1781

اُستانی جی قسط 16

اور  ان سے  اپنی ٹانگیں مزید کھلی کرنے کو کہا اور اس کے ساتھ ہی  ان کی شلوار بھی  اتار دی ۔۔۔ اور پھر جب میری نظر ان کی پھدی پر پڑی تو اس سے پانی بہہ بہہ کر ان کی ٹانگوں تک آ رہا تھا ۔۔۔ چنانچہ میں نے اپنی زبان نکالی اور ان کی چوت سے نکلنے والا سارا رس چاٹ گئی۔   میری زبان نے جب ان کی پھدی کو اچھی طرح سے چاٹ کر صاف کر دیا تو میں نے ان سے کہا کہ ۔۔۔ ہاں باجی اب ان کا  لینے  کا کب ارادہ  ہے  ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔دیکھو ۔۔۔ میں تو بڑی  اتاؤلی   ہو رہی تھی لیکن  اس نے مجھ سے ایک  دو  دن  مانگ لیئے  ہیں ۔۔۔ اس کےبعد ہم  سیکس  کریں گے ۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کہاں پر سیکس رو گے تو وہ کہنے لگی تم  بتاؤکہاں کرنا ہے؟؟؟؟  تو میں نے کہا یہاں اپنے کمرےمیں کر لیں نا  ۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کرکہنے لگی ۔وہ کیوں ؟ تو میں نےکہا  کہ وہ اس لیئے کہ  میں آپ کا لائیو  شو دیکھنا چاہتی ہو ں ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ فکر مندی سے کہنے لگیں اتنی مشکل سے وہ راضی ہو ا ہے ۔۔تمھارا کیا خیال  ہے تمھارے سامنے سیکس کرنے پر  وہ  راضی ہو جائے  گا ۔۔؟ تو میں نے ان کو جواب دیا ۔۔ تو میں نے ان کو جواب دیا کہ کون کم بخت کہہ رہا ہے کہ آپ ان سے اس بات کی اجازت لیں ۔۔۔ تو وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی  ۔۔ کھل کر بتاؤ کہ تم کیا چاہتی ہو ۔۔۔ تو میں نے ان سےکہا کہ جیسے دلاور ۔۔۔ کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ میں گھر ۔۔۔ میرا اتنا ہی کہنا تھا کہ  باجی نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور بولی ۔۔۔۔ بس بس ۔۔۔۔ میں سمجھ گئی ۔۔۔ اور  پھر بولی ۔۔۔ اور تم کھڑکی کے راستے  براہِ راست یہ فلم دیکھنا چاہتی ہو ؟   تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔ تو وہ بولی ۔۔   آئیڈیا  تو   برُا  نہیں  یار ۔۔۔۔پھر کہنے لگی  ۔۔ او کےمیں کوشش کروں گی ۔۔۔ اور پھر شلوار پہن کے اپنے کمرے میں چلی گئی اور میں ۔۔۔ یہ سوچ سوچ کر پاگل ہونے لگی کہ میں  زندگی میں پہلی دفعہ ایک بہن کو اپنے سگے بھائی سے چدواتے ہوئے دیکھوں گی ۔۔۔اس کا لن چوستے ہوئے دیکھوں گی ۔۔۔ اس سوچ کا آنا تھا کہ نیچے سے میری چوت نے دھڑا دھڑ ۔۔پانی چھوڑنا  شروع کر دیا ۔۔۔ اور میں نے نیچے ہاتھ لگا کر دیکھا تو ۔۔۔ میری شلوار ۔۔۔چوت کے  ساتھ چپکی  ہوئی تھی  اور۔۔۔ اس سے پانی  رِس رِس کر باہر نکل رہا تھا  ۔۔۔

 

یہ اس سے اگلے د ن کی بات ہے آج پھر باجی خان جی کے ساتھ رضیہ کو ملنے چلی گئی تھی اور میں گھر کے کام کاج کر رہی تھی کہ   دروازے پر دستک   ہوئی  اور میں س اسی دستک کا انتظار کر رہی تھی  کیونکہ یہ کاشف کے آنے کا  ٹائم  تھا  اور آج میرا خیال تھا کہ اس کے ساتھ کچھ موج مستی کی جائے  چنانچہ میں نے سارا  کام چھوڑا اور باہر بھاگی گئی ۔۔۔ اور بڑے اچھے مُوڈ میں دروازہ کھولا تو ۔۔۔۔  یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ سامنے کاشف  نہیں بلکہ  ہاتھ میں  چاٹ لیئے لالہ کھڑا تھا . 

