1719

اُستانی جی قسط 19

بختو خالہ کی بات سُن کر جولی نے اپنے سر پر ہاتھ  مارا ۔۔اور بولی ۔۔۔۔ او۔۔۔سوری خالہ میں تو بھول ہی گئی تھی ۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔ خالہ ابھی میرے ساتھ چلو ۔۔ اور ناپ والا سوٹ لے جاؤ ۔۔۔ تو خالہ اس سے کہنے لگی ۔۔۔۔  ابھی تو بہت مشکل ہے بیٹا ۔۔۔ کہ میں نے جمعہ بازار سے   کافی  خریداری کرنی ہے ۔۔۔تم ایسا کرو کہ کل چکر لگا لو ۔۔ تو  جولی کہنے لگی  چکر تو میں  لگا  لوں لیکن خالہ یہ سوٹ  مجھے کل شام  تک ہر حال میں چایئے کہ مجھے ایک بچے کی  سالگرہ کی پارٹی میں جانا  ہے تو بختو خالہ کہنے لگی  تو بیٹا جیسا کہ آپ جانتی ہے میری  ابھی کافی خریداری باقی ہے تو تم جلدی سے ناپ والا سوٹ لے آؤ ۔۔۔ میں تم کو یہیں ملوں گی ۔۔۔ پھر مزید بولی ۔۔۔ ویسے بھی جمعہ بازار سے مکھا سنگھ اسٹیٹ دور ہی کتنی ہے ۔۔۔۔ خالہ کی بات سُن کر جولی ۔۔۔۔سوچ میں پڑ گئی اور بولی ۔۔۔۔میرے لیئے  یہ کام بہت مشکل ہے خالہ۔۔۔ دیکھ نہیں رہی کس غضب کی گرمی پڑ رہی ہے ۔۔۔۔اور میں   پہلے ہی میں بڑی مشکل سے یہاں پہنچی ہوں ۔۔۔ جولی کی بات سُن کر بختو خالہ   روکھا  سا جواب دیتے ہوئے بولیں ۔۔۔ اگر یہ بات ہے تو  پھر۔۔بیٹا  کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔خالہ کا روکھا سا جواب سُن کر جولی روہانسی ہو گئی اورکہنے لگی ۔۔۔۔  خالہ پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں  مجھے  وہ سوٹ ہر  حال میں    چاہیئے ۔۔۔۔ ابھی ان کی تکرار جاری تھی کہ میری امی نے ان کے بیچ  میں  دخل در معقولات کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ بخت بیگم اس بے چاری کی  مجبوری  کو سمجھو اور بیٹی کے ساتھ جاؤ ۔۔۔ ہم تمھارے آنے تک یہیں  انتظار کریں گے  تم ۔جاؤ اور ۔۔ جلدی سے   بیٹی کے  کے ناپ والے کپڑے لے آؤ ۔۔۔

 

 

امی کی بات سُن کر بخت  بیگم کو  اچانک ایک آئیڈیا  سوجال  اور  وہ  امی کو مخاطب کر کے کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹی کا مسلہ ایک طرح حل ہو سکتا ہے ۔کہ جس  میں  نہ مجھے ان کے گھر جانا پڑے گا اور  نہ ہی  بیٹی  کو گھر  سے ناپ  والا  سوٹ  لانا  پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی بات  سُن کر  امی کے ساتھ ساتھ جولی نے  بھی خالہ کی طرف دیکھا اور بولیں ۔۔۔ وہ کیسے ؟  تو  بختبیگم نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ ایسے بہن کہ تمھارا  بیٹا اگر  جولی  بیٹی کے ساتھ ان کے گھر چلا ج ائے تو ؟ ان کی بات سُن کر امی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں لیکن  پھر ہمارے  سامان  کا کیا  ہو گا ؟ اتنا  سامان کون اٹُھائے گا ؟؟ ۔۔۔۔۔بخت بیگم کا  یہ آئیڈیا   جولی کو اس قدر پسند آیاکہ اس نے جلدی سے کہا کہ خالہ آپ اپنا  یہ سامان رکشہ پر لے جائیں اور اس کے ساتھ ہی اس نے  اپنے پرس کو کھولا اور اس میں سے ۔۔۔کچھ پیسے  نکال کر بختو خالہ کو دیئے جو انہوں نے تھوڑی سی  ہچکچاہٹ کے بعد قبول کر لیئے ۔۔۔۔ اور مجھ سے کہنے لگیں ۔۔بیٹا  سامان رکھ کے باجی کے ساتھ چلا جا ۔۔تو میں ایک نظر امی کی طرف دیکھا تو وہ کہنے لگیں بیٹا بخت بیگم جو کہہ رہیں ہیں وہ کرو ۔۔۔ امی کی بات سُن کر میں نے اپنے کندھے پر لدے آلو بیاز کے توڑے اور شاپر    زمین  پر رکھے اور اس کے بعد اپنی قمیض  کی الُٹی سائیڈ سے اپنے چہرے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور جولی کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔

      مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ جولی نے ابھی تک میرے ساتھ کسی قسم کی شناسائی کا اظہار نہ کیا تھا ۔۔۔لیکن پھر جلد ہی میری  یہ حیرت دور ہو گئی ۔۔ کیونکہ جیسے ہی ہم  جمعہ بازار سے واپس ۔۔۔۔ مکھا سنگھ اسٹیٹ کے پاس پہنچے ۔۔۔ جولی نے میری طر ف دیکھا اور بولی ۔۔۔۔ مرینہ کیسی ہے ؟ تو  میں  نے بھی  بنا کسی گھبراہٹ کے ان سے کہہ دیا کہ ۔۔۔وہ تو جی چلی بھی گئیں ۔۔۔  میری بات سُن کر وہ تھوڑا  چونکی ۔۔پھر کہنے لگی ۔۔اوہ  ہاں ۔۔۔ اس نے مجھے  بتایا تھا ۔۔۔پھر اس کے بعد اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی ۔۔۔ اور پھر چلتے چلتے  ہم جولی کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے پرس سے چابی نکالی اور گیٹ کھول کر کہنے لگی ۔۔۔۔ اندر آ جاؤ۔۔۔ اور میں جولی کے پیچھے  چلتے  ہوئے گھر کے اندر   داخل ہو گیا اور اس نے  مجھے  ڈرائینگ روم  میں بیٹھنے کو کہا تو میں نے جواب دیا کہ باجی آپ جلدی سے ناپ والے کپڑے دے دو ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی اتنی گرمی سے آئے ہو  ۔۔کچھ ٹھنڈا  ونڈا  تو  پی لو ۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے مجھے صوفے پر بیٹھنے  کا  اشارہ کیا اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئی کہ میں تمھارے لیئے ٹھنڈے کا بندوبست کرتی ہوں ۔۔۔ اور میں سامنے صوفے  پر بیٹھ کر جولی کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔ کافی دیر بعد جب وہ آئی تو اس کے ہاتھ میں صرف ایک گلاس جوس تھا ۔۔۔ جو اس نے میری طرف بڑھایا اوربولی ۔۔یہ پی لو۔۔۔ میں نے تھوڑی سی نا  ،،،نا۔۔۔کے بعد جولی کے ہاتھ سے جوس کا گلاس  لے لیا ۔۔اور پھر اس کو پینےلگا ۔۔۔ وہ بڑے غور سے  مجھے جوس پیتے ہوئے دیکھ رہی تھی  جوس پیتے ہوئے مجھے اس کا ذائقہ کچھ عجیب  سا  فِیل  ہوا  لیکن ایک تو گرمی اور دوسرا  مجھے اس وقت  بڑی  شدید  پیاس لگی ہوئی تھی اس لیئے میں نے  وہ  سارا  جوس ایک ہی سانسں میں چڑھا   لیا ۔۔۔ جیسے ہی جوس ختم ہوا تو وہ بولی اور لاؤں ؟ تو میں نے جی چاہتے ہوئے بھی انکار کر دیا اور اس سے کہا  ۔۔۔ باجی مجھے کپڑے دے  دیں ۔۔ تو  جولی  نے  میری طرف دیکھتے  ہوئے کہا ۔۔ کہ ۔۔اوکے ۔۔۔  ابھی  دیتی ہوں ۔۔۔  لیکن اس پہلے میں زرا  نہا  لو ں کہ  مجھے بڑے زور کی گرمی  لگی  ہوئی   ہے  پھر کہنے لگی تھوڑا  انتظار کرو  کہ میں  نہانے کے بعد ہی  تمہیں کپڑے دوں گی جنہیں لیکر تم جدھر مرضی چلے جانا ۔۔۔۔ جولی نے یہ کہا  اور پھر میری کوئی  بات  سُنے  بغیر ہی وہ  نہانے  کے لیئے  چلی گئی۔۔۔۔

جوس  پینے کے کچھ دیر بعد   تو سب ٹھیک رہا ۔۔۔   لیکن      ۔۔پھر آہستہ آہستہ  مجھے  ایسے لگنے  لگا  کہ جیسے میرے سارے جسم میں چیونٹیاں  سی رینگ رہیں ہوں۔اس کے ساتھ ہی   میرا  سارا  جسم  پسینے  میں بھیگ گیا ۔ اور مجھے  خواہ مخواہ  ہی انگڑائیاں آنا شروع ہو گئیں ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی پتہ نہیں کیوں   ایک دم  سے میرا لن  بھی کھڑا  ہو گیا ۔۔۔ جسے میں نے اپنے طریقے سے بٹھانے کی بڑی کوشش کی لیکن جیسے جیسے میں اس کو بٹھانے کو

کوشش کرتا یہ میری ایک نہ سنتا اور بجائے بیٹھنے کے یہ اور بھی  تن  کر  اکڑاتا  جاتا ۔۔ اور  پھر میری حالت یہ ہو گئ   کہ جیسے  میرا سارا  وجود ہی  ہوشیاری سے بھر چکا ہو ۔۔ اور یہ ہوشیاری  تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی ۔۔۔ ۔ اور میں حیران پریشان کہ یہ ماجرا کیا ہے ؟اور  خاص کر یہ سوچ  کر ہی     میری گانڈ  پھٹ رہی تھی کہ اگر اس  حالت  میں مجھے  جولی  نے دیکھ لیا تو وہ  کیا سوچے گی؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔ پھر میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور یہ سوچ آتے ہی میں جلدی سے باہر گیا اور   جولی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا ۔ تو ۔اس کے واش روم کا  دروازہ  بند  تھا  اور شاور  سے پانی کے گرنے کی آواز آ رہی تھی اس طرف سے مطمئن ہو کر میں واپس ڈرائنگ روم میں آیا اور پھر دروازے کے  پیچھے کھڑے ہو کر اپنی  شلوار کا نالہ کھول کر اسے  تھوڑا  نیچا کیا اور پھر لن  کو باہر  نکال لیا  ۔۔ اس کے بعد ایک نظر پھر باہر  جھانک کر   دیکھا  تو وہاں کسی کے بھی آثار  نہ  تھے چنانچہ میں  نے جلدی جلدی لن  کو اپنے ہاتھ میں پکڑا  اور اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔ ۔۔۔ میں نے اپنے لن کو بڑی دفعہ ہوشیاری آ تے ہوئے دیکھا  تھا ۔۔۔ لیکن یہ ہوشیار کوئی اور ہی طرح کی تھی ۔۔۔۔لن  کا  ایک ایک  ریشہ ۔ایک ایک رگ ۔اکڑاہٹ کے مارے پھڑک رہی تھی ۔۔ میں کچھ دیر تک لن کو دیکھتا رہا پھر میں نے جلدی سے  لن  پر تھوک لگا کر اسے چکنا کیا اور پھر مُٹھ مارنا شروع ہو کر دی   ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نظر باہر بھی دیکھتا رہا کہ مبادا ۔جولی نہ  آجائے ۔۔۔  مجھےلن پر  ہاتھ  مارتے ہوئے  کافی  ہی  دیر ہو گئی تھی کہ ۔۔ میرا لن چھوٹنے  کا   نام  ہی  نہ لے  رہا  تھا  اور میں حیران  ہو  رہا تھا کہ آخر چکر کیا ہے کیونکہ اتنا  بڑا  ماچو مین  تو میں  ہر گز   نہ تھا  کہ اتنی دیر تک ہاتھ  مارنے کے  باوجود بھی  نہ چھوٹ  ۔۔۔۔   پا  تا  ۔۔۔ مجھے مُٹھ مارتے ہوئے جب کافی دیر ہو گئی اور میں نہ چھوٹا تو میں نے مُٹھ مارنی بند کر دی اور  دیکھا تو میرا لن   تیز تیز ہاتھ  مارنے سے لال ہو رہا تھا ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے لن کو شلوار کے اندر کیا اور  سوچنے لگا کہ اب میں  کیا کروں ؟؟؟؟؟؟ کیونکہ مجھے بڑی ہی شدید ہوشیاری آئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

