کہنے لگا ۔ راحیلہ باجی آپ بے فکر رہو میں آپ کی  کوئی بھی بات کسی کو بھی  نہیں بتاؤں گا ۔۔۔ میری بات سُن کر  وہ دھیرے سے مسکرائی    اور میری طرف دیکھ کر  بولی ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہونا ؟ تو میں نے کہا کہ جتنی مرضی ہے بڑی  قسم اٹُھوا لیں میں آپ کا راز کسی کو نہ دوں گا ۔۔۔ ہاں اگر ۔۔۔۔ اور   ابھی میں اتنی  ہی بات کہہ  پایا تھا کہ اچانک  مجھے نفیسہ آنٹی کی آواز سنائی  دی وہ ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑی مجھ سے  کہہ رہی تھیں بیٹاوہ مستری صاحب تم  کو بالا رہے ہیں ۔۔۔ میں  نے نفیسہ آنٹی کی بات سُنی اور اچھا آنٹی کہا اور پھر ۔۔۔ میں نے افضال اور راحیلہ کو تصویر کو اٹھا کر اپنی جیب میں ڈالا اور بھاگ کر مستری کی طرف چلا گیا ۔۔۔ وہاں گیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں جا کر  ہارڈ وئیر کی دکان سے  گلیو لے آؤں کے اس کی گلیو ختم ہو گئی ہے میں نے مستی کی بات سنی اور راحیلہ  کے پاس چلا گیا اور اس سے پیسے لیکر بازار چلا گیا  ۔۔۔ واپسی پر میں نے مستری کو گلیو دی اور پھر اس سے  کے پاس ہی کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اور پھر  ان کی چھُٹی کے ساتھ ہی میں بھی راحیلہ لوگوں کو بتا کر گھر آ گیا ۔۔۔ تو  آتے ہوئے نفیسہ بیگم نے مجھ سے کہا بیٹا   صبع   کا ناشتہ بھی تم نے ہمارے ہاں سے کرنا ہے میں نے ان کی بات سنی اور۔۔۔ جی اچھا۔۔۔ کہہ کر واپس گھر آ گیا ۔۔۔

 

 

اگلے دن جب میں شیخ صاحب کے گھر گیا تو   راحیلہ نے دروازہ کھولا ۔۔۔ اوروہ   مجھے  ڈرائینگ روم میں بٹھا کر چلی گئی ۔۔۔۔اور پھر کچھ دیر بعد  پچھلے دن کی طرح شیخ سے کمرے سے برآمد ہوئے ان کے ساتھ راحیلہ تھی جس نے حسبِ سابق ا ن کا بیگ اپنے ہاتھ میں پکڑا  ہوا تھا شیخ صاحب میرے پاس رکے اور ایک دفعہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولے امید ہے آج سارا کام ختم ہو جائے گا ۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ایک دفعہ پھر میرا شکریہ ادا کیا اور مجھ سے ہاتھ ملا کر باہر چلے گئے راحیلہ بھی ان کے ساتھ ہی گئی اور  ان کو الوداع کر کے وہ واپس آگئی اور میرے پاس بیٹھ کر بولی ۔۔۔۔ ناشتے میں کیا  لو گے؟ اور میں نے دیکھا کہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی ۔۔ تو میں  نےاس پوچھا کہ  باجی وہ آنٹی نظر نہیں آ رہیں ۔۔۔  میری بات سُن کر اس کے چہرے پر ایک ناگواری کے تاثرات ابھرے اور کہنے لگی ۔۔ آج بڑُھیا  کی طبیعت کچھ خراب ہے اس لیئے وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہے  کچھ دیر بعد نازل ہو جائے گی ۔اور اس کے بعد وہ مجھ سے باتیں کرنے لگی  اور پھر باتیں کرتے کہنے لگی ۔۔۔ نا تم نے ۔ ناشتہ کرنا ہے ؟؟۔۔تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔تو وہ کہنے لگی   تمھاری خاطرآج  میں نے بھی ناشتہ نہیں کیا تھا ۔۔اب تم آئے ہو تو ۔۔۔چلو تم بیٹھو ۔۔۔۔ میں  ناشتہ لاتی ہوں پھر ہم مل کر ناشتہ کریں گے اور وہ چلی گئی اور   ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد  بڑا ہیوی قسم کا ناشتہ لے آئی اور میرے سامنے رکھتے ہوئے بولی تم شروع کرو میں تمہاری اور اپی  چائے لیکر آتی ہوں ۔۔ پھر ایک پھیکی سی مسکراہٹ سے میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔۔  سارا  ہی  نہ کھا جانا  میں نے بھی ناشتہ کرنا ہے ۔۔۔  یہ کہا اور چلی گئی پھر کچھ دیر بعد ایک ٹرے میں چائے لے آئی میز کی طرف دیکھ کر بولی ۔۔ اوہ ۔۔تم نے ابھی تک نہیں کیا ؟  اس کی بات سُن کر مجھے شرارت سوجھی اور میں نے اپنے لہجے کو ذومعنی بناتے ہوئے کہا  کہ  راحیلہ جی  آپ کہیں گی تو کروں گا   نا ۔آپ کی مرضی کے بغیر تو میں نہیں کر سکتا ۔۔۔میری بات سن کر وہ تھوڑا  چونکی اور  پھر مسکراتے ہوئے  ویسے ہی ذومعنی  لہجے میں بولی ۔۔ چلو اب میں کہہ رہی ہو ۔۔۔ میرے ساتھ کر لو۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور ہم ناشتہ کرنے لگے ۔۔۔ناشتہ کرتے کرتے اچانک اس نے سر اٹُھایا اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔۔ وہ تمھارے پاس میری ایک تصویر تھی ؟ تو میں نے انجان بنتے ہوئے کہا کہ کون سی تصویر باجی ۔۔۔؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔وہ  میرے کزن والی۔۔ تو میں نے جیب سے اس کی تصویر نکالی اور کہا کہ آپ اس کی بات کر رہی ہیں ۔۔۔ تو اس نے  میرے ہاتھ سے تصویر پکڑی اور پھر میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔ دیکھا میرے کزن  کتنا خوبصورت ہے ۔۔۔ تو میں نے جل کر  جواب دیا ۔۔۔۔ جی نرا  خوبصورت  ہی ہے ۔تو وہ کہنے لگی ۔۔ مجھے ۔ تم سے جلنے کی بوُ آ رہی ہے ۔۔۔تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا  اس میں جلنے کی کیا بات ہے؟ میری بات سُن کر وہ کہنے لگی لاکھوں میں ایک ہے میرا کزن ۔۔۔اتنی دیر میں میں نے چائے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ بولی میں دیتی ہوں ۔۔۔ اور اٹُھ کر میرے لیئے  کپ میں چائے ڈانےلگی ۔۔۔ اور میری نظر اس کے خوبصورت مموں پر جا پڑی جو اس کی  فٹنگ والی قمیض میں پھنسے ہوئےتھے   اور میں یک ٹک ان کو دیکھنے لگا ۔۔۔ وہ سمجھ گئی کہ  میں اس کے مموں کو تاڑ رہا ہوں  ۔۔۔اس  نے میری طرف دیکھا  اور بولی ۔۔۔ بری بات  ۔۔۔۔ کسی  کی چیزوں کو ایسے نہیں تاڑتے تو میں نے کہا ۔۔۔ کیا کروں جی تاڑنے والی چیز کو تو تاڑنا ہی  پڑتا ہے ۔۔۔تو وہ اسی ٹون میں بولی ۔۔۔ پہلے کبھی نہیں دیکھے ؟ تو میں نے مست آواز میں  کہا ۔۔۔  افُ پہلے کی بات نہ پوچھو راحیلہ جی ۔۔۔ کہ پہلے تو ہم نے اس سے بھی زیادہ پرائیویٹ چیزیں دیکھیں ہیں )یہاں میری مراد اس کی پھدی سے تھی جو اس رات میں نے چھت پر دیکھی تھی( ۔۔۔ میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا تاہم وہ بھی مستی کے موڈ میں تھی بولی۔۔۔تمھیں پتہ ہے نا ۔۔۔ وہ پرائیوٹ چیز  تمھارے لیئے نہیں ہے ۔۔۔ اس لیئے منہ دھو رکھو۔۔۔۔

