1434

اُستانی جی قسط 18

 اس کے بعد اس نے مجھے نیچے جانے کو کہا میں سمجھا  وہ پھدی چٹوانا  چاہ  رہی ہے اس لیئے میں نے اس کی شلوار کھول کر  اس کی چوت پر جیسے ہی اپنا منہ رکھنے لگا ۔۔۔تو اس نے منع کر دیا اور بولی ۔۔۔۔میرے اندر ڈالو۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں تھوڑا پیچھے ہوا ۔۔۔اورپھر اس کی شلوار   جس کا نالہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا اس کو اتار کر اس کے پاس رکھا اور پھر اپنی  بھی ساری شلوار اتار کر اس کو  ایک سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔

 پھر میں نے اس کی ٹانگیں اٹُھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور ۔۔۔اپنے ٹوپے کو  اس کی چوت کے   نیچے والے آخری  کونے  پر رکھ کر ایک گھسہ مارا ۔۔۔۔ اور لن ارمینہ  کی تنگ چوت میں  جڑ  تک اتر گیا  ۔۔ادُھر لن اندر جاتے ہی کافی دیر سے چُپ سادھے ارمینہ نے ایک سسکی لی اور بولی ۔۔۔۔۔ مجھے چودتے کیوں نہیں میری جان ۔۔۔ اور پھر اس نے نیچے سے ایک گھسا مارا اور بولی ۔۔۔مجھے چودا   کرو نا ۔۔۔ روا ۔۔۔ مجھے چودا کرو نہ ۔۔۔۔۔اس کی یہ سیکسی باتیں سُن کر مجھے بھی جوش چڑھ گیا اور میں نے اس کی چوت میں زوردار گھسے مارنے شروع کردیئے اور کمرہ ارمینہ کی سسکیوں اور سیکسی باتوں سے گونجنے لگا۔۔۔ وہ مسلسل ۔۔چلا رہی تھی مجھے چودا کرو نا ۔میں دودنا چاہتی ہوں ۔۔مجھے چودتے کیوں نہیں ۔۔ بہن چود مجھے چودتے کیوں نہیں ۔۔ اور اس کی باتیں سن سن کر میں پاگل ہوا جا رہا تھا اور اپنی فلُ طاقت لگا کر اس کی چوت کے سارے کس بل نکال رہا تھا۔۔۔ اور اس کی چوت گرم پانی سے بھری ہوئ تھی ۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ۔۔اس کی تنگ چوت میں گرم پانی کا سیلاب آیا ہوا تھا ۔۔۔ میرے خیال میں اس سیشن کے دوران ارمنیہ کافی دفعہ چھوٹی تھی لیکن فائینلی  وہ۔۔۔ اس وقت شانت ہوئی کہ جب گھسےمارتے مارتے میں نے اپنے آپ کو چھوٹنے کے قریب محسوس کر تے ہوئے فلُ ذور سے گھسے مارتے ہوئے  ارمینہ سے  کہا ۔۔ ارمینہ ۔۔۔میں ۔۔۔۔۔جانے لگا ہو ں ۔۔۔ یہ سُن کر ارمینہ  نے میری کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔چھوٹ جا ۔۔۔ میری جان میری پھدی میں چھوٹ جا ۔۔۔۔۔اور پھر وہ چلائی ۔۔۔اور  پھر اس نے میرے بازو کو بڑی سختی سے پکڑا اور بولی میں بھی ۔۔۔ میں بھی ۔۔اس کے ساتھ ہی اس کی چوت کے سارے ٹشو آٹو میٹک طریقے سے مریے لن کے گرد کسنا شروع ہو گئے اور ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔  اس کی پھدی اور میرے لن نے اکھٹا  ہی   اپنا اپنا پانی  چھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔ اور اس پانی سے اس کی ساری چوت بھر گئی  اور ہم دونوں کا پانی بہہ بہہ کر اس کی چوت کی لیکر سے باہر لیک ہونے لگا ۔۔۔اس کے ساتھ ہی ہم دونوں ایک دوسے کے ساتھ چمٹ گئے ۔۔۔