ابھی میں نے لن کو شلوار کے اندر کیا ہی تھا کہ مجھے باہر سے  جولی کے قدموں کی چاپ  سنائی دی  اور میں نے جلدی سے اپنے لن کو دونوں ٹانگوں کے بیچ کیا اور پھر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا  اور مجھے اتنا  ٹائم  نہ مل سکا کہ میں لن کو  اوپر کر کے اپنی شلوار کے نیفے میں  اڑس لیتا  ۔۔۔  جیسے ہی میں سیٹ فائن ہو کر بیٹھا اگلے ہی لمحے  جولی ۔۔۔ ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئی ۔۔۔ اور اسے دیکھ کر میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ اس وقت جولی نے  بڑا ہی باریک سا  لباس پہنا  ہوا تھا  ۔۔ اور اس کے ایک  ہاتھ میں  بالوں پر پھیرنے والا برُش تھا  ۔۔۔  اور اس باریک لباس میں  اس کا سانولا اورنمکین سا بدن اچھا خاصہ جھانک رہا تھا  ۔۔۔ میں جو پہلے ہی ہوشیاری کے  ہاتھوں خوار تھا  جولی کو نیم عریاں دیکھ کر اور بھی خوار ہو گیا ۔۔۔ اتنے میں وہ میرے پاس  آ کر ساتھ والے  صوفے پر  بیٹھ گئی اور پھر بڑے غور سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ نہا کے کنگھی کرنے لگی تھی کہ سوچا تم یہاں بیٹھے  بور ہو  رہے ہو گئے اس لیئے  میں تمھارے پاس آ گئی  کہ چلو اس دوران برش بھی کر لوں گی اور تمھارے ساتھ گپ شپ  بھی ہو جائے گی ۔جولی کا نیم عریاں بدن دیکھ  میری جنسی ہوس میں اور بھی اضافہ ہو رہا تھا ۔۔ اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی جولی کے جسم کے ابھاروں  کو گھورے جا رہا تھا ۔۔۔ لیکن حیرت کی بات ہے وہ میری بھوکی نظروں سے بے نیاز بالوں کو برش کر رہی تھی ۔۔۔اور ادھر میرا لن شہوت کے مارے  پھٹنے والا ہو رہا تھا پھر جولی نے ایک عجیب حرکت کی وہ یہ کہ برش کرتے کرتے اچانک اس کے ہاتھ سے برش نیچے گر گیا اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے جھک کر برش اٹُھانے لگی ۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کے مخروطی ابھاروں  کے موٹے موٹے نپل  مجھے  بہت صاف نظر آئے اور ان کو دیکھ کر میرے ہونٹ خشک ہو گئے اور رانوں میں دبا میرا لن باہر آنے کو بے تاب ہونے لگا۔۔۔

   میرا  خیال  ہے کہ وہ میری   اس  بے تابی  کو خوب سمجھ رہی تھی بس کسی  وجہ سے  ایسے   بی ہیو کر  رہی تھی کہ جیسے کچھ بھی  نہ ہوا   ہو  کیونکہ جیسے ہی میں نے اس کے ابھروں کی طرف نگاہ    ڈال کر اپنے  خشک ہونٹوں پر زبان  پھیری تو پہلی دفعہ وہ تھوڑا مسکرائی اور بولی کیا  بات  ہے ۔۔ بڑی پیاس لگ رہی ہے ۔۔ تو میں نے کہا ۔۔ نہ نہ نہیں ۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔۔ تو  وہ ہنس پڑی  اور بولی  پانی  لاؤں ؟  اور پھر وہ خود ہی اٹُھ کر باہر  چلی گئی اور واپسی پر  پانی  والی بوتل تھی جو وہ فریج سے نکال کر لائی تھی اس نے میرے سامنے کھڑے کھڑے بوتل سے پانی انڈیلا     اور مجھے  گلاس پکڑاتے ہوئے بڑی گہری نظروں سے  دیکھنے لگی ۔۔میں  نے اس کے ہاتھ  سے  پانی کا  گلاس پکڑا  اور پانی پیتے  ہوئے   نا چاہتے ہوئے بھی اس کے مموں کو بھوکی نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔  یہ دیکھ کر وہ سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔ میں نوٹ کر رہی ہوں کہ جب سے میں آئی ہوں تمھاری نظریں مسلسل میرے جسم پر گڑھی ہوئی  ہیں ۔۔۔۔  کیا بات ہے کبھی عورت نہیں دیکھی ؟ تو میں نے شرمندہ ہوتے ہوئے اس سے کہا۔۔  نہ۔۔۔نہ ۔نہیں جی ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔میں تو بس ۔۔۔ وہ ۔۔تو وہ بولی ۔۔۔ اگر تم کو میرا جسم  اتنا  پسند آیا  ہے تو۔۔۔ ادھر آ کر نزدیک سے دیکھ لو ۔دور کیوں بیٹھے ہوں ۔۔۔ میں نزدیک کیا خاک آتا ۔۔۔میں تو  پہلے  ہی  اس کے پاس بیٹھا  تھا ۔۔۔اس لیئے چپکے سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔  جب تھوڑی دیر بعد میں ا س کے پاس نہ گیا تو وہ  تھوڑی دور پڑے سٹول کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔وہ سٹول اٹُھا کر میرے پاس آ جاؤ۔۔ لیکن میں اپنے  لن کی وجہ سے اٹُھ نہ سکتا تھا اس لیئے چُپ کر کے بیٹھا رہا ۔۔اس نے کچھ دیر انتظار کیا پھر   وہ خود ہی اٹُھی اور سٹول اٹُھا کر میرے  بلکل پاس  بیٹھ  گئی ۔۔۔اس کے جسم سے ایک عجیب سی  مہک آ رہی تھی ۔۔۔۔ جو  مجھے اندر ہی اندر کافی پریشان کر رہی تھی ۔۔۔۔لیکن میں سر جھکائے  بیٹھا  رہا ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگی کمال ہے جب میں دور بیٹھی تھی تو تم  اتنی نظریں پھاڑ پھاڑ کے مجھے دیکھ رہے تھے اب پاس آئی ہوں تو  شرما رہے ہو ۔۔۔ پھر کہنے لگی اس دن مرینہ کے ساتھ بھی ایسے ہی شرمائے تھے۔کیا ؟