 

اتنی دیر میں مستری لوگ بھی  آگئے  تھے اور میں تھوڑی دیر کے لیئے ان کے پاس کھڑا ہوا ۔۔ پھر میرا جی نہ لگا اور میں واپس ڈرائینگ روم میں آگیا جہاں راحیلہ بیٹھی تھی ۔۔ مجھے دیکھتےہی بولی کیا  چاہیئے؟ تو  میں نے کہا ۔۔۔ چاہیے تو ۔۔ پتہ نہیں آپ دیتی ہیں کہ نہیں۔۔؟  میری بات سُن رک وہ کہنے لگی  بڑے  بدتمیز ہو تم ۔۔ اور ہنسنے لگی۔۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ سوال تم پہلے بھی مجھ سے کر چکے ہو۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ جی کیا تھا اور ۔۔ چور بن گیا تھا۔۔۔ میری بات سن کر وہ ہنس پڑی اور بولی ۔۔۔ تم بھی عجیب ہو ۔۔۔ نہ جان نہ پہچان اور آ دھمکے تھے ۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے  اس سے کہا کہ راحیلہ جی اب تو جان پہچان ہو گئی ہے ۔۔۔اب  تو۔۔کیا خیال ہے آپ کا؟ اس نے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔چلو چلو ۔۔۔ منہ دھو رکھو۔۔۔ اتنے میں مستری نے مجھے آواز دی اور میں اس کے پاس چلا گیا  دیکھا تو  راحیلہ کی الماری بن چکی تھی ۔۔۔ بس پیچ ورک باقی تھی کہنے لگا ۔۔۔ زرا ایک نظر باجی کو دکھا دو ۔۔  ویسے تو میں نے ان کی ہدا یت کے مطابق ہی بنائی ہے لیکن اگر اس میں کچھ کمی و بیشی  کرنی ہے  تو ابھی بتا دیں۔۔۔ مستری صاحب کی بات سُن کر میں راحیلہ کے پاس گیا اوراسے ساری بات بتائی ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے کہا  ہاں چلو دیکھتے ہیں اور پھر بولی ۔۔  وہ صوفے پر میری چادر پڑی ہے زرا  دینا ۔۔۔ تو میں نے اس کے ٹائیٹ فٹنگ قمیض  میں پھنسے ہوئے مموں کی طرف دیکھ کر   ۔۔۔ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔رہنے دیں ایسے ہی ا چھی لگ رہی ہیں تو وہ کہنے لگی ۔۔   بدتمیز جو تم نے دیکھا ہے وہ مستریوں کو تو نہیں دکھا سکتی نا۔۔۔۔ اور اس کی بات سن کر ۔۔۔ میری شلوار میں لن نے سر اٹُھا کر اس کی اس بات پر غورکرنا شروع کر دیا۔ ۔۔۔۔۔

پھر اس نے اچھی طرح سے چادر اپنے بدن سے لپیٹ لی اور میرے ساتھ اپنے کمرے کی طرف چل پڑی  وہاں پر  مستری اکیلا ہی کھڑا تھا   جبکہ باقی مزدوروں کو اس نے باہر نکال دیا تھا ۔۔۔وہاں جاکر  کچھ ایسی صورت بنی کہ الماری کے پاس مستری اور راحیلہ کھڑے تھے چونکہ مجھے اس کی الماری میں کوئی دلچسپی نہ تھی اس لیئے میں  راحیلہ کے ساتھ لیکن قدرے ہٹ کے کھڑا تھا ۔۔ادھر جب مستری راحلیہ کو اس کا فائینل ڈئزائن سمجھا رہا تھا  تو   وہ کمنٹری کے ساتھ ساتھ  ایکشن میں بھی بتاتا  جاتا تھا  اس کے ساتھ ساتھ راحیلہ بھی اسی ایکشن میں آگے پیچھے ہو رہی تھی ۔۔۔کرتے کرتے ایک  ٹائم وہ بھی آیا کہ  مستری کے ساتھ ساتھ چلتے چلتے راحیلہ عین میرے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اور پھر  پیچھے ہوتے ہوتے ایک لحظے کے لیئے اس نے اپنی گانڈ میری فرنٹ باڈی سے  جوڑ دی ۔۔۔ یہ بس ایک دو سیکڈ   ہی ہو ا  ہو گا ۔۔۔ لیکن ان دو سکینڈ میں مجھے اس کے جسم کا اندازہ ہو گیا ۔۔۔ اس کا جسم بڑا ہی نرم تھا ۔۔ اور بڑی سی گانڈ ۔نری ۔ تباہی تھی ۔۔   اس نے تو چند سیکنڈ تک گانڈ میرے ساتھ جوڑ کر اپنا اشارہ دے دیا اب میں ہوشیار ہو گیا ۔۔ اور پھر طریقے سے راحیلہ کے پیچھے چلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ اور پھر میں   موقعہ ملتے ہی اس کے ساتھ اپنی  باڈی ٹچ کر کے اپنا مزہ لے لیتا  تھا ۔۔۔۔ راحیلہ کا  تو پتہ نہیں لیکن مجھے اس کھیل میں بڑا مزہ آنا شروع ہو گیا تھا ۔ادھر  وہ مستری کو ہدایت دے رہی تھی کہ یوں کرو۔۔۔ یہ ،۔۔ایسے کر دو۔۔ادھر میں بار بار اس کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا اور اس کے جسم  کی نرماہٹ مجھے گھائل کیئے دے رہی تھی۔۔۔ آخر کار ۔۔ مستری  کا وہ سیشن بند ہوا اور راحلیہ نے میری طرف دیکھ کر چلنے کا  اشارہ کیا  ۔۔  اور جیسے ہی ہم ڈارئینگ روم میں پہنچے  وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور بولی ۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہو رہی تھی ؟ تو میں نے انجان بن کر کہا کس قسم کی بدتمیزی جی ؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ وہ جو تم مستری  کے سامنے کر رہے تھے۔۔۔ تو میں نے کہا نہیں جی میں تو وہ  بدتمیزی  مستری کے پیچھے  چھپ کر کررہا تھا ۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی ۔۔۔اور میں نےاس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی ۔۔۔  اور مجھے اپنے اور  اس کے جسم سے  شہوت کی بوُ آنے لگی ۔۔۔۔وہ  مجھ سے کہہ رہی تھی ۔۔ ۔۔۔اگر مستری دیکھ لیتا تو۔۔؟ ۔۔ اس کی بات سن کر  میں نے فائینل  راؤنڈ  کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اس کے قریب جا کر بولا  مستری کیسے دیکھ سکتا تھا آگے تو آپ تھیں ۔۔۔اور پھر  تھوڑا گھوما اور جا کر  اس کو پیچھے سے گلے لگا لیا اور فوراً ہی میرا لن کھڑا ہو گیا جو اس کی گانڈ کی دراڑ میں  جا کر پھنسنے لگا ۔۔۔ اس نے خود کو مجھ سے چھڑانے کی واجبی سے کوشش کی اور بولی ۔۔۔ ۔۔کیا کر رہے ہو ۔۔۔ اگر اس بڑھیا نے دیکھ لیا  تو؟ ۔۔    تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ آپ نے خود ہی تو مجھ سے کہا ہے کہ ان کی  طبیعت کچھ خراب ہے تو وہ بولی۔۔۔۔ تم ایک منٹ بیٹھو میں دیکھ کر آتی ہوں ۔۔ مجھ میں صبر کہاں تھا میں نےاس سے کہا کہ  میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں ۔۔۔اور پھر ہم دونوں دبے پاؤں  چلتے ہوئے ۔۔۔۔نفیسہ بیگم کے کمرے میں پہنچے تو وہ سوئی ہوئیں تھیں ۔۔ لیکن پھر جب راحیلہ نے نفیسہ کی نبض دیکھنے کے لیئے نیچے جھکی تو پیچھے سےمیں نے اپنا  لن اس کی گانڈ کی دراڑ میں  پھنسا لیا اور ہلکے ہلکے گھسے مارنے لگا۔۔۔اس نے ایک  نظر پیچھے کی طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔ تم سے صبر نہیں ہوتا ؟؟؟لیکن میں نے راحیلہ کی بات سُنی ان سنی کرتے ہوئے  اس کی گانڈ  کی طرف اپنے لن کو دھکیلنا جاری رکھا ۔۔ پھر اس نے نفیسہ  بیگم کی نبض سے ہاتھ ہٹایا اور مجھے مخاطب کر کے بولی۔۔۔ میں  نے صبع جو گولی دی تھی اس سے ان کابخار ٹوٹ گیا ہے اور اب یہ بلکل ٹھیک ہیں اور اٹُھ کھڑی ہوئی۔۔ اور مجھے اشارہ کیا ور ہم دونوں چلتے ہوئے واپس ڈرائینگ روم میں پہنچ گئے۔۔

