1015

اُستانی جی قسط 22

اس لیئے  میم نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا  اور ٹوپے پر لگی اپنی چوت  کی منی کو چاٹ کر بولی ۔۔۔ تم  نے  تو میری بس کرا دی تھی ۔۔۔ تم نہ بھی اٹُھتے  تو میں تم کو منع کرنے  والی تھی ۔۔پھر اس نے اپنا منہ میرے ٹوپے کی سیدھ سے کافی اوپر کیا اور بولی ۔۔۔ پہلے قطرے  کو  اچھل کر یہاں تک آنا چایئے ۔ اور  اس کے ساتھ ہی  وہ تیز ی  کے ساتھ میرے لن پر ہاتھ  چلانے لگی ۔۔۔۔۔۔ اور اس کی تیز تیز مُٹھ مارنے سے ۔۔اس کی چوڑیوں کی وہی مخصوص اور دلکش اور مترنم   آواز کمرے میں  سنائی دینے لگی ۔۔شڑنگ شڑنگ ۔۔۔۔ شڑنگ ۔۔۔۔۔شڑنگ ۔۔۔۔۔اور اس میوزیکل ۔۔ مُٹھ کے دوران ہی میرے لن سے منی کا  پہلا قطرہ  نکلا  اور ۔۔۔ اچھل کر  عین  اس کے  منہ پر جا  گرا   اور پھر اس نے میرے لن کو نیچے سے دبا لیا  تا کہ مزیڈ  منی باہر نہ نکلے اور   میری طرف دیکھ رک بولی ۔۔۔۔میرا  اندازہ ٹھیک تھا  نا ۔۔۔ اور پھر اس کے ساتھ  ہی اس نے اپنا منہ  میرے ٹوپے کے عین سامنے کر دیا  اور  نیچے سے  لن  پر دباؤ ختم کر دیا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ۔۔۔ میرے لن سے منی کا فوارا نکلا    ۔۔جو سیدھا اس کے کھلے ہوئے منہ میں جا گرا اور    ۔۔اس کے بعد ۔۔۔ جیسے جیسے منی کے قطرے ۔۔۔ میرے لن سے  اچھل اچھل کر باہر گرتے گئے

۔۔۔۔وہ سب کے سب اپنے منہ میں لیتی گئی ۔۔اور پھر میری منی کے پانی سے اس کا منہ  بھر گیا

۔۔۔ اور میرے لن سے بھی پانی  نکلنا  بند ہو گیا ۔۔۔   اس کے بعد میڈم شاہینہ وعدے کے مطابق  فارغ ہو کر    نہا کر استانی جی کے ہاں  ختم پر چلی گئی اور میں بیگ اٹُھائے ۔۔۔ گھر کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔ اور پھر عین اس وقت کہ میرا ایک پاؤں ۔۔۔گھر کے اندر اور ایک پاؤں باہر تھا میں نے  شیخ صاحب کی دوسری  بیوی  راحیلہ  کو دیکھا       ۔وہ ہامرے گھر سے باہر نکل رہی تھی  ۔اور سے دیکھتے ۔۔۔ ہی  میرے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔۔۔اور میرے چہرے کا  رنگ  فق ہو گیا ۔۔۔ اور   میرے زہن میں پہلا خیال یہی  آیا کہ ہو نہ ہو یہ میری شکایت  لگانے  ہی آئی  ہوگی ۔۔۔ اس لیئے اسے دیکھتے ہی  میں واپسی کے لیئے   مُڑ ا۔۔۔۔ اور جیسے ہی میں واپس ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ پیچھے سے ایک کرخت آواز سنائی دی ۔۔۔اور اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

             راحیلہ کو دیکھ کر جیسے ہی میں واپسی کے لئے مُڑا ۔۔لیکن ۔۔پیچھےسے ایک کرخت آواز جو کہ یقیناً   راحیلہ کی ہی تھی نے مجھے رکنے  کا بولا ۔۔۔مرتا  کیا  نہ کرتا  میں  وہ  آواز سُن کر  واپس  ہو لیا  ۔۔۔اور   پھر  بڑا  ہی مسکین  سا  منہ بنا  کر ان کے سامنے  کھڑا  ہو گیا ۔۔۔اب صورتِ  حال  یہ تھی کہ  ہمارے  گھر  کے دروازے  پر راحیلہ اور شیخ صاحب  کی پہلی  بیگم  نفیسہ کھڑی تھیں  جبکہ  ان  کے پیچھے امی کھڑی تھیں اور یہ سب کی سب میری ہی طرف دیکھ  رہیں   تھیں اور میں  بندہ ء مسکین اپنی شکل کو کچھ زیادہ ہی مسکین  بناتے  ہوئے ان کے  اگلے حکم  کا  منتظر تھا ۔۔  پھر راحیلہ نے  ہی قدرے سخت لہجے میں  سوال کیا اور پوچھنے لگی کہ یہ تم  واپس کہاں  جا  رہے  تھے ؟ تو میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ  وہ جی   میری کتاب  استانی  جی کے گھر رہ گئی تھی  وہ لینے جا رہا تھا۔۔تو  راحیلہ نے کہا کہ ٹھیک ہے تم کتاب لے آؤ لیکن  شام کو  تم نے ہمارے گھر آنا ہے  راحیلہ کی بات سُن کر میں نے امداد طلب نظروں سے اپنی بے بے )امی(  کی طرف تو  وہ مجھ  پچکارتے ہوئے بولیں۔۔۔ چلا  جاویں  پترا ۔۔اور جو بھی کام راحیلہ باجی تم سے کہے وہ کر دینا ۔  کہ ہمسائیوں کا بڑا حق ہوتا ہے ۔۔۔  امی کی  بات سُن کر میں نے ہاں میں سر ہلایا  اور وہاں سے چمپت  ہو گیا اب میرے دل  میں کُھد بدُ شروع  ہو گئی تھی کہ راحیلہ باجی نے مجھے  شام کو اپنے گھر میں کیوں  بلایا  ہے ؟؟  اور راحیلہ باجی لوگوں کو ایسا کون  سا  کام آن پڑا ہے جو کہ میرے بغیر نہ ہوتا  تھا ۔۔  چنانچہ میں اسی  شش وپنج  میں ادھر ادھر گھومتا  رہا  اور  پھر ۔کافی دیر بعد  واپس گھر آ گیا اور سیدھا  امی کے پاس چلا گیا اور ان سے سارا معاملہ دریافت کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے ؟ تو انہوں نے بتلایا کہ جیسا کہ تم جانتے ہی کہ نفیسہ بیگم  )  شیخ صاحب  کی بڑی  بیگم ( تو  اکثر  ہی  ہمارے گھر آتی  رہتی  ہیں بے چاری  بڑی  سادہ   اور اچھی  خاتون   ہیں اور اتنے امیر ہو کر بھی   تکبر کا ان میں نام و نشان نہیں ہے اب مسلہ یہ ہے  کہ چھوٹی بیگم  )راحیلہ ( نے  اپنے  بیڈ  روم  میں ایک  نئی  کپڑوں  والی  الماری  اور   اس کے ساتھ  ساتھ کچھ دیگر چھوٹی موٹی آلٹریشنز   کرانی  تھیں  ۔ اور اس سلسلہ میں انہوں نے شیخ صاحب سے  الماری بنانے  و دیگر چھوٹے موٹے  کام کرنے  کا کہا  تو    انہوں  نے چھوٹی بیگم کو   صرف اس

