840

اُستانی جی قسط 20

گلی میں  سنسان تھی ۔۔۔ایک  کے بعد میں نے ایک   دو دفعہ  پھر جھانک کر  دیکھا اور کسی کو نہ پا کر ۔۔۔ میں  نے اپنے جوتے اتارے اور چوہدری اشرف صاحب کا  گٹر لائن  والا پائپ  پکڑ  کر آہستہ آہستہ  اوپر چڑھنے لگا۔۔۔کچھ اوپر جا کر میں نے ایک دفعہ پھر نیچے دیکھا  تو  گلی ابھی تک سنسان تھی چنانچہ  میں نے ہمت کی اور چوہدردی صاحب کے چھت پر پہنچ گیا ۔۔۔ ان کے چھت پر جاتے ہی میں ایک دم لیٹ گیا ۔۔۔ 

  اور حالات کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔پھر میں نے سر اٹُھا کر دیکھا تو ۔۔۔ ان کی چھت سنسان تھی۔۔ چنانچہ  جوتی اپنے ہاتھ میں پکڑے میں دبے پاؤں چلتا ہوا ۔۔۔ ان کی چھت کی با ؤنڈی پر پہنچ گیا اور ۔۔۔ پھر نیچے جھک گیا اور ایک نظر پیچھے ڈالی تو سب امن تھا ۔۔ سو میں آہستہ آہستہ اوپر کو اٹُھا ۔۔۔ جمپ لگا کر  مرزا صاحب کی دیوار پر چڑھ گیا ۔۔ میرا دل دھک دھک دھک ۔۔۔۔۔ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن وعدہ بھی پورا کرنا تھا ۔۔ اب میں ن نیچے دیکھا تو ۔۔۔ مرزا صاحب کی چھت بھی سنسان تھی ۔۔۔اس لیئے میں نے  ان دونوں کی مشترکہ   باؤنڈری  وال  پر  ہاتھ جمائے اور بڑی آہستگی سے نیچے اتر گیا ۔۔۔۔ اور حالت کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔ اب درمیان میں صرف شیخ صاحب کی  ہی چھت رہ گئی تھی اس کے بعد  ارمینہ ہو گی اور   میں ۔۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے میں دبے پاؤں چلنے لگا ۔۔۔ مرزا صاحب کا گھر تھوڑا  بڑا  تھا اس لیئے۔۔ان کا چھت بھی کافی  بڑا ہونے کے ناتے ختم ہی نہ ہو رہا تھا   لیکن  چلتے چلتے  آکر میں شیخ صاحب کی  دیوار کے پاس جا پہنچا۔۔۔

   جیسے ہی میں شیخ صاحب کی دیوار کے قریب   پہنچا تو مجھے دوسری طرف سے کھسر پھسر کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔۔۔پہلے تو میں  اسے  اپنا  وہم سمجھا لیکن جب میں نے  کان لگا کر سنا  تو   دوسری طرف   مجھے دبی دبی آوازیں سنائی دینے لگیں میں نے آوازوں کی سمت کا اندازہ لگایا ۔۔۔۔ یہ شیخ صاحب کی چھت کا کارنر بنتا تھا کہ  ۔۔جہاں سے یہ دبی دبی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔۔۔چنانچہ میں بھی دبے پاؤں چلتا ہوا  اس کونے میں پہنچ گیا ۔۔۔۔ اور میں ان کی آوازیں سننے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر غور کرنے پر مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ ایک مرد اور عورت کی آوازیں تھیں۔جو ایک دوسرے کو چوم رہے تھے اور دیوار کے عین دوسری طرف ہونے کی وجہ سے  میرے کانوں میں  ان کی کسنگ کی۔۔۔ پوچ پوچ۔۔۔ کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی ۔تو گویا ۔۔ دوسری طرف کوئی سیکسی پروگرام چل رہاتھا ۔۔۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں ان کی براہِ راست کاروائی کا جائزہ لوں ۔۔ کیونکہ یہ بات تو طے تھی کہ جب تک یہ لوگ وہاں سے   ہٹ نہیں جاتے میں ارمینہ کی چھت پر نہ جا سکتا تھا ۔۔

پھر میں نے ان کی براہ راست کاروائی دیکھنے کے لیئے ادھر ادھر دیکھا تو پاس ہی ان کی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی  ایک ٹوٹی پھوٹی سی چارپائی پڑی تھی  اسے ان کی دیوار کے ساتھ لگے دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ جو کوئی بھی تھا  اسی  راستے شیخ صاحب کے گھر گیا ہو گا ۔۔لیکن سوال یہ  تھا کہ یہ خاتون کون تھی اور اس کے ساتھ رنگ رلیاں منانے والا بندہ کون تھا۔۔۔ چنانچہ میں بڑی احتیاط سے اس چارپائی کے بازو  پر چڑھا  اور آہستہ آ ہستہ سر اٹُھا کر  شیخ صاحب کی چھت پر نظر ڈالنے لگا۔۔۔۔۔اور پھر میں نے وہ منظر دیکھ لیا ایک مرد تھا ۔۔۔ جس کا قد میرے ہی جتنا ہو گا اوراس نے گرے رنگ کی  پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جبکہ اس کے ساتھ چمٹی ہوئی خاتون نے بھی گہرے رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی یہ شاید اس  لیئے کہ دور سے وہ لوگ  نظر نہ آئیں ۔۔۔۔ چونکہ  ان دونوں کے منہ آپس میں جُڑے ہوئے تھے اور کچھ وہاں پر  ہلکہ ہلکہ اندھیرا سا  بھی تھا  اس لیے میں ٹھیک سے ان کو پہچان نہ پا رہا تھا۔۔۔ لیکن خاص کر لڑکی بڑی شدت سے اس لڑکے ساتھ چمٹی ہوئی تھی اس سے پتہ چلتا تھا کہ وہ کس قدر ۔۔جزباتی یا گرم عورت ہے ۔۔۔ کچھ دیر کی چوما  چاٹی کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے  الگ ہوئے اور لڑکے نے تھوڑا  پیچھے  ہٹ کے اپنی  پینٹ کی  زپ کھولی ۔۔۔۔۔ اوراپنا   لن باہر نکال کر اس عورت سے سرگوشی نما لہجے میں بولا ۔۔۔ تھوڑا اس کو چوسو۔۔۔۔اور جیسی ہی وہ عورت اس لڑکے کا لن چوسنے کے لیئے  زمین پراکڑوں بیٹھی ۔۔۔۔میں نے اس کو پہچان لیا۔۔۔۔۔۔۔

یہ شیخ صاحب کی دوسری بیوی راحیلہ تھی ۔۔۔ جبکہ لڑکے کو میں نے کہیں دیکھا تو تھا  پر کہاں ۔۔۔یہ مجھے یاد نہ آ رہا تھا ۔۔۔۔ کہ وہ کون ہےلیکن یہ بات طے تھی کہ وہ ہمارے محلے کا لڑکا نہیں تھا ۔۔وہ جو کوئی بھی تھا  ۔۔۔     پر تھا بڑا  ہی   ہی خوبصورت اور  پیارا  ۔۔۔اور پھر  میرے  دیکھتے  ہی  دیکھتے شیخ  صاحب کی دوسری  بیوی  راحیلہ آگے  بڑھی اور ۔۔۔ اس نے اس لڑکے کا پتلا اور چھوٹا سا لن اپنے منہ میں لیا  اور اسے  چوسنے  لگی۔۔واہ  کیا مست نظارہ تھا  وہ بلکہ پورن مویز کی لڑکیوں کی طرح  اس لڑکے کا لن چوس رہی تھی ۔۔۔اور ۔راحیلہ کو  لن چوستا  دیکھ کر میرا  بھی لن  کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور کچھ  دیر  پہلے جو  ڈر اور خو ف مجھ پر طاری تھا  وہ عارضی طور پر ختم ہو گیا اور میں ان دونوں کا براہِ راست  سیکس سین  دیکھنے لگا ۔۔۔