جولی کی مرینہ والی   بات سُن کر میرے دماغ میں  گھنٹیاں سی بجنے لگیں اور میں معاملہ کو  کچھ کچھ سمجھنے  لگا۔۔۔۔ چنانچہ میں نے اپنا جھکا ہوا سر اٹُھایا  اور جولی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔اور دیکھا کہ اس ظالم نے اپنے سنےس کے ابھار میری آنکھوں کے عین سامنے کیئے ہوئے تھے اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی سینے کے بھاری ابھاروں کو دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔ پھر مجھے جولی کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔ اور بات کرتے ہوئے واضع طور پر اس کی آواز میں کپکپاہٹ سی تھی وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ تم کو یہ بڑے اچھے لگتے ہیں ۔۔۔  اس کی بات سُن کر میں نے اس کی آواز کی لرزش کو صاف محسوس کر لیا اور پھر سمجھ گیا کہ میری طرح جولی بھی خوار ہے ۔۔۔۔۔اس لیئے میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ وہ  جی اچھی  چیز    اچھی  ہی  لگے گی نا۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔۔ کتنی اچھی لگتی ہے تو میں نے تھوڑی ہمت کرتے  ہوئے  اس کے مموں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔بہت ۔۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ اس کے موٹے ممے سے ٹچ ہوتا۔۔ اس نے راستے ہی میں میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور بولی ۔۔۔ نو نو ۔۔۔یہ نہیں کرنا ۔۔۔تو میں نے کہا پلیززززز جولی جی ۔۔۔ دل تو اس کا بھی کر رہا تھا ۔۔۔ بس اوپر اوپر سے نخرے  جھاڑ  رہی تھی اس لیئے میری درخواست پر بولی ۔۔۔۔ اوکے ۔۔  میں تم کو ہاتھ لگانے دیتی ہوں ۔۔۔ لیکن  ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ تم ان پر جسٹ  ہاتھ  لگاؤ  گئے ۔۔۔۔اس سے آگے کچھ نہیں کرو گے  ۔۔۔ وہ اپنے مموں  پر ہاتھ  تو  لگانے  دے رہی تھی  نا ۔۔۔میرے لیئے  اتنا  ہی کافی تھا ۔۔۔ ۔۔۔سو میں نے جھٹ سے  کہہ دیا ٹھیک ہے جولی جی میں صرف ٹچ ہی کروں گا  اور اپنا ایک ہاتھ اس کے رائٹ ممے پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور خاص کر اس کے اکڑے ہوئے نپل کو مسلنے لگا ۔۔۔۔ میرے نپل مسلنے سے اس کے منہ سے ایک دلکش سی سسکی نکلی ۔۔۔سسس۔۔۔سی    ۔پھر بولی ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو ؟؟؟؟؟؟ ۔۔ میں  نے تو  جسٹ  ہاتھ رکھنے کو کہا  تھا  تو میں نے اس سے کہا جولی جی۔۔۔۔ میں تو  بس ہاتھ ہی تو  رکھا  ہوا  ہے تو  وہ ۔۔۔میری انگلیوں کا اپنے نپل پر  مزہ لیتے ہوئے بولی ۔۔۔ لیکن تم ۔۔۔آہ ہ ہ ۔ ہ ہ ہ  ہ ۔۔۔۔۔ میرے  ۔۔۔۔کیوں مسل  رہے  ہو ۔۔۔ تو میں نے اس  کہا ۔۔۔  میں کہاں  مسل  رہا  ہوں   جولی  جی ؟ اور  اس کے  ساتھ ہی اس کے نپل کے موٹے سرے کو اور بھی تیزی کے ساتھ مسل دیا ۔۔۔۔اب اس نے میرا ہاتھ  پکڑا  اور  وہاں  سے  ہٹا  دیا ۔۔۔ تو  میں   نے  اس سے  پوچھا  یہ کیوں  جولی  جی ۔۔؟ تو  وہ  کہنے لگی   یہ اس لیئے کہ  تم نے معاہدے  کی خلاف  ورزی کی ہے تو میں نے کہا ۔۔کہ میں نے تو آپ کے کہنے پر جسٹ  ہاتھ  ہی رکھا  تھا ۔۔۔تو وہ بولی ،،،وہ جو۔۔۔ وہ جو ۔۔۔تم  نے میرے ۔۔تو  میں  نے کہا آپ  کا مطلب ہے نپل تو وہ ایک دم سرخ ہو گئی ۔۔۔۔۔اور بولی ہاں ۔۔وہی ۔۔وہی ۔۔۔ تب میں نے کہا اوکے اب ایسا نہیں کروں گا ۔۔پلیززز ایک دفعہ اور چانس دیں۔۔۔ 

اور پھر اس کی بات سُنے بغیر ہی اس کے  ایک ممے  پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور جولی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ جولی کی آنکھوں میں بھی ہوس کے لال ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔۔۔اور میری طرح سے اس کے ہونٹ بھی خشک ہو رہے تھے اور وہ بار بار اپنی زبان سے ان کو تر کر رہی تھی۔۔۔ اور میں سمجھ گیا کہ لوہا  پوری طرح گرم ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ ظاہر ہے وہ عورت تھی اور پہل نہ کر سکتی تھی ۔۔۔اس لیئے میں نے اس کے دوسرے ممے پر اپنا  منہ رکھ  دیا  اور اس کی قمیض کے  اوپر  سے ہی ان  پر زبان  پھیرنے  لگا ۔۔۔۔۔۔ میری یہ حرکت دیکھ کر جولی ۔۔۔ ایک دم  پریشان  ہو گئی  اور  بولی ۔۔۔۔یہ ۔۔یہ کیا کر رہے ہو  تم۔۔۔۔تو میں  نے کہا جولی جی میں  ان کو دبا  تھوڑی  رہا  ہوں  میں تو  ان کو بس چوم رہا ہوں ۔۔۔اور اس کی پتلی سی قمیض  کے اوپر سے ہی اس کے تنے ہوئے نپل کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔ برا تو اس نے پہلے ہی سے نہیں پہنا ہوا تھا ۔۔۔اس لیئے میرے ہونٹوں میں اس کے نپل آتے ہی وہ تڑپ اٹُھی ۔۔۔۔ اور آہیں بھرنے لگی۔۔۔۔ اور بولی دیکھو ۔۔۔یہ تم غلط کر رہے ہو ۔۔۔ حالانکہ اگراس کے نزدیک اگر  میں غلط کر رہا تھا   تو  وہ  مجھے تھپڑ مار کر خود سے الگ کر سکتی تھی  لیکن  اس نے  ایسا کچھ نہیں کیا اور بس یہی کہتی رہی نہ کرو نہ ۔۔۔۔۔مت کرو پلیزززززززززززز۔۔۔ لیکن میں نے اس کا نپل نہیں چھوڑا اور اس کو چوستا رہا ۔۔۔ پھر میں نے دھیرے سے اس کی قمیض کو تھوڑا اوپر کیا  اور اس کے ننگے ممے پر ہونٹ رکھ دیئے تو وہ بولی ۔۔۔ کیا کر رہے ہو بدتمیز ۔۔۔ تو میں نے کہا ۔۔ دودھ پینے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔اور پھر اس کی بات سنےبغیر اس کے مموں پر پل  پڑا ۔۔۔۔۔۔  اب کی بار اس نے کوئی احتجاج نہین کیا اور مجھے اپنے مموں کا دودھ پینے دیا ۔۔۔ ممے  چوستے  چوستے  مجھے جوش آ گیا اور میں اپنی سیٹ سے اٹُھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اور میرے اٹُھنے سے میری  ٹانگوں کے بیچ  پھنسا ہوا  میرا لن بھی آذاد ہو گیا  اور جیسے ہی میں کھڑا ہوا ۔۔۔ میرا موٹا ۔۔۔لمبا ڈنڈا ۔۔۔۔ جولی کے چہرے سے جا ٹکرایا ۔اور اس کے ہونٹوں پر رگڑ لگاتا ہوا ۔۔۔پرے ہو گیا