شرط پر الماری بنوانے  اور  دیگر کام کرانے کی  حامی بھری ہے کہ  ان  کا  کوئی اپنا  اعتباری     بندہ مستریوں کے سر پر کھڑا  ہو کر یہ کام   کرائے گا   اور اسکی کی  ایک وجہ تو یہ ہے کہ   ایک  تو  ان  کا گھر سامان سے  بھرا پڑا  ہے دوسرا ۔۔تم کو معلوم ہی ہے کہ شیخ صاحب پردے کے معاملے میں خاصے سخت ہیں اور ۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ مستریوں کے سامنے ان کی  کوئی  خاتون آئے ۔۔چنانچہ مستریوں کی نگرانی  و  دیگر  کاموں کے لیئے   قرعہء  فال تمھارے  نام پڑا  ہے  اور ۔ اسی سلسلہ میں نفیسہ بیگم کو لیکر  راحیلہ آج  ہمارے گھر آئی تھی  اور مجھ سے تمھارے بارے  میں اجازت طلب  کر رہی تھی  جو میں نے  انہیں بخوشی دے  دی ہے ۔۔۔ پھر امی نے  مجھے ایک  زنانہ سوٹ دکھایا  اور بولیں  یہ سوٹ راحیلہ ان کے لیئے    بطور گفٹ لائیں تھی  ۔اور سوٹ کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ  ان کو امی نے ان کو  کیوں اجازت دی تھی ۔۔اصل بات یہ تھی کہ راحیلہ نے  نگرانی کے لیئے میرا ہی  نام کیوں لیا تھا ؟ یہ  بات  مجھے کچھ سمجھ میں آتی تھی اور کچھ نہ آ رہی تھی ۔۔۔  ابھی میں اسی شش و پنج میں تھا کہ  امی نے دوسرا حکم سناتے ہوئے کہا کہ میں  نفیسہ