 

وہاں پہنچ کر اس نے مجھے سامنے بٹھایا اور بولی آخر تم چاہتے کیا ہو ؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں وہی چاہتا ہوں جو اس رات آپ سے کہا تھا ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی شلوار کے اوپر سے اپنے موٹے اور لمبے لن کو پکڑ کر مسلنا شروع کر دیا ۔۔۔ اور پھر اس کے سامنے لہراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔راحیلہ جی ۔زرا س کا سائز تو  ملاحظہ فرمائیں؟ ۔۔۔ میری بات سُن کر اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور مسکرا  کر بولی ۔۔۔ چور۔۔۔۔۔۔پھر سیریس ہو گئی اور کہنے لگی آخر تم چاہتے کیا ہو؟ تو میں نے ا ن سے کہا ابھی بھی بتانے کہ ضرورت ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں ؟ تو وہ بولی ۔۔۔ ہاں مجھے پتہ ہونا چاہیئے کہ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو تب اچانک میرے پاؤں کے انگھوٹے سے لیکر  دماغ لیکر منی بھر گئی اور میں راحیلہ کے بلکل قریب آ گیا اور  شہوت بھرے انداز میں اس سے کہنے لگا ۔۔۔ راحیلہ جی ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ میرے لن کو آپ کی پھدی  لینی ہے ۔۔۔ میرے منہ سے۔۔۔لن         پھدی کا  لفظ سن کر اس نے ایک گرم  آہ بھری ۔۔شہوت اس کے سر پر  اس پر پہلے ہی چڑھی ہوئی تھی بس ویسے  ہی  وہ  میرے ساتھ ڈرامہ کر رہی تھی لیکن جب میں نے صاف ننگے الفاظ میں ۔۔ لفظ ۔۔۔لن اور پھدی کہا ۔۔ تو میرے یہ الفاظ سن کر  یک دم  وہ بھی شہوت کے نشے میں  ٹنُ  ہوگئی ۔۔۔ اور پھر   شہوت  بھرے لہجے میں مجھ سے کہنے لگی  ۔۔۔۔ اے مسٹر !!!!۔۔کیا   تم  جانتے ہو کہ میں ایک جنسی  بلی ہوں ۔۔۔ اور   میری جنسی خواہش بہت بڑھی ہوئی ہے ۔ تم جو مجھ سے چاہ رہے ہو وہ ٹھیک ہے پر کیا تم ۔۔ مجھے پورا کر لوگے ؟  یہ سن کر میں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور بولا ۔۔۔۔۔۔ اگر آپ جنسی بلی ہو تو میں جنسی بلا ہو ں۔۔۔۔ پھر اس کا ہاتھ اٹُھا کر اپنے لن پر رکھ دیا اور بولا ۔۔۔۔۔ اس جنسی بلے کا  جنسی اعضاء  اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دیکھ لو کہ   ۔۔۔۔ اور پھر مجھے بتاؤ کہ  میرا یہ جنسی اعضاء تمھاری جنسی اعضاء کو پورا  کر لے گا ۔۔۔اب اس نے میرا لن پکڑا اور دباتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ میں اسے پیار کروں اور یہ میری گرم سانسوں کی تاب نہ لاتے ہوئے رو پڑے ۔۔ تو میں نے جواب دیا ۔۔۔۔ تم گرم سانسیں کیا گرم پھدی بھی اس پر رکھ کر دیکھ لو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جب تک تم کو رولا نہ دے گا ۔۔۔۔ یہ نہیں روئے گا۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔۔ جب یہ روتا ہے ۔۔۔ تو اس کے پانی کی دھار باریک ہوتی ہے یا ۔۔۔ گاڑھی ؟ تو میں نے کہا تم اس کو منہ میں ڈالو۔۔۔۔۔ اور خود اس بات کا اندازہ لگاؤ کہ  لن سے نکلنے والی پانی کی  دھار  پتلی  ہو گی یا گاڑھی ۔۔۔۔  میری بات سُن کر وہ نیچے صوفے پر بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرتے ہوئے بولی۔۔میں بہت گرم ہوں اور ۔ میری پھدی  تو مجھ سے بھی بہت زیادہ گرم ہے ۔۔۔ اور پھر اس نے اپنے منہ سے ایک گرم سی ہوا چھوڑی اور بولی میرے منہ سے نکلنے والی اس گرم ہواڑ  سے بھی سو گنا زیادہ گرم ہے میری پھدی۔۔۔۔۔اور اپنا منہ کھول کر لن کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔اور کپڑے کے اوپر سے ہی چوسنے لگی ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی شلوار کا آزار بند کھولا اور ۔۔۔ اس کے منہ سے لن نکل لیا اور کہا ۔۔۔۔۔۔  میری جان میرا ننگا لن چوسو نا ۔۔۔ اس نے نیچے سے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور ٹوپے پر زبان پھیر کر بولی ۔۔۔۔ ننگے لن کا اپنا ہی مزہ ہے ۔۔پھر کہنے لگی ۔۔اس وقت ۔ میرے  ہونٹوں کو تمھارے ننگے لن کی بہت ضرورت تھی  اور منہ کھول کر اپنے ہونٹوں میں میرا لن لے لیا اور منہ کے اندر ہی ٹوپے پر زبان پھیرنے لگی۔۔۔اور پھر اس نے لن کو اپنے منہ سے نکلا اور بولی ۔۔ ہوں ں ں ۔۔۔۔ تمھارا لن بھی بہت گرم ہے ۔۔۔ اسے چوس کر مجھے بڑا   ۔۔صواد آ رہا ہے اور پھر اس نے لن  کو چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔اور اس کے بعد اس نے لن کو منہ سے باہر نکالا اور اس کی جڑ سے لیکر اوپر تک اس پر اپنی زبان پھیرنی لگی ۔۔۔  اور پھر میری طرف دیکھ کر شہوت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ میری زبان کا ٹیسٹ کیا کیساہے ؟؟  تو میں نے کہا   راحیلہ جی آپ کی زبان ذائقہ چوسنے اور چوسوانے ۔۔۔دونوں میں شاندار ہے تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔زبان ہی نہیں میری ہر شے شاندار ہے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرا لن اپنے منہ میں لیا اور اسے  چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔

 

کافی دیر تک  وہ  چوپا لگاتی رہی پھر اس نے میرے  لن کو منہ سے ہٹایا اور اپنی قمیض کو اوپر کے بولی ۔۔ جیسے میں نے تمھارا لن چوسا ہے نا ویسے ہی تم بھی میرے   مموں کو چوسو۔۔۔  میں نیچے جھکا  تو وہ بولی  پہلے اپنی شلوار کو   باندھ لو ۔۔۔ اس کی بات کو سن کرمیں نے اپنی شلوار اوپر کی اور آزار بند باندھ کر  گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔اور اس کی مموں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ کیا شاندار ممے تھے اس کے ۔۔۔ موٹے ۔۔۔پیور  سفید اور اس پر اس کے بڑے بڑے نپل ۔۔۔ جو اس وقت اکڑے ہوئے تھے۔۔۔ میں نے ایک ہاتھ میں اس کا لیفٹ مما پکڑا اور اس کا نپل مسلنے لگا جبکہ دوسرے ممے  کے نپل پر اپنے ہونٹ لگائے اور پہلے تو زبان لگا کر اسے خوب چاٹا ۔۔۔ پھر اسے اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔ میری اس ادا سے وہ مزید گرم وہ گئی اور ہلکی ہلکی سسکیاں لینے لگی ۔۔آہ۔۔۔ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔افُ۔۔۔ تم ۔۔ بڑے ہی سیکسی ہو میری جان ۔۔۔ اس طرح میں نے باری باری اس کے دونوں ممو چوسے اور ان کے ہارڈ نپلز کو مسلا۔۔۔۔ پھر وہ خود ہی صوفے پر نیم دراز ہو گئی اور اپنی ٹانگیں کھول لیں ۔۔  اور میں سمجھ گیا کہ اب مجھے اس کی چوت چاٹنی ہے۔۔۔ چنانچہ میں نے  اس کے مموں کو اپنے منہ سے نکا لا اور پھر اس کے پیٹ پر زبان پھیرنے لگا ۔۔۔ پیٹ سے ہوتے ہوئے میری زبان اس کی  ناف تک آ گئی اور میں نے اپنی زبان کے اس کی ناف میں ڈال کر چاٹنا شروع کر دیا ۔۔ نیچے سے وہ ایک دم تڑپی اور بولی ۔۔اًُ ٖ ف ف ف ۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ظالم ۔۔۔ لیکن میں نے اس کی کوئی بات نہ سُنی اور اس کی ناف کی گہرائی میں اپنی زبان  کو پھیرتا رہا۔۔۔  اور اس کے ساتھ ہی میں  اپنا ایک ہاتھ اس کی پھدی پر لے گیا اور اسے اپنی مُٹھی میں پکڑ کر دبا دیا ۔۔۔وہ  میرے نیچے سے ایک دم اچھلی ۔۔۔اور بے اختیار اس کے منہ سے ۔۔اوئی ۔۔۔۔ نکل گیا اور بولی۔۔۔۔ تم تم۔۔۔ بڑے سیکسی ہو میری جان ۔۔۔ اور پھر میں نے شلوار کے اوپر سے ہی اس کی چوت پر انگلیاں رگڑنیاں شروع کر دیں۔۔۔اور وہ مزے سے بے حال ہوتی گئی ۔۔۔۔اور ۔۔۔ سسکیاں بھرتے ہوئے بس یہی کہتی ۔۔سیکسی ۔۔۔۔۔ ہائے ۔۔۔۔ افُ۔۔۔ اور پھر میں نے ایک ہاتھ اس  کی شلوار کے کے آزار بند کی  طرف کیا اور ۔۔۔اسے ۔۔ کھولنے ہی لگا تھا کہ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی ۔۔۔ایک منٹ ۔۔ 

میں نے اس  کے آزار بند  سے ہاتھ ہٹایا اور سوالیہ  نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ مجھے ایسے دیکھتے ہوئے دیکھ کر اس نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا اور بولی ۔۔۔ مستریوں کے لنچ  کا ٹائم ہو گیا ہے پہلے ان کو جانے دو ۔۔ اس کی بات سن کر مجھے بھی یاد آ گیا کہ ٹھیک ایک بجے مستری لوگ کھانا کھانے جاتے ہیں چنانچہ میں  جلدی سے اٹُھا اور اپنا لن نیفے میں اڑس کر باہر نکلنے لگا ۔۔۔۔۔تو     راحیلہ بولی ایک منٹ ۔۔۔تو میں نے اس سے کہا اب کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔زرا اپنے شکل مبارک تو دیکھو ۔۔۔ ملکہء جزبات نظر آ رہے ہو ۔۔۔ اس کی بات سن کر دو گھڑی وہاں ٹھہر گیا پھر اس نے مجھے پانی   کا ایک گلاس دیا جو میں نے پیا تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی اب ٹھیک ہے ۔۔۔ اور میں باہر نکل گیا  اور راحیلہ کے کمرے کی طرف گیا تو مستری لوگ  ہاتھ وغیرہ دھو رہے تھے پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کھانا کھانے کے لیئے قریبی ہوٹل  میں چلے گئے  ان کے جانے کے بعد میں نے کنڈُی لگائی اور تیز تیز قدموں سے راحیلہ کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔تو وہ  بولی  کچھ کرنے سے پہلے کیونں نہ  پہلے اس  بڑھیا کو  دیکھ آئیں ۔۔۔۔ تو میں نے کہا چلو ۔۔۔اور ہم نفیسہ بیگم کے  کمرے میں چلے گئے اس دفعہ اس نے مجھے دروازے پرہی رُکنے کا اشارہ  کیا اور خود اندر چلی گئی ۔۔۔ اور جا کر نفیسہ  بیگم کے پاس بیٹھ گئی اور  اس کی نبض چیک کرنے کے بہانے اسے ہلا  جلا کر دیکھا  تو وہ ویسے ہی بے سدھ سوئی پڑی تھی ۔۔۔۔  وہاں سے مطئمن  ہونےکے بعد وہ اٹُھی اور مجھے بھی ساتھ چلنے کا اشارہ گیا   راستے میں میں نے اس سے پوچھا کہ کیا پوزیشن ہے ؟ تو وہ بولی بڑُھیا ۔۔۔ بے خبر سو رہی  ہے ۔۔ جیسے ہی ہم ڈرائینگ روم میں پہنچے ۔۔۔۔ایک دفعہ پھر وہ مجھ سے لپٹ گئی اور میرے منہ میں اپنی زبان دے دی ۔۔۔ اور میں نے پوری تندہی سے  اس کی زبان کو چوسا اس کے ہونٹوں کو چوما اس کی گردن پر بوسے دیئے اور پھر اس کو صوفے پر گرا دیا ۔۔۔ اور اپنی شلوار کھولی ۔۔۔اور پھر اس کی شلوار کا ازار بند کھول کر اسے نیچے سے ننگا کر دیا ۔۔۔اور ابھی میں  اپنا منہ اس کی پھدی کے قریب لانے ہی لگا تھا کہ وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ مجھے تمھارا   لن چوسنا ہے   چنانچہ میں نے اس کی پھدی چاٹنے کا پروگرام  مؤخر کر دیا اور ۔۔۔ اور اپنے تنے ہوئے لن کو اس کے قریب کر دیا ۔۔۔۔۔ افُ ۔۔۔۔  اس نے کسی بھوکے کی مانند میرے لن کو اپنے منہ میں داخل کیا اور اسے چوسنے لگی ۔۔۔۔ اس کے منہ کی گرمی ہونٹوں کی نرمی اور ۔۔۔۔ زبان کا زائقہ ان سب نے مجھے سسکیاں بھرنے پر مجبور کر دیا اور میں آہستہ آہستہ مزے سے کراہنا شروع ہو گیا ۔۔۔ آہ۔۔۔آوہ۔۔۔۔ سس۔۔۔۔ میری سیکسی آوازیں سن کر اس نے  میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکلاا اور بولی ۔۔۔۔ یہ  تم سسکیاں کیوں بھر رہے ہو ؟ مزہ آ رہا ہے۔۔۔ تو میں نے کہا بہت مزہ آ رہا ہے میری جان ۔۔۔ تو اس نے ٹوپے کے گرد زبان پھرتے ہوئے  کہا ۔۔۔میں اچھا لن چوستی ہوں نا۔۔۔ تو میں نے کہا بہت اچھا ۔۔۔ اور اس کے بعد اس نے کچھ دیر تک میرا لن چوسا اور مجھے  مسلسل لزت بھری کراہیں لینے  پر مجبور کر دیا۔۔