۔۔۔  یہ دیکھ کر  میں  ایک دم  پیچھے  ہو گیا اور اپنے لن کے آگے ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔اور تھوڑا شرمندہ بھی ہو ا کہ میرا لن بڑی زور سے اس کے چہرے سے ٹکرایا تھا ۔۔۔  چنانچہ میں نے  جولی سے کہا ۔۔ سوری جولی جی ۔۔۔ تو وہ حیران  ہو کر بولی  سوری کس  بات کا  مسٹر؟ اور مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔ آگے  سے  اپنا  ہاتھ تو  ہٹاؤ ۔۔ اور اس کے کہنے پر میں نے اپنا  ہاتھ لن سے  ہٹا دیا ۔۔۔۔۔جیسے ہی میرا ہاتھ لن سے ہٹا ۔۔۔۔۔۔ تو وہ  پھنکارتا  ہوا ۔۔جولی کے سامنے آ گیا ۔۔۔۔ اور جس سے  میری قیمض میں ایک تنبو سا بن گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اور وہ بڑی دلچسپ نظروں سے میرے لن کو گھورے جا رہی تھی ۔۔۔ تب میں آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے میرے لن کو اپنے  ہاتھ میں ایسے پکڑ  لیا کہ جیسے  وہ نیند  میں  ہو ۔۔۔ اور  پھر بولی ۔۔۔تمہارے  اس کے بارے میں مرینہ نے مجھ سے بات کی تھی ۔۔۔لیکن یہ اتنا ہو گا ۔۔۔ ۔۔۔افُ ف ف ف۔۔۔ اتنے بڑے کا تو  میں  نے   سوچا بھی نہ  تھا ۔۔۔۔ ادھر   مجھے  چونکہ  ہوشیاری چڑھی  ہوئی تھی  اس لیئے ۔۔۔میں نے اس کے سر کو  پکڑا  اور  اپنے لن کی طرف  لے گیا۔۔۔۔۔ اس نے ایک نظر مجھے  دیکھا   اور پھر  اپنا  منہ بند کر لیا  تب میں نے اپنے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا  اور قمیض  کو اوپر کر کے اپنی شلوار   سمیت ہی  لن اس کے نازک ہونٹوں پر پھیرنے  لگا ۔۔۔۔حیرت انگیز  طور  پر اس نے کوئی احتجاج  نہ کیا  اور نہ ہی کوئی  ناز  نخرہ کیا ۔۔۔۔۔ بلکہ پہلے  جو اس کے ہونٹ سختی سے بند تھے اب اس نے ڈھیلے کر دیئے اور میں ایسے ہی اس کے ہونٹوں پر لن پھیرتا رہا ۔۔۔

 

کچھ دیر تک ایسے ہی لن پھیرنے کے بعد میں نے جولی کو اوپر اٹُھانے کی کوشش کی تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بولی ۔۔۔کیا کروں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو میں نے اس کو اوپر  اٹُھنے کا  اشارہ  کیا  اور  وہ  بلا چوں و چرا کئے اوپر اٹُھ گئی ۔۔۔اور میں نے جولی کو اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔پھر میں نے اپنے ہونٹ جولی کے ہونٹوں پر رکھ  دیئے تو وہ منہ ہٹا  بولی۔۔تم بہت ہاٹ ہو ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔آپ کو کیسے پتہ ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرینہ نے بتایا تھا

۔۔۔اور پھر اس نے خود ہی  میرے ہونٹوں  پر اپنے  ہونٹ رکھ دیئے اور ان کو چوسنے لگی ۔۔اس   کے بدن اور منہ سے ایک عجیب سی مست مہک آ رہی تھی ۔۔۔۔جو مجھے بے خود بنا رہی تھی ۔۔۔ اور میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں ابھی اس کے اندر کر دوں پر ۔۔۔اس کی کسنگ بھی اتنی مست اور زبردست تھی کہ میں اس کا بھی ذائقہ چکھنا چاہتا تھا ۔۔۔چنانچہ میں نے اس کے منہ میں اپنی زبان ڈالی اور خوب گھما گھما کر اس کی زبان سے ٹکرانے لگا ۔۔۔۔۔۔ دورانِ کسنگ میں نے اس کو اپنا لن بھی پکڑا دیا جسے اس نے بڑے شوق سے پکڑا اور مسلنے لگی ۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میری ہاٹ کسنگ کا بھی اسی طرح جواب دینے  لگی ۔۔ ہم کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے پھر  بات اس کی بھی  برداشت  سے  باہر ہو گئی  جبکہ میں تو پہلے ہی کافی تیار تھا سو ۔۔۔ وہ مجھ سے الگ ہوئی اور ۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھ گئی اور مجھے اپنے کپڑے اتارنے کو کہا ۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے  جلدی سے اپنے سارے کپڑے اتار دیئے اور  ایک دفعہ پھر ننگا ہو کر اس کے سامنے آگیا ۔۔۔جیسے ہی میں جولی کے قریب پہنچا ۔۔۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر خود ہی میرا لن پکڑ لیا اور  بڑے غور سے  میرے ٹوپے  دیکھنے لگی ۔۔۔تو میں نے اس سے  پوچھا کہ  کیا  دیکھ رہی  ہو میڈم۔۔؟  تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ میں تمھارے لن کا کٹ دیکھ رہی ہوں ۔بڑا  شاندار ہے ۔۔ میں اس کی بات کو  نہ سمجھا اور اس  سے پوچھنے لگا ۔۔۔ میں سمجھا نہیں تو وہ بولی ۔۔۔ میں بتاتی ہوں ۔۔۔اور کہنے لگی  تم جانتے ہو کہ میں ایک کرسچئن لڑکی ہوں اور میرا خاوند بھی کرسچئن ہے اور  تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہم لوگ ختنہ نہیں کرواتے ۔۔۔ تو میں اس کی بات سمجھ کر بولا ۔۔۔اچھا اچھا یہ بات ہے تو وہ  بولی  ہاں ۔۔۔۔ یہی  بات  ہے پھر اس نے میری طرف دیکھا  اور کہنے لگی ۔۔ فلموں کی بات اور  ہے لیکن تم یقین کرو  کہ میں نے کٹ لن پہلی دفعہ دیکھا ہے  تو میں نے اس سے کہا کیسا لگا ؟ تو وہ کہنے لگی تمھارے اس )لن ( کا گول کٹ بڑا شاندار  ہے تو  میں نے ویسے  ہی اس  سے  پوچھ لیا کہ وہ آپ کے خاوند کا  ۔۔۔تو  وہ  بولی  اس کے اس  حصے پر سکن  ہے جبکہ تم نے یہ سکن کٹوائی  ہوئی  ہے اور پھر وہ میرے لن پر جھکی اور ٹوپے کے  بارڈر  کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنے لگی ۔۔اور پھر منہ ہٹا کر بولی ۔۔ شاندار ۔۔۔۔ شاندار ۔۔بہت شاندار  ہے   یہ ۔اور پھر  سے اسی طرح ٹوپے کے ارد گرد اپنی زبان پھیرتی رہی ۔۔۔

