1066

اُستانی جی قسط 21

اور  نہ  شاہینہ  میم  کا  یوں  بھاگ کر جانا کوئی  بڑی بات تھی ۔۔لیکن۔۔۔ بات  تب بڑی بنی  جب  وہ  روتی ہوئی  ارم کو گلے  سے لگائے باہر  برآمدے میں )کہ جہاں وہ مجھے ٹیوشن پڑھاتی تھی( لے آئی ۔جہاں  آ کر وہ  ساتھ  پڑی   چارپائی  پر بیٹھنے کی بجائے  میرے سامنے  کرسی پر آ کر  بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔ اس وقت صوتِ حال یہ تھی کہ  میرے  سامنے ایک کرسی پڑی تھی درمیان میں ایک میز تھا جس پر میرا  بیگ  و کتابیں  اور  کاپیاں   پڑیں  ہوئیں  تھیں  اور میرے بلکل   سامنے  والی کرسی پر شاہینہ میم بیٹھتی   روتی  ہوئی  ارم کو چُپ  کرا  رہی تھیں ۔۔  میں نے ایک نظر ان  دونوں کو د یکھا اور پھر دئیے گئے  سوالات  کو حل  کرنے لگا ۔۔۔ کچھ دیر بعد  مجھے  شاہینہ میم کی بڑی  پیار بھری آواز  سنائی  دی  وہ ارم  سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ دودھ   پیو گی  میری بچی ۔۔۔   میں نے میم کی آواز  سُنی ضرور ۔۔۔  پر اس پر کوئی خاص  توجہ نہ دی ۔۔۔لیکن  جب  کچھ  ہی سکینڈ کے بعد میں نے شاہینہ کی دوبارہ) لیکن   تھوڑی  لاؤڈ ( آواز سُنی  )جیسے کہ وہ   یہ  بات  مجھے سنا   رہی  ہو( وہ  ارم کو مخاطب کر  کے کہہ رہی تھی ۔۔۔ ماما کی جان ۔۔۔ ماما  کا  دودھ  پپیو  گی ؟؟؟ ۔۔۔۔ میم کی لاؤڈ  آواز  سُن کر  میں نےمیں سر اٹُھا کر ان کی طرف دیکھا تو وہ  ارم کو دودھ پلانے کے لئیے  اپنی قمیض اوپر کر رہی تھیں ۔۔۔ اور ۔ پھر میرے دیکھتے  ہی  دیکھتے شاہینہ میم نے  اپنا  اپنا خوبصورت   مما  ننگا کیا ۔۔۔۔ اور پھر  ارم کے  منہ کو نیچے سے پکڑ کر ا سے  تھوڑا  اوپر کیا اور فائینلی اس کے منہ میں اپنا موٹا نپل دے دیا ۔۔۔افُ۔ف۔ف۔ف۔ف۔ ان کا گورا مما ۔۔۔ممے  کے آگے موٹا سا  نپل۔۔۔۔ یہ نظارہ دیکھ کر مجھے تو شلوار کے اندر تک مزہ آ گیا  اور ۔۔۔ شلوار کے اندر جس نے مزہ لیا تھا ۔۔۔۔وہ  بھی  جھوم کر سر اٹُھانے لگا ۔۔۔ اور میں یک ٹک ارم کو شاہینہ میم کا دودھ پیتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔۔ اور  میں جانے کن سوچوں میں گم تھا کہ اچانک مجھے شاہینہ میم کی آواز سنائی دی ۔۔۔وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔اے مسٹر ۔۔ میرے دئےں  ہوئے سوال حل کر لیئے؟  اس کی آواز سُن کر میں ہڑ بڑا  اٹُھا اور چونک  کر ان کی طرف دیکھنے لگا ۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگی ۔۔۔ مسٹر مںُ تم سے کچھ  کہہ رہی ہوں ۔۔۔ اور میں نے اس کی بات سن کر کان ۔۔۔ ج۔ج۔ جی میڈم ۔۔۔ بس ایک سوال رہ گیا ۔۔۔ تو وہ  بولی  جلدی  وہ بھی سے حل کر لو میں ارم کو دودھ پلا کر چیک  کروں گی ۔۔  اور انہوں نے جس ادا  سے لفظ   دودھ اپنے منہ سے ادا  کیا   تھا  میں تو ان کی اس ادا پر  قربان ہو گیا اور ان کے ادا سے کہے ہوئے دودھ میں  جانے کیا  جادو تھا کہ ۔۔ ۔ اس  کی بات سُن کر میرے اندر خون کی گردش تیز ہو گئی ۔۔۔اور میں خواہ مخواہ ہی گرم ہونے لگا۔۔۔۔اور میرے سارے وجود میں   ایک انجان سی مستی چھانے لگی۔۔۔ 