کچھ دیر لن چوسنے کے بعد اس نے اپنے منہ سے میرا لن نکلا اور بولی ۔۔۔ اب تم میری چاٹو ۔۔۔ اب میں نیچے جھکا اور پہلے تو اس کی چوت کا جائزہ لیا۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ اس کی چوت پر بہت گوشت تھا  اور وہ اوپر کی طرف ابھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔چوت کے لب ۔۔۔ کافی کھلے تھے اور  چوت کے اوپر سے لٹکے ہوئے تھے ۔۔۔اس کا مطلب تھا کہ اس نے بہت سیکس کیا ہے ۔۔۔  خاص بات یہ تھی  کہ اس کی چوت بلکل صاف تھی اور تازہ شیو  کے آثار صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔ پھر میں نے اپنی انگلی کے پوروں سے اس کی بنا بالوں والی پھدی پر مساج کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ پہلے تو وہ مزہ لیتی رہی پھر کہنے لگی۔۔۔ چوت چاٹ میری جان ۔۔۔۔ میں تمھاری زبان کو اپنی پھدی کے اندر دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔ میں نے اس کی بات سُنی اور اپنی زبان نکال کر اس کی  پھدی کی دراڑ ۔۔جو کہ کافی کھلی اور لیس دار پانی سے بھری ہوئی تھی پر زبان رکھی اور نیچے سےاوپر تک اپنی زبان کو لے گیا ۔۔۔۔۔ اس کی چوت کا لیس دار پانی جو کہ  چوت سے نکل کر باہر کی طرف آ رہا تھا اور کچھ پہلے سے ہی اس پر لگا ہوا تھا ساراے کا سارے میری زبان کی لپیٹ میں آ گیا۔۔۔ اور میں اس کا یہ نمکین پانی چاٹ گیا ۔۔۔ پھر میں نے اپنی زبان کو اس کی پھدی کے اندر ڈالا ۔۔۔افُ۔ف ف ۔۔۔ اس کی پھدی اندر سے بہت ہی گرم تھی ۔۔۔۔ اور جگہ جگہ لیس دار پانی لگا ہوا تھا میں نے وہ سارے کا سارا لیس دار پانی چاٹ کر صاف کیا ۔۔۔لیکن جہاں جہاں سے میں یہ لیس دار پانی چاٹ کر صاف کرتا ۔۔۔اس کی پھدی کی دیواریں دوبارہ وہ پانی چھوڑ دیتیں تھیں۔۔۔  میری پھدی چاٹنے کے دوران وہ بھی میری طرح ۔۔۔ لزت بھری سسکیاں لیتی رہی تھی ۔۔۔اوُہ ۔۔۔۔۔۔افُ۔۔۔اوئی ۔۔۔۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔ تم کتنا گرم ہو ۔۔۔۔ زبان اور اندر لے جا نہ ۔۔۔ جیسی آوازیں نکلتی رہیں تھیں ۔۔۔

 

  کافی دیر تک میں اس کی پھدی کو چاٹتا رہا اور وہ میرے نیچے ماہیء بے آب کی طرح تڑپتی رہی ۔۔۔اور اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی ۔۔۔۔  اس کے بعد اچانک وہ اوپر اٹُھی اور بولی ۔۔۔۔ چوت ۔۔چھوڑ ۔۔۔اب میری پھدی مار۔۔۔۔  اس کی بات سن کر جیسے ہی میں نے اپنا منہ اس کی پھدی سے ہٹایا اور نے بڑی ہی پھرتی سے اپنی پوزیشن تبدیل کی اور اور صوفے پر الُٹی ہو  کر ڈوگی بن گئی اور اپنی بڑی سی گانڈ کو ہلا کر بولی ۔۔۔ جلدی ڈال ۔۔جلدی ڈال۔۔۔۔۔۔ میں اٹُھا اور اس کی گانڈ کے پیچھے چلا گیا اور اپنا بڑا سا لن نکا ل کر اس کی چوت کے منہ پر رکھا اور ۔۔۔ لن کو  اس کی چوت کے اندر دھکیل دیا۔۔۔۔ ابھی میں نے ادھا گھسہ ہی مارا تھا ۔۔ کہ اس نے اپنی گانڈ پیچھے کی طرف پشُ  کیا اور میرا لن دوڑتا ہوا اس کی سارے پھدی میں داخل  ہو کر اس کے بچہ دانی سے جا ٹکرایا ۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد لن پھدی کی لڑائی شروع ہو گئی ۔۔ میں ایک گھسہ مارتا اور راحیلہ جواب میں دو دفعہ اپنی چوت کو میرے لن کی طرف دے مارتی ۔۔۔اور ساتھ ساتھ اس کی سسکیاں ۔۔افُ ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے منہ  میں کوئی۔۔۔ سی ڈی ۔۔فٹ ہے جس میں نان سٹاپ سسکیاں بھری ہوئیں تھیں ۔۔ کما ل کی بات ہے کہ وہ بیک  وقت  میرے لن کی طرف گھسے بھی مارتی تھی اور سسکیاں بھی لیتی تھی ۔۔۔افُ۔ف۔ف۔۔ جان۔۔۔ تیرا۔۔۔لن ۔۔۔ہائے ،۔۔۔میری  پھدی۔۔۔اپف۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔ اور مار نا ۔۔۔ شدید  گھسے مار۔۔۔ پھاڑ نا۔۔۔ ہائے میری چوت۔۔۔۔ اس ک پھدی کی گرمی اور اس کے منہ سے نکلنے والی نان سٹاپ سسکیوں نے مجھے بلکل وحشی بنا دیا تھا اور میں جنگلیوں کی طرح بغیر کسی وقفے کے اس کی چوت مار رہا تھا ۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔ اچانک اس نے اپنی پھدی کو میرے لن کے گرد لپیٹنا شروع کر دیا۔۔۔گھسے مارنے بند کر دیئے۔۔۔۔۔ اور ساری توجہ اپنی چوت کو میرے لن کے گرد کسنے میں لگا دی۔۔۔۔۔اور پھر اس نے ایک لمبی مگر ۔۔۔۔لزت سے بھر پور  سسکی لی۔۔۔اور اس کی چوت کی دیواروں سے آبشار کی طرح پانی بہنے لگا ۔۔۔اور ۔۔پھر ۔  اس ۔۔۔کےس اتھ ہی میں نے بھی ایک لمبی سی ۔۔اوہ ۔۔۔اوہ ۔۔۔۔۔ کی اور۔۔۔ میرے لن سے نکلنے والا پانی اس کی چوت کے پانی سے مکس ہونے لگا ۔۔۔۔ اور کچھ سکیڈ تک ہم دونوں میں جھٹکوں کا مقابلہ ہوتا رہا اور ہم دونوں ہی پانی چھوڑتے رہے۔۔۔ 