بیگم  کے گھر جاؤں اور  تم  کو جو بھی کام  راحیلہ باجی  کہیں  وہ  بلا چوں و چرا کروں ۔۔  ۔۔۔امی کی بات سُن  کر میں نے  سکول بیگ  رکھا اور  شیخ صاحب کے گھر کی طرف چل پڑا   گیا ۔۔۔جا کر  دروازہ  کھٹکھٹایا  تو اندر  سے  نفیسہ بیگم نے دروازہ کھولا  اور  مجھے لیکر اپنے  ڈرائنگ روم میں آ گئیں  وہ چونکہ ہمارے گھر اکثر آتی رہتیں تھیں  اورامی  کی دوست بھی تھیں اس لیئے میری ان سے اچھی  گپ شپ تھی  مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر  نفیسہ بیگم  جنہیں ہم نفیسہ آنٹی کہتے تھے  نے   بھی  مجھے عین  وہی کہانی سنائی  کہ جسکے بارے میں امی  مجھے  پہلے ہی بتا  چکیں تھیں  بس انہوں نے اس میں ایک نئی بات کا اضافہ کیا اور وہ کہ  بات بات کرتے کرتے  اچانک آنیم میری  طرف جھکیں اور سرگوشی  نما آواز میں کہنے لگیں ۔۔ ۔اس کام کی نگرانی کے لیئے ۔۔ راحیلہ  اپنے ایک رشتے  دار کا کہہ رہی تھی لیکن  تمہیں تو معلوم ہے کہ مجھے راحیلہ  کے رشتے دار مجھے  ایک آنکھ نینے بھاتے   اس لیئے میں نے شیخ جی سے تمھارے بارے میں  بات کی تھی جسے انہوں نے مان لیا ہے  پھر کہنے لگی اس کی وجہ یہ ہے کہ  پتر ایک  تو   توُ  اپنے گھر کا  بندہ ہے اور اپنا  دیکھا  بھالا بھی ہے  اور  دوسرا  یہ کہ  تیری  ماں میری  بڑی اچھی  دوست  ہے اس لیئے  ہمارے لیئے تم سے  زیادہ  اور کون بااعتبار  ہو سکتا ہے ؟  پھر وہ اسی سرگوشی  میں کہنے لگیں   ۔دیکھو  بیٹا تم میرے بیٹے جیسے ہو  اس لیئے تم نے راحیلہ کی کڑی نگرانی کرنی ہے اگر یہ  کسی کام میں  زیادہ  خرچہ  وغیرہ  کرےیا شیخ صاحب سے طلب کرے   تو تم نے  مجھے ضرور  بتا نا  ہے اور اس کے بعد انہوں نے مجھے   میرے خفیہ امور کے بارے  میں کہ جن کے لیئے میری خدمات ہائیر کی گئیں تھیں   بریفنگ دی   اور بتایا کہ میں نے کس کس  بات پر خاص دھیان  دینا ہے اور کس بات کی کڑی نگرانی کرنی ہے  اور اس  کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا بس ایک دو دن کی بات ہے تم  سکول سے چھٹی کر لینا۔۔ تو تمھاری بڑی  مہربانی  ہو گی ۔اسی اثنا میں راحیلہ  باجی بھی وہاں آ گئیں اور  میرے ساتھ  والے صوفے پر بیٹھ کر  خاص کر میرے ساتھ   باتیں کرنے لگی ۔۔۔ اور میرے ساتھ گپ شپ کرتے  وقت    راحیلہ کا رویہ میرے ساتھ اس  قدر نارمل  تھا  کہ  ایک پل کے لیئے  تو  مجھے  شک  سا  ہونے  لگا  کہ شاید  اس رات چھت پر راحیلہ   نہیں  کوئی اور تھی  پھر   دل میں یہ بھی خیال آتا کہ  شاید راحیلہ نے   مجھے  پہچانا نہیں  تھا ۔کیونکہ  میں نے اس کی باتوں سے اور بات کرتے وقت اس کی  آنکھوں میں ایک دفعہ بھی  اس  رات  والی کہانی    کا  شائبہ تک نہ دیکھا تھا ۔۔ امی اور نفیسہ بیگم کے بعد راحیلہ   نے  بھی مجھے   وہی  سٹوری سنائی جو کہ میں پہلے ہی سن چکا تھا  اور وہ  یہ  کہ شیخ صاحب اپنے گھر کا کام  کسی  اعتباری  بندے کی نگرانی میں کرانا   چاہتے  تھے اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے  وہ کہنے  لگی  اور تم کو معلوم ہے کہ جیسے ہی میں نے تمھارا  نام  صاحب کو بتایا تو  وہ  فوراً   ہی تمہاری نگرانی میں کام کرانے پر   راضی ہو گئے اس  کی بات سُن کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ پتہ نہیں  یہ ٹھیک کہہ رہی ہے یا  نفیسہ آنٹی درست کہہ رہیں  ہیں ۔۔۔اور پھر  اس   اندازے  پر پہنچا کہ  نفیسہ بیگم  ہی درست کہہ  رہیں ہو ں گی۔کیونکہ اس کام میں صرف میں ہی ان کے لیئے مخبری  کا  کام سرانجام دے سکتا تھا ۔۔ اس کے بعد    راحیلہ مجھ سے کہنے لگی ۔۔ صبع صبع مستری لوگ آ جائیں گے اس لیئے ابھی تم  میرے آؤ کہ ہم کچھ  ہلکا پھلکا سامان  سٹور  روم میں  شفٹ کر لیں ۔۔۔ راحیلہ   کی بات سُن  کر نفیسہ بولی ۔۔۔۔ پہلے بچے کو  کچھ کھانے پینے کے لیئے تو  کچھ دو   نا  اور پھر یہ کہتے ہوئے خود   ہی  اٹُھ کر چلی گئی کہ میں  اسکے لیئے کچھ کھانے کو  لاتی ہوں ۔۔ نفیسہ آنٹی کے جانے کے بعد میں اور راحیلہ ڈرائینگ روم میں  اکیلے رہ گئے اور وہ پھر سے میرے ساتھ باتیں کرنے لگی  ۔۔۔۔ لیکن حیرت انگیز  بات  یہ ہے کہ اس نے ایک دفعہ بھول کر بھی   اس رات  والے  واقعہ کا  نہ تو مجھ سے  زکر کیا اور  نہ ہی   اس کے بارے میں کوئی   اشارہ تک کیا   کہ جس  سے پتہ  چلتا  ہو کہ اس نے مجھے پہچان لیا ہے میرا خیال ہے کہ وہ  جان  بوجھ کر ایساکر رہی تھی  کہ  بات  پر پردہ    ہی پڑا  رہے تو بہتر ہے ۔۔  اور پھر میں نے سوچا کہ اگر وہ  ایسا  چاہتی  ہے تو ٹھیک  ہے میں بھی  اس  رات  والے  واقعہ کے بارے میں  نہ تو اس سے کوئی کروں گا اور نہ ہی  اس کو   کسی اشارہ کنارے میں بھی یہ واقعہ  جتلاؤں گا   جیسے ہی یہ سوچ میرے دماغ میں آئی  مجھے ایک بہت بڑی الجھن سے نجات مل گئی اور میں بھی راحیلہ کی طرح نارمل ہو گیا  پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ   اگر تم ایک  دو دن چھٹی کرنے سے  تمہاری پڑھائی کا  تو   کوئی حرج   نہیں ہو  گا  نا؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ باجی جی  سکول سے چھٹی کی   تو خیر ہے لیکن میں ٹیوشن سے  ہر گز چھٹی     نہیں کروں گا  میری بات سُن کر وہ   کہنے لگی  ٹھیک ہے لیکن کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ      تم ٹیوشن سے چھٹی کیوں نہیں کرو گے ؟؟  تو  میں  نے  ان سے کہا کہ  ایک تو  آپ کو  پتہ ہی ہے کہ  استانی جی بڑی  سخت  ہیں اور دوسری بات یہ کہ اگلے ہفتے میرے کچھ ٹیسٹ بھی ہیں جن کی  آج کل وہ مجھے  تیاری کر وا  رہی  ہیں 

 اور اگر اس تیاری  کے دوران اگر میں نے  کوئی چھُٹی کر  لی  تو  آپ کو  پتہ  ہی ہے کہ

اس سے  میرا بڑا حرج ہو گا۔۔میری بات  سُن کر وہ کہنے لگی ٹھیک ہے  ٹیوشن کےو قت تم  چلے   جانا  پھر ہنستے ہوئے بولی ۔۔فکر نہ کرو ۔۔ تم نے  یہاں صرف  مزدوروں کی نگرانی  یا پھر  اگر ان کو کوئی چھوٹی موٹی چیز درکار ہو گی تو وہ لا کر دینی ہے  جبکہ   ۔۔باقی  کا  کام مستری  لوگ  خود کر لیں گے  اتنے میں نفیسہ بیگم  ٹرے میں  چائے  اور اس  کے دیگر  لوازمات لے آئیں ۔۔۔