را حیلہ نے اس لڑکے کا  کہ جس کا نام اس وقت میرے زہن میں نہ آ رہا  ک تھا  کچھ دیر تک  لن  چوسا  اور پھر کھڑی ہو گئی اور سرگوشی میں اس سے کہنے لگی ۔۔۔۔جان  تمہارا  لن بڑے  مزے  کی  مزی  چھوڑتا ہے ۔۔۔ تو اس لڑکے نے بھی آگے سے کہا کہ ۔۔۔میری  جان میری مزی کھائی  بھی ہے یا تھوک دی ہے   ؟ تو وہ کہنے لگی پہلے کبھی تھوکی ہے ؟ اس سے  مجھے  پتہ چلا کہ یہ دونوں  پرانے سیکس پارٹنر  ہیں  اس کے بعد اس لڑکے نے دوبارہ راحیلہ کا سر پکڑ کر اپنے لن کی طرف دبانا شروع کر دیا اور بولا ۔۔۔بس  تھوڑا  سا  اور چوسو پلیزززز۔ اس کی بات سُن کر راحیلہ  بولی ۔۔۔ دیکھو ایک تو تم اتنے دنوں کے بعد آئے ہو ۔۔۔ تم کو پتہ ہے نا کہ میں کتنی گرم ہوں ۔۔۔ اور پھر بھی لن چسوانے کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔ تو وہ لڑکا بولا ۔۔۔ تم بہت اچھا لن چوستی ہو ۔۔۔۔بس تھوڑا ۔۔۔سا اور چوس لو  پلیزززززززز۔ ۔۔ اس کی بات سن کر راحیلہ دوبارہ نیچے اکڑوں بیٹھی اور پھر اس سے سرگوشی میں بولی ۔۔۔ دیکھو چھوٹنا نہیں ۔۔۔ تو  وہ  لڑکا کہنے لگا ۔۔تم منہ میں تو ڈالو۔۔ اور راحیلہ نے ایک بار پھر اس کا لن اپنے منہ میں ڈال لیا ۔۔۔ اور دو تین چوپے لگائے۔۔۔ اور پھر اٹُھ کھڑی ہوئی اور سرگوشی میں بولی ۔۔۔مجھے تمھارے حالات اچھے نظر نہیں آ رہے۔۔۔۔ کیونکہ تمھارا لن بہت زیادہ ہی مزی چھوڑ رہا ہے ۔۔۔ اور پھر راحیلہ نے خود ہی اپنی شلوار اتاری اور  اس نے اپنا منہ دوسری طرف کر کے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر  رکھے اور اس سے بولی ۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔ 

  وہ خوبصورت سا لڑکا اس کے پیچھے گیا اور ۔۔۔ اس نے اپنا لن راحیلہ کی چوت میں ڈال دیا ۔۔۔ راحیلہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی اس کے لن کے حالات واقعہ ہی خراب تھے کیونکہ ابھی اس نے راحیلہ کی پھدی مین ایک آدھ ہی گھسا  مارا  ہو گا کہ ۔۔۔۔ اس نے ایک بڑی سی آہ بھری ۔۔۔۔ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے راحیلہ فوراً  ہی     اس  کی اس آہ کا مطلب سمجھ  گئی اور تیزی سے بولی  ۔۔۔ نہیں پلیز۔زززز۔ ابھی نہ چھوٹو  نا ۔۔۔ لیکن  اتنی  دیر میں وہ لڑکا  اپنی ساری منی راحیلہ کی چوت میں چھوڑ  چکا  تھا ۔۔۔جیسے ہی اس لڑکے کے لن کی منی راحیلہ کی چوت میں گری ۔۔۔پہلے تو وہ اس سے التجا کرتی رہی کہ مت چھوٹو لیکن جب لڑکا چھوٹ گیا تو راحیلہ ایک دم سیدھی ہو گئی اور بھوکی شیرنی کی طرح اس لڑکے دیکھ کر دھیمی مگر زہرخند لہجے میں بولی ۔آخر وہی کیا نا تم نے ۔۔ تو وہ لڑکا  اپنے مرجھائے ہوئے لن کو اپنی پینٹ کے اندر کر تے ہوئے  بولا۔وہ ۔۔۔وہ ۔۔تمہاری چوت ہی اتنی گرم ہے  کہ میرا لن وہاں کیا کرے ۔۔۔ تو راحیلہ اس سے دانت پیستے ہوئے بولی پہلی دفعہ لی ہے میری جوتم کو آج پتہ چلا ہے پھر اس سے گالی دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ حرامزادے تم کو ہزار دفعہ کہا ہے کہ اپنا علاج کرو ۔۔۔۔جلدی نہ چھوٹا کرو۔۔۔ اس کی بات سُن کر اس لڑکے نے سر جھکا لیا اور بولا ۔۔۔ آئی سوری ۔۔ میں دوبارہ ٹرائی کرتا ہوں ۔۔۔ یہ سُن کر راحیلہ ایک دم بپھر گئی اور بولی ۔۔۔۔دوسری دفعہ پہلے تمھارا کبھی کھڑا ہوا ہے جو آج کھڑا ہو جائے گا ۔۔۔تو وہ لڑکا منماتے ہوئے بولا ۔۔۔تو میں کیا کروں ؟ اس کی بات سُ ن کر راحیلہ غصے سے بولی تم دفعہ ہو جاؤ ۔۔۔ اپنی شکل کو مجھ سے دور کر دو۔۔۔ 

راحیلہ کی بات سن کر وہ کہنے لگا ۔۔۔۔۔سچ مُچ میں جاؤں ؟ تو  راحیلہ بولی دفعہ بھی ہو جاؤ۔۔۔اس کی بات سن کر میرا خیال ہے لڑکے نے شکر کیا اور دیوار کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں احتیاط سے نیچے  اترا اور اس کے آنے سے پہلےہی میں اس ٹوٹی پھوٹی چارپائی کے نیچے جا چکا تھا۔۔۔ میری توقعہ کے عین مطابق وہ لڑکا ۔۔۔ نیچے آیا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا   دوسری چھت پر کود گیا ۔میں نیچے سے دیکھ رہا تھا جب اس نے ددوسرے گھر میں چھلانگ لگائی تو میں  چارپائی کے نیچے سے نکلا اور  ارمینہ کے پاس جانے کے لیئے  ہولے ہولے دیوار سے دوسری طرف دیکھا کہ راحیلہ چلی گئی ہو تو میں ارمینہ سے ملنے جاؤں ۔۔۔۔۔  لیکن دوسری طرف کا نظارہ ہی ہوش ربا تھا ۔۔۔ اب راحیلہ بیگم نے اپنی پوری شلوار اتاری ہوئی تھی اور بڑے  ٹینشن کے عالم میں اپنی  پھدی پر ہاتھ  مار رہی تھی ۔۔۔ اور اس کی ایک انگلی اپنی پھدی کے اندر تھی اور وہ بار بار کہہ رہی تھی ،،، میں کیا کروں ۔۔ مجھے لن چاہیئے ۔۔۔۔ مجھے لن ۔۔۔آہ ہ ہ ۔۔۔اور وہ  اس طرح  سسکیاں بھرتی  ہلکی  ہلکی چیختی  ہوئی۔اور۔۔ لن لن  کی گردان کرتے ہوئے  فنگرنگ کر رہی تھی ۔۔