ہم چھوٹنے کے مراحل سے تو نکل گئے تھے مگر ابھی تک  ہمارا سانس بحال نہ ہوا تھا ۔۔۔ کہ کمرے میں ایک تیسری آواز۔۔۔ گونجی ۔۔۔ ہائے میں مر جاؤں ۔۔۔ اور یہ  آواز ہمارے لیئےکسی ایٹم  بمب کی آواز سے کم نہ تھی ۔۔۔  ہم نے نے بیک وقت۔۔۔ مُڑ کر دیکھا ۔۔۔۔ تو نفیسہ بیگم  دروازے میں اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے پھٹی پھٹی  نظروں سے کبھی مجھے اور کبھی راحیلہ کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔ چند سیکنڈ کے لیئے سارا منظر ہی سٹل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔  نفیسہ بیگم  باری باری ہمیں اور ہم دونوں خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔۔ اور ہمیں ہوش تب آیا کہ جب ۔۔۔نفیسہ بیگم ۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے الٹے پاؤں واپس  بھاگی۔۔۔جیسے ہی نفیسہ بیگم واپس ہوئی ہم دونوں کو جیسے ہوش آ گیا ہو ۔۔۔ بجلی کی سی پھرتی سے را حیلہ اور میں نے کپڑے  پہنے اور۔۔۔ کپڑے پہن کر ہم دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر راحیلہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح نیچے  صوفے پر  بیٹھ گئی اور  اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر رونے لگی۔۔ اور بولی یہ کیا ہو گیا ۔۔یہ کیا ہو گیا ۔۔ اس کی آنکھوں  میں آنسو دیکھ کر میں بے چین ہو گیا ۔۔۔ اور بولا ۔۔ چُپ کرو ۔۔  میری جان ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہو گا ۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ  کر روتے ہوئے بولی ۔۔۔ میں برباد ہو گئی ۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ کچھ بھی نہیں  ہوا۔۔۔ پھر وہ روتے ہوئے بولی ۔۔۔ تم کو پتہ ہے یہ مجھے پہلے ہی نہیں جینے دے رہی ۔۔۔اوپر سے ۔۔۔اس نے مجھے۔۔۔اور پھر سے رونے لگی۔۔۔تو میں نے اسے چُپ کراتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ اب ہم کیا کریں؟؟

 