  ابھی  ہم  چائے پی  رہے تھے کہ اچانک باہر سے دستک   کی آواز سنائی  دی  ۔۔  دستک کی آواز سُن کر نفیسہ بیگم  اٹُھی اور بولی  آپ چائے پیو  میں دیکھتی  ہوں اور ڈرائنگ روم سے باہر  چلی گئی  پھر کچھ دیر بعد  واپس آئی  اور کہنے لگی ۔۔۔۔وہ  راحیلہ ۔۔۔۔۔  باہر مستری صاحب  سوزوکی پر لکڑی اور اپنے  دیگر اوزار وغیرہ  لائے ہیں   ۔۔۔ نفیسہ بیگم کی بات سن کر راحیلہ نے مجھے اشارہ کیا اور ہم دونوں باہر چلے گئے   راحیلہ نے مجھے کہا کہ سوزوکی پر لادی ہوئی لکڑیوں میں سے  ایک لکڑی  کا تختہ  بطور نمونہ  اسے لا کر دکھاؤں   اور میں  نے مستری صاحب سے  لکڑی  کا ایک نسبتاً   چھوٹا  سا   پیس  لیا اور راحیلہ  کو جا کر دکھا دیا ۔۔۔ میرے ہاتھ میں ہی اس نے لکڑی کے چھوٹے سے تختے کا اچھی طرح معائینہ کیا اور  اسے  کافی  دیر  تک  الُٹ پلٹ کر دیکھتی رہی اور پھر مجھ سے کہنی لگیں کہ   تم جاؤ اور مستری صاحب سے کہو کہ وہ اپنا سامان  صحن میں جبکہ لکڑیوں  کے پھٹے  برآمدے میں رکھو ا  دو   ۔۔۔۔ اور  میں نے سوزوکی کے ساتھ آئے مزدوروں اور مستری صاحب کو راحیلہ بیگم کا  پیغام دے دیا انہوں نے میری ہدایت سنیں اور پھر  بڑے سلیقے  سے  سارا  سامان  متعلقہ جگہوں   پر رکھ دیا   اور پھر جاتے جاتے مستری نے مجھے کہا   وہ صبع  آٹھ بجے کے قریب آ جائے گا  اتنے میں  آپ لوگ  کمرہ خالی کر لینا  اور چلا گیا ۔۔۔اس کے جانے کے بعد راحیلہ اور نفیسہ آنٹی برآمدے میں آگئیں اور ایک بار پھر وہ دونوں وہاں پڑے ہوئے سامان کا بارک بینی سے جائزہ لینے لگیں ۔۔ اور اس دوران  میں شیخ صاحب کی لڑکی کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا  جو  پتہ نہیں کس کھُڈ میں چھپی  بیٹھی تھی کہ باوجود کوشش کے بھی میں  ابھی تک اس کی ایک جھلک بھی  نہ دیکھ سکا  تھا ۔۔۔   پھر اس کے بعد میں نے اور راحیلہ نے مل کر راحیلہ  کے بیڈ روم  کا  چھوٹا  موٹا  سامان  ان کے  سٹور روم میں شفٹ کر دیا    اورجب چھوٹا چھوٹا  سارا  سامان  ان کے سٹور  روم میں شفٹ ہو گیا  تو  راحیلہ مجھ سے کہنے لگی کہ   تھینک یو    ڈئیر ۔۔تمھارا  آج   کا  کام ختم  ہو گیا  ہے اور  اب  تم  چاہو  تو   واپس اپنے گھر جا   سکتے  ہو   اور    باقی کا  ہیوی   سامان صبع  مزدور اٹُھا  لیں گے ۔۔ راحیلہ کے کہنے پر میں  واپس جانے  لگا  تووہ میری طرف دیکھ کر  بولی ۔۔ یاد رکھنا  کہ صبع تم نے  ٹھیک سات ساڑھے ساتھ بجے ہمارے گھر میں آنا ہے ۔۔۔ پھر اچانک ہی بولی  ۔۔۔۔ ہاں  گھر سے ناشتہ کر کے نہ  آنا۔۔ کیونکہ تمھارے کل  کا ناشتہ  ہمارے  ہاں  ہو گا  ۔۔۔  میں نے اس کی بات سُن رک اثبات میں سر ہلا یا  اور وہاں سے چلا آیا ۔۔ اگلے دن صبع صبع میں بنا  ناشتہ کیئے ان کے گھر  چلا گیا ۔اور جا کر دستک دی تو جواب میں ۔۔ دروازہ شیخ صاحب نے ہی کھولا  تھا  اور مجھے  دیکھتے ہی انہوں نے بڑی گرم جوشی  سے  میرے  ساتھ  ہاتھ  ملایا  اور  پھر میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے  کہنے لگے  تھینک یو   بیٹا ۔۔ میں تمھارا  بڑا  مشکور  ہوں  تو میں نے ان کو  جواب دیتے ہوئے  کہا کہ   ایسی کوئی بات نہیں انکل۔۔ یہ تو میرا فرض تھا ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ کہنے لگے  ۔۔۔ ویسے  یہ کام تو ۔۔  میرا  یا میرے بیٹے  فہد  کے کرنے کا  تھا لیکن  جیسا کہ تم کو معلوم  ہی ہے کہ فہد ) شیخ صاحب کا بیٹا( اپنی بہن کو لیکر چاچا کے ہاں  کراچی گیا  ہوا  ہے  اگر وہ بھی یہاں  ہوتا  تو  تمہیں  ہم کبھی بھی   زحمت  نہ دیتے۔۔۔ اتنے میں پیچھے سے نفیسہ آنٹی کہنے لگیں کہ ۔۔۔ شیخ جی اس کو شکریہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں یہ بھی اپنے گھر کا ہی بیٹا  اور فہد جیسا  ہی ہے ۔۔تو شیخ صاحب نے اس کو جواب دیا کہ ۔۔۔ بات تو تمھاری ٹھیک ہے لیکن پھر بھی شکریہ ادا کرنے کا  میرا حق بنتا  ہے اور پھر آنٹی کو مخاطب کر کے کہنے لگے ۔۔۔ نفیسہ بیگم ۔۔۔ بیٹے کو کچھ کھانے کو دو اور خود  مجھ سے معذرت کرتے ہوئے اندر چلے گئے اور آنٹی نے مجھے  بیٹھنے کا کہا اور خود ناشتہ لینے کچن میں چلی گئیں۔۔۔ 