راحیلہ کو یوں لن کے لیئے بے چین دیکھ کر  جانے کہاں سے میرے زہن میں ایک کیڑا

گھس آیا  اور میں سوچنے   لگا ۔کہ میرا لن تو اس لڑکے کے لن سے دو گنا  بڑا  اور موٹا بھی  ۔ہے اور  میں  ٹائم بھی  ٹھیک لگاتا  ہوں ۔۔۔ تو کیوں نہ میں ٹرائی کروں ؟؟؟   کیونکہ  راحیلہ بیگم بڑی ہی ۔۔ گرم عورت ہے شاید میرا چانس بن  جائے اور  وہ اگر ایک دفعہ   مجھ سے چودوا  لے تو اسے پتہ  چلے کہ لن  ہوتا کیا ہے ۔اور چوت کیسے مارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے بڑی مشکل سے اپنی اس سوچ  سے  پیچھا  چھُڑایا  اور  دل  ہی  دل میں کہا کہ راحیلہ بس مجھے جانتی ہے اور اس کے ساتھ میرے  ایسے ویسے کوئی تعلق نہ ہیں ۔۔۔ ویسے بھی  ارمینہ میرا انتظار کر رہی ہو گی ۔۔۔ اور پھر راحیلہ کا نظارہ دیکھنے لگا۔۔۔۔ وہ بدستور ۔۔۔اپنی چوت میں انگلیاں گھماتے ہوئی ۔۔۔ دھیمے دھیمے چلا رہی تھی ۔۔۔ مجھے لن چاہیئے ۔۔لن ۔۔۔لن ن  ن ن ن ن ن ن۔۔۔افُ۔ف۔ف۔ف۔ف۔ اس کی یہ سیکسی اور دلکش سسکی سُن کر میرے دماغ پر منی سوار ہو گئی       اور  میں آپے سے باہر ہو گیا ۔اور بے وقوفی کی انتہا کرتے ہوئے ۔ راحیلہ کے کوٹھے پر اتر گیا ۔۔۔۔۔ میرا لن تو پہلے ہی کھڑا تھا ۔۔۔  سو جلدی سے شلوار کا آزار بند کھولا اور ۔۔۔۔ راحیلہ کے سامنے  اپنے بڑے سے لن کو لہراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے میڈم ۔۔۔۔۔۔۔مجھے  یوں  اچانک اپنے سامنے دیکھ کر راحیلہ کی آنکھیں آخری حد تک پھیل گئیں ۔اور وہ پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔اس کا خوبصورت      سا چہرہ  جو پہلے ہی لال تھا ۔۔۔ اب لال بھبوکا   ہو  چکا  تھا ۔۔۔۔۔  پھر اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے اپنی شلوار پہنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا اس  کے حلق سے ایک خوفناک چیخ  برآمد ہوئی ۔۔۔۔۔۔ چورر۔ر۔ر۔ر۔۔ر۔ر۔ر ۔۔۔ اور پھر جیسے 

اس کو چیخون کا  دورہ سا پڑ گیا  ۔۔۔ اور وہ پوری قوت سے  چلاتی گئی۔۔ چلاتی گئی۔۔۔۔ چور چور چور۔۔۔۔۔۔چورررررررررررررررررررررررررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  راحیلہ نے جب مسلسل چور چور کہنا  شروع کر دیا تو مجھے جیسے ہوش آ گیا  …اس لیئے میں نے بجلی کی سی پھرتی اپنی شلوار   اوپر  کی اور جلدی سے اس  آزار  بند باندھا   ۔اور ۔جوتے  ہاتھ میں پکڑے   اور دل ہی دل میں خود کو گالیاں دیتا  ہوا     واپس گھوما ا ور   راحیلہ  کے سامنے دیوار  پر جا   چڑھا    ۔۔ اب چونکہ معاملہ زندگی اور موت کا بن گیا تھا ۔۔ اس لیئے آنافًاناً ۔۔۔شیخ صاحب کی دیوار سے  چھلانگ  لگا  دی ۔۔  مجھے  بھاگتے ہوئے دیکھ  کر راحیلہ  نے مجھے پکڑنے کی زرا بھی کوشش نہ کی بلکہ  وہ کسی تنویمی  عمل کے زیرِ  اثر  بس چیخوں پہ چیخیں   ہی  مارتی  جا  رہی تھی  اور جیسے جیسے میرے کانوں میں راحیلہ کی چیخیں کی آوازیں  سنائی پڑتیں ۔۔ میں اور تیزی سے بھاگنے لگتا  ۔۔۔راحیلہ کی چھت سے چوہدریصاحب کا چھت  تھوڑا   ہی  تو دور تھا ۔۔ چنانچہ میں  بھاگنے کا ورلڈ ریکارڈ بناتا  ہوا  اگلے  ہی منٹ میں چوہدری اشرف  صاحب  کی چھت  پر  پہنچ چکا  تھا    ۔۔یہاں پہنچ کر میں نے مُڑ کر دیکھا تو  پیچھے ابھی بھی خیریت تھی   کیونکہ یہ  رات کے پچھلے پہر کا وقت  تھا  اور اس  وقت لوگ گہری نیند  میں ہوتے  ہیں اور کسی بھی شخص کو  گہری نیند سے اٹُھ کر بیدار ہونے ۔۔۔۔  حالات کو سمجھنے ۔۔۔اور پھر بستر سے اٹُھ کر   باہر آنے ۔۔۔اور۔۔  شور کی سمت کا  تعین کرنے ،......اور پھر دوڑ کر  متعلقہ  سمت  کی طرف جانے میں   میرے حساب سے  ۔۔۔ کم از کم تین  سے چار منٹ درکار ہوتے ہیں  ۔۔  ۔۔۔ اور یہی  تین چار   منٹ میری بچت کا  سامان  تھے چوہدری صاحب کی  دیوار پر چڑھ کر ایک دفعہ پھر میں نے شیخ صاحب کے گھر کی طرف نگاہ ڈالی ۔۔ تو ۔۔۔ابھی بھی وہاں ۔خیریت ہی نظر آئی ۔۔۔لیکن مجھے اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ  اگر میں چند سیکنڈز  میں  نیچے  نہ گیا   تو  پھر کوئی  خیریت  نہیں رہنی ۔۔۔ چنانچہ میں نے  چوہدری صاحب کی گٹر لائین  کا پائپ  پکڑا  اور ۔۔۔ نیچے اترنے سے پہلے ایک دفعہ پھر   میں  نے  راحیلہ کی چھت کی طرف دیکھا   اور دل ہی دل میں ایک مشہور شعر کا  دوسرا  مصرعہ پڑھا  کہ"  بڑے  بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم  نکلے" اور اس کے ساتھ ہی خود کو  بےشمار گالیوں سے بھی نوازا  ۔۔۔ کہ   راحیلہ کو بھلا  لن  دکھانے کے   ایڈوینچر  کی   کیا  ضرورت تھی ۔۔۔ اور پھر تیزی  سے نیچے  اترنا  شروع  ہو گیا  ۔۔۔ نیچے اتر کر میں نے  اپنے پیروں میں جوتی پہنی اور  کسی ایکشن سے پہلے  جھانک کر گلی میں دیکھا ۔ تو محلے میں ہلکی ہلکی ہل چل نظر آئی ۔۔اکا  دکا  گھروں کی لائیٹس جلنا  شروع  ہو گئیں تھیں ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ سارے گھروں کی لائیٹس جلتیں ۔اور لوگ باہر نکلنا شروع ہوتے  ۔۔میں  نیواں  نیواں   ہو کر  وہاں  سے نکل گیا ۔۔۔ 