کچھ دیر بعد اس نے میرے کندھوں کو  تھپ تھپاتے   ہوئے کہا ۔۔۔اٹُھ کر اپناآپ صاف کر لو ۔۔ اس کی بات سُن کر میں اٹُھا اور پھر  پاس پڑی  ہوئی اس کی شلوار سے  ہی اپنا  لن صاف کیا جبکہ   وہ  بھاگ کر واش روم میں چلی گئی ۔۔۔ واپس آئی اور میرے گلے سے لگ کر بولی شکریہ ۔۔۔دوست تم نے مجھے ٹھنڈا کر دیا ۔۔۔ ورنہ میں اپنی گرمی کے ہاتھوں جانے کیا کر دیتی ۔۔۔اور ایک اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ جوڑ دئے اور ۔۔۔ پھر ہم ایک بھر پور کسنگ کرنے لگے۔۔۔ ہم آپس میں بدن سے بدن ملائے منہ سے منہ جوڑے ۔اپنی اپنی ۔۔ آنکھوں کو بند کئے ۔۔۔ ایک بھر پور  کسنگ کے مزے لے رہے تھے کہ ۔۔۔اچانک ایک  غضب ناک آواز نے  ہمیں چونکا دیا ۔۔۔۔۔ ارمینے ۔۔۔۔۔۔اور یہ آواز سُن کر ہمیں  ایسا  لگا کہ جیسے کسی نے ہمارے پیروں کے بیچ  میں بم پھوڑ دیا ہو۔۔۔۔اور یہ آواز اور کسی کی نہیں بلکہ ارمینہ کی امی اور     ماسی کی تھی ۔۔آواز سُن کر ہم نے جلدی سے  اپنی اپنی آنکھیں کھولیں اور  دڑتے ڈرتے سامنے دیکھا   تو ماسی  اپنے دونوں  ہاتھ کولہوں پر رکھے بڑی شعلہ بار نظروں سے ہماری طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ماسی پر نظر پڑتے ہی میرے تو ہوش و حواس گم  ہو گئے اور ساری دنیا مجھے اپنے آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔  ۔۔۔ اس سے قبل کہ ۔۔۔ میں کچھ ۔۔کہتا  ۔۔یا کرتا ۔۔۔۔ ماسی بھوکی شیرنی کی طرح میری طرف بڑھی ۔۔۔ اس کے تیور دیکھ کر ۔۔۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔۔ اور ۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔

ماسی  نے بڑے ہی خونخوار  انداز میں مجھے گریبان سے پکڑا اور دو تین تھپڑ لگا کر بولی ۔۔بہن    چود ۔۔حرامزادے ۔۔کتے  ۔۔۔ میں تم کو اپنا  بیٹا  سمجھتی تھی اور تم۔کیا  نکلے ۔۔۔۔۔۔ غصے کی شدت سے ماسی کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور وہ  ٹھیک  سے  بات بھی نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔  تا ہم   اس  کے  ہاتھ خوب چل  رہے تھے ۔۔اور وہ مجھے تھپڑ مکے اور لاتیں فری  سٹائل میں  مار  رہی تھی ۔ یہ  دیکھ کر ارمینہ   مجھے  بچانے کے لیئے آگے بڑھی ۔ اور بولی  ۔۔ یو منٹ مورے ۔۔۔۔۔ ارمینہ کی آواز  سنتے  ہی  ماسی نے مجھے چھوڑا   اور ارمینہ کی طرف بڑھ گئی  ۔۔۔۔ ماسی کو  اپنی طرف آتا  دیکھ کر ارمینہ  نے مجھے  بھاگنے  کا اشارہ کیا  ۔۔۔۔۔۔کپڑے تو  ہم نے  پہلے سے  ہی پہنے  ہوئے  تھے اس لیئے   ارمینہ کا  اشارہ  پاتے  ہی میں ماسی کے گھر سے  ایسے  بھاگا ۔۔۔ جیسا کہ  ۔۔۔ ایسے موقعوں  پر بھاگنے  کا حق   ہوتا  ہے۔۔۔ مجھے بھاگتے دیکھ کر ماسی رک گئی اور بڑی بڑی  گالیاں دیتے ہوئے  میرے پیچھے بھاگی اور کہنے لگی      ۔۔۔اودرے کا ۔خنزیر  بچہ ۔۔)ٹھہرو(۔۔لیکن  میں نے وہاں ٹھہر کر مرنا  تھا ۔۔۔۔اس لیئے  بھاگتا ہوا گھر آ  گیا ۔۔۔لیکن  پھر خیال  آیا  کہ غصے  کی ماری  ماسی اگر گھر بھی آ گئی  تو  مجھے  دونوں سائیڈوں  سے  مار  پڑے گی ۔۔۔ خاص کر بے بے )امی(   نے تو مار مار کر میری ٹنڈ کر دینی ہے ۔۔۔۔  یہ سوچ کر میں نے  دو تین گلاس  پانی  چڑھایا  اور پھر گھر سے بھی بھاگ گیا اور سیدھا اپنے دوستوں کے پاس پرانے محلے چلا گیا  اور کافی دیر تک وہاں رہا ۔۔ جب رات  کافی  بیت گئی تو میرے بیسٹ فرینڈ نے مجھے اپنے   گھر دفعہ ہونے کو کہا  تو مجبورا ً میں نے اس کو  ساری بات  بتا دی ۔۔سن کر  بڑا  ناراض  ہوا کہ میں نے  ارمینہ کی  چودائی  کی  بات اب تک اس سے کیوں چھپائی ۔۔ تاہم تھوڑی  گالی گلوچ  کے  بعد بولا  اب  بتا  میں کیا کروں؟؟؟؟؟  تو میں نے اس سے کہا کہ یار زرا  میرے محلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر میرے گھر کا چکر لگا کر آئے اور حالات کا  جائزہ لیکر کر مجھے پوزیشن  بتا ۔