وہ کافی دیر تک میرے ٹوپے کےبارڈر کے ارد گرد اپنی زبان پھیرتی رہی پھر اس نے میرا لن اپنے منہ میں ڈال لیا اور اسے چوسنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد اس نے  میرے لن کی جڑ تک اپنی زبان کو پھیرا اور ۔۔۔۔ خاص طور پر ٹوپا اس کا نشانہ تھا ۔۔۔۔ جسے وہ بار بارچوم رہی تھی  کرتی اور اسکے ساتھ ساتھ اس پر زبان بھی  پھیرتی  جا رہی تھی ۔۔۔ اچھی طرح لن چوسنے کے بعد وہ اٹُھی اور اپنے برائے نام کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔۔ 

میں  تو  پہلے ہی ننگا  تھا اس لیئے میں بڑی دل چسپی سے اس سیکسی لیڈی کو کڑسے اتارتے ہوئے  دیکھنے  لگا جب وہ سارے کپڑے اتار چکی تو اس نے ایک خاص ادا سے میری طرف دیکھا اور صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔ میں اس کا  اشارہ سمجھ گیا اور میں  نیچے  قالین  پر بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔ پھر میں بلکل اس کی چوت کے پاس چلا گیا اور میں  نے دیکھا کہ اس کی چوت پر ۔۔ہلکے کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے بال تھےان کو دیکھ  کر اندازہ ہو  رہا  تھا کہ اس نے  ایک ہفتے  سے اس نے  اپنی چوت  کے بال   صاف نہیں کیئے تھے  ۔۔۔ پھر میں نے اس کی بالوں  والی  چوت  پر  انگلیاں پھیرنا  شروع کر دیں  اور ساتھ ساتھ اس کی چوت بھی چیک کرتا رہا ۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ میڈم کی چوت کے دونوں لبوں میں کافی فاصلہ تھا اور درمیان کی  گہری لررت بتا رہی تھی کہ میڈم نے کافی چوت مروائی ہے ۔۔۔ اس کے بالوں پر انگلی پھیرتے پھیرے  پھر میں اپنی درمیاں والی انگلی کو اس کی چوت کی پھانکوں کے درمیان پھیرنے لگا ۔۔۔ وہ تھوڑا سا کسمسائی اور اپنی دونوں رانوں کو تھوڑا اور کھول دیا اور۔۔۔۔ خود اس نے صوفے پر ٹیک لگا لی    اور  اپنے جسم کے  نیچے والا حصہ میرے حوالے  کر دیا۔۔۔۔

 

سب سے  پہلے میں نے اپنی زبان  اس کی چوت  پر رکھی ۔۔ آہ ہ ہ ہ  ہ۔۔۔ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اس کی چوت  سے  ایسی سیکسی مہک آ رہی تھی کہ میں نے اس کی چوت  چاٹنے  کا ارادہ  ترک  کر دیا ۔۔۔ اور عین اس کی چوت پر ناک رکھ کر اس کے آس پاس اور اندر سے آنے والی مہک کو اپنی ناک کے زریعے اپنے سارے جسم میں اتارنے لگا اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی  دو انگلیاں  جولی کی چوت میں بھی ڈال دیں اور بڑے ہی آرام سے اِن آؤٹ کرنے لگا ۔۔۔۔۔ اس کے جسم خاص کر چوت سے ایسی مست مہک آ رہی تھی کہ جس سے میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا ۔۔۔ اور میں مست سے مست تر ہوتا  جا  رہا  تھا۔۔۔پھر میں نے اپنی ناک کو اس کی چوت سے ہٹا کر اپنی زبان منہ سے باہر نکالی اور اس کی چوت کے بالوں پر ہلکے انداز میں مساج کرنے لگا۔۔۔ میری اس حرکت سے جولی کا جسم تھوڑا سا تڑپا ۔۔۔۔ اور وہ مست سسکیاں لینے لگی ۔۔۔ہو ں ں ۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔ سس۔۔۔اس کے بالوں پر زبان  پھیرتے پھیرتے  ۔۔۔ پھر میں نے اپنی زبان اس کی چوت کے پھانکوں کے درمیاں رکھ دی اور جو دو  انگلیاں اس کی چوت میں دیں ہوئی تھیں  وہ  وہاں  سے  ہٹا  لیں اور اس کی چوت کے دونوں لبوں کو ادھر ادھر  کرکے اپنی زبان اس کی گرم ۔۔۔ اور گیلی چوت میں ڈال دی ۔۔اور نیچے سے اوپر تک اس کی چوت کو  چاٹنے  لگا۔۔۔اور وہ مست سی ہو گئی اور ۔۔سو۔۔س۔سس۔۔۔سس۔۔ کرتے ہوئے صوفے سے اٹُھ گئی اور مجھے اپنی چوت پر جھکا دیکھ کر  بڑے پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ گرم گرم سسکیاں بھی لیتی جاتی ۔۔ اس کی چوت کی خوشبو اس کی  مست مہک اور گرم   پانی کی  وجہ سے  میرا  دل  ہی  نہ کر  رہا  تھا کہ میں اس کی  چوت  سے  اپنی زبان  کو  ہٹاؤں ۔۔لیکن نیچے سے میرا لن مجھے بہت تنگ کر رہا تھا اس لیئے  میں نے اس کی چوت سے منہ ہٹایا اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اس دوران جولی کم از کم دو دفعہ تو ضرور چھوٹی ہو گی ۔۔