   جس وقت میں نے  گھر کے اندر قدم رکھا   اس وقت تک محلے میں ہلا  گلا  شروع  ہو  چکا  تھا  ۔۔لیکن   میں اس ہلے گلے  کو نظرانداز کرتے ہوئے   سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور بستر  پر جا کر  لیٹ  گیا  اور     ابھی  میں  اس  حادثے کے بارے  سوچ  ہی  رہا  تھا  ۔۔۔کہ    امی کمرے میں  داخل  ہوئیں  انہیں  دیکھ  کر میں نے جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔ اور سوتا  بن گیا ۔ وہ میرے قریب آئیں اور مجھے ہلا کر  بولیں ۔۔۔اٹُھو ۔۔۔۔۔۔ تو میں نے آنکھیں ملتے ہوئے اٹُھےی کی ادا کاری کرتے ہوئے کہا ۔۔کیا ہوا ؟ تو وہ کہنے لگیں پتہ مجھے بھی نہیں ۔۔لیکن محلے میں کافی شور مچا  ہوا  ہے ۔زرا باہر جا کر پتہ کرو کہ یہ شور کیسا  ہے ؟۔۔ تومیں نے بستر سے اٹُھتے  ہوئے  ان سے کہا  اچھا  میں دیکھتا ہوں اور ڈھیلے ڈھیلے  قدموں سے باہر چلا گیا ۔۔۔  دیکھا  تو محلے  کے  مرد حضرات  بایرنیں  پہنے آنکھیں ملتے ہوئے ۔ایک دوسرے  سے ۔ کیا  ہوا ؟؟ ۔۔کیا ہوا ؟؟ ۔۔کی رٹ لگائے جا رہے تھے  جبکہ خواتین  اپنی اپنی چھتوں پر چڑھی تجسس بھری نگاہوں سے   نیچے گلی میں  ادھر  ادھر  دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ میں نے تھوڑی دیر تک  حالات  کا  جائزہ  لیا    پھر باقی لوگوں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی ایک دو سے پوچھا کہ کیا ہوا ؟۔تو  وہ کہنے  لگا ۔۔ہونے  کا  تو  پتہ نہیں البتہ  اس طرف )شیخ صاحب کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (  چور چور کی بڑی آوازیں آ رہیں تھیں اوراس بات پر سب متفق تھے کہ وہ  چور چور کی آوازیں سن کر اٹُھے  تھے   اس سے آگے  کیا  ہوا کسی کو کچھ  معلوم نہ تھا۔۔۔۔ اسی دوران میری نظر ماسی کی چھت پر پڑی تو  وہاں ارمینہ کھڑی تھی گھڑی دو گھڑی  ہماری آنکھیں  چار ہوئیں  تو  اس  نے ماسی سے نظر بچا کر  آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھ سے   پوچھا کہ  کیا  یہ  چور چور کا  شور   تمھارے  لیئے  تھا؟؟  ۔۔۔ تو  میں نے  اسے اشارے  سے  بتا  دیا کہ جی  یہ  شور  میرے  لیئے  ہی تھی لیکن میں  بچ کر آ  گیا ۔۔۔  میرا اشارہ  سمجھتے   ہی  اس نے  بڑے تشکر سے آسمان کی طرف دعا کے لیئے  ہاتھ اٹُھا ئے ... اور پھر   غالباً شکر ادا کر کے اس نے  وہ  اٹھے  ہوئے ہاتھ  اپنے   منہ پر ہاتھ  پھیرے اور پھر  بڑی  ہی محبت بھری نظروں سے  مجھے  دیکھنے  لگی۔۔۔اور اس کی  یہ ادا   دیکھ کر میں ارمینہ پر  دل و جان  سے فدا  ہو گیا ۔۔

 ادھر محلے کے لوگ آپس میں  قیاس آرائیں کرتے رہے کسی نےکہاکہ چور پچھلے محلے سے آیا  تھا  اور کسی نے کہا کہ وہ واردات کر کے نکل گیا ہے ۔غرض  جتنے منہ  تھے  اتنی   ہی   باتیں تھیں  ۔جبکہ حقیقت کیا  تھی  یہ بات صرف میں اور راحیلہ ہی  جانتے  تھے  راحیلہ سے یاد آیا ۔۔۔ کہ اس وقت تقریباً  سارا  محلہ ہی  اکھٹا  تھا لیکن  سب سے  زیادہ  حیرت انگیز  بات  یہ تھی کہ شیخ  صاحب  نہ  تو  خود  اپنے  گھر سے  باہر  نکلے  تھے اور نہ ہی ان کے ہاں کسی قسم کی  ہل چل کے آثار نظر آئے ۔۔پھر آہستہ آہستہ ۔۔  ایک دوسرے کو ہوشیار  رہنے  کی تاکید کرتے ہوئے سارے محلے والے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔۔۔ان کی دیکھا  دیکھی میں بھی اپنے گھر آ گیا اور بستر  پر  جاتے  ہی  سو گیا ۔۔۔

 