میری بات سُن کر ایسا لگا کہ جیسے اس کے زہن میں کسی آئیڈیا نے سر اٹُھایا ہے ۔۔۔چنانچہ راحیلہ نے میری طرف دیکھا اور بولی۔۔۔ ایک ہی طریقہ  ہے کہ یہ بڑھیا کسی کو نہ بتائے۔۔۔۔ وارنہ تو اس نے مجھے  زلیل و خوار کر دینا ہے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ اٹُھ کھڑی ہوئ  اور بولی ۔۔۔ شاہ ۔۔ مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔ کیا تم میری مدد کرو گے؟ تو میں نے کہا تم حکم کر کے دیکھو یار ۔۔۔۔ تو وہ ۔۔بڑے ہی مضبوط  لہجے میں بولی ۔۔۔ میری طرح تم نے بڑھیا کی بھی لینی ہے ۔۔۔ اس کی چوت مارنی ہے ۔۔۔  وہ بھی میرے سامنے ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں حیران رہ گیا اور بولا ۔۔۔ وہ اس بات پر مان جائے گی؟ تو وہ کہنے گلی ۔۔۔ وہ کہاں مانے گی لیکن ہم نے اس کی لینی ہے ۔۔۔ ورنہ  یہ مجھے تباہ کر دے کی اور مجھ سے میرا سُکھ چین سب چھین  لے گی۔۔۔ پھر  اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور بولی۔۔۔۔ بولو میرا ساتھ دو گے نہ؟ تو میں نے کہا ۔۔ لیکن راحیلہ۔۔۔۔ میں ۔۔نفیسہ آنٹی کو ۔۔۔۔۔میرے جواب سے راحیلہ کا چہر ہ ایک دم سرخ ہو گیا اور اس کا بلڈ یشر  بھی شوٹ کر گیا ۔۔۔۔اور ایک منٹ میں ہی اس پر اس رات والی  حالت  طاری ہو گئی ۔۔۔ اور پھر اس نے مجھے گریبان سے پکڑ کر کہا ۔۔بولو میرے سامنے نفیسہ کا ریپ کرو گے ۔۔۔؟ یا میں شور مچاؤں ۔؟؟؟؟؟ ۔۔  میں تو پہلے ہی برباد  ہو گئی ہوں ۔۔۔ لیکن تم کو بھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔  میں  اس کی آنکھوں میں دیوانگی کی جھلک دیکھ کر بڑا پریشان ہوا اور  ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ ۔۔۔وہ۔۔ کہ اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور ابھی وہ چیخ مارنے ہی لگی تھی کہ میں نے  اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس سے بولا ۔۔۔راحیلہ پلیزززززز۔لیکن وہ اپنے ہوش میں نہ تھی ۔۔۔ اور اس وقت اس کی  بلکل وہی  کنڈیشن تھی جو اس رات کو تھی ۔۔۔ اس ی آنکھیں باہر کو نکلی ہوئیں تھیں  چہرہ سرخ تھا اور وہ ہولے ہولے کانپتے ہوئے  اسی دیوانگی کے عالم میں بولی ۔مجھ سے ہیچر میچر  مت کرو  کہ ۔۔ یہ  میری زندگی اور موت کا مسلہ ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔تم اگر میرا کام کرتے ہو تو ٹھیک ۔۔۔۔ ورنہ میں نہیں تو کوئی بھی نہیں۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے  چیخ مارنے کے لیئے دوبارہ اپنا منہ کھولا ۔۔۔۔۔ اور اس سے قبل کہ وہ  چیخ مارتی میں نے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔۔ ٹھیک ہے جیسا تم کہو گی ویسا ہی میں کروں گا۔۔۔ میری بات سُن کر اس نے چیخنے کا ارادہ ترک  کر دیا اور بولی ۔۔۔ تم  ۔۔۔ نے اگر کوئی  ہینکی پھینکی  کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا ۔۔۔۔ اور پھر مجھ سے بولی ۔۔۔آؤ میرے  ساتھ ۔۔  اور وہ مجھ سے آگے تقریباً بھاگتے ہوئے نفیسہ بیگم کے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔اور میں بھی اسی رفتار سے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔۔۔۔آندھی اور طوفان کی طرح ہم نفسہ آنٹی کے کمرے  میں پہنچے ۔۔۔ دیکھا  تو نفیسہ آنٹی  بڑی پریشانی کے عالم میں کمرے ٹہل رہیں تھیں۔۔۔ہمارے اندر داخل ہوتے ہی وہ ہم پر برس پڑیں اور بولیں ۔۔۔۔۔  دفعہ ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ تت۔۔تت۔اندر داخل ہونے کی ۔ تمھاری ہمت کیسے پڑی ۔۔فوراً یہاں سے دفعہ ہو جاؤ ۔۔ورنہ۔۔۔۔  ابھی آنٹی نے اتنا ہی کہا تھا ۔۔ کہ راحیلہ  کسی چیل کی طرح نفیسہ آنٹی پر جھپٹی اور اس کے دونوں بازو قابو میں کر لیئے  ۔۔۔ یہ دیکھ کر نفیسہ بولی ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔یہ ۔۔۔     تم  اچھا نہیں کر رہی راحیلہ  ۔۔۔۔ مجھے چھوڑ دو ورنہ پچھتاؤ گی ۔۔لیکن راحیلہ نے اسے چھوڑنے کے لیئے تھوڑی پکڑا تھا ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ نفیسہ بیگم نے خود کو راحیلہ سے چھوڑانے کی بڑی کوشش کی لیکن ۔۔  دھان پان سی آنٹی راحیلہ جیسی ڈشکری عورت سے خود کو کہاں چھوڑا سکتی تھی ۔۔۔ اس لیئے پہلے تو وہ محض دھمکیاں ہی دیتی رہی پھر ۔۔ہمت ہار گئی اور منت ترلوں پر آ گئی۔۔۔ لیکن راحیلہ نے اس کی بات کو سنی ان سنی کرتے ہوئے  نفیسہ بیگم کو گھیسٹ کر  پلنگ کی طرف لے گئی اور پھر اس کو پلنگ پر گرا کر مجھ سے بولی ۔۔۔ اس کا  ناڑا )آزار بند( کھول  کے مجھے دو۔۔۔  راحیلہ کی بات سنن کر آنٹی کے ہاتھوں کے طوطے اڑُ گئے اور بولی ۔۔۔ یہ ۔یہ  بے ہودگی ہے ۔۔۔  خبردار جو کسی نے میرے ناڑے کی طرف ہاتھ بھی بڑھایا تو۔۔۔ لیکن میں اس کے قرب بستر پر پہنچ گیا   یہ دیکھ کر نفیسہ بیگم نے کافی ۔۔ٹانگیں چلائیں لیکن  ناکام رہیں اور میں نے ان کی قمیض کو اوپر کیا اور ان کی شلوار  سے ازار بند نکال  کر راحیلہ کے حوالے کر دیا۔۔۔ مجھے اپنی شلوار سے نالہ نکالتے ہوئے دیکھ کر حیرت کے مارے نفیسہ بیگم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ۔۔۔ وہ مجھ سے کہنے لگیں ۔۔۔ مجھے تم سے یہ امید نہ تھی۔۔۔۔تم تو میرے بیٹے جیسے ہو ۔۔۔۔۔پلیز زززز زززززززز ۔۔ایسا مت کرو ۔۔۔ 

 