 جیسے ہی میں کھڑا  ہوا  جولی نے ایک دفعہ پھر سے میرا لن اپنے ہاتھ میں  پکڑا اور  مُٹھ مارنے لگی پھر اس نے مجھے اپنے تھوڑا قریب کیا اور ایک بار پھر میرے ٹوپے کے بارڈر پر اپنی زبان  پھیرنے لگی ۔۔۔ پھر  کچھ  دیر بعد اس نےاپنا منہ میرے  لن سے   ہٹایا اور گھوم کر اپنی پشت میری طرف کر تے ہوئے  وہ صوفے  سے نیچے اتُری اور گھوڑی بن گئی۔۔۔۔ اب میرے سامنے اس کی شاندار گانڈ تھی ۔۔۔جس کے نیچے کی طرف ایک بڑی سی لکیر اس کی پھدی  کا راستہ  بتا  رہی تھی اور گانڈ کے عین اوپر ایک بڑی ہی دل کش اور  براؤ ن رنگ کی  گول سی موری تھی ۔۔  اور  اس موری  کو دیکھ کر میری تو طبعیت مچل اٹُھی اور میں نے جولی سے کہا ۔۔۔ جولی جی اگر اجازت ہو تو میں  آپ کی گانڈ بھی مار لوں ۔۔۔ میری بات سُن کر  وہ بولی۔۔۔۔ لیکن پہلے  اس سے زرا نیچے جاؤ ۔۔۔ اور میں اس کی بات سمجھ کر لن کو اس کی چوت پر رکھا اور ایک  ہلکا  سا  دھکا  لگایا ۔۔۔جولی میم  کی چوت جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ کافی کھلی تھی اس لیئے دھکا مارتے ہی میرا لن بڑے آرام  سے پھسلتا  ہوا اس کی  گیلی پھدی میں اتر گیا ۔۔۔ اور جا کر  جولی میم کی بچہ دانی سے ٹکرایا ۔۔۔۔۔جیسے ہی میرا لن کی نوک نے جولی میم کی بچہ دانی کو ٹھوکر ماری ۔۔۔ جولی کے منہ سے بے اختیار ایک دل کش سی سسکی نکلی  ۔۔آؤچ چ چ چ چ چ ۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد میں نے پہلے آرام آرام سے پھر تیز تیز گھسے  مارنے شروع کر دیئے ۔۔اور  پھر میرا لن جولی میم کی گیلی چوت میں تیزی کے ساتھ ان آؤٹ ہونا شروع ہو گیا ۔۔اس کے ساتھ ہی جولی میم کی سسکیوں نے مجھے اور گرم کر دیا خاص کر میرے لن کی جب بھی  جولی میم کی اووری پر بھی ٹھوکر لگتی  اس کے منہ سے  بے اختیار ۔۔۔۔ ایک دلکش سی آواز نکلتی ۔۔۔۔۔۔۔آؤؤؤؤچ  چ چ چ چ ۔۔۔۔یہ آواز اتنی سیکسی اتنی دلکش اور ۔۔۔۔۔ مست تھی کہ اسے سننے کے لیئے اگلی باری میں  پہلے سے زیادہ زور سے  گھسہ مارتا اور ۔۔۔ وہ بھی ظالم پہلے سے زیادہ دلکش اور مست سیکسی آواز میں ۔۔آؤؤؤؤچ چ چ چ ۔۔۔ کرتی ۔۔۔

 میں کافی دیر تک جولی میم کو پھدی میں اپنالن ان آؤٹ کرتا رہا ۔۔۔ پھر  میرے ایک زور دار گھسے سے  ایک دم جولی میم کا سار ا بدن تھر تھرایا ۔۔۔اور پھر اس کی چوت کی دیواروں سے پانی نکل نکل کر میرے لن سے ہوتا  ہوا ۔۔۔ باہر نکلنے لگا۔۔۔  کچھ دیر تک تو جولی میم  ساکت رہی اور اس کی پھدی مسلسل بند ہو ہو کر میرے لن سے چمٹتی رہی۔۔ پھر جولی میم کے ساتھ ساتھ  اور اس کی چوت  بھی شانت ہو گئی ۔۔ اور اس نے اپنی پھدی سے میرا لن نکالا اور  میرے سامنے قالین پر ڈھیر ہو گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔۔ جولی اور اس کی چوت  تو  شانت  ہو گئی لیکن میرا لن  ابھی تک ویسے  کا  ویسا  اکڑا  کھڑا  تھا ۔۔۔۔ اس لیئے میں کھڑے لن کےساتھ سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور لن  کو ہاتھ میں پکڑ کر  ہلکی ہلکی مُٹھ مارنے لگا ۔۔۔۔۔ ادھر جب جولی میم کے سانس کچھ بحال ہوئے تو وہ قالین سے اٹُھی اور  سامنے بیٹھ کر میرا  نظارہ  دیکھنے لگی تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ میم آپ تو فارغ ہو گئی ہو ۔۔۔میں اس کا کیا کروں ؟ تو  وہ کہنے لگی ۔۔۔فکر  نہ کرو میں  ابھی اس کا کچھ کرتی ہو ں۔۔بس  زرا پانی پی آؤں پھر بولی تم بھی پیو گے؟ اور پھر ننگی ہی باہر نکل گئی اور فریج سے پانی کی بوتل نکال لائی اور مجھے پانی دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ڈونٹ وری   میں ابھی تمھارے اس کھمبے کو نیچے بٹھاتی ہوں ۔۔۔۔  جب میں نے پانی  کا    گلاس پی  لیا تو  وہ  کہنے  لگی۔۔۔۔ 

 

اب تم قالین پر لیٹ جاؤ۔۔۔ تو میں اس کی بات سمجھ کر بولا ۔۔۔ جولی جی کیوں نہ آپ کی چوت کی طرح گانڈ  کو بھی میں ہی  چودوں تو  وہ کہنے لگی۔۔۔ نہ بابا۔۔۔ یہ کام میں خود کروں گی ۔۔ تم تو بڑے  ظالم ہو  اتنی زور سے گھسے مارتے ہو کہ اگلے کی جان ہی نکل جاتی ہے ۔۔۔ پھراس نے مجھے  اشارہ  کیا  اور  میں قالین  پر لیٹ گیا ۔۔۔۔ جولی میم نے پانی کی بوتل ایک طرف رکھی اور میرے اوپر آ کر کھڑی ہو  گئی پھر  وہ تھوڑا نیچے جھکی اور میرے لن کو  چیک  کیا  تو  وہ  پہلے ہی اس کی چوت کے پانی سے کافی  چکنا  تھا ۔۔۔ چاہنچہ اس نے کافی سار ا تھوک لگا کر اپنی گانڈ کی موری کو چکنا کیا اور ۔۔۔ پھر وہ آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگی۔۔۔۔۔۔پھر اس کی موٹی  گانڈ میرے لن کے عین   اوپر آ گئی۔۔۔۔  اب اس نے  اپنی  ٹانگیں تھوڑی اور  کھلی کیں  اور ٹوپے کو اپنی موری پر رکھا اور  پھر آہستہ آہستہ ۔۔۔۔۔ ٹوپے کو اپنی موری کے اندر کرنے لگی ۔۔۔جیسے ہی میرے ٹوپے کی نوک نے   جولی میم کی رِنگ کو چھوا۔۔۔۔ اس کے منہ سے  وہی ۔۔۔دلکش  سی      آواز  برآمد ہوئی۔۔۔۔آ۔۔آ۔۔آ۔ؤؤؤؤ۔۔۔چ چ چ چ چ چ  چ۔ اور    پھر اس  نے آؤچ   کا     چ  کہتے  میری ٹوپے کو اپنی گانڈ میں لے لیا اور دھیرے دھیرے لن  پر بیٹھنے لگی ۔۔۔افُ۔۔۔ اس کی موری اندر سے بڑی ہی گرم اور  کافی چکنی تھی  جس کی وجہ سے لن بڑے آرام سے اس کے اندر چلا گیا تھا ۔۔اور میں  مزے سے بے حال ہو گیا اور جولی میم  ۔۔۔ پھر انہی دلکش آوازوں کے ساتھ ہی وہ میرے لن پر بیٹھتی اٹُھتی گئی۔۔۔۔ 