  میں آنٹی کا بنایا ہوا ناشتہ کر رہا تھا کہ اندر سے شیخ صاحب نکلے ان کے پیچھے پیچھے  راحیلہ بھی تھی جس نے شیخ صاحب کا بیگ پکڑا  ہوا  تھا اور ان کے ساتھ  خوش گپیاں کرتی  ہوئی چلی  آ رہی تھی ۔۔ راحیلہ کو یوں شیخ صاحب کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتی دیکھ کر آنٹی  مجھ سے سرگوشی میں کہنے لگیں کہ  بڑی  ہی    ففا کٹن  ہے یہ عورت  بھی ۔۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے   زیرِ لب راحیلہ کی شان میں قصیدے پڑھنے  شروع کر دیئے    اتنے میں شیخ صاحب  میرے قریب پہنچ گئے  اور بولے پتر زرا  دھیان سے کام کروانا اور پھر باہر نکل گئے ۔راحیلہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ان کو باہر تک چھوڑنے گئی اور پھر  شیخ صاحب کو الوداع کر کے واپس ہمارے پاس آگئی اور میرے ساتھ ناشتے میں شریک ہو گئی  ۔۔۔ہمارے  ناشتہ ختم کرتے کرتے مستری لوگ بھی آ گئے اور  میں نے راحیلہ کی ہدایت کے مطابق  مزدوروں سے  سارا  ہیوی قسم کا سامان اٹُھوا کر  اس کی بتائی ہوئی جگہ پر رکھوا دیا  ۔۔۔  اور وہاں سے  واپسی  پر جب  میں نے راحیلہ کو اس امر کی رپورٹ دی تو اس نے مجھے شاباش دی اور بولی میں نے مستریوں کے لیئے چائے بنائی ہے یہ جا کر ان کو دے آؤ۔۔

سہ پہر  کا وقت تھا  اور مستری لوگ کھانا کھانے کے بعد  اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے ۔۔۔ کہ  میں راحیلہ کے پاس گیا اور بولا باجی  مستریوں نے کھانا بھی کھا لیا ہے اورمیں نے ان سے پوچھ کر آ رہا ہوں کہ ان کو کسی چیز کی ضروت تو ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے کہا ہے کہ فی الحال  ان کو کسی بھی چیز کی ضرورت نہ ہے ۔۔۔ اس لیئے اگر آپ کی اجازت ہو  تو میں ٹیوشن پڑھنے جا سکتا ہوں ؟؟؟؟  میری بات سُن کر وہ چونک گئی اور گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں کب تک واپس آ جاؤ گے؟  تو میں نے کہا   ایک دو  گھنٹے تو   لگ  ہی جائیں گے تو وہ کہنے لگی زرا جلدی آنے کی کوشش کرنا ۔۔اور میں نے ہاں کہہ کر وہاں سے گھر آ گیا اور اپنا بیگ اٹُھا کر ندا میم کے گھر کی طرف جانے لگا ۔۔  وہاں جا کر دروازے پر دستک دی تو  شاہینہ میم نے دروازہ کھولا اور  میرے اندر داخل ہوتے ہی  اس نے دروازہ بند کر کے  پہلے تو  مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پھر بنا کوئی بات کیئے اپنا منہ میرے منہ کےساتھ جوڑ لیا اور  کسنگ  کرنے لگی ۔۔۔ پہلے تو میں اس کے اس  رویے سے حیران ہوا پھر ۔۔ اس کے بعد ۔ میں نے بھی   اس کی کسنگ کا بھر پور  جواب دینا شروع کر دیا اور خاص کر  اس کی زبان کو خوب چوسا ۔۔۔ کچھ دیر بعد  شاہینہ میم نے خود  ہی اپنا  منہ میرے منہ سے ہٹایا  تو  میں نے اس سے پوچھا ۔۔ خیریت تو ہے  میم ؟ تو وہ کہنے لگی ہاں خیر ہی ہے ۔۔۔ پھر میں نے ان سے ندا میم کے  بارے پوچھا  تو کہنے لگیں   تمھاری دستک سے ایک منٹ پہلے ندا نہانے کے لیئے  واش روم میں داخل ہوچکی تھی ۔۔۔تو میں نے ہنس کر کہا تبھی اتنی عیاشیاں ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی اور بولی ۔۔عیاشیاں نہیں یار ۔۔۔۔ کل ہم  لوگوں نے واپس اپنے شہر    چلے جانا ہے ۔۔  اس لیئے میں نے سوچا پتہ نہیں پھر موقعہ ملے نہ ملے ۔۔ چنانچہ تم سے جی بھر کر کسنگ تو کر لوں ۔۔۔  اس کی بات سُن کر میں تھوڑا  سا اداس  ہو گیا اور بولا ۔۔۔ میم واقعہ ہی آپ لوگ کل جا رہے ہو؟ تو وہ  میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ ہاں یار جانا تو ہے  کہ  پیچھے کے بھی کام دیکھنے ہیں۔۔۔ پھر مجھے کہنے لگی فکر نہ کرو میں اگلے  ماہ پھر آؤں گی ۔۔۔۔ البتہ اس وقت  تم سے پیار کرنے کا  موقعہ ملے گا یا نہیں اس کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتی یہ کہہ کر وہ ایک دفعہ پھر میرے ساتھ لگ گئی  ۔۔۔  اور پھر میرا نیم کھڑا   لن  اپنے  ہاتھ  میں پکڑ کر اسے  دبانے لگی۔۔۔