میں شاہینہ کے  ممے کے سحر میں کھویا ہوا تھا اور ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھ رہا تھا کہ  اس نے ایک دفعہ پھر  میری طرف دیکھا اور تھوڑا سختی سے  بولی۔۔۔۔ سوال حل کر ۔۔۔اور میں اس کے دیئے گئے سوالات کو حل کرنے لگا ۔۔۔اسی دوران ۔۔۔ ندا میڈم کچن سے نمودار ہوئی اور   شاہینہ کے سامنے چائے کی ایک بڑی سی  پیالی رکھ دی اور بولی ۔۔۔ کیسا  جا رہا  ہے تمھارا  سٹوڈنٹ ؟ تو شاہینہ بولی ۔۔۔ ویسے تو  ٹھیک ہے ۔۔۔بس کچھ کمیاں ہیں  وہ میں دور کر دوں گی ۔۔۔ندا  میم  نے یہ سنا اور واپس  کچن میں چلی گئی  جیسے ہی ندا میم کچن میں داخل ہوئی میں نے دیکھا کہ  ارم دودھ پیتے پیتے سو گئی تھی اور یہ چیز شاہینہ میم نے بھی نوٹ کر لی اس لیئے اس نے ارم ے منہ سے اپنا نپل  نکلا  اور اسے ساتھ والی چاپائی پر ڈال دیا ۔۔۔۔۔ادھر شاہینہ نے   جیسے ہی  اپنا نپل   ارم  کے منہ سےنکالا ۔۔ایک دفعہ پھر میری آنکھوں کے سامنے  میڈم شاہینہ کے  گورے  اور موٹے ممے کا نظارہ  آ گیا ۔۔۔ اور پچھلی دفعہ تو  شاہینہ کے نپل سے نکلنے  والے   صرف ایک  قطرہء  دودھ۔۔نے  میرے  دل  و دماغ  میں ہلچل مچائی تھی جبکہ اس دفعہ تو میں نے اس کے  سفید ممے کے اوپر براؤن نپل سے دودھ  کے کافی سارے قطرے  نکلتے   دیکھ لیئے تھے اور میں   جو پہلے  ہی  کافی ہاٹ  ہو  رہا  تھا  یہ منظر دیکھ کر اب میں  اور  بھی  ہاٹ ہو  چکا  تھا ۔ اور  میرا گرمی کے مارے  بہت برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ادھر ارم کو بستر پر لٹا کر دوبارہ میرے سامنے بیٹھی اور   جیسے ہی اس نے چائے پینے کے لیئے پیالی کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ تو ۔۔اچانک اس کا ہاتھ پھسلا اور ساری چائے نیچے گر گئی  ۔۔۔۔  ۔۔۔جس سے  برآمدے کا  سارا   فرش  گندہ  ہو گیا  ۔۔ جیسے ہی میں نے دیکھا کہ میم سے چائے نیچے گری  ہے میں اپنی سیٹ سے اٹُھا اور  فرش صاف کرنے کے  لیئے صافی لانے کے لیئے جونہی واش روم کی طرف  جانے لگا   ۔۔ تو شاہینہ  میم نے مجھے سختی سے منع کرتے  ہوئے کہ میں اپنے سوال حل کروں ۔۔۔یہ کام وہ خود کر لے گی     چنانچہ میرے دیکھتے  ہی دیکھتے  وہ ۔۔۔۔۔۔ واش روم کی طرف چلی گئی اور پھر واپسی سے ایک بڑا  سا پرولا  ) گندا کپڑا جس  کو گیلا کر کے صحن وغیرہ صاف کرتے ہیں( برآمدے کے فرش پر رکھا ۔۔۔ پھر اس نے پیچھے سے اپنی قمیض کو اوپر کیا ۔۔۔۔ جس سے اس کی بڑی سی  گانڈ کی   دونوں پھاڑیاں نمایاں نظر آنے لگیں ۔۔جنہیں دیکھ کر میں سوال شوال بھول حل کرنا  گیا  اور  چپکے  چپکے اس کی  بڑی  سی  گانڈ  کا نظارہ کرنے لگا ۔۔قمیض اوپر کر کے  پھر وہ  اکڑوں  فرش پر بیٹھی اور    فرش  پر    پرولا )صافی(   پھیرنے لگی ۔۔ اسے پرولا  پھیرتے دیکھ کر اچانک  میرے  شیطانی زہن میں ایک خیال/پلان  آیا ۔۔۔ اور پھر اگلے   ہی لمحے میں نے اس پلا ن  پر  عمل کرنے  کا  فیصلہ کر لیا ۔۔۔اور پھر اس کے بعد  میں نے  بظاہر اپنی ساری توجہ ۔۔۔۔سوال حل کرنے  پر رکھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ  اپنا  بایاں  پاؤں تھوڑا آگے  کر  کے اس کے انگھوٹھے کا رُخ  اوپر کی طرف کر لیا  ۔۔۔ اور انتظار کر نے لگا ۔۔۔اور پھر میرے اندازے کے عین مطابق  شاہینہ میم   پرولا  پھیرتے پھیرتے

۔۔آہستہ آہستہ ۔ اپنی  گانڈ  میرے بایئں  پاؤں کے انگھوٹھے کی  طرف بڑھانے لگی  ۔۔۔۔

ہوتے ہوتے جیسے ہی اس کی گانڈ میرے انگھوٹھے کی  رینج میں آئی  میں  نے اپنا انگوٹھا

۔۔۔۔تھوڑا آگے کر دیا۔۔۔۔ ۔ ۔جیسے ہی  میرے  پاؤں کا انگھوٹھا  اس کی نرم گانڈ  سے  ٹچ  ہوا ۔۔۔ وہ  ایک  دم ایسے اچھلی  جیسے کہ اسے    555  وولٹ کا  کرنٹ  لگا  ہو ۔۔۔ اور  میری طرف  دیکھنے لگی ۔۔۔ لیکن میں تو  بڑا  معصوم بنا  اس کے دیئے ہوئے  سوال حل کر رہا  تھا ۔۔اس نے چند سکینڈ تک مجھے گھورا  ۔۔۔ لیکن  میں نے  اس کے گھورنے کو مطلق   لفٹ  نہ کرائی ۔۔۔ اور پہلے سے بھی  زیادہ  انہماک سے سوال حل کرنے  لگا ۔۔۔۔۔۔ آخر وہ عورت تھی ۔۔۔۔ اور میری ٹیچر بھی ۔۔۔اس  لیئے  چند سکینڈ  میں ہی  وہ   میری شرارت کو  سمجھ گئی  لیکن ۔۔۔ کچھ  نہ بولی ۔اور  نہ ہی کوئی  ردِعمل شو  کیا۔۔اور اس کے بعد ۔ وہ  ایک دفعہ پھر  نیچے بیٹھی اور  دوبارہ   سے پرولا پھیرنے لگی ۔۔۔ اس دفعہ بھی    جیسے  ہی  ۔۔۔۔۔۔۔اس  کی  موٹی گانڈ ۔ میرے انگھوٹھے  کی رینج   میں آئی میں نے ایک دفعہ پھر اپنا  انگھوٹھا آگے بڑھایا اور اس  کی نرم گانڈ سے ٹچ کر دیا ۔۔۔۔ لیکن پہلی  بار  کے برعکس اس   دفعہ اس کا ردِعمل کافی مختلف  تھا ۔۔۔اس نے میرے انگھوٹھے کو اپنی گانڈ پر محسوس  تو کیا     لیکن  بے نیاز بنی رہی ۔۔۔ اور پھر  اسی بے نیازی سے فرش پر پرولا پھیرنے لگی ادھر ۔۔۔۔  میرا انگھوٹھا ابھی بھی اس کی حسین گانڈ کو ٹچ کر  رہا تھا ۔اور میرا خیال ہے کہ میرے انگھوٹھے کے اس ٹچ نے اس کو بھی مزہ دینا شروع کر دیا تھا اور میری طرح وہ بھی ۔۔ ہاٹ ہونے لگی تھی   ۔۔۔۔  کیونکہ پرولا پھیرتے پھیرے   اس نے اپنی گانڈ کو میرے انگھوٹھے سے صرف  ایک انچ    پیچھے کیا اور ۔۔اور۔۔ اب  میرا  انگھوٹھا  اس  کی چوت کے نرم لبوں کو چھو رہا تھا ۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤ۔۔ؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔صواد آ گیا  بادشاہو۔۔۔کیونکہ   ۔۔ ۔اپنی  چوت کے لبوں پر میرے موٹے اور کھردرے انگھوٹھے کو محسوس کر کے بھی اس نے اپنا کوئی ردِعمل نہ شو کیا اور ۔۔۔۔ ایسے بنی رہی  کہ جیسے کچھ بھی  نہ  ہوا  ہو۔۔۔ ادھر جیسے  ہی میرے انگھوٹھے  کی نوک نے اس کی چوت کے نرم  لبوں کو ٹچ کیا۔۔۔۔۔ میرا سارا  وجود مستی میں بھر گیا ۔۔۔۔ اور پھر ایسے ہی پرولا پھیرتے پھیرتے  اچانک  پتہ نہیں کیسے  اس  کا  ہاتھ میرے سامنے دھری  میز پر  لگا  کہ  جس سے  میرا سکول  بیگ ،کاپی پنسل اور دیرر اشیاء  اس کے  پاس  نیچے فرش پر گر گئیں ۔۔۔