میری درخواست پر  اس نے میرے گھر اور  محلے کا چکر لگایا اور بتایا  اور پھر  واپسی پر آ  کر بتلایا  کہ یار  ایسی کوئی بات نہیں جو خاص ہو۔۔۔ اور مجھے کافی تسلیاں دیں ۔۔  دوست کی اوکے رپورٹ کے بعد بھی  میں ڈرتے  ڈرتے  گھر گیا اور سیدھا اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد امی کمرے میں آئیں اور بولیں روٹی نہیں کھاؤ گے ؟ تو میں نے کہا بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔ اور امی کے میٹھے انداز سے سمجھ گیا کہ گھر میں سب کُشن منگل  ہے۔۔۔ چنانچہ.. تھوڑے سے نخرے کے بعد میں   نے امی کے کہنے پر روٹی کھا لی۔۔اور دل  ہی  دل میں سوچنے  لگا کہ  پتہ نہیں  میرے  بعد ارمینہ پر کیا گزری ہو گی۔۔۔

اگلی صبع میں گھر سے  سکول جانے کے لیئے جان بوجھ کر لیٹ نکلا ۔۔۔۔اور پھر سکول کی طرف چل دیا تھوڑا دور ہی گیا  ہوں گا کہ ارصلا کے ساتھ  مجھے  ماسی نظر آ ئی ۔۔۔ جو اسے سکول لے جا رہی تھی میں نے ایک نظر ماسی کو دیکھا اور تھوڑا  پیچھے ہو  کر چلنے  لگا  اسی طرح  کافی دنوں تک  میں  دنوں تک میں ماسی سے  سامنے نہیں آیا اور اگر کہیں ماسی نظر آ بھی  جاتی  تو  میں  اس  سے کنارہ کر  لیتا  تھا ۔۔ لیکن  اس کے ساتھ ساتھ میرے دل میں یہ کُھد بدُ ضرور تھی کہ ۔۔۔میرے بعد ارمینہ پر کیا گزری ہو گی ۔۔۔ اس کے لیئے میں نے کافی جتن کیے اور  چھت پر کھڑے ہو کر دو دو  تین تین گھنٹے  تک کھڑا  ہو کر ارمینہ کا  انتظار بھی کیا لیکن  وہ  مجھے کہیں نظر نہ آئی ۔۔۔۔۔  یہ اس  واقعہ سے ایک  ہفتے  بعد کا  زکر ہے کہ سکول سے واپسی پر  میں اپنے دوستوں سے ملنے  پرُانے محلے جا رہا تھا ) پکڑے جانے کے بعد میرا معمول بن گیا تھا کہ میں اپنے  محلے میں کم سے کم رہتا تھا( کہ میری نگاہ ایک خاتون پر پڑی جس نے  اپنے جسم کو ایک   بڑی  سی چادر  سے  ڈھانپ  رکھا  تھا ۔ اور اس کے ساتھ  ارصلا  کو دیکھ کر میں چونک گیا ۔۔  اتنے ۔میں وہ دونوں  میرے  قریب پہنچ  گئے  ۔۔ مجھے  دیکھتے  ہی  وہ خاتو ن  و  ارصلا رُک گئے  ۔۔میں  نے  بھی  ان کو دیکھ لیا تھا  لیکن  کنی  بچا کر نکل جانا   چاہا  تو  پیچھے  سے ارصلا کی آواز  سنائی  دی ۔۔۔ اب میں نے مُڑ کر دیکھا تو  وہ  چادر  والی خاتون اور کوئی نہیں ارمینہ تھی اور اس کے ساتھ  ارصلا کھڑا تھا ۔۔۔۔ ارمینہ کو دیکھتے  ہی میں بھی رُک گیا اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ان کے پاس پہنچ  گیا ۔۔۔اور ارمینہ کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔۔۔ وہ مجھے بڑی شکایتی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی ارصلا بولا ۔۔۔ بھائی جان ایک بات پوچھوں؟  چونکہ میرے دل میں چور تھا اس لیئے میں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا ۔۔۔ ضرور پوچھو  بھائی ۔۔۔۔ تو  وہ کہنے لگا  کہ امی کہتی ہیں کہ آپ چور ہو ۔۔اور آپ نے ہمارے گھر میں چوری کی ہے کیا یہ بات سچ ہے ؟ تو اس سے قبل کہ میں اس کو کوئی جواب دیتا ارمینہ نے اسے ڈانٹ دیا اورکہنے لگی ۔۔۔  چپ ۔۔۔ بے وقوف ہر وقت انٹ شنٹ بکتے رہتے ہو ۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔ اس کی بات کا برُا نہ ماننا ۔۔۔۔  پھر وہ ارصلا سے مخاطب ہو کر بولی جاؤ دیکھ کر آؤ کہ  زرینہ ماسی گھر پر موجو د بھی کہ نہیں ۔۔۔؟ ایسا نہ ہو کہ ہمیں خواہ مخواہ  کا  پھیرا  پڑجائے  ۔۔۔۔۔۔