 اگلے دو تین دن تک   ہمارے محلے میں  اس رات والے واقعہ کی  بازگشت  سنائی دیتی رہی لیکن  کمال کی بات  یہ ہے کہ نہ تو شیخ صاحب نے اور نہ  ہی  ان کی فیملی میں سے کسی نے اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات کی   اور نہ ہی اس  واردات  پر کوئی تبصرہ  کیا  اس لیئے  چور والی  بات  محلے کے  کاغزوں میں   پرُاسرار   قرار  پائی  ۔۔۔   اس سے اگلے  دن چونکہ  مجھے میڈم  ندا نے  بلایا  ہوا  تھا  اس لیئے میں نے اپنا  بستہ سنبھالا اور میڈم کے گھر چلا گیا ۔۔۔ وہاں جا کر  دروازے  پر  دستک  دی تو میڈم  خود  باہر نکلیں   اور  مجھے اندر  لے گئیں اور جب میں میڈم کے پیچھے پیچھے ان کے گھر میں داخل ہوا تو  سامنے صحن میں کرسی  پر  ایک   خوبصورت اور گوری چٹی  خاتون کو  بیٹھے  ہوئے  دیکھا  اس  نے  آدھے   بازؤں  وال یڈھیلی  ڈھالی قمیض پہنی ہوئی  تھی   جس میں اس کی گوری گوری  بانہوں کے موٹے  مسلز   پھنسے ہوئے تھے ۔۔اور  وہ  ان مسلز میں     بڑی  اچھی  لگ  رہیں تھیں   وہ   خاتوں اتنی  سڈول تھی کہ اس سے آگے موٹاپے کی سرحد شروع  ہوتی ہے ۔اس خاتون کی خاص بات یہ تھی کہ  اس نے ایک ہاتھ میں سونے کی بارہ چوڑیاں جبکہ دوسرے ہاتھ میں سونے کے کنگن پہنے  ہوئے تھے ۔۔ جبکہ  کانوں میں بڑی بڑی بالیاں اور  اس نے گلے میں موٹی سی سونے کی چین پہنی ہوئی تھی ۔۔۔گویا  کہ وہ  خاتون  کیا تھی  امارت  کا   چلتا  پھرتا  اشتہار تھا  میں نے اس  خاتون کو میڈم کے گھر میں  پہلی دفعہ دیکھا  تھا ۔۔ ۔ صحن میں پہنچ کر میڈم ندا  نے  مجھے چارپائی  پر بیٹھنے  کا اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ   شاہ  بیٹا  تم یہاں بیٹھ کر  تھوڑا  انتظار کرو ۔۔۔ میں بس ابھی آئی ۔اور پھر کمرے میں گھس گئی ۔۔۔ میڈم کے کہنے پر میں چارپائی کے بازو پر سر جھکا  کر  بیٹھ گیا ۔تو ڑی دیر بعد میڈم  کمرے سے برآمد ہوئیں  تو  انہوں نے ایک بڑی سی چادر اپنے گرد لپیٹی ہوئی تھی ۔۔اس سے قبل کہ میڈم کچھ کہتی وہ خاتون میڈم سے کہنے لگی ۔۔۔ یہ لڑکا  کون  ہے  ندا؟؟؟ ۔ میں نے اس کو  پہلے کبھی تمھارے   ہاں  نہیں دیکھا  تو میڈم نے جواب دیا کہ یہ  لوگ  ہمارے محلے میں نئے آئے   ہیں  پھر میرے بارے میں بتاتے ہوئے بولی   یہ لڑکا   زیبا  کے ہاں ٹیوشن پڑھتا تھا لیکن کسی وجہ سے  زیبا  نے  اس کو ٹیوشن سے نکال دیا ہے ۔۔ تو اس کی امی  بے  چاری بڑی  پریشانی کے عالم میں  میرے پاس آئیں تھیں اور بڑی  منت سماجت  کر رہی تھی کہ میں اس کی سفارش کروں تا کہ  زیبا اس کو دوبارہ  سے ٹیوشن  پر رکھ لے ۔۔۔ پھر میڈم اس  خاتون سے کہنے لگی  شاہینہ تم    تھوڑا  آرام کرو  میں بس اس لڑکے کو  زیبا کے  پاس  چھوڑ کر ابھی آئی ۔۔ندا میم نے ابھی اتنی ہی بات کی تھی کہ اندر سے کسی بچے کی رونے کی آواز سنائی دی ۔۔جسے  سنتے  ہی ندا میم   بولی  لو جی ۔۔۔ارم بیٹی اٹُھ گئی ہے تم اس کو  دودھ پلاؤ  میں ابھی  آئی  پھر اس نے مجھے  اشارہ کیا اور میں میڈم کے  پیچھے پیچھے سر جھکا کر چلنے لگا ۔۔۔۔ گھر سے باہر نکلتے  ہی میں نے میڈ م سے اندر  والی  خاتون کے بارے میں پوچھا تو  وہ کہنے لگی ۔۔ یہ میری کزن  شاہینہ   ہے  اس  کی شادی  اوکاڑہ میں  ایک بہت  بڑے آڑھتی کے بیٹے سے ہوئی  ہے ۔۔۔۔اور جس سے  اس کی شادی  ہوئی ہے  وہ بھی میرا کزن  ہی لگتا ہے  اور یہ ہر دوسرے تیسرے مہینے حساب کرنے کے لیئے یہاں غلہ منڈی میں آتے ہیں تو ہمارے ہی گھر ٹھہرتے ہیں پھر بولی ۔۔۔ یوں سمجھو کہ  میرے خاوند کی وفات کے بعد ان لوگوں کے ہمیں بڑا سہارا دیا ہے۔۔  ویسے تو ان کے چھوٹے موٹے کام میرا  بیٹا  ہی کر دیتا  ہے لیکن  پھر بھی کاروبار ۔۔۔ کے سلسہ  میں اس کو ہر دوسرے تیسرے  ماہ  پنڈی کا چکر لگانا   ہی  پڑتا  ہے ۔۔پھر کہنے لگی ان کی ایک ہی بیٹی ہے جو  کہ سات سال بعد پیدا ہوئی ہے ۔۔۔جو ابھی  سوا  سال کی ہے ۔۔۔ یہ لوگ  کل رات کو ہی  اوکاڑہ سے  یہاں پہنچے ہیں اور ابھی  کچھ دن ہمارے  ہاں  رہیں گے ۔۔۔ اتنے میں استانی   جی کا گھر آ گیا ۔۔تو میڈم نے مجھے دروازے کے قریب رکنے  کا اشارہ  کیا  اور میں  رکا  تو وہ  بڑی ہی سیریس ہوکر  رازدرانہ  سی سرگوشی نما آواز میں کہنے لگی  ۔۔۔ دیکھو شاہ۔۔۔ یہ  جو تیرے میرے بیچ تعلق ہے نا ۔۔۔۔ خبردار اس کی بھنک بھی   زیبا  کو نہیں پڑنی چاہیئے ۔۔ پھر اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور ۔۔۔ آنکھیں نکالتے ہوئے بولی ۔۔۔ میری بات کو  سمجھ  رہے ہو نا۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔ جی  میم میں آپ کی بات کو اچھی طرح  سے سمجھ گیا  ہوں  یہ سُن کر وہ کہنے لگی گُڈ۔۔۔ اب چلو ۔۔۔ اور مجھے استانی  جی کے گھر لے گئی۔۔