 

یوں لالہ کو اپنے سامنے دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گئی ۔۔۔ اور اس سے قبل کہ میں کچھ کہتی ۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔ حیران  ہی  ہوتی رہو گی یا  مجھے اندر آنے کا راستہ بھی دو گی ؟  اس کی بات سُن کر میں شرمندہ  سی ہو گئی اور انہیں اندر آنے کا راستہ دے کر بولی ۔۔۔ آ۔۔آ ؤ نا ۔۔۔اور وہ اندر آ گیا  اور دروازہ بند کر کے میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور بولا۔۔۔ مرینہ ۔۔۔ میں تم سے ایک  بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں ۔۔ تو میں نے کہا کہئے؟ تو  وہ کہنے  لگا ۔۔  مرینہ وہ تم  نے جو  میرے  ساتھ تعلق رکھنے کی شرط رکھی تھی ۔۔ وہ   میں نے پوریکر دی ہے ۔۔۔  یہ بات تو کل  باجی نے مجھے بتا دی تھی لیکن میں ان کے منہ سے سننا چاہتی تھی اس لیئے بولی ۔۔۔ کون سی شرط  ؟ اور کب پوری کی آپ نے ؟  میری بات سُن کر وہ گھبرا گئے اور ۔۔اٹک اٹک کر بولے ۔۔۔۔ وہ جو تم نے کہا تھا کہ ۔۔۔ صنوبر باجی سے ۔۔۔۔ تو میں نے ان کو تنگ کرنے کے لیئے کہا کہ جی صنوبر باجی کے ساتھ  کیا ۔۔۔؟  میری بات سُن کر اُ ن کا  چہرہ سُرخ ہو گیا اور ۔۔۔ وہ ۔۔۔ میری طرف دیکھ کر اپنے ہونٹ چباتے ہوئے بولے ۔۔۔ وہ ۔۔۔صنوبر باجی کے ساتھ سیکس والی بات ۔۔۔ان کی منہ سے صنوبر باجی کے ساتھ سیکس کا سُن کر مین ویسے ہی گرم ہو گئی اور بولی ۔۔۔  تو کیا  آپ نے صنوبر  باجی کے ساتھ سیکس کر بھی لیا ؟ تو وہ کہنے لگے ۔۔نہ نہ نہیں ۔۔۔مرینہ ۔۔۔ لیکن اب کر لیں گے ۔۔۔ اور میں تم سے یہی کہنے آیا تھا ۔ تو مین نے کہا کہاں پر ہو گا آپ لوگوں کا ملن ؟ ۔۔۔ تو وہ بولے ۔۔۔ میرے پاس ایک  پرائیویٹ جگہ ہے میرا  ارادہ ہے کہ ان کو وہاں لے جاؤں  ۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے  ان کو آنکھیں نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔ جی نہیں شرط کے مطابق آپ نے ان کو میرے سامنے ۔۔۔ تو  وہ  کہنے لگے یہی  وہ بات ہے ۔۔ جو میں تم  سے  طے کرنے آیا  تھا ۔۔۔ تو  میں نے کہا جی کریں طے تو  وہ کہنے لگے  میں کہہ رہا تھا کہ میں ۔۔۔ مجھ پر بھروسہ رکھو  یار ۔۔ لیکن میں نے  صاف انکار کر دیا اور ان سے بولی ۔۔۔  جی نہیں جناب آپ نے یہ سب کچھ میرے سامنے کرنا ہے ۔۔۔ تو وہ بولے پر کیسے ؟ اور وہی بات کہی جو کل مجھ سے  صنوبر باجی نے بھی کہی تھی یعنی کہ ۔۔ کیا ۔۔۔ صنوبر اس بت پر راضی  ہو جائے گی؟ اب میں ان کو کیا بتاتی کہ صنوبر باجی تو ۔۔۔ راضی تھی لیکن ۔۔۔ بتا نہ سکی ۔۔۔ اور بس اتنا کہا کہ ۔۔۔ان کو بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔۔۔ اور پھر ان کے پوچھنے پر میں نے وہ سارا پروگرام ان کو بتا دیا جو میں اور صنوبر بجی پہلے ہی طے کر چکیں تھیں ۔۔ لیکن ظاہر ہے یہ بات ان کو بتا ئی نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔

 

جب میں ان