ارمینہ کی بات سُن کر ارصلا    بھاگ کر  ایک طرف چلا گیا جبکہ ۔۔۔۔ارمنیہ  نے مجھے اشارہ کیا اور ہم     گلی کے موڑ پر کھڑے ہوگئے  وہ گلی بند تھی اسلیئے  وہاں لوگوں کی آمد رفت نہ ہونے کے برابر تھی تھوڑا  موقع ملا تو میں نے ارمینہ سے پوچھاکہ یہ بتاؤ  اس  دن میرے بعد تم  پر کیا گزری اور دوسرا یہ چور کا کیا چکر ہے؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔ کہ پہلی بات کا جواب یہ کہ تمھارے بعد مجھ پر بہت بری گزری ۔۔۔ امی نے  مجھے بہت  مارا ۔۔اتنا  مارا کہ میرا سارا  بدن نیلو نیل  ہو گیا اور میں ہلنے جلنے کے قابل  نہ رہی  ہاں ایک اچھی بات  یہ کی کہ  ابا سے یا کسی اور سے کوئی بات نہ کی کہ اس میں ان ہی کی بدنامی تھی   ۔۔۔ ارمینہ کی بات سُن رک مجھے جہاں اس بات کی

خوشی ہوئی کہ ماسی نے کسی سے بات نہیں  کی۔۔۔وہاں  ارمینہ کی مار پر   بڑا  افسوس بھی   ہوا  اور میں نے اس سے کہا ۔۔۔سوری  مینا ۔۔۔یہ سب  میری  وجہ سے  ہوا  تو وہ کہنے لگی  سارا قصور تمھارا  نہیں ہے  اس میں  زیادہ  قصور  میرا اپنا  ہے اس لیئے تم خود کو موردِ الزام نہ ٹھہراؤ ۔۔۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔  یہ بتاؤ کہ  کیا تم مجھ سے  پیار کرتے  ہو؟  تو میں نے اپنا سینہ پھیلا کر کہا ۔۔۔۔ یقین کرو ارمینہ میں تم سے دل کی گہرائیوں سے پیار کرتا ہوں ۔۔تو  وہ بولی سوچ لو ۔۔ محبت امتحان لیتی ہے  تو پتہ نہیں  میرے من میں کیا آئی کہ میں نے اس سے کہا کہ  تم حکم تو کرو ارمینہ جی۔۔۔ تو  وہ کہنے  لگی ایک بار پھر سوچ  لو  اور اس کے ساتھ یہ بھی  جان  لو کہ اس دفعہ اگر ہم پکڑے گئےتو امی  اپنے  ہاتھوں  سے  ہم  دونوں کو گولی  مار  د  یں گی اور یہ بات  میں  مذاق میں نہیں کر رہی ۔۔۔ ارمینہ کے منھ سے گولی کا سُن کر ایک دفعہ تو میری گانڈ تک   پسینہ آ  گیا لیکن میں  نے اس پر ظاہر نہ ہونے دیا اور اسے  ویسے ہی موج میں آ کر کہہ دیا ۔۔۔ جو محبت کرتے ہیں  نہ ارمینہ  جی وہ گولیوں سے نہیں ڈرتے اور میں نے دیکھا کہ میرے اس ڈائیلاگ سے اس پر خاطر خواہ اثر ہوا۔۔اور اسکا مرجھایا  ہوا  چہرہ  ایک دم کھل  اٹُھا اور وہ بولی ۔۔۔سچ ۔۔۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو نا۔۔۔ تو میں نے ایک دفعہ پھر ڈینگ  مارتے  ہوئےاس سے  کہا  میں بلکل ٹھیک کہہ رہا  ہوں  میری جان ۔جب چاہے آزما  لو ۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرائی  اور  کہنے لگی۔۔ تو  وعدہ کرتے  ہو کہ جب بھی میں تم کو  بلُاؤں  گی تم مجھ سے ملنے ضرور آؤ گے ۔۔۔۔ اس کی  بات سُن کر میری گانڈ ایک  مرتبہ پھر پھٹ گئی اور میری آنکھوں کے سامنے ماسی کا پستول سمیت چہرہ آگیا ۔۔۔۔ لیکن میں چونکہ ارمینہ کو  قول  دے چ کا تھا اس لیئے جان جائے پر   پران  نہ جائے کے مصداق میں نے اس سے کہا ۔۔ ارمینہ  جی  میں ضرور آؤں  گا  لیکن آپ کے گھر نہیں تو  وہ  بولی ۔۔۔ مصیبت  یہ  ہے کہ میں  باہر کسی بھی صورت تم سے نہیں مل سکتی پھر ۔۔۔۔ پتہ نہیں  وہ  مجھے مکھن  لگا رہی تھی یا سچ بول رہی تھی۔۔ مجھے   اس   کا  نہیں علم ۔۔۔ اور   وہ کہہ رہی تھی  کہ ۔۔۔دیکھو شاہ ۔۔۔ جب تک میں  تم سے نہیں ملی تھی  اور تمھارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔وہ والا  کام نہیں کیا  تھا  تو میں اپنے صبر میں تھی لیکن جب سے ۔۔۔ تمھارے ساتھ  وہ  والا تعلق  بنا  ہے تو  اب مجھ سے صبر نہیں  ہوتا  حالانکہ یہ بات تم بھی جانتے ہی کہ    مجھ میں بہت صبر تھا۔۔۔ لیکن پتہ نہیں تم میں  اور خاص کر تمھارے ۔۔۔۔۔۔۔اس میں کیا  جادو  ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اب میں تمھارے۔۔۔اس ۔۔۔ کے     بنا  ہر گز نہیں  رہ سکتی ۔۔۔۔ارمینہ کے منہ سے اپنی اور خاص کر اپنے لن کی تعریف سُن کر میں تو پھول کر کپاُ ہو گیا اور  پھر سوچنے لگا کہ اس جیسی خوصورت لڑکی کے لیئے رسک  لیا جا سکتا ہے  چنانچہ میں نے اس سے کہا کہ ارمینہ جی آپ  جب بھی   بلاؤ  گی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو  جاؤں گا  میری بات سُن کر وہ بڑی خوش  ہوئی اور  کہنے لگی ۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ تم میری خاطر کوئی رسک لو اس لیئے ایسا کرتے ہیں کہ  جب میں تم کو  بلاؤ ں  تم  کسی نہ کسی  طرح  ہمارے چھت پر آ جایا کرو ۔۔اس کہ یہ  بات  مجھے  کچھ مناسب سی   لگی اور  میں نے  ہاں کر دی پھر اس کے بعد ہم نے کچھ کورڈ  وغیرہ طے کئے اور پھر کچھ دیر کے بعد میں جانے لگا  تو جاتے جاتے مجھے  یاد آیا  تو میں نے اس سے کہا کہ ارمینہ جی  یہ چور کا کیا چکر ہے ؟  میری بات سُن کر وہ ہنس پڑی اور کہنے لگی ۔۔۔۔ کچھ خاص نہیں بس ارصلا کو مطمئن کرنے کے لیئے امی نے یہ ڈرامہ کیا تھا ۔۔۔ اور اس کی بات سن کر میں بھی ہنس پڑا اور  وہاں سے اپنے دوستوں کی طرف چلا گیا ۔۔۔ ۔۔۔۔

         پھر راستے میں خیال آیا کہ ارمینہ کو کہہ تو دیا ہے کہ میں اس کے پاس چھت پر آجایا کروں گا لیکن  اس کے چھت پر جاؤں گا کیسے ؟ ۔۔۔ کیونکہ ارمینہ لوگوں  کا  گھر ہمارے گھر کے  سامنے  والی  گلی میں  تھا  اپنی گلی  والی سائیڈ میں ہوتا  تو  کوئی  پراوہ  نہ تھی ۔۔۔  یہ سوچ کر میں راستے سے  ہی   واپس  ہو گیا  اور پھر ارمینہ والی  گلی کا  سروے کرنے لگا ۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ ارمینہ والی  گلی کے سارے ہی گھروں کی چھتیں آپس میں ملی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ اور  میں اس خیال سے ارمینہ کے گھر کے ساتھ ملے ہوئے گھروں کا  جائزہ  لینے  لگا  کہ  بوقتِ ضرورت کس گھر کی چھت پر  چڑھ کے  ارمینہ کی چھت پر پہنچا جا سکتا ہے کچھ دیر کی تگ و دو کے بعد آخر کار   مجھے  وہ گھر مل ہی گیا ۔۔۔ یہ چوہدری اشرف صاحب  کا گھر تھا  جس کی عقبی  سائیڈ پر  گٹر  اور پانی کا  پائپ  ساتھ ساتھ لگا  ہوا تھا ۔۔۔ گٹر والا پائپ  غالباً  ان  کے چھت کے واش  روم  کا  تھا اور پانی  والا پائپ ان کی پانی والی ٹینکی سے آ رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر تک  جائزہ لینے کے بعد میں نے چوہدری اشرف صاحب کے گھر کو فائنل کر لیا  وہ  ا س لیئے بھی کہ چوہدری صاحب کے بال بچے  نہ تھی اور وہ  دونوں میاں بیوی بے اولاد تھے ۔۔۔ اور ویسے بھی  وہ لوگ جلدی سونے کے عادی تھی ۔۔۔ اس لیئے اگر چڑھتے  وقت تھوڑا  بہت  شور ہو بھی جائے  تو ان  کے اٹُھنے  کی کوئی  امید  نہ تھی ۔۔۔ ان سے آگے  مرزا صاحب کا  مکان تھا ۔۔۔ان کے گھر میں  میاں بیوی اور دو تین چھوٹے چھوٹے بچے تھے ۔۔۔۔ پھر اس سےآگے شیخ صاحب کا  گھر تھا ۔۔۔شیخ صاحب کے ہاں نفری تھوڑی  زیادہ تھی   اس میں شیخ صاحب  ان  کی پہلی  بیوی اور۔۔۔۔۔ دوسری    بیوی کے ساتھ  ساتھ  ان  کی ایک  بیٹی  اور بیٹا بھی  رہتے  تھے ۔۔۔ بیٹا تو شیخ صاحب کے ساتھ کام پر جاتا تھا اور بہت کم محلے میں نظر آتا تھا جبکہ ان کی بیٹی کو میں نے ایک دو  دفعہ ہی  دیکھا تھا ۔وہ شکل سے تو  کافی شریف اور اپنے کام سے کام  رکھنے  والی لڑکی   لگتی تھی ۔ گویا  ہر طرف ۔۔۔ راوی چین ہی چین  لکھتا تھا ۔۔۔