 

جیسے  ہی  میرا  سامان فرش پر گرا  اس نے ایک مستانی نظر سے  مجھے  دیکھا اور بولی ۔۔۔ چلو  جلدی سے  اپنا سامان  اٹُھاؤ بھی کہ میں  نے پرولا  پھیرنا ہے  ۔۔۔ اس کی  مست آنکھوں میں کوئی ایسا پیغام  ضرور تھا کہ   جسے سنتے  ہی  میں بنا کوئی  بات کیئے اس کے پاس   نیچے بیٹھ گیا اور اپنا  سامان اکھٹا کر نے لگا ۔۔سامان  اٹھاتے اٹُھاتے میں نے دیکھا کہ ۔۔ میری ایک پنسل  اور ربڑ  اس کے  سامنے اور تھوڑا آگے پڑی ہوئی تھی۔۔۔ اور وہ  میری طرف سے   بظاہر بے  نیاز  ہولے ہولے پرولا پھیر رہی تھی ۔۔۔میں نے ایک نظر شاہینہ میم کی طرف دیکھا  اور پھر اپنی پنسل پر نظر ڈالی ۔۔ پتہ نہیں  کیوں مجھے   اس وقت اس کی گانڈ کافی اوپر کو اٹُھی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔  اور میں اتنے قریب سے اس کی گانڈکے زیر و بم اور نشیب و  فراز   دیکھ رہا  تھا   اور اس کی موٹی گانڈ  سے تھوڑا آگے ہی تو میری پنسل اور ربڑ پڑی تھی ۔۔۔یہ دیکھ کر میں نے ہمت کی ۔۔۔۔اور   میں نے اپنا  ہاتھ اس کی دونوں ٹانگوں  کے درمیان سے گزارا اور  ۔۔اپنی پنسل اٹُھا لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ہاتھ کی  واپسی پر۔۔۔۔ جان بوجھ کر لیکن  بظاہر اتفاقاً   اپنے  الُٹے ہاتھ کو اس کی گانڈ  کی دیواروں پر رگڑ دیا ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔ مجھے اس کا م  میں اتنا  مزہ آیا کہ  میرے اندر تک  شہوت بھر گئی  اور ۔۔۔۔۔ اس کی گانڈ کی نرمی  اور زبردست       لمس سے  میرا لن کھڑا ہو گیا ۔۔۔ لیکن اس وقت لن کھڑا ہونے کا کس کافر کو ہوش تھا ۔۔ اپنی گانڈ پر اتنا واضع مساج  ہوتے دیکھ کر   بھی اس نے مجھے کچھ نہ کہا اور وہ   ویسے  ہی  اپنی  گانڈ اوپر کئے  بظاہر   پرولا  پھیرتی  رہی ۔۔۔جس سے میری ہمت میں کچھ اور اضافہ ہوا اور اس دفعہ میں نے   ربڑ اٹھانے کے لیئے اس کی ٹانگوں کے بیچ  ہاتھ کیا ۔۔۔ میں چاہتا  تو اس وقت  پنسل کے ساتھ  ساتھ ربڑ کو بھی  ایک ہی بار میں اٹُھا  سکتا تھا  لیکن بوجہ میں نے ایسا نہ کیا تھا ۔۔۔ کیونکہ میں سکینڈ چانس بھی  لینا  چاہتا  تھا  چنانچہ  میں نے اس دفعہ بھی دوبارہ ہاتھ آگے بڑھایا    اور  اسی طرح اپنے  ہاتھ کو اس کی ٹانگوں سے گزارتے ہوئے ۔۔۔۔وہ  ربڑ پکڑ  لی  اور پھر  اپنے  ہاتھ کو واپس  لانے لگا ۔۔۔۔ اوراس دفعہ میں نے اپنا ہاتھ سیدھا رکھا اور اپنی دو انگلیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑا  اوپر کر کے اس کی چوت کی پھانکوں کے درمیان پری  دیا۔۔۔۔۔ جیسے ہی میری دو انگلیوں نے اس کی چوت کو مَس کیا ۔۔۔۔۔۔ واضع طور پر میں نے شاہینہ کے منہ سے ایک سسکی سُنی ۔۔۔۔اور میرا دل بلیوں اچھل پڑا۔

شاہینہ کو چوت کے لبوں کو چھو کر میں اتنا جزباتی  ہو گیا  تھا کہ  موقعہ دیکھ کر میں نے اس  کا  ہاتھ  اپنے  ہاتھ میں پکڑا  اور اسے  اپنے لن پر رکھ دیا۔پہلے تو اس نے اپنے ہاتھ کو لن پر نہ رکھا  اور اسے سختی  سے  پیچھے ہٹا  لیا ۔۔۔ لیکن جب میں نے زبردستی  اس کا ہاتھ پکڑ کر اوٌر اسے اپنے  لن پر رکھا ۔۔۔تو ۔۔۔۔  لن  پر  ہاتھ پڑتے ہی  پہلے تو  وہ تھوڑا  سا  چونکی ۔۔۔۔ پھر جیسا کہ اس  جیسی ہر عورت کے ساتھ ہوتا ہے  پھر اس نے حیرت سے مجھے اور پھر میری  باڈی کو دیکھا ۔۔۔وہ  ایک دبلے پتلے لڑکے  کے ساتھ لگے  اتنے بڑے لن کا تصور بھی نہ کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔ چنانچہ پہلے تو  اس نے لن  کو ہلکا سا چھو کر دیکھا ۔۔۔اور پھر اس کے سائیز  کا اندازہ  لگاتے ہی اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور  اس نے مرسی طرف دیکھتے  ہوئے  اپنے  نیچے والا ہونٹ اپنے  دانتوں تلے داب لیا  اور پھر بے اختیار  میرے لن  پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط  کر لی  ۔۔۔ اور میری طرف دیکھتے ہوئے اسے مسلسل  دبانے لگی ۔۔۔۔جیسے  اسے ابھی بھی  اس بات یقین  نہ آ  رہا  ہو کہ میرا لن  اتنا  بڑا  اور موٹا  بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرے لن کو دبا رہی تھی کہ اچانک کچن سے کچھ کھڑ کُھڑ کی آوار سنائی دی ۔۔۔اور یہ آواز سنتے ہی وہ ایک دم محتاط ہو گئی اور میرا لن چھوڑ کر  میرے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی جبکہ میں سب کام بھول کر سوال حل کرنے لگا۔۔۔۔