  پھر ندا کے آنے سے پہلے پہلےاس نے مجھے ایک گرینڈ ٹیسٹ دیا   جسے میں  حل کرنے لگا اور اسی دوران  ندا میم بھی  نہا کر  ہمارے پاس ہی بیٹھ گئی اور اپنے بال خشک کرتے ہوئے  شاہینہ سے بولی ۔۔۔کچھ گزارا  ہوگیا ہے  اس لڑکے کا ؟ تو شاہینہ نے جواب دیا ۔۔۔۔  جو جو بھی پڑھایا تھا اس کا ٹیسٹ بنا کر دیا ہے ۔۔۔ جسے یہ حل کر رہا ہے ۔اب اس کا یہ ٹیسٹ  بتائے گا کہ  اس کو میری ٹیوشن کا  کتنا  فائدہ  ہوا  ہے ۔۔۔۔ ٹیوشن  سے فارغ  ہونے کے بعد میں بوجھل دل سے واپس گھر آیا ۔۔۔ شاہینہ میم کے جانے کا سُن کر پتہ نہیں  کیوں میں تھوڑا   سا اپ سیٹ  ہو گیا  تھا؟ ۔۔  گھر آ کر میں نے اپنا  بیگ رکھا اور پھر حسبِ  وعدہ شیخ صاحب کے گھر چلا گیا ۔۔۔وہاں گیا  تو مستری  لوگوں کو  ویسے  ہی  اپنے اپنے کاموں میں مصروف پایا ۔۔ جیسے کہ میں ان کو چھوڑ کر گیا تھا   چنانچہ میں چلتے چلتے  ان کے پاس کھڑا ہو  گیا اور بڑے مستری صاحب سے باتیں کرنے لگا ۔۔اسی  دوران ایک مزدور مجھے ایک پرانے سے  گتے  کا  کارٹن  دیتے  ہوئےبولا کہ صاحب جی   گتے کا یہ کارٹن  مجھے ) کمرے کے کونے کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے (۔۔ لوہے کی ا لماری کے پیچھے سے ۔ملا  ہے ۔۔ میں نے ا س کے ہاتھ سے وہ کارٹن لیا اور باہر نکل  کر سٹور روم کی  طرف بڑھ  گیا  ادھر میں  سٹور کے دروازے سے کمرے کے  اندر داخل  ہو رہا تھا کہ میری نظر  راحیلہ پر پڑی  جو کہ بڑی  تیزی کے ساتھ  سٹور سے باہر نکل رہی تھی ۔۔۔چنانچہ   اس کا دروازے سے  باہر نکلنا اور میرا  دروازے میں اندر داخل ہونا ۔۔۔۔ ایک ساتھ ہوا  جس کی وجہ سے  میری اس کے ساتھ ایک   زور  دار ٹکر ہو گئی  جس  کا  نتیجہ یہ نکلا کہ میرے ہاتھ سے گتے کا  وہ کارٹن نیچے گرگیا ۔۔۔ اس کے گتے کی حالت آگے ہی خاصی  ناگفتہ بہ   تھی       ۔۔۔ اور اس ٹکر کی وجہ سے جو یہ  نیچے گرا ۔۔۔۔ تو گتے  کا  وہ    خستہ حال کارٹن  پھٹ گیا  ۔ جس کی وجہ سے  کارٹن کے اندر پڑی  اس کی   مختلف اشیاء بکھر کر نیچے گر گئیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر بیک وقت میں نے راحیلہ سے اور راحیلہ نے مجھ سے معذرت کی اور پھر ہم  دونوں ہی  نیچے جھک کر کارٹن سے گر کر بکھرنے والی اشیاء جمع کرنے لگے ۔۔۔ 

ایک بات  جو  میں نے خاص طور پر  نوٹ کی تھی  وہ یہ کہ اس کارٹن کو دیکھ کر راحیلہ برُی  طرح سے  چونکی  تھی اور  مختلف اشیاء جمع کرتے ہوئے مجھ سے  کہنے لگی  ۔۔۔ کہ یہ کارٹن تم کو کہاں سے ملا  ہے ؟ تو  میں نے جواب دیا  کہ یہ کارٹن مجھے ایک مزدور نے  دیا تھا  اور اسے یہ کارٹن لوہے کی الماری کے پیچھے سے  ملا تھا   راحیلہ سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ میں   ایک فوٹو البم سے بکھری  ہوئی تصویریں بھی اکھٹی کر رہا تھا ۔۔۔ تصویریں اکھٹی کرتے کرتے اچانک میری نظر ایک تصویر    پر پڑ گئی ۔۔اور ۔۔۔۔ وہ تصویر  دیکھ کر میں برُی طرح چونک گیاتھا  چنانچہ میں نے اس تصویر کو اپنے ہاتھ میں پکڑا    اور پھر بڑے ہی غور سے اس تصویر کا  جائزہ  لینے  لگا  ۔۔۔۔وہ تصویر  راحیلہ کی تھی  جس کے ساتھ ایک لڑکا کھڑا تھا ۔۔۔ اور اس  کے ساتھ جو لڑکا تھا اس لڑکے کو دیکھ کر ہی  تو میں برُی طرح سے چونکا تھا  ۔۔۔۔ ۔۔۔ یہ ۔۔یہ وہی لڑکا  تھا  جس نے  اس رات راحیلہ کے ساتھ نا کام سیکس کیا تھا  اس رات میں نے اس  لڑکے کو دیکھ کر   جان  تو  لیا  تھا کہ یہ لڑکا  میرا کہیں دیکھا  بھالا ہے لیکن پہچان  نہ  پایا  تھا  ۔۔۔اور  پھر اس رات کے بعد میرے  دماغ میں راحیلہ  اور دیگر  باتوں کے ساتھ ساتھ  یہ لڑکا  بھی چھایا  ہوا  تھا ۔۔۔ اور باوجود کوشش کے بھی مجھے  یاد  نہ آ رہا تھا کہ اس لڑکے کو میں نے کہاں پر دیکھا ہے؟؟  لیکن راحیلہ کے ساتھ اس کی تصویر  کو  دیکھتے  ہی مجھے  یاد آ  گیا کہ یہ لڑکا کون ہے ۔اور اسے میں نے کہاں دیکھا ہے ۔۔ اور مجھے یاد آیا  کہ ایک  دن  ہمارا  فٹ بال کا میچ  تھا۔ اور  یہ لڑکا بھی مخالف ٹیم کی طرف سے سنٹر ہاف کی پوزیشن پر کھیل رہا تھا  ۔۔ لیکن  اس کی گیم  انتہائی  خراب اور    گندی تھی   نہ تو یہ پیچھے سے آئے ہوئے  پاس  کو آگے فارورڈ کی طرف   دھکیل سکتا تھا  اور نہ ہی یہ ہماری ٹیم کے فارورڈ  کے کسی کھلاڑی سے بال کو چھیننے کی  صلاحیت رکھتا  تھا    اس لڑکے کے علاوہ   مخالف ٹیم کے باقی لڑکوں  کی گیم  بہت  اچھی  تھی  لیکن پھر  یہ ہو ا کہ اس لڑکے کے خراب کھیل کی وجہ سے واضع طور پر  وہ  لوگ یہ  میچ ہار  گئے  ۔۔ تب میں نے   مخالف ٹیم کے ایک لڑکے سے جو کہ میرا دوست تھا  سے پوچھا کہ یار یہ لڑکا اتنا  گندہ کھیلتا ہے  اس کے باوجود بھی تم لوگ اس لڑکے کو کھلا رہے  ہو اسکی کیا وجہ ہے ؟ ۔۔۔۔  مجھے یاد ہے کہ میری بات سُن کرمیرے دوست نے بہت برا  سا منہ بنایا  تھا   اور  جل کر بولا تھا کہ   بھائی اور کوئی یہ  کھیلے  نہ کھیلے یہ  بندہ  ضرور  کھیلے گا تو میں  نے جب اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہاکہ اس لیئے کہ  یہ   لڑکا  ہمارے کپتان  صاحب کی سویٹ ڈیش  ہے ۔۔۔ نام  اس  کا افضال خان ہے  ۔۔۔   مجھے یاد ہے کہ دوست  کی  یہ بات سُن کر میں نے بڑے غور سے افضال کی طرف دیکھا تھا جو اس وقت تک  کِٹ اتار کر نارمل کپڑے پہنے   کپتان  کے ساتھ  کھڑا  باتیں کر رہا  تھا ۔۔۔مجھے یوں غور سے دیکھتے ہوئے دیکھ کر دوست کہنے لگا کیوں تمھارا بھی  دل آ گیا ہے اس کی موٹی بنڈ کو دیکھ کر  ؟ تو  میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے اس سے کہا ہرگز نہیں  یار  میں تو بس صرف اس کا جائزہ لے رہا تھا یہ سن کر دوست بولا ۔۔ جائزہ  جتنا مرضی ہے لے لو لیکن میری بھی بات سُن لو کہ یہ لڑکا  کپتان کے علاوہ کسی کو نہیں  دیتا ۔۔۔۔ 