  یہ تو تھی ارمینہ کی صورتِ حال ۔۔۔۔۔اب میں آپ کو ندا میم  کی بات سناتا  ہوں اگلے  دو تین  دن کے بعد جب  میں ندا میم کے گھر گیا تو  وہ  بڑے تپاک سے ملیں   انہوں نے  مجھے گلے سے لگا کر ایک بھر پور کس دی اور کہنے لگیں ۔۔۔۔ کیا یاد کرو گے میں نے تمھارا کام کر دیا ہے اور پھر  انہوں نے مجھے  وہیں ٹھہرنے کو  کہا اور خود اندر چلی گئیں      اور جب  وہ  واپس آئیں تو  ان کے  ہاتھ  میں میرا  استانی  جی ناول تھا ۔۔۔۔۔مجھے ہاتھ میں  پکڑاتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔۔ افُ کس قدر گرم  اور غضب کا  ناول  ہے یہ۔۔۔۔ تو  میں نے ان سے پوچھا میڈم آہپ نے اسے  پڑھا ہے تو وہ کہنے  لگیں ۔۔۔۔ ہاں ایک دفعہ  نہیں بلکہ  تین دفعہ پڑھا  ہے ۔۔۔۔ پھر انہوں  نے کہا کہ یار اس مصنف  )وحی وہانوی (  کا  کوئی  اور ناول ہو تو وہ  ضرور لیتے آنا ۔۔۔پھر انہوں نے مجھے نئے ناول کے ساتھ ساتھ  استانی جی والے ناول کا دوبارہ کرایہ دیا ۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میڈم آپ اس  ناول کا  کرایہ  پہلے  ہی مجھے دے چکیں   تو  وہ کہنے لگیں کوئی بات نہیں ۔۔۔ اور پھر مجھے جانے کے لیئے کہا اور میں  نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے میڈم زیبا سے میرے بارے میں بات کر لی تھی تو کہنے لگیں  ہاں تمھارا یہ   کام تو میں نے جب  زیبا  گاؤں میں  تھی تب ہی کر دیا تھا ۔۔۔۔ پھر وہ   مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں کہ  ہر چند کہ میں نے تمھاری   اجازت  تو لے  لی ہے  ۔۔۔۔لیکن پھر بھی تم ایک دو دن صبر کر لو تو بہتر ہو گا ۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے ان کو آنکھ مارتے ہوئے کہا ،۔۔۔۔میڈم یہ تو بتائیں کہ مجھے اور کن کن چیزوں  میں مزید صبر کرنا پڑے گا اور پھر بھوکی نظروں سے ان کے مموں کی .. طرف دیکھنا لگا ۔۔۔۔  وہ میری بات سمجھ گئیں اور بولیں تم کو تو بس ہر وقت میرے بریسٹ ہی چوسنے ہوتے ہیں اور پھر انہوں نے مجھے ٹھہرنے کا اشارہ  کیا اور خود گلی میں جھانک کر ایک نظر باہر کی طرف دیکھا اور  پھر کنڈی لگا کر واپس آگئیں اور میرے پاس آ کر  بولی اندر آ جاؤ۔۔۔اور میں ان کے پیچھے پیچھے اندرچلا گیا ۔۔۔

اندر جا کر انہوں نے مجھے اپنے  گلے سے لگا  لیا اور  بولیں ایک تو  تم ہمیشہ ہی    غلط  ٹائم پر آتے ہو تو میں نے ان سے کہا کہ میڈم آپ  نے خود  مجھے اس  ٹائم آنے کو کہا تھا تو  وہ   کہنے لگیں  ہاں  مانتی  ہو ں کہ میں نے کہا تھا لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ اس ٹائم  گھر میں مہمانوں نے آنا ہے ۔۔۔ اور پھر اس نے اپنا  منہ میرے آگے کیا اور میرے ہونٹوں سے ہونٹ ملا لیئے ۔۔۔ اور پھر ندا  میڈم میرے ہونٹ چوسنے لگیں ۔۔۔ اور مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میڈم کے نرم ہونٹ میرے ہونٹوں  کے ساتھ ہمیشہ کے لیئے  پیوست ہو گئے ہیں تاہم  ان کی کسنگ  کا یہ  دورانیہ  بہت مختصر رہا ۔۔۔ پھر انہوں نے میرے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹا کر بڑی ہی گرسنہ نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں  ۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ تم اور تمھارا  یہ شاندار ۔۔۔۔۔) لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے( ۔۔۔۔ مجھ سےکیسے  اتنے  بچتے  جا  رہے  ہو ۔۔۔۔ پھر وہ اپنی قمیض اوپر کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ لیکن آخر کب تک؟ ایک  نہ  ایک  دن  تو  بکرے کی ماں ۔۔۔۔۔ چھری تلے آئے گی ۔۔۔اتنی دیر میں انہوں نے اپنی قمیض اور برا کو چھاتیوں  سے  ہٹا کر اس کو ننگا کر دیا تھا ۔۔۔۔ اور اب میرے سامنے ان کی ننگی  چھاتیاں  ان کے سینے پر  تنی ہوئیں نظر آ رہی تھیں ۔۔۔ اور ان حسین چھاتیوں  کے اکڑے ہوئے  براؤن  سے نپل ان کے  بھاری مموں پر عجیب سی بہار دکھا رہے تھے  ۔۔۔ پھر انہوں نے مجھے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ آجاؤ  میرے راجہ۔۔۔ اور  میری  بھاری چھاتیوں کا گرم دودھ       پی  لو۔۔ ان کی بات سُن کر میں آگے بڑھا اور ان کی ایک چھاتی پر اپنا منہ لگا کر ان کا اکڑا ہوا نپل     ہونٹوں میں ے لیا اور ان کا  دودھ چوسنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔ ان کے براؤن شیپ اکڑے ہوئے موٹے موٹے نپل میرے ہونٹوں کے بیچ آ کر مجھے مزے کی دینا سے ہمکنار کر رہے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر تک اپنی چھاتیاں چسوانے کے بعد انہوں نے بمشکل میرا منہ اپنے مموں سے ہٹایا اور بولی ۔۔اب بس بھی کرو ۔۔۔ اور پھر جیسے ہی میں نے ان کی چھاتیوں سے اپنا منہ ہٹایا ۔۔انہوں نے اپنی قمیض نیچے کر لی ۔۔۔ اور میرے ساتھ ساتھ چل پڑیں اور دروازے سے نکلتے ہوئے ایک دفعہ پھر انہوں نے مجھے پکی تاکید کی کہ میں وحی وہانوی  کا ناول ضرور  لیتا آؤں ۔۔چنانچہ  پیسے  اور ناول ہاتھ میں پکڑے میں ربے کے پاس چلا گیا  کہ جس نےوالد صاحب کی وفا ت کے بعد آج  ہی دکان کھولی تھی ۔۔  اسے دیکھتے  ہی میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا ربا  جی آپ کے والد صاحب کی وفات کا بڑا افسوس ہو اہے  تو وہ قدرے غصے سے کہنے لگا ۔۔۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے بتا  ۔۔ناول لایا ہے تو اس کی بات سُن کر میں نے بڑی فرمانبرداری سے اپنی  شلوار کی ڈب سے استانی جی ناول نکالا اور ربے کے حوالے کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر اسے خوش آمدانہ لہجے میں کہا کہ۔۔ وہ ربا جی اسے واپس کرنے کے لیئے میں نے آپ کی دکان پر کافی پھیرے مارے تھے ۔۔۔ لیکن ہر دفعہ آپ کی دکان بند ملتی تھی ۔۔۔ پھر بڑی ہی غم ذدہ سی شکل بنا کر اس سے بولا ۔۔۔ ربا جی آپ کے والد صاحب کو کیا ہوا تھا ۔۔۔ تو وہ اسی تلخی سے بولا تمھارا سر ہوا تھا ۔۔ ناول تم نے جمع کروا دیاہے اور کچھ چیز لینی  ہے تو مزید  پیسے نکال ورنہ یہاں  سے چلتا پھرتا نظر آ ۔۔۔۔ بڑا آیا میرا  ہمدرد ۔۔۔ربے کا روکھا  سا جواب سُن کر میں نے دل ہی  دل میں  اسے دوسو گالیاں دیں ۔۔۔لیکن بظاہر مسکراتے ہوئے کاو ۔۔ربا جی وہ اسی مصنف کی کوئی اور ناول ہے ؟ تو ربا سرہلاتا ہوا  بولا ۔۔۔ بلکل ہے اورپھر وہ دراز سے ایک ناول نکال کر مجھے دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا یاد کرو گے یہ لو ۔۔۔ یہ وحی وہانوی صاحب کا سب سے بیسٹ ناول ہے میں نے بڑی بے صبری سے اس کے  ہاتھ سے  وحی وھانوی ناول پکڑا ۔۔