اور آنے والے وقت کا  اندازہ کرتے ہی  لن کو شاباش دیتے ہوئے سوچا کہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اور خاتون میرے لن کا نشانہ بننے والی تھی ۔۔۔۔۔

 

         پھر اس کے بعد  میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ خوش قسمتی سے یہ آنٹی بھی کس قدر آسانی  سے میرے ساتھ  پھنس گئی ۔۔۔  میری اس شوخ  سوچ  پر میرے  اندر سے آواز آئی کہ  زیادہ  اچھلنے کی  ضروت نہیں تمہیں   کیا  معلوم  تم  نے آنٹی کو گھیرا  ہے  یا آنٹی  نے تم کو  پھنسایا  ہے ؟  یہ خیال   آتے   ہی میں  نے اپنی   اس  بونگی سوچ  پر لعنت  بھیجی اور  پھر اپنا  سامان  اٹُھا کر میز پر رکھ دیا ادھر  شاہینہ میم نے بھی صافی سے سارا  فرش صاف کر لیا  تھا اس لیئے  وہ  واش روم میں گئی اور واپس آ کر میرے قریب بیٹھ کر  بولی ۔۔۔ ٹیسٹ  دکھاؤ ؟؟ اور  میں  نے اپنی  وہ کاپی جس پر  سوال حل کیئے ہوئے تھے اس کے سامنے کر دیئے ۔۔۔ شاہینہ  میم نے  ایک بڑی  ہی گہری  اور میٹھی نظر مجھ پر ڈالی  اور پھر میری  کاپی  چیک کرنے لگی۔۔۔۔

 

 

اس سے اگلے دن کی بات ہے کہ  میں حسبِ معمول ٹیوشن کے لیئے ندا میم کے گھر  جانے کے لیئے ان کے دروازے پر دستک دی تو اندر سے شاہینہ نکلی ۔۔۔۔ اور یہ  پہلے موقع تھا کہ شاہینہ میم  نے دروازہ کھولا  تھا  اس لیئے میں نے  اندر  داخل ہوتے ہوئے  ان  سے پوچھا کہ ۔۔  ندا میم  کہاں  ہیں ؟ تو  وہ  بڑے  سخت  لہجے  میں کہنے لگی ۔۔ کہ بکواس  نہ کرو  اور  اندر آ جاؤ ۔۔۔ اس کا  موڈ دیکھ کر میں خاصہ سہم گیا   کیونکہ  اس خاتون کو کوئی پتہ نہیں  چلتا  تھا کہ وہ گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہو جاتی تھیں ۔۔۔چنانچہ میں   چُپ چاپ ان کے ساتھ گھر میں داخل ہو گیا  اور  برآمدے میں جا کر اپنے بیگ کر میز پر رکھا اور پھر   اپنی  مخصوص  کرسی پر بیٹھ گیا اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلے سے بنایا  ہوا  ایک پرچہ میرے سامنے  رکھا  اور بولی ۔۔آج تمھارا گرینڈ ٹیسٹ ہے ۔ چلو  یہ سارے سوال حل کرو ۔۔میں نے اپنا  بیگ کھولا  اور پھر  ایک نظر  ۔  پرچہ  کی طرف ڈالی اور پھر  ایک نظر شاہینہ میم کی  طرف دیکھا  تو وہاں  مجھے کافی  سے زیادہ سختی نظر آئی۔۔۔ جسے دیکھ  کر میں نے سر جھکایا  اور ان کے دیئے ہوئے سوال حل کرنے لگا ۔۔۔ اسی  اثنا  میں گیلے بالوں پر تولیہ پھیرتے ہوئے ندا میم کمرے سے  باہر نمودار ہوئی ۔۔۔اور ایک نظر مجھے اور پھر شاہینہ کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ برآمدے کا ماحول بڑا  ہی گھمبیر اور تناؤ  ذدہ تھا   میں بڑا سیریس وہ کر اور پریشانی کے عالم میں پرچہ حل کر رہا تھا جبکہ میرے سامنے شاہینہ  میم بیٹھی مجھے خون خوار نظروں سے گھور  رہی تھی ۔۔۔۔میم نے  ایک نظر مجھے اور شاہینہ کو دیکھا ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی ۔۔ ۔۔ بڑی سختی کر رہی ہو اپنے سٹوڈنٹ پر ۔۔۔ یہ سُن کر شاہینہ نے اسی سخت لہجے میں کہا کہ لاتوں کے بھوت  باتوں سے نہ  مانیں  تو  ایسا ہی کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ اس پر  ندا کہنے لگی اینی وے ۔۔آج جمعرات ہے اور تم نے  زیبا کے ہاں ختم پر نہیں چلنا  ؟ ان کی بات سُن کر شاہینہ بولی  ۔۔۔یار پروگرام تو تھا پر ایک تو ارم اور دوسرا  یہ صاحبزادے صاحب جو ابھی تک ویسے کے ویسے  ہی  ہیں ۔۔ اور میں سوچ رہی ہوں کہ جانے سے پہلے کچھ تو اس کے پلے ڈال ہی جاؤں۔۔ اس لیئے ۔۔ سوری میں

نہیں جا سکتی۔۔ ۔۔شاہینہ میم کی بات سُن کر ندا میم بولی ۔۔۔ ایسے نہ  کہو یار تم تو جانتی ہی ہو کہ   یار زیبا  میری  ویری  بیسٹ فرینڈ ہے  اور وہ تم سے بھی اچھی طرح واقف ہے  اس لیئے یہ بڑی بری  بات   ہے کہ اگر ۔۔۔ تم یہاں ہو کر بھی اس کے ہاں ختم پر  نہ جاؤ ۔۔۔اس لیئے  پلیز  چلو ۔۔  ندا کی بات سُن کر شاہینہ کہنے لگی کہتی تو تم ٹھیک ہو ندا ۔۔۔ چلو ایسا کرتی ہوں میں اس لڑکے کا ٹیسٹ لیکر اور تھوڑا  پڑھا کر آ جاؤں گی ۔۔۔ ویسے بھی زیبا کے ہاں   تم  بہت جلدی جا رہی ہو ۔۔    پھر کہنے لگی اچھا یہ بتاؤ کہ ختم کس ٹائم ہو گا تو ندا نے جواب دیا  کہ مغرب کے آس پاس ۔۔۔ یہ سن کر شاہینہ بولی اس میں تو ابھی  تین چار گھنٹے باقی  ہیں ۔۔۔ اس لیئے تم   جاؤ ۔۔۔  میں مغرب کے آس پاس  آ کر ختم میں شرکت کر لوں گی ۔۔۔ شاہینہ کی بات سُن کر ندا میم اپنے کمرے میں چلی گئی اور کچھ دیر میں تیار ہو کر وہ باہر آئی اور مجھ سے بولی  کنڈی لگا لو ۔۔ تو میری بجائے شاہینہ نے اسی کرخت لہجے میں کہا ۔۔۔  کہ دیکھ نہیں رہی  یہ ٹیسٹ دے رہا ہے تم جاؤ میں خود  دروازے کو  لاک کر لوں گی ۔۔۔ شاینہ کا کرخت لہجہ سُن کر  ندا میم  ہنس کر  بولی  لگتا  ہے شاہینہ کہ  تم پر بھی ۔۔۔زیبا کا سایہ ہو گیا اور  پھر جاتے جاتے رُک  کر بولی ۔۔۔ یاد رکھنا میڈم  مغرب کے آس پاس تم نے زیبا کے ہاں ہونا ہے  اور باہر چلی گئی ۔۔۔ اس کو جاتے دیکھ کر شاہینہ میم اٹُھی اور دروازے کو کنڈی  لگا کر واپس آ گئی ۔۔ ۔۔۔  