جیسے ہی میں نے نفیسہ بیگم کا نالہ راحیلہ کی طرف کیا اس نے پھرتی سے نالہ پکڑ کو  پلنگ کی نکڑ سے  نفیسہ بیگم کا ایک ہاتھ باندھ دیا ۔۔۔ اور بولی ۔۔ یہاں کہیں نفیسہ کی دوسری شلوار دیکھو ۔۔۔اور اس میں سے اس کا دوسرا نالہ  نکال  کر مجھے دو۔۔۔۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھا تو سائیڈ پر ایک ٹوکری میں نفیسہ بیگم کے میلے  کپڑے پڑے تھے  چنا نچہ میں نے وہاں سے اس کی شواار  کو پکڑااور آزار بند نکال کر  راحیلہ کے حوالے کر دیا ۔۔۔۔اس آزار بند سے راھیلہ نے آنٹی کا دوسرا ہاتھ پلنگ کے دوسرے کونے سے مضبوطی سے باندھ دیا ۔۔۔ نفیسہ بیگم حیرت کے مارے یہ سب کاروائیاں دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ اور اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ یہاں کیا کاروائی ہونے جا رہی ہے ۔۔۔سمجھ تو ان کو اس وقت آئی جب  راحیلہ نے آگے بڑھ کر اس کی شلوار اتار دی اور مجھ سے بولی چلو تم بھی اپنی شلوار اتارو۔ راحیلہ کا حکم سُن کر میں نے نفیسہ بیگم کی طرف دیکھا اور ۔۔۔۔ تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد اپنی شلوار اتار دی  ۔۔۔ یہ  دیکھ کر آنٹی کی سمجھ میں ساری بات آ گئی اور وہ  کہنے لگی۔۔۔۔ یہ نا کرو پلیزززززززززز۔۔ ایسا نہ کرو ۔۔۔۔ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی ۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔مم ۔۔۔ تمھاری امی کی بیسٹ فرینڈ ہوں ۔۔تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔ میری عزت پر ہاتھ نہ ڈالو ۔۔ مین نے آنٹی کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پلنگ پر چڑھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر نفیسہ بیگم دھائی دینے لگی کہ۔۔۔ میں نے کبھی ایسا گندہ کام نہیں کیا ۔۔پھر مجھ سے بولی۔۔۔۔ بیٹا تم بھی اس حرافہ کے کہنے میں آ گئے ہو ؟؟؟ حرافہ کا لفظ سن کر ڑاھیلہ اک دم تپ گئی اور  اسے ڈانٹ کر بولی۔۔۔چُپ بڑھیا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ باہر گئی اور بجلی کی سی تیزی سے واپس آئی تواس کے ہاتھ میں بڑی سی چھری تھی ۔۔۔جو وہ نفیسہ بیگم کے سامنے لہراتے ہوئے دانت پیس کر بولی۔۔۔۔۔۔ بڑھیا اس کے بعد اگر تم نے ایک لفظ بھی منہ سے نکلا تو میں تم کو جان سے مار دوں گی۔۔۔۔ راحیلہ کی آواز میں ضرور کوئی ایسی بات تھی کہ۔۔۔ نفیسہ بیگم ایک دم ڈر گئی اور راحیلہ کے ہاتھ میں  چھری دیکھ کر ہکلاتے ہوئے بولی ۔۔۔ مم ۔۔میں کچھ نہیں بولوں گی  ۔۔۔۔ میں۔۔۔مم۔۔۔۔۔  شور  بھی نہیں کروں گی۔ بس تم یہ چھری میرے آگے سے ہٹا دو۔۔۔ اور بلکل چُپ کر کے پھٹی پھٹی نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔ اب مین بستر پر چڑھا اور آنٹی کی ٹانگیں اپنے کندھے پر رکھنے  ہی لگا تھا ۔۔۔ کہ راحیلہ بولی۔۔۔۔ پہلے اس کو )لن ( کو تو کھڑا کر لو ۔۔۔ پھر  وہ میرے پاس آئی اور چھری کو بائیں ہاتھ میں منتقل کیا اور دائیں ہاتھ سے میرا لن پکڑ کا اسے آگے پیچھے کرنے لگی۔۔۔۔ اور پھر نفیسہ کی طرف  دیکھ کر بولی۔۔۔ دیکھ بڑھیا کیسا زبردست لن ہے اس کا ۔۔۔۔ شیخ صاحب سے ڈبل ہے نا ۔۔۔ اور پھر میری مُٹھ مارنے لگی۔۔۔۔اس کے مُٹھ مارنے سے میرے لن میں جان  آنا شروع ہو گئی اور ۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ  کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔۔جیسے جیسے میرا لن بڑا ہوتا جاتا ۔۔۔نفیسہ بیگم حیرت سے کبھی مجھے اور کھبی میرے لن کی طرف دیکھتی تھی ۔۔۔ ادھر راحیلہ  نے اپنا منہ آگے کیا اور میرے لن پر بہت سارا تھوک لگا کر بولی ۔۔۔ بڑھیا تم نے کبھی شیخ کی مُٹھ ماری؟ اور پھر میرے لن پر  طرف تیز تیز ہاتھ چلا کر بولی ۔۔۔۔ ایسے  مُٹھ مارتے ہیں  اس کے ساتھ ہی وہ رُک گئی اور بولی ۔۔۔ لیکن شیخ صاحب تو  لن چسوانے کے بڑے شوقین ہیں ۔۔ مجھے یقین ہے بڑھیا تم نے بھی شیخ کے بڑے چوپے لگائے ہوں گے ۔۔۔۔۔آج میرے اس یار کا بھی لن چوس کے د یکھو ۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔اور پھر اس نے مجھے لن سے پکڑ کر نفیسہ بیگم کے منہ کے قریب کر دیا  میرے لن کو اپنے قریب دیکھ کر نفیسہ آنٹی نے  سختی سے اپپنا منہ بند کر دیا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر  راحیلہ چھری لہرا کر بولی۔۔۔ چل بڑھیا ۔۔۔۔ڈرامے نہ کر اپنا منہ کھول اور ۔۔۔ میرے یار کا چوپا لگا۔۔۔۔ مرتی کیا نہ کرتی ۔۔۔ نفیسہ بیگم نے ایک نظر مجھے پھر میرے لن اور ایک نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصے میں بھپری ہوئی  راحیلہ کی طرف دیکھا اور  اپنا منہ کھول دیا اور راھیلہ نے میرا لن پکڑ کے اس کے منہ میں ڈال دیا ۔۔۔اور بولی ۔۔۔چل چوپا لگا ۔۔۔۔ آنٹی نے  بمشکل  میرے لن کو تھوڑا سا چوسا اور بولی۔۔۔۔ راحیلہ پلیززززززززز ۔۔۔میرے ساتھ ایسا نہ کرو۔۔۔  اس کی بات سن کر راحیلہ بولی چلوا یسا نہیں کرتے  اور مجھے پیچھے جانے کو کہا ۔۔۔۔ اور میں پیچھے گیا اور آنٹی کی ایک ٹانگ کو اٹُھا نےسے پہلے حسبِ عادت اس کی پھدی کی طرف دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔اوہ ۔۔۔ آنٹی کی چوت پر کافی گھنے اور کالے رنگ کے بالوں کا ایک  جنگل سا اگُا ہوا نظر آیا ۔۔۔ میں تھوڑا نیچے جھکا تو ان کی چوت سے گھنے بالوں اور چوت کی مکس ۔۔۔ عجیب سی مہک آ رہی تھی ۔۔۔ابھی میں ان کی چوت کا جائزہ لے ہی ر ہا تھا کہ پیچھے سے راحیلہ نے کہا ۔۔۔اب ڈال بھی دے بڑھیا کی چوت میں اپنا لن ۔۔۔ اور میں نے  نفیسہ  بیگم کی چوت کو سونگنے کا  ارادہ موقوف کیااور  اپنا لن ان کی چوت کے اینڈ پر رکھا اور اندر ڈال دیا ۔۔۔  اور ایک دو گھسے مرے لیکن مزہ نہ آیا ۔۔اور رک گیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر راحیلہ بولی ۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا۔۔۔؟ تو میں نے کہا آنٹی کی چوت  بہت خشک ہے ۔۔۔ میری بات سُن کر راحیلہ بولی ۔۔۔اگر خشک ہے تو ابھی تر کئے دیتی ہوں ۔۔۔اور پھر  اس نے چھری ایک طرف رکھی اور وہ نفیسہ بیگم کی ٹانگوں کی طرف آئی اور ان کی پھدی پر اگے گھنے جنگل کو دیکھ کر حیران رہ گئی اور بولی۔۔۔ بال رکھنے کی بڑی شوقین ہو بڑھیا ۔۔ادھر انٓٹی نے شرم کے مارے اپنا سر جھکا دیا ۔۔۔۔ اور کچھ نہ بولی ۔۔۔ اسی اثنا میں راحیلہ کا منہ ۔۔آنٹی کی چوت تک آ گیا تھا۔۔۔اور ۔۔۔  پھر میری طرح راھیلہ نے بھی اپنی ناک  نفیسہ بیگم کی چوت پر رکھ دی اور چند سیکنڈ تک اس کی مہک سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔۔۔ پھر  اس نے سر اوپر اٹُھایا اور بولی۔۔۔۔بڑھیا تیری پھدی سے  بڑی مست مہک  آ رہی ہے ۔۔۔ اور پھر اس نے بے کود ہو کر آنٹی کی چوت پر زبان رکھ دی اور اسے چاٹنے لگی۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی راحیلہ نے اپنی زبان آنٹی کی چوت پر رکھی آنٹی کے منہ سے ایک سسکی نکلتے نکلتے رہ گئی اور میں سمجھ گیا کہ آنٹی چوت چٹوانا اچھا لگتا ہے ۔۔۔کیونکہ جیسے جیسے راحیلہ کی زبان آنٹی کی چوت کے اندر جاتی مریے خیال میں نفیسہ آنٹی اسے انجوائے کرتی تھی ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد  راحیلہ نے  نفیسہ بیگم کی چوت سے سر اٹُھایا اور بولی ۔۔۔ چل اب ڈال  کہ  میں نے اس بڑھیا  کی چوت میں نمی تو کیا سیلاب بھر دیا ہے ۔۔۔ اور پھر اس نے ایک چوپا میرے لن کا بھی لگایا ااور اس کے سساتھ ہی اس سے نفیسہ بیگم کی چوت سے  نکلا پانی میرے لن پر مل دیا اور بولا ۔۔۔ پیل دے سالی کی چوت۔۔۔۔۔راحیلہ کی بات سُن کر میں نے اپنا موٹا سا لن آنٹی کی چوت میں  ڈال دیا۔۔ راحیلہ ٹھیک کہہ رہی تھی ۔۔۔ اس دفعہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پہلی والی پھدی  نہیں میں نے راحیلہ کی چوت میں لن ڈال دیا ہے کیونکہ آنٹی کی پھدی می