 جیسے  ہی میں اور ندا  میم  استانی جی کے گھر میں داخل ہوئے تو وہ صحن میں بچوں کو سبق پڑھا    رہیں تھیں  مجھے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں  ایک شعلہ سا  لپکا  لیکن پھر ندا میم کو دیکھ کر وہ شعلہ  مدھم پڑ گیا اور  وہ  اسی بے نیازی سے بچوں کو سبق دینے لگ پڑیں ۔۔۔ جبکہ میں اور ندا میم اس کے پاس جا کر رُک گئے اور ان کے فارغ  ہونے  کا  انتظار کرنے لگے ۔۔۔ کچھ دیر بعد استانی  جی  فارغ  ہو گئیں اور ندا میم  کو مخاطب  کر کے بولیں ۔۔۔ شاہینہ کو بھی لے آنا  تھا۔۔ تو ندا میم نے جواب دیا کہ  اس  کی بچی رو رہی تھی اس  لیئے  نہ آ سکی  پھر ندا  نے مجھے مخاطب کیا  اور پہلے سے پڑھائی  گئی پٹی کے مطابق کہنے لگیں ۔۔۔ چل معافی  مانگ اپنی میڈم سے۔۔  اور میں نے  بمطابق  ہدایت  استانی جی  کے آگے  ہاتھ  جوڑ  دیئے  اور  بڑی مسکین  سی آواز میں بولا ۔۔آئی ا یم  سوری  ٹیچر !!!!۔۔۔ اور  مجرم کی طرح سر جھکا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر ندا میم  نے  استانی  جی کو کہا  کہ دیکھو  زیبا  یہ اس بچے کی پہلی غلطی  ہے اس لیئے اسے معاف کر دو  پھر مزید کہنے لگیں ۔۔۔۔ زیبا جی  تم کو تو معلوم ہے کہ  بچوں سے غلطیاں  ہو  ہی  جاتی  ہیں۔۔۔ اس لیئے ہمیں ان کو معاف کر نا چایئے ۔۔۔ میڈم ندا کی سفارش سُن کر استانی جی نے اس سے کہا کہ دیکھو  ندا  میں نے  تم  کو پہلے بھی کہا تھا کہ یہ لڑکا بے شک کلاس میں بیٹھے لیکن میں اس کو صرف اسی صورت میں  پڑھاؤں گی کہ جب تم  بھی یہاں موجود ہو گی  ۔۔استانی جی کی بات سُن کر ندا میم بولی وہ تو ٹھیک ہے زیبا ۔۔۔ لیکن تم جانتی ہے کہ میرے  گھر میں مہمان آئی ہے اس لیئے   کچھ دن تک میں تمھارے ہاں  نہیں آ سکتی ۔۔۔ ندا میم کی بات سُن کر ۔۔۔  استانی  جی  نے  نہایت  خشک لہجے میں اس سے  کہا ۔۔۔تو ٹھیک ہے جب تم  فارغ  ہو جاؤ گی تو تب تم اس کو لے آنا ۔۔۔  اس کی بات سُن کر ندا  بولی ۔۔۔ زیبا  پلیز میری مجبوری سمجھو  اور  اس لڑکے کو کلاس میں   بیٹھنے  دو۔۔۔  لیکن  استانیجی نے صاف انکار کر دیا ۔۔۔ اور بولی ۔۔۔ سوری نداRules are Rules     ایک دفعہ جب میں نے کہہ دیا کہ یہ لڑکا تمھارے  بنا  اس گھر میں داخل نہیں  ہو  سکتا  تو ۔۔۔ یہ  نہیں آ سکتا ۔۔۔

 استانی کی یہ بات  سُننے کے بعد بھی  ندا میم نے ان  سے   کافی ریکوسٹیں کیں لیکن  وہ  نہ  مانی ۔۔۔ اور آخرِ  کار ندا میم نے مجھے اپنے   ساتھ لیا اور واپس چل پڑیں ۔۔ اور راستے میں  بولیں۔اب کیا ہو سکتا ہے ۔۔میں نے  تمھارے سامنے اس لکڑ   بابی سے  کافی درخواستیں کیں ہیں  ۔۔۔لیکن وہ نہیں  مانی ۔۔پھر کہنے لگیں ۔ اصولوں کی بڑی پکی ہے یہ  زیبا بھی ۔۔۔ اسی دوران ہم  استانی جی کے گھر سے باہر نکل آئے ۔باہر آ کر انہون نے مجھ سے کہا کہ تم ۔۔  ایسا کرو ایک  دو دن مزید  ریسٹ کر لو  تو میں نے اس سے کہا  کہ میڈم میرے  تو ٹیسٹ شروع ہو  رہے   ہیں اور آپ کو پتہ ہی ہے کہ مجھے آتا جاتا کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ میری بات سُن کر وہ کہنے لگیں تمھارے بات بھی ٹھیک ہے چلو ایسا کرو کہ جتنے  دن  یہ شاہینہ  ہے تم  میرے   گھر میں ٹیوشن پڑھ لو ۔۔۔۔پھر چلتے چلتے رُ ک گئی اور بولی ۔۔۔ویسے تو تم کو پتہ ہے ۔۔۔لیکن ۔۔۔ تم جانتے ہی کہ شاہینہ میری قریبی رشتے دار ہے اس لیئے اس کے سامنے بھولے سے بھی کوئی ایسی ویسئ حرکت نہیں کرنی ۔۔۔ اور ہم  دوبارہ  ان کے گھر میں داخل ہو گئے ۔۔۔ 