  اس وقت میں پوری یک سوئی کے ساتھ  ایک  بڑا  ہی گنجلاک قسم کا سوال حل کر رہا تھا ۔۔۔ جب میں نے اپنی  ٹانگوں کے درمیان کچھ محسوس کیا ۔۔۔ لیکن میں نے اس کو اپنا وہم جانا اور سوال  کو حل کرتا رہا۔۔۔ لیکن پھر کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ کوئی نرم نرم چیز میری ٹانگوں کے درمیان سے ہوتی ہوئی  میرے لن پر مساج کر رہی ہے ۔۔۔ میں ایک دم چونک گیا اور  تھوڑا  چوکنا  ہو کر  بیٹھ گیا ۔۔۔ اگلے ہی لمحے میں نے   شاہینہ  میم کا نازک  سا پاؤں  بڑے  واضع طور پر اپنے لن پر  ٹچ ہوتا  ہوا محسوس کیا ۔۔۔ یہ  محسوس کرتے ہی میں نے سر اٹُھا کر اوپر دیکھا تو میڈم شاہینہ اپنی  تمام تر حشر  سامانیوں کے ساتھ میز  پر اپنی    دونوں کہنیاں  ٹکائے ۔میری طرف دیکھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ۔۔ میز کے  نیچے سے   میرے لن پر اپنا پاؤں بھی  پھیر رہی تھی ۔۔۔ تھوڑا  آگے جھکنے کی وجہ سے مجھے  اس کے گورے گورے   بریسٹ صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔ میم کو اس حالت میں دیکھ کر میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔ اور میں خالی خالی نظروں سے ان کو دیکھنے لگا ۔کیونکہ  میں ان سے ہر گز  اس بات کی توقع نہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے  جب  مجھے ایسے بے وقفوں کی طرح  منہ  پھاڑے  اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا تو   مسکرا کر بولی ۔۔ کیوں ؟؟؟  کیا  ہوا  ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے ۔؟؟۔۔۔تو  میں ان  کی  بات  نہ سمجھا اور   ویسے  ہی ہونقوں کی طرح ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ میڈم ۔۔۔ابھی  تو آپ ۔۔؟؟  تو  وہ کہنے لگیں ۔۔جی ابھی  تھوڑی  دیر  پہلے جو میں نے آپ کے ساتھ کیا تھا اسی کے  بارے میں بات کر رہی ہوں ۔۔۔پھر  کچھ  وقفہ   دیکر  بولی ۔۔  سُن لو میں نے تمھارے  اور ندا کے ساتھ جو  کیا  تھا  ۔۔۔   وہ  سب  ڈرامہ تھا ۔۔شاہینہ میم  جو کہہ رہی تھی وہ میں سُن تو رہا تھا

 