اس  نے کافی دیر تک میرے لن پر سواری کی ۔۔۔۔ پھر اچانک  مجھے  ایسا  لگا کہ جیسے  میرے  بدن  کا  سارا خون میرے لن کی طرف آ گیا  ہے ۔۔۔ اور پھر میں نے بھی ۔۔تیز سسکیاں اور آہیں  بھرنا شروع کر دیں ۔یہ دیکھ کر جولی میم نے بڑی مہارت سے اپنی گانڈ کے سوراخ

کو میرے لن کے ارد گر تنگ کرنا شروع کر دیا اور اس کی اس سیکسی حرکت سے میرا  سارا   وجود  کانپنے لگا ۔۔ اور میرے سانس لینے کی رفتار میں اضافہ ہو گیا ۔۔۔۔ اور ۔۔اور ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے لن سے گرم گرم  منی کا  فوارا  سا نکلا  اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جولی میم کی گانڈ میں اتر  گیا ۔۔۔۔۔ اپنی گانڈ میں میرے لن کا پانی محسوس کرتے ہی جولی میم مست ہو گئی اور  مجھ پر جھک گئی اور میرا منہ چومنے لگی۔۔۔

کچھ دیر بعد جب ہم دونوں شانت ہو گئے تو  وہ اٹھی اور واش روم میں چلی گئی  اسی دوران میں نے بھی  کپڑے وغیرہ پہن لیئے تھے اور سیٹ فائن ہو کر صوفے پر بیٹھ گیا تھا کچھ دیر کے انتظار کے بعد جب جولی میم واپس آئی تو اس نے ڈھنگ کا لباس پہنا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک شاپر تھا جس میں یقیناً اس کے ناپ والے کپڑے ہوں گے اور وہ میرے ساتھ باہر تک آئی ۔۔۔ دروازے پر پہنچ کر  جب وہ مجھے الوداع کرنے لگی تو  اچانک  میرے زہن میں ایک  خیال آیا او ر میں نے  اس  پوچھا  ۔۔۔ جولی جی وہ اس جوس میں  کیا تھا۔۔ تو وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔ اس جوس میں مردانہ قوت کی گولی تھی  جو میرے خاوند صاحب کھا کر مجھ پرچڑھتے ہیں

۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ  نے  وہ گولی مجھے کیوں دی ۔؟؟۔ تو وہ بڑے معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔ تا کہ تم گرم ہو کر مجھ پر چڑھ دوڑو۔۔۔۔    

ماسی کو  جولی میم کے ناپ والے کپڑے دے کر میں سیدھا گھر گیا اور نہا دھو کر سو گیا ۔۔ شام کو اٹُھ کر میں حسبِ معمول ۔۔۔۔ چھت پر چلا گیا ۔۔۔۔اور جیسے ہی میں چھت پر گیا میری نگاہ  ارمینہ کی چھت پر پڑ گئی  اور میں چونک گیا کیونکہ ۔۔۔۔ کوڈ کے مطابق  اس نے  اپنی  ا یک  چارپائی  کا   منہ ہمارے گھر کی طرف کیا ہوا   تھا اور اس  کھڑی چارپائی پر اس کا سُرخ رنگ  کا سوٹ  لٹکا  ہوا  تھا ۔۔۔۔اس کا مطلب تھا کہ آج رات کو میں نے اس سے ملنا ہے ۔۔۔ ٹائم ہم نے پہلے ہی طے کر رکھا تھا ۔۔چنانچہ میں نے جوابی پیغام کے طور پر اپنی  چارپائی  کو ان کے چھت کے سامنے  ترچھا کھڑا کر دیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ چھت پر پھیرنے والا جھاڑو  کو  اس میں  اڑا   دیا جس کا مطلب یہ  تھا کہ بندہ آج رات آپ کے پاس ضرور آئے گا۔۔

 رات کے ٹھیک دو بجے تھے اور میں اپنی گلی کی نکڑ پر چھپا کھڑا تھا اور مجھے انتظار تھا تو اس  بات کا کہ کب چوکیدار ہماری   گلی کا چکر لگائے ۔۔ تا کہ اس کے بعد میں مطمئن ہو کر اپنی کاروائی کر سکوں ۔۔۔ کچھ دیر انتظار کے بعد ۔۔ مجھے دور سے سیٹی کی آواز سنائی دی۔۔ یہ چوکیدار بھی عجیب مخلوق ہوتی ہے  دور سی سیٹی  بجاتے ہوئے  آتے ہیں کہ اگر کوئی آس پاس ہے بھی تو ادھر ادھر ہو جا ئے   چنانچہ سیٹی کی آواز سُن کر میں بھی ایک اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔اور پھر کچھ ہی دیر بعد  ہامری گلی میں ایک پرانی سی سائیکل پر ہمارے  علاقے  کا چوکیدار  نمودار ہوا ۔۔ گلی  میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک دو  زور  زور کی سیٹیاں  بجائیں    اور  پھر ۔۔۔ اس کی سائیکل ہماری گلی سے باہر  نکل گئی اس کے باوجود بھی میں کچھ دیر اور وہاں کھڑا رہا ۔۔۔ پھر جب  دوبارہ  دوسری گلی سے اس کی سیٹی کی آواز سنائی دی تو میں بے غم ہو گیا اور   دبے  پاؤں چلتا  ہوا ۔۔۔۔ چوہدری اشرف صاحب کے گھر پاس پچھواڑے  پہنچ گیا ۔۔۔ اس وقت میرا دل دھک دھک کررہا تھا ۔۔لیکن ارمینہ سے کیا ہوا وعدہ بھی  پورا کرنا تھا  اس لیئے ڈرتے ڈرتے میں نے ادھر ادھر دیکھا ۔