 

مجھے یوں غور سے تصو یر کو دیکھتے ہوئے اچانک ہی راحیلہ نے ہاتھ بڑھا کر  اس تصویر کو  میرے ہاتھ  سے چھین لیا اور پھر تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی  ۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں کہ بھلا  تم  اس تصویر کو اتنے غور سے کیوں  دیکھ رہے ہو؟ اور  پھر ۔۔۔۔ جیسے ہی اس کی نظراپنے ساتھ کھڑے افضال پر پڑی وہ بری طرح سے چونک گئی اور  وہ کبھی مجھے اور کبھی تصو یر کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔ پھر خود ہی کہنے لگی ۔۔۔ یہ  یہ ۔۔۔ لڑکا میرا کزن ہے ۔۔۔ تو  میں نےاس سے کہا  ۔۔ باجی میں نے کب کہا  ہے کہ یہ لڑکا آپ کزن نہیں ہے ؟ میں دیکھ کہ راحیلہ کے چہرے کا  رنگ  اڑُا   ہوا   تھا اور ۔۔۔وہ  مسلسل میری طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اس کی سمجھ  میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ مجھ سے کیا عُزر پیش  کہے؟اور پھر جب اس نے بے دھیانی میں کوئی چوتھی دفعہ مجھ سے کہا کہ ۔۔۔یہ  ۔۔ یہ ۔۔ میرا کزن ہے تو میں نے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہو ئے کہا ۔۔۔ راحیلہ باجی یہ آپ کا اچھا کزن ہے جو  مین  دروازے کی بجائے  چھت سے آپ کو ملنے آتا ہے ۔۔۔ میری   اس بات کا کرنا تھا کہ ایسا لگا کہ جیسے راحیلہ کو   555  وولٹ کا کرنٹ لگا   ہو۔۔۔۔ اس کا  چہرہ  جو کچھ دیر  پہلے  پیلا پڑا  ہوا  تھا میری بات سُن کر   لال ٹماٹر ہو گیا تھا  تب اس نے بڑے غصے اور نفرت سے کہا ۔۔ وہ  میرا کزن ہے چاہے وہ چھت سے آئے یا  دروازے سے تم  کو اس سے کیا مطلب ہے ؟ راحیلہ کی بات سے زیادہ اس کے لہجے نے مجھے تپا    دیا   تھا  اور مجھے  بھی تھوڑا غصہ آ گیا  کہ ایک تو یہ چور ہے اوپر سے چترف بھی کر رہی ہے چنانچہ   میں نے اس سے کہا    کہ ٹھیک ہے باجی  میں آپ کی بات  کو درست مان لیتا ہوں تو کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ میں نفیسہ بیگم سے اس رات جو کچھ آپ کے  چھت پر واردات ہوئی اس کا  زکر کروں ؟ میری  اس بات نے راحیلہ کے چودہ طبق روشن کر دیئے ۔۔۔ اور وہ بڑی بے یقینی سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی !!!   اوہ۔۔۔۔۔ یو ۔۔۔ یو ۔۔ بلیک میلر ۔۔۔تمہیں شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہوئے ۔۔۔۔ تو میں نےڈھیٹ بن کر اس سے کہا کہ اس میں شرم کی کون سی بات ہے ۔۔۔  تو  وہ تپ کر بولی  کہ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ تم دوسروں کے گھروں کی ٹوہ لو ۔۔۔ اور پھر پھونکارتے ہوئے بولی ۔۔اگر تم نے  افضال  والی بات نفیسہ بیگم کو  بتائی تو تم کو بھی یہ بتانا پڑے گا کہ تم آدھی رات کے وقت ہمارے چھت پر کیا کر رہے تھے؟

 