 لیکن ۔ میں ابھی تک  شاک کی حالت میں ان کی طرف  دیکھے  جا رہا  تھا   اور   ابھی بھی میرے پلے کچھ نہ  پڑ   رہا  تھا  اور میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا    کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟ ۔۔۔اس لئے  میں نے  ہکلاتے ہوئے ان سے  کہا ۔۔۔ پر  میم آپ  کو  ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟  تو  وہ کہنے  لگی ۔۔مجھے ڈرامہ کرنے کی اس لیئے ضرورت تھی   میرے چاند ۔۔۔ کہ  مجھے  جارحانہ موڈ میں دیکھ کر  ندا     مجھے  اپنے  ساتھ لے جانے پر  زور  نہ  دے  ۔اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ۔۔ میڈم  تو  پھر آپ نے جو میرے ساتھ  کیا  وہ کیا  تھا ؟ ۔۔ تو وہ بڑے اطمینان سے کہنے لگی ۔۔ ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیئے اسے میرا   سوانگ سمجھ لو  ۔۔ان کی بات سُن کر میں  نے ایک گہری سانس لی ۔اور ان کی طرف دیکھنے لگا  ۔۔۔مجھے اپنی طرف دیکھتے  ہوئے دیکھ کر  وہ تھوڑا مسکرائی  اور کہنے لگی ۔۔۔کچھ  سمجھے مسٹر بدھو ۔۔اور میں نے اثبات میں سر ہا  دیا ۔۔ اس کے بعد وہ پھر  مجھ سے  بولیں  ۔۔۔ ۔۔۔۔ ٹیسٹ   والے سوالات حل کر لیئے؟؟ تو  میں  نے کہا بس تھوڑا   سا  رہ    گئے  ہیں  تو  وہ  کہنے  لگی ۔۔۔جلدی کرو  کہ ابھی  تم کو ایک  دوسرا ٹیسٹ بھی دینا ہے ۔۔۔ اور اس  کے ساتھ  ہی  انہوں   نے اپنا   پاؤں  مزید  دراز  کیا اور  میرے لن پر پھیرنے  لگی ۔۔ شاہینہ  کے  پاؤں  کا لمس  پاتے  ہی  میرا لن  ایک  دم کھڑا  ہو گیا ۔۔اور میں اس کے آدھے ننگے ممے دیکھنے لگا ۔۔پھر اس کے پاؤں کے تلوے کو  اپنے  تنے ہوئے لن پر محسوس کرتے ہی میں نے کرسی تھوڑی اور آگے کی طرف بڑھائی  اور اپنی ٹانگوں کو  مزید کھول  کر کے اس کے  آدھ کھلے مموں کو ٹکٹکی  باندھ کے دیکھنے  لگا  میرے آگے بڑھتے ہی اس نے اپنا دوسرا  پاؤں بھی  میرے لن  کے پاس رکھ دیا اور اب  وہ  اپنے  دونوں  پاؤں  کے تلوے  میرے لن کے گرد جوڑکر ۔۔۔۔  مُٹھ مارنے  کےسٹائل میں انہیں اوپر نیچے کرنے لگی ۔۔۔ شاہینہ کی اس حرکت سے مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔اور وہ  میری طرف دیکھتے ہوئے مسلسل  اپنے  پاؤں کے تلوؤں کو اوپر نیچے کر رہی تھی ۔ اور میں نے اس کی طرف  دیکھا  تو  اس  وقت  اس کی آنکھوں  میں بلا کی جنسی بھوک اور شہوت کے لال  ڈورے تیرتے  ہوئے صاف نطر آ  رہے تھے ۔۔۔اور اس  کے ساتھ ساتھ اس نے  اپنے نچلے  ہونٹوں   کو   اپنے دانتوں تلے بھی  دبا کر رکھا  ہوا   تھا   اور یہ سٹائل  شاہینہ میم پر اتنا   زیادہ   چچ   رہا  تھا  کہ  انہیں اس حالت میں دیکھ کر میرا لن سخت سے مزید  سخت   تر ہوتا  جا  رہا  تھا ۔۔۔۔۔تبھی میں نے  ان   سے پوچھا  ۔۔۔  میرا کیسا ہے میم؟  میری بات سُن کر انہوں نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے آزاد کرتے ہوئے کہا  ۔۔ یقین کرو تمھارے اس کے ) لن پر پاؤں کا تلوا   رگڑتے ہوئے( ۔۔ سائز  نے  تو  مجھے ساری  رات سونے نہیں دیا ۔ تو  میں کہا  اس کی کوئی خاص وجہ ۔؟؟؟؟؟؟؟۔تو وہ کہنے لگی اس  کی  خاص وجہ  اس کی موٹائی اور لمبائی ہے ۔۔۔پھر  وہ  اپنے  ہونٹوں  پر شہوت  بھرے  انداز  میں  زبان  پھیرتے ہوئے بولی ۔۔۔  تمہارے جتنا  سائز  تو میں نے  بلیو موویز  میں صرف حبشی لوگوں کا دیکھا  تھا ۔۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں باغ باغ ہو گیا اور ان سے بولا  ۔۔۔ میم پلیز اپنے  بریسٹ توتھوڑے اور  ننگے کریں نا ۔۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے اپنے مموں کی طرف دیکھا  اور پھر  میری طرف دیکھ کر  بولی ۔۔ یہ تو  پہلے  ہی اتنے  زیادہ  ننگے  ہیں  انہیں اور کتنے زیادہ ننگے  کروں؟  تو میں  نے ان سے  کہا ۔۔۔۔سارے ننگے کریں نا  پلیززز۔۔۔تو  وہ  میری طرف دیکھ کر بڑے معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔سارے  کے سارے ننگے کردووں ۔۔۔؟  تو میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔۔۔ جی میم سارے  کے سارے ننگے کردیں ۔۔۔ انہوں نے میری  بات سُنی  اور پھر  بلا تکلف اپنی  کھلے  گلے والی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اپنے  دونوں  ممے  باہر نکال  دیئے ۔۔میم کے شاندار اور اتنے  گورے  بریسٹ  دیکھ کر میرے منہ سے ایک بار پھر  بلکل اسی طر ح  سیکس سے بھر پوُر  سسکی نکل گئی  جو   میں  نے ان کے پہلی بار نپل دیکھ کر بھری تھی۔۔۔  جسے سنتے ہی وہ مسکرائی اور بولی۔۔۔ پہلی دفعہ تمھاری اس سسکی نے ہی     مجھے تمھارے بارے میں  سوچنے پر مجبور کر دیا تھا  اور تب میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ۔۔۔۔۔اس کے بعد وہ کہنے لگی ۔۔۔دیکھو میں نے تو  تمہاری  پسندیدہ  چیز  تمہارے سامنے  ننگی  کر دی اب تم بھی  میری پسندیدہ  چیز کو ننگا  کرو نا ۔۔۔ شاہینہ میم کی بات سُن کر میں نے  فوراً   اپنا  آزار بند  کھولا اور اپنی  شلوار کو  نیچے کر دیا ۔۔۔ اور  انہوں نے میرے ننگے لن کو  اپنے  پیروں  کے  نرم تلوؤں   سے چھوا  اور ایک  گرم سی آہ بھر کر اس پر مساج  کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

 

کافی دیر تک وہ  میرے لن پر اپنے پیروں کا مساج اور میں ان کے مموں کو دیکھتا رہا ۔۔۔

پھر انہوں نے مجھے کہا ۔۔ کہ میرے بریسٹ کو دیکھتے  ہی  رہو گے  یا   ان کو اپنے ہاتھوں  میں پکڑو  گے بھی ؟  میم کی بات سُن کر میں نے اپنے ہاتھوں کو  آگے بڑھایا   اور  ان  کا ایک بریسٹ   اپنے   ہاتھوں میں پکڑ کر اسے  دبا  دیا ۔۔۔تو ۔۔۔ فوراً ہی ان کے تنے  ہوئے نپل سے  دودھ  نکلنے  لگا ۔۔۔اور میڈم نے ایک سسکی لی اور  بولی ۔۔۔پاگل     میرے  بریسٹ کو نہیں نپلز کو مسلو۔۔۔ اور میں نے ان کے دونوں نپلز  اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پکڑے اور انہیں مسلنے لگا ۔۔۔ جیسے جیسے میں میم کے نپلز کو اپنی انگلیوں کی مدد سے مسلتا ویسے

ویسے میڈم کے پاؤں تیزی سے میرے لن کے گرد چلنے لگتے اور میں ۔۔۔۔ ان کے پاؤں کے مساج سے بے حال ہوتا جاتا پھر میم نے کمال مہارت  سے اپنے  دائیں  پاؤں کا تلوا  اوپر اٹھایا اور  اس  کو  میرے ٹوپے کے اوپر پھیرنے لگی۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی مزے کی تیز لہر میرے جسم میں بجلی کی طرح دوڑنے لگی اور میں آہیں بھرنے لگا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میڈم شہوت بھرے لہجے میں  بولی ۔۔۔ مزہ آ رہا  ہے ۔۔۔ تو میں نے  سر ہلا دیا ۔۔۔ 

کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے آرڈر دیا کہ میں کرسی سے اٹُھ کر ان کے پاس آؤں اور  میں نے بلا چوں و چرا ان کے حکم کی تعمیل کر دی ۔۔ اور میں ان کے پاس   پہنچا  تو انہوں نے بڑے  پیار  سے میرے لن کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر اسے سہلانا   شروع  کر دیا   اور بولی ۔۔۔۔کیا بات ہے تمھارے اس مردانہ ۔۔۔ ہتھیار کی ۔۔۔۔۔اگر میں پنڈی رہتی ہوتی  نا۔۔۔تو  میں روزانہ اس کو اپنے  اندر  لیتی ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔ انہوں  نے بڑے  ہی  پیار سے  میرے ٹوپے پر  دونوں  ہونٹ جوڑ کر کس  دی اور  بولی ۔۔۔۔ کیسا مشروم کی طرح  کا ہیڈ ہے تمھارے لن کا ۔۔۔۔   اور پھر انہوں نے میرے لن کو اپنے دائیں ہاتھ  میں پکڑا  اور  مُٹھ  مارنی  شروع  کر  دی ۔۔۔ان کے نرم  ہاتھوں کا لمس گو کہ مجھے  بہت  اچھا  لگ  تھا پھر بھی میں نے ان سے کہا کہ میڈم لن کو تھوڑا چکنا کر لیں ۔۔۔۔۔ میری بات سُن کر انہوں نے بہت سا تھوک جمع کیا اور لن پر مل کر تیز تیز ۔۔۔ہاتھ چلانے لگی ۔۔۔ان کے تیز تیز  ہاتھ  چلانے سے انکی  چوڑیوں کی مخصوص جھنکار بھی فضا مین  گونجنے لگی  ۔۔۔۔ شڑنگ ۔۔شڑنگ ۔۔۔اور اس کے ساتھ  ہی میرے لن نے مزی کاایک موٹا سا قطرہ  چھوڑا  جو ٹوپے  سے  ہوتا  ہوا  باہر آیا تو اسے  دیکھتے   ہی میڈم  نے  اپنی  زبان   باہر نکالی  اور لن سے  باہر نکلنے  والا   مزی   کا   وہ   موٹا  سا قطرہ   چاٹ  لیا ۔۔۔۔پھر میری طرف دیکھ کر بڑے مست  لہجے میں بولیں ۔۔۔ بڑا  نمکین ہے تمھارے لن سے نکلنے والا قطرہ ۔۔۔اور پھر مُٹھ مارتے ہوئے بولیں ۔۔۔ جب تم ڈسچارج ہوتے ہو تو تمھارے لن سے کتنی سپیڈ سے منی نکلتی ہے ؟ تو میں نے کہا مجھے  یاد نہیں ۔۔۔ تو وہ بڑی حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگیں اور بولیں ۔۔ مُٹھ  مارتے  ہو  نا ؟؟؟؟  تو میں نے کہا جی بہت ۔۔۔تو وہ بولیں پھر بھی ۔۔۔تو میں نے کہا میڈم جب میں چھوٹنے لگتا  ہوں  تو اس  وقت  میری آنکھیں خود بخود  بند ہو جاتیں  ہیں اس لیئے میں آپ کو کچھ نہیں بتا  سکتا ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ ہنسے لگیں اور بولیں   بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔۔

تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہ کیوں پوچھ رہی  ہو ؟  تو کہنے لگیں  کہ ڈسچارج   کے   وقت مرد کی   منی    لن سے اچھل کر  جب باہر نکلتی  ہے  تو  یقین کرو         مجھے و ہ منظر   بہت   بھاتا  ہے  تو میں نے ان سے کہا  ٹھیک ہے میم جب میں چھوٹنے لگوں گا اس وقت آپ کو بتا دوں گا ۔۔۔ابھی آپ  تھوڑا  لن چوس سکتیں  ہیں ؟  میری بات سُن کر انہوں نے کہا کہ دیکھو  بھولنا  نہیں اور۔۔۔پھر اپنا    سر ....جھکا کر میرا لن کو اپنے  منہ میں لے ..لیا اور پھر مزے سے چوسنے لگیں ۔۔۔ اور بقول اس کے اس کا خاص نشانہ  میرا  ”  بگ مشروم "  تھا  جس پر وہ  بار بار  اپنی زبان پھیرتی  تھی  اور  جب بھی  میرا لن مزے میں آ کر  مزی کا کوئی موٹا  سا قطرہ چھوڑتا  وہ    ندیدوں کی طرح اس پر جھپٹیں  ا ور اسے اپنی زبان سے چاٹ کر میرے لن صافکر دیتیں اور پھر اپنی نشیلی آواز میں  مجھے  بتاتی کہ  تمھارے لن سے نکلنے والی  مزی بڑی نمکین  اور مزیدار ہے ۔۔   کچھ دیر تک وہ میرا لن چوستی رہی اور پھر اس نے اپنے منہ سے میرا لن نکلا اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔۔اے ۔۔تم بلیو مووی  دیکھتے  ہو  نا ؟؟؟تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ پھر تو  میری چوت چوسو  گے ؟   تومیں پھر اثبات میں سر ہلایا تو وہ اٹُھ کر کھڑی ہو گئی اور اپنی شلوار اتار نے سے پہلے ادھر ادھر دیکھ کر بولی   ۔۔۔ چلو  اندر چلتے  ہیں  میں نے  اپنی  شلوار پہلے سے  ہی  اتاری  ہوئی تھی لیکن  شاہینہ میم  نے  کمرے میں  جا کر اپنی شلوار اتاری اور پھر بیڈ کے کنارے پر  جا کر  بیٹھ   گئی اور اپنی ٹانگیں کھول کر بولی ۔۔ میری چوت چوسو۔۔۔۔

 

اب میں شاہینہ میم کے پاس جا کر کھڑا ہوا اور  پھر اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا اور  اس کو مزید ٹانگیں کھولنے کو کہا ۔۔۔اس نے مزید ٹانگیں کھولیں اور پھر  ہی گرسنہ نظروں سے میری طرف  دیکھنے  لگی ۔۔۔ میں نے  پہلے تو اپنی دو انگلیاں اس کی ننگی چوت پر پھیریں جس پر بالوں کا کوئی نشان تک نہ تھا ۔۔۔اور پھر ہولے سے اپنی ایک انگلی اس کی چوت میں داخل کر دی ۔۔۔۔۔۔۔ افُ۔ف۔۔ف۔ف اس کی چوت اندر سے بہت ہی گرم اور پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے  اپنی  وہ انگلی اس کی  چوت  میں خوب گھمائی اور پھر ۔۔۔۔ وہ انگلی  باہر نکال کر اس کے ہونٹوں کی طرف لانے لگا ۔۔۔اس نے اپنی منی سے لتھڑی ہوئی میری انگلی کو دیکھا اور اپنی زبان باہر  نکال دی اور پھر میں نے اس کے سامنے  اپنی  انگلی کھڑی کی تو اس نے میری انگلی پر لگی اپنی ساری منی چاٹ لی اور پھر اپنا منہ میری طرف کیا اور ۔۔۔۔ میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ۔۔۔اور ۔۔پھر اپنی  زبان  میرے منہ میں  ڈال  دی ۔۔۔اس  وقت تک اس کی زبان پر اس کی منی کا ذائقہ موجود تھا  جسے میں نے بڑی  ہی خوش دلی سے چوسا  اور پھر کافی  دیر تک ہم  ایک دوسرے کے منہ  میں  منہ  ڈالے ایک  دوسرے کی زبانیں  چوستے  رہے۔