جیسے ہی ہم  ندا میم کے گھر میں  داخل ہوئے تو سامنے ہی شاہینہ بیٹھی تھی اس نے ہمیں دیکھتے  ہی   کہا کہ کیا بات ہے منڈے کو چھوڑ کر نہیں آئی؟ تو میڈم نے قدرے  غصیلے لہجے میں جواب دیا کہ   یار تم   تو  زیبا  کو اچھی طرح سے  جانتی  ہو ایک دفعہ اگر کسی بات  پر اڑ گئی  تو پھر اڑ گئی ۔۔۔  یہ سن کر  شاہینہ کہنے لگی کہ کہتی کیا ہے  وہ؟ تو میڈم نے جواب دیا کہنا کیا ہے یار۔۔اور پھر  اس نے اپنی اور استانی جی کے درمیان ہونے والی ساری گفتگوسے اسے آگاہ کر دیا۔۔۔ساری بات سن کر وہ کہنی لگی بڑی ضدی ہے تمھاری دوست استانی جی ۔۔  شاہینہ  نے یہ بات کہی اور پھر بچی کو لیکر اندر کمرےمیں چلی گئی ۔ شاہینہ کو جاتے دیکھ کر میڈم میری طرف گھومی اور بولی۔۔ چلو اپنا  بیگ کھولو ۔اور پڑھائی شروع کرو۔۔اور میں  اپنا بیگ کھولنے لگا ۔۔ اس کے بعد میڈم کہنے لگی کہ اب بتاؤ کہ تم کس سبجیکٹ میں زیادہ کمزور ہو؟ ؟  تو میں نے میڈم  سے کہا ویسے  تو میڈم میں  سارے کے سا رے سجیکٹس میں بہت  کمزور ہوں  ۔۔۔پھر میں میڈ کے سامنے میتھ کی بکُ رکھتے ہوئے کہا کہ میڈم   یہ سبجیکٹ مجھے بلکل نہیں آتا  ۔۔۔اور اس سے کہا کہ پلیز مجھے کچھ سمجھا دیں ۔۔۔میڈم نے میرے ہاتھ سے میتھ کی کتاب لی اور اسے دیکھنے لگی اتنے میں اندر سے شاہینہ نکلی اور میڈم کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ ۔۔ندا۔۔ یار  بچی کا سیری لیک  ختم ہو گیا اور پھر اس  نے میڈ م کو پیسے پکڑاتے ہوئے کہا کہ زرا  جلدی سے منگوا دو ۔۔۔تو میڈ م نے اس کو پیسے واپس کرتے ہوئے کہا کہ مجھے  پتہ ہے کہ تیرے پاس بڑے پیسے  ہیں اور پھر اس نے  شاہینہ کو اس کے  پیسے واپس کردئےل اور  اپنی  برا میں  ہاتھ  ڈال کر پیسے  نکالے اور مجھے دیتے ہو ئے بولی  کہ تم ایسا کرو کہ دوڑ کے جا کے      حبیب جنرل سٹور  سے بچی کے لیئے سیری لیک تو لے آؤ  اور میں نے میڈم سے پیسے پکڑے اور بھاگ کر سٹور سے شاہینہ کی بچی کے لیئے سیری لیک لے  آیا اور پھر  بقایا پیسوں کے ساتھ میڈم کو سیری لیک دینے  لگا   تو  وہ بولی ۔۔۔ نہیں  یہ سیری لیک شاہینہ کے دے آؤ ۔۔ چنانچہ میں نے ان کے  ہاتھ سے   سیری لیک کا ڈبہ پکڑا اور اندر کمرے کی  طرف چل پڑا  جہاں پر  شاہینہ اپنی بچی کے ساتھ موجود تھی ۔۔۔جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ تو اس  وقت شاہینہ  اپنی بچی کو دودھ پلا  رہی تھی  اور جس وقت میں دروازے سے اس کے کمرے میں داخل ہوا  تو     عین اس  وقت شاہینہ  اپنی   بچی کے منہ سے اپنا  دودھ چھڑا  رہی تھی  ۔۔۔۔اور اندر داخل ہوتے ہی   میں نے دیکھا کہ  شاہینہ کے بہت موٹے  ممے کے آگے بڑا سا براؤن رنگ کا نپل تھا  اور جس  چیز نے مجھے   شہوت سے بھر دیا تھا ۔۔  اور میری ساری توجہ اپنی جانب کھینچ  لی تھی     وہ   شاہینہ کے  نپل سے  نکلنے والا دودھ کا قطرہ تھا ۔۔۔ اور میں دیکھا کہ  اس  کے نپل  سے  دودھ  کا  موٹا  سا   قطرہ  نکل کر  باہر کی طرف گر رہا  تھا اور یہ اتنا دلکش منظر تھا کہ میں خود پرقابو نہ رکھ سکا اور بے اختیار میرے منہ سے ایک سسکی  سی نکل گئی۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ جسے سن کر شاہینہ نے ایک دم  چونک کر میری طرف دیکھا اور  واضع  طور  پر میری سسکی  کی آواز سن کر  اس  کا منہ لال ہو گیا ۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میرے ٹٹے ہوائی  ہو  گئے   اور میں  سیری لیک کا  ڈبہ وہاں رکھ کر باہر بھاگ آیا ۔۔    باہر آ کر دیکھا تو ندا میم میری میتھ کی  کتاب کو  الُٹ پلُٹ کر کے دیکھ رہی تھیں  مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگی سوری یار مجھے تو اس کتاب کی ککھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔  تو میں نے ان سے کہا کہ میڈم آگے سے میرے ٹیسٹ شروع ہو رہیں اس لیئے  پلیز کچھ کریں ۔۔۔تو  وہ کچھ سوچتے ہوئے  بولی۔۔ اچھا اگر   یہ  بات ہے تو میں کچھ  کرتی ہوں ۔۔۔ اور پھر اچانک ایسا  لگا کہ جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو ۔۔۔تبھی    وہ  میری طرف دیکھ کر بولی  لو جی  تمھارا  کا م ہو گیا ہے۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا وہ کیسے میم   ۔۔ تو  وہ کہنے لگی  یار    یہ  اپنی شاہینہ کس دن  کام آئے گی اور پھر بولی ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے    کہ  سکول سے لیکر یونیورسٹی تک میتھ  اس  کا پسندیدہ  مضمون تھا   اور یہ  اس سبجیکٹ میں ہمیشہ ہی  فسٹ  کلاس  رہی ہے  ۔۔۔ پھر میڈم نے وہاں سے ہی صد ا  لگانی شروع کر دی ۔۔۔ اور بولی ۔۔۔شاہینہ  یار   فارغ  ہو تو  زرا  ادھر آؤ   ۔۔۔ ندا میم کی آواز سُن  کر میری  تو  گانڈ  ہی پھٹ گئی کیونکہ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی  میں نے شاہینہ کے ممے  سے  دودھ کا  ایک  قطرہ نکلتا ہوا   دیکھ کر ۔۔۔ بے اختیار  ایک بڑی ہی  گرم   سی سسکی  لی  تھی ۔۔اور واضع طور پر میری سسکی کی آواز سُن کر شاہینہ نے چونک کر میری طرف دیکھا بھی  تھا  اور میں سوچ  رہا  تھا کہ  کہیں  وہ  یہ بات  ندا میم کو  نہ  بتا  دے ۔۔ ویسے تو ندا میم نے مجھے  کچھ بھی نہیں کہنا تھا کہ وہ خود بھی میرے ساتھ سیٹ تھی لیکن پھر بھی ایک معشوق ہونے کے ناطے وہ ۔۔۔ مجھ سے ناراض بھی ہو  سکتی تھی  جو کہ میں ہر گز افورڈ نہ کر سکتا تھا  اسی اثنا  میں میڈم کی آواز سن کر    شاہینہ  بھی کمرے سے باہر   نکل آئی   اور مجھ پر  ایک گہری نظر ڈال کی   بولی۔۔۔  کیا بات ہے ندا کویں شور مچا رہی ہو؟  تو  میم نے اس سے کہا کہ  یار  زرا   میتھ کی  یہ بکُ دیکھ کربتاؤ کہ یہ تمھاری سمجھ میں آتی ہے کہ نہیں؟  شاہینہ نے  ندا کے ہاتھ سے  کتاب پکڑی اور  اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ اور پھر بولی ۔۔۔  میں چیک کر کے بتاتی  ہوں اور پھر وہ کتاب لیکر کر اندر چلی گئی اور کوئی    پندرہ  بیس منٹ  کے بعد واپس آئی اور  میڈم کو کتاب  واپس کرتے  ہوئی  بولی  ۔۔۔ میرا  خیال  ہے  یہ کوئی مشکل کتاب نہیں ہے اس کی بات سُن کر میم نے اس سے کہا ۔۔اگر برا  نہ  مانو  تو  اس  لڑکے کو  میتھ کی یہ بکُ  پڑھا  دو گی ؟ تو  وہ کہنے لگی  اس میں برا ماننے کی کیا  بات  ہے میتھ  تو  ویسے بھی  میرا  پسندیدہ  سبجیکٹ ہے ۔۔ تم کہتی ہو تو میں  اسے ضرور  پڑھاؤں گی ۔۔ اور اس کی بات سُن کر  ندا میم نے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔  بیٹا شاہینہ کے ساتھ جا کر میتھ پڑھ لو اور دیکھو  جو چیز  تمہاری سمجھ میں نہ آئے اسے  تم  شاہینہ سے  بار  بار  پوچھ سکتے  ہو ۔۔اور پھر اس نے شاہینہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ   میتھ میں یہ لڑکا  بہت ہی کمزور ہے اس لیئے اس کو اچھے سے پڑھانا  اور پھر میم نے میری طرف دیکھا اور بولی اب جاؤ۔۔۔    ندا میم کی بات سُن کر  شاہینہ کہنے لگی اندر نہیں یہیں پڑھاؤں گی کہ اندر  ارم سو رہی ہے تو ندا  بولی کوئی بات نہیں یہاں ہی پڑھا لو ۔۔۔اور پھر ندا میم  یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹُھ گئی کہ میں تم لوگوں کےرات کے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں ۔۔ اس کے جانے کے بعد شاہینہ نے کرسی  کو میرے  قریب کیا  اور بلکل میرے سامنے بیٹھ گئی اور کتاب ہاتھ میں لیکر کر بولی تم اپنی  کاپی  پنسل  نکالو۔ جب میں نے کاپی پنسل نکال لی تو وہ کہنے لگی بولو کہاں سے تم کو پڑھانا ہے تو میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے اس سے کہا کہ ۔۔۔وہ جی شروع  سے ہی  پڑھا دیں تو اچھا ہو گا ۔۔۔ میری بات سُن کر اس نے میری طرف  بڑے غور سے  دیکھا لیکن  بولی کچھ نہیں ۔۔۔پھر اس کے بعد اس نے  کتاب  کے شروع  کی ایک  ایکسر سائز  نکالی   اور  بڑے  ہی  انہماک سے مجھے  وہ  ایکسر سائز سمجھانے لگی ۔۔۔ ایکسرسائز سمجھتے سمجھتے اچانک میری نظر اس کےکھلے    گلے کی طرف چلی گئی ۔۔۔ اس وقت اس نے  اپنے  سینے   پر دوپٹہ نہیں  پہنا  ہوا  تھا  اور اس کےکھلے  گلے  والی قمیض میں  سے اس کے گورے گورے اور موٹے ممے آدھے باہر کو نکلے ہوئے تھے ۔۔۔ اور ایک دفعہ جو میری نظر اس کے ادھ کھلے مموں پر  پڑی  تو ۔۔۔۔۔ پھر نہیں لوٹ کے نظر آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور  اس کے  خوبصور ت مموں سے   چپک کر رہ گئی۔۔۔ 