اور اس کا ٹائٹل  دیکھا تو  وہاں  ہیرؤین    لکھا تھا   چنانچہ میں نے ربے کے ہاتھ  سے  وہ ناول  پکڑا اور سیدھا میڈم کے گھر پہنچ گیا۔۔۔ اور ان کے گھر کی دستک دی تو جواب میں میڈم خود نکلی اور پھر میرے ہاتھ سے ناول لیتے ہوئے  بولی ۔۔۔ابھی جاؤ ۔۔۔۔ کل آنا کہ مہمان آ گئے ہیں ۔۔۔ میڈ م کی بات سُن کر میں منہ لٹکائے گھر واپس آگیا ۔۔۔۔       اگلے دن جمعہ تھا اور  ہمیں سکول سے چھٹی تھی )اس زمانے میں جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی( اس لیئے امی نے   صبع صبع  ہی  وہ  آرڈر جاری کردیا  جو  وہ  ہر جمعہ کی  صبع کیا کرتی تھیں ۔۔۔اور  وہ  یہ کہ خبردار تم  نے کہیں نہیں جانا ۔اس کی وجہ تھی کہ ۔۔ ہم لوگوں نے جمعہ بازار سے ہفتے بھر کی شاپنگ کرنی ہوتی تھی  ۔۔اور میں بطور قلی کے ان کے ساتھ  جایا کرتا تھا ۔۔ چنانچہ جمعہ کے بعد ہم لوگ ہاتھ میں تھیلے وغیرہ پکڑے  گھر سے نکل کر  جمعہ بازار کی طرف چل پڑے ۔ ) جو کہ کمیٹی چوک کے ساتھ اور  کہکشاں سینما کے سامنے لگتا تھا ( ابھی ہم جمعہ  بازار  میں  داخل  ہی  ہوئے  تھے کہ  وہاں پر ہمیں   امی  کی ایک گہری سہیلی  بختو خالہ  نظر  آ گئی  جسے دیکھ کر میرا  تو  سارا  مُو ڈ  ہی خراب  ہو گیا ۔۔  وجہ اس کی یہ تھی  کہ  اس  سے پہلے  تو مجھے صرف اپنے  ہی گھر کی خریداری  کے لیئےلیا  گیا  سامان اٹُھا نا  تھا  جبکہ اب اس محترمہ کا بھی  سامان  اٹُھانا  پڑنا  تھا ۔۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا اس سے بھاگا بھی نہ جاتا تھا ۔اس لیئے خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔۔  بختو  خالہ نے جیسے ہی امی کو دیکھا   تو  وہ ان کے ساتھ لپٹ ہی  گئی اور پھر  کچھ دیر کی گپ شپ کے بعد  دونوں نے طے کیا کہ وہ اکھٹے ہی چیزیں  خریدیں گی کہ اس طرح دکاندار اشیاء کو مزید سستا  کر دے گا ۔۔۔ یہ طے کر کے دونوں خواتین  نے خریداری شروع کر دی  اور آہستہ آہستہ میرے ہاتھوں میں سامان سے بھرے شاپروں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔۔۔۔

پھر ایک وقت  وہ بھی آیا کہ میرے ہاتھوں میں شاپر اور کندھے پر آلو پیاز سے بھرے توڑے رکھے ہوئے تھے اور میں اپنی قسمت کو ستا ۔۔۔۔اور دل ہی دل میں بختو خالہ کو گالیاں دیتا  ہوا   ان  کے پیچھے پیچھے جا  رہا ۔۔۔  کہ اچانک میں نے ایک جانی پہچانی سی آواز سُنی  جو کہ  بختو خالہ کا حال احوال دریافت کر رہی تھی ۔۔۔۔  اور جیسے ہی  میرے کانوں میں یہ آواز گونجی ۔۔ میں نے دل میں سوچا کہ یہ آواز تو  میری  سُنی  ہوئی  ہے اور میں نے اک زرا سر اٹُھا کر دیکھا تو۔۔۔۔وہ ۔۔وہ ۔۔۔ جوزفین عرف جولی کی آواز تھی  جس کے گھر میں نے مرینہ کو  چودا  تھا ۔۔۔۔ جو اب میری امی کے ساتھ  رسمی حال چال پوچھ رہی تھی ۔۔ اسے دیکھتے ہی   میں نے جلدی سے اپنا  سر مزید  نیچے کر لیا  اور ان  سے  تھوڑا  ہٹ کر کھڑا ہو  کر ان کی گفتگو سننے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔ جولی ۔۔بختو خالہ سے کہہ رہی تھی کہ دیکھ لو خالہ اتنے دن ہو گئے ہیں اور آپ نے  ابھی تک میرا سوٹ سی کر نہیں دیا ۔۔۔اس پر بختو خالہ جو کہ گھر میں سلائی کڑھائی کا کام بھی کرتیں تھیں کہنے لو  کر لو بات ۔۔۔ بیٹا  میں آپ کا سوٹ کیسے سیتی ۔۔۔ جبکہ  آپ نے ابھی تک اپنے  ناپ  کا سوٹ تو  مجھے  دیا  ہی نہیں  ہے ۔۔۔