 

         جب ہم نے ایک دوسرے کے ہونٹوں اور  زبانوں  کا  سارا  رس پی لیا  تو ۔۔۔ ہم  الگ  ہو گئے۔۔اور پھر اس نے میرا سر پکڑا اور  اپنی  چوت کی طرف دبانا  شروع کر دیا۔۔۔۔  میں اس کا  اشارہ سمجھ گیا اور نیچے فرش پر  گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔۔اور اس کی چوت  کو چومنے لگا ۔۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ میری زبان اس کی چوت کے نیچے کی طرف جانے لگی جہاں سے اس کی چوت کا گرم پانی  رِس رِس کر چوت سے  نیچے کی طرف   نکل رہا  تھا میں نے اپنی زبان اس کی چوت کے آخری سرے پر رکھی اور پھر ۔۔۔۔اس کی چوت کے اندر سے رِس رِس کر  آنے والا پانی  چاٹنے  لگا ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ اس کے چوت کے لبوں کو بھی چوستا  رہا  ۔۔۔ میری اسحرکت سے اس میں مزید جوش بھر گیا اور وہ ۔۔۔۔مست ہو کر سسکیاں بھرنے لگی ۔۔۔۔ اوُں ں ں۔۔۔اوُں ں ں ۔۔۔ آہ ۔۔ میری جان ۔۔۔تم کتنے مست ہو۔۔ کتنے ۔۔۔افف ف۔۔۔ چوس نا۔۔اوں ں ں۔۔۔اور چوس نہ ۔۔اور پھر اس نے میرا سر پکڑ کر اپنے موٹے اور پھولے ہوئے دانے پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔ اور بڑی ہی شہوت بھری آواز میں بولی ۔۔۔ میرے دانے کو ایسے چوس جیسے ۔۔بلیو موویز  میں ۔۔ لڑکیاں لن کو چوستی  ہیں  ۔۔۔اور میں نے اس کا پھولا  ہوا  دانہ  اپنے دونوں  ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنے لگا ۔پھر میں نے  اس کا موٹا دانہ  اوپر سے نیچے تک اپنی زبان سے چاٹا   ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ اپنی دو انگلیاں میڈم کی کھلی چوت کے دھانے میں ڈال دیں ۔۔۔۔۔اور ان کو تیزی سے ان آؤٹ کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری اس بات سے میڈم کو ڈبل مزہ ملنے  لگا ۔۔۔اور وہ بے اخیتار ہو کر میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہو ئے بولی ۔۔۔۔۔۔ چوس۔س۔س۔س۔۔س۔س ،،،، میری پھدی چوس۔.۔۔س   ۔۔۔میری جان  مجھے بڑا مزہ آ ر ہا  ہے ۔۔۔۔ اور پھر ۔کچھ ہی دیر بعد میڈم ایک بار اور چھوٹ گئی اور بولی بس۔۔۔اب بس کرو ۔۔اب اٹُھو اور اپنا یہ موٹا لن میری   پیاسی  پھدی میں ڈال دو ۔۔۔ میڈم کی بات سُن کر میں اوپر اٹھا اور اس کو گھوڑی بننے کو کہا ۔۔۔جو وہ جلدی سے بن گئی اور پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔ اپنا وعدہ یاد ہے نا ۔۔۔ تو میں نے لن اندر ڈالنے سے پہلے شرارتاً کہا کون سا وعدہ میڈم ؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ میرے سامنے چھوٹنے کا ۔۔اور  پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے مستی سے بولی ۔۔۔۔اگر تم میرے سامنے نہ چھوٹے نا تو جان سے مار دوں گی ۔۔۔اور پھر اپنا منہ آگے کر کے بولی ۔۔۔اب ڈال بھی۔۔۔۔۔۔ اور میں میڈم کے پیچھے آیا اور اپنا بڑا سا لن اس کی چوت کے دھانے پر رکھا اور ہلکا  سا دھکا  لگایا ۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایاتھا کہ میڈم کی چوت کافی کھلی ، گرم اور پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔اس لیئے لن آسانی سے پھسلتا ہوا ۔۔۔ میڈم کی چوت میں چلا گیا ۔۔۔اور میڈم نے ایک   شہوت بھرا نعرہ لگا یا۔۔۔آہ۔۔۔۔۔ اور بولی ۔۔۔ میری جان اپنے لن کو  میری پھدی کی گہرائی تک لے جاؤ ۔۔۔اورپھر میں نے پیچھے ہٹ کر  ایک فل سپیڈ سے  میڈم کی پھدی میں گھسا  مارا  تو ۔وہ۔۔۔مستی میں چلا کر بولی ۔۔۔۔یس ۔۔۔۔۔ایسے ہی گھسے مار ۔۔۔۔میری جان میری پھدی کو ایسے ہی گھسوں کی ضرورت ہے ۔۔۔اور پھر میں اس کے بعد میں نے اس کی چوت میں  نان سٹاپ گھسوں کی برسات کر دی ۔۔۔اور میرے ہر گھسے پر  وہ   اوں۔۔۔ اوں ۔۔۔۔آہ  ۔۔۔اور سسکیوں میں یہی کہتی ۔۔۔۔یس ۔یس ۔ ۔۔۔  میری پھدی ایسے ہی گھسے مانگتی ہے ۔۔۔۔اس طرح کافی دیر تک میں مختلف  سٹائلوں میں اس کی پھدی مارتا رہا ۔۔۔اور ہر سٹائل میں  اس کی پھدی میں  جب پاور فل گھسے مارتا تو  ۔۔۔ آگے سے  وہ  بڑی خوش  ہوتی  اور کہتی ۔۔۔ کہ۔۔یس ۔۔یس ۔ میری  پھدی ایسے ہی گھسے  مانگتی ہے ۔۔۔اور پھر گھسے مارتے مارتے وہ ٹائم بھی آ گیا کہ جب لن صاحب کے فارغ ہونے کا ٹائم آگیا ۔اس وقت وہ سیدھی لیٹی تھی اور میں اس کے اوپر چڑھ کر  گھسے  مار رہا تھا ۔۔ چنانچہ  جبمیں نے گھسے مارنے بند کئے اور اپنے لن کو اس کی پھدی سے۔تو وہ  بولی ۔۔اچھا اچھا ۔۔۔تو وہ ٹائم آگیا ہے ۔اور جلدی سے اٹُھ کر بیٹھ گئی  میں پہلے ہی گھٹنوں کے بل کھڑا تھا