 ایکسر سائز سمجھاتے سمجھاتے   اس نے کہیں سر اٹُھا  میری طرف  دیکھا  ۔۔۔ لیکن میں تو  ہر چیز سے   بے  نیاز اس کے  گورے مموں کو گھورتا  جا   رہا  تھا اور ساتھ ساتھ سوچ بھی رہا تھا ۔۔۔ کہ اس کے ان مموں کے موٹے نپل سے سے  دودھ کا کتنا  بڑا ۔۔۔۔ قطرہ نکلتا   ہو  گا ۔۔۔ میں انہی   سوچوں  میں گم تھا کہ اچانک میری آنکھوں کے سامنے شاہینہ کا  ہاتھ لہرایا ۔اور میں چونک گیا  مجھے چونکتے دیکھ کر  اس نے   چُٹکی  بجاتے ہوئے کہا ۔۔۔اے مسٹر ۔۔کس سوچ  میں  گُم ہو ۔۔۔ اس کی  چُٹکی کی آواز سُن کر میں  گھبرا  کر ۔۔۔ بولا ۔۔۔۔۔ سوری ۔۔سوری  باجی ۔۔۔ میں وہ۔۔ وہ ۔۔ تب اس نے شرارتی نظروں سے  میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔اب  مجھے سمجھ میں آئی ہے کہ ندا کے بغیر  استانی جی    تم کو کیوں نہیں اپنی کلاس میں بٹھا رہی  تھی ۔۔۔ میں نے اس کی بات سُنی اور شرم سے سر جھکا  لیا اور بولا ۔۔۔وہ  سوری  باجی ۔۔۔۔ تو  وہ  کہنےلگی ۔سدھر جاؤ   بیٹا ۔۔۔اور ۔ پڑھائی پر دھیان دو ۔۔۔اور پھر یہ کہتے ہوئے اٹُھ کر چلی گئی کہ میں ابھی آئی ۔۔۔ اور   سامنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔ اور جب کچھ ہی دیر بعد  واپس  لوٹی   تو  اس نے   اپنے   سینے کو ایک  بڑی سی چادر سے  ڈھانپا  ہوا  تھا۔۔۔اور  وہ  آ کر  اسی طرح  میرے سامنے  بیٹھ گئی اور پھر سے مجھے ایکسر سائز سمجھانے لگی ۔۔۔ اس دفعہ چونکہ اس نے اپنا  مال  ڈھانپ کر  رکھا  ہو ا  تھا  اس  لیئے  ایک  دو  دفعہ میں نے وہاں نظر ڈالی اور کچھ نہ پا کر ایکسرسائز سمجھنے لگا ۔۔ بلا شبہ  شاہینہ ایک بڑی ہی انٹیلی جنٹ لیڈی تھی ۔۔۔اور اس کے سمجھانے کا انداز اتنا دلکش تھا کہ  صرف دو تین گھنٹے کی محنت سے مجھ  جیسا  مہا  نالائق  بندہ بھی میتھ کی وہ ایکسر سائز سمجھ گیا ۔۔۔  دو تین دفعہ سمجھا کر اس نے مجھے ٹیسٹ دیا ۔۔۔اور  میں وہ ٹیسٹ حل کرنے لگا اور وہ خود اٹُھ کر اندر چلی گئی ۔اب یہ  اس کا  روز کا معمول بن گیا تھا کہ جب بھی  اس نے مجھے  پڑھانا  ہوتا  تو  وہ  اپنے  سینے  کو  بڑی  سی چادر سے ڈھانپ لیتی تھی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حیرت  مجھے اس بات پر  تھی  کہ جب  شاہینہ مجھے پڑھا نہیں ہوتی تھی  تو  اس  وقت  وہ  میرے سامنے دوپٹہ نہیں اوڑھتی تھی اور میں اس کے سفید سفید مموں کو نہ چاہتے  ہوئے بھی گھورتا رہتا   تھا  مزے کی بات یہ  ہے کہ   وہ  میری ان گستاخ  نظروں  کی گستاخی کو خوب  اچھی طرح  سے جانتی  بوجھتی تھی لیکن کبھی  بھی اس نے  نہ تو  مجھےگھورنے  سے  منع  کیا  تھا  اور  نہ  ہی اس نے اس بات کا زکر  کبھی  ندا میم سے کیا  تھا ۔البتہ کبھی کبھی  مجھے یہ وہم ہوتا  تھا کہ  وہ میرے یوں گھورنے کو انجوائے کرتی تھی۔۔  لیکن اس کے برعکس   پڑھائی  کے معاملےمیں  وہ بڑی سخت  استانی تھی  اس لیئے جب  وہ  مجھے پڑھانے کے لیئے بیٹھی تھی ۔۔۔ تو اپنی ہر

دلکش  چیز  کو ڈھانپ  لیتی  تھی ۔۔لیکن جیسے ہی پڑھائی ختم ہوتی  تو  وہ  مجھے ۔۔۔خصوصاً     اپنے گورے گورے مموں کو دیدار  کرانے میں کسی بخل  سے  کام نہ لیتی تھی ۔۔ اور اکثر   مجھے ان کی  جھلک بھی کروا لیتی تھی ۔۔۔ ایک دن کا زکر ہے ندا میم حسبِ معمول کچن میں رات کے کھانے کا بندوبست کر رہی تھیں  ۔ویسے بھی اس نے مجھے کہا تھا کہ شاہینہ تھوڑے  دنوں کی مہمان  ہے اس  لیئے   جتنا  ممکن  ہو سکے اس سے  میتھ سیکھ  لو اس  لیئے   ان دنوں  میں شاہینہ  میم سے صرف اور صرف میتھ  ہی سیکھ  رہا  تھا ۔۔۔۔ سوالات  وغیرہ  سمجھا کر کہ اس نے مجھے کافی سارے ٹیسٹ دے دئےی جن کو میں حل بڑی توجہ سے حل کر رہا تھا کیونکہ  مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھانے کے وقت بڑی سیریس  ہو کر پڑھاتی ہے اس لیئے میں بھی سیریس ہو کر ہی پڑھتا تھا ۔۔سو اس دن کا زکر ہے کہ میں بڑی توجہ سے اس کے دئے ہوئے سوالات حل کر رہا تھا ۔۔ ۔۔ کہ اچانک اندر سے ارم کے رونے کی آواز  سنائی دی ۔۔اس کے رونے کی  آواز  سنتے  ہی  شاہینہ بھاگتی ہوئی اندر گئی  اور اسے چُپ کراتے ہوئے  باہر لے آئی ۔ ویسے  تو  ارم  کا  یوں   رونا  کوئی  اتنی بڑی  بات  نہ  تھی