راحیلہ کی بات سُن کر میں نے اس سے کہا کہ  کون کم بخت یہ کہہ رہا ہے کہ میں بھی اس وقت آپ کی چھت پر موجود تھا ۔۔۔ میں نے تو صرف نفیسہ آنٹی کو صرف یہ بتانا ہے کہ آنٹی میں نے اپنے چھت سے کیا دیکھا پھر میں نے اس کے  غصے سے بھرے  لال لال چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔ آپ بھول رہیں ہیں  راحیلہ باجی کہاگر میں اپنی  پانی والی ٹینکی پر چڑھوں تو  مجھے آپ کے گھر کا چھت بلکل صاف نظر آتا ہے ۔۔۔ اور  پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مزید کہا کہ ۔۔۔  میں نے بس آنٹی کو یہی کہنا ہے کہ اس رات میں  نے اپنی چھت سے آپ کے گھر میں کسی سائے کا اترتے دیکھا تو میں سمجھا چور ہے اور میں بھاگ کر اپنی ٹینکی پر چڑھا اور پھر میں نے دیکھا کہ ۔۔۔۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا  کہ راحیلہ کی ہمت جواب دے گئی اس نے فوراً  ہی میرے منہ پر اپنا  ہاتھ رکھ دیا اور ۔۔۔ بولی بس کرو۔۔ پلیزززز ۔۔بس کرو ۔۔۔ اس کے کہنے پر میں نے مزید کوئی بات نہ کی اور   پھر اپنے منہ پر رکھا اس کا ہاتھ ہٹا  دیا  اور اس کی طرف دیکھنے  لگا ۔ اور میں نے دیکھا کہ کہ میرے بات سن کر  راحیلہ بیگم نہ صرف تھر تھر  کانپ رہی  بلکہ جیسے ہی میں نے اس کا  ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا تو دیکھا کہ  وہ بڑی مشکل سے اپنا رونا کنٹرول کر رہی تھی ۔۔ اور میں جان گیا تھا کہ میں نے انجانے میں  نفیسہ  آنٹی اس کی دکھتی رگ  پر ہاتھ رکھ دیا ہے  کیونکہ میں جب بھی نفیسہ آنٹی کا  نام لیتا  تھا تو نہ صرف  یہ کہ اس کے چہرے کا رنگ اڑُ جاتا تھا بلکہ اسی وقت  وہ اپنے ہونٹ بھی چبانے لگتی تھی ۔۔۔کافی دیر چُپ رہنے کے بعد وہ مجھ سے رندھی ہوئی آوا ز میں بولی ۔۔۔  نفیسہ بیگم  کو یہ سب بتانے  سے تمیں  کیا مل جائے گا؟   تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے کچھ ملے نہ ملے کم ازکم حقائق تو سامنے آ جائیں گے ۔۔ میری بات سُن کر  وہ کمزور  سی آواز میں بولی ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ تمھارے ان حقائق سے کسی غریب کا گھر تباہ  ہو جائے گا؟ اس کی بات سُن کر  مجھے بڑا  افسوس ہوا ۔۔۔ کیونکہ آنٹی کو  راحیلہ کا سیکس سین  بتانے کا میرا کوئی ارادہ  نہ تھا ۔۔  اس کی  وجہ  یہ تھی کہ میں بھی   لن  مار  بندہ  تھا ۔۔۔ اور جیسے میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا  کوئی راز فاش ہو  ویسے ہی  میں  کسی  اور کا راز فاش کرنے میں بھی کوئی  دلچسپی نہ رکھتا  تھا   کیونکہ میں نے کسی سے سنا تھا کہ اگر میں کسی کا راز رکھوں گا تو کوئی میرا راز بھی رکھے گا ۔۔۔۔۔ اور یہ جو باتیں میں نے راحیلہ سے کیں تھیں پہلے تو محض اس کو چھیڑنے کی غرض سے ۔۔۔پھر غصے سے کہہ دیں تھیں ۔۔لیکن میں دیکھ رہا تھا  میری باتوں کا راحیلہ بیگم نے بڑا  گہرا اثر لیا ہے ۔۔۔  پھر میں نے دیکھاکہ  راحیلہ  ۔۔  نیچے زمین کی طرف نظریں گاڑے کسی گہری سوچ میں گم تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ   ہولے ہولے کانپ بھی  رہی تھی ۔۔۔ میری  باتوں نے  اسے  بہت  زیادہ  ڈرا   دیا تھا ۔۔تب میں نے اس کا سر  اوپر اٹھایا  اور  بولا ۔۔۔۔ بس اتنی  ہی    بہادری تھی آپ  میں؟؟ میرا اتنا کہنا تھا کہ راحیلہ بیگم  نے بڑی ہی مجروح نظروں سے میری طرف دیکھا اور اس کی آنکھوں سے ٹب ٹب آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔

 

کہتے ہیں کہ  دینا  کا سب سے مشکل کام کسی عورت کو روتے ہوئے دیکھنا ہے ۔اور میرا خیال ہے کہ ٹھیک ہی کہتے  ہیں ۔۔کیونکہ راحیلہ  بھی  انت کی خوبصورت تھی اور اس کی آنکھوں سے گرنے والے آنسو۔۔۔افُ۔۔۔۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے آنسو نکل کر سیدھے میرے دل میں ترازو  ہو رہے تھے ۔۔ اس کے بعد وہ ہچکیاں لے لے کر رونے لگی اور مجھے سمجھ نہ آ رہا تھا کہ میں کیا کروں ۔۔آخر میں نے اس سے کہا سوری راحیلہ جی ویری سوری ۔۔اوپر سے مجھے اس بات کا بھی خدشہ  پیدا ہو رہا تھا کہ کہیں نفیسہ  آنٹی نہ آ جائیں چنانچہ میں نے راحیلہ کو ہاتھ سے پکڑا اور سٹور روم میں لے گیا اور اندر لے جا کر راحیلہ سے ایک دفعہ پھر سوری کی ۔۔۔ لیکن وہ مسلسل روئے جا رہی تھی ۔۔۔اور مجھ سے اس کی  بڑی بڑی آنکھوں سے گرنے والے آنسو ۔۔برداشت  نہ  ہو  رہے تھے ۔۔۔اسے چُپ کراتے کراتے پتہ نہیں کب میں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔اس نے بھی کوئی احتجاج  نہ کیا اور میرے گلے سے لگ گئی اور پھر  اس نے میرے کندھوں پر اپنا سر رکھا اور ویسے ہی ہچکیوں کے درمیان روتی رہی ۔میں نے اسے دلاسہ دینے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ پیہم  روتی ہی رہی ۔۔۔۔پھر  میں نے اسے چپ کرانے کی غرض سے اس  کا چہرہ  اپنے سامنے کیا رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سُرخ  ہو رہیں تھیں اور ان سرخ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر  مجھے بلکل پتہ نہیں چلا کہ کب میں نے اپنا منہ راحیلہ بیگم کے منہ کے پاس کیا اور کب  اسے بے تحاشہ چومنے لگا ۔۔۔۔ اور اس کی گالوں  بہنے والے نمکین پانی کے  سارے آنسو ۔۔۔اپنے ہونٹوں سے چوس  لیئے اس کے بعد میرے ہونٹ نیچے آئے اور میں نے راحیلہ کو  اپنے ہونٹوں میں لے لیا اور اس کے ہونٹوں کا رس پینے لگا ۔۔۔۔  میرے اس ایکشن سے وہ کچھ دیر تو ہکا بکا رہی لیکن جب میں نے اپنی زبان کو اس کے منہ کے اندر کی طرف دھکیلا تو ۔۔۔۔اسے جیسے  ہوش آ گیا اور اس نے پہلے تو  اپنی زبان کو چھپائے رکھا لیکن میری زبان کی مسلسل تلاش سے   شاید اسے رحم آ گیا اور اس نے  اپنی زبان کو میرے حوالے کردیا ۔۔  اور پھر میں مزے لے لے کر اس کی ذائقہ دار زبان کو چوسنے لگا ۔۔میری اس زبان کے بوسے نے راحیلہ کو بھی  شاید مست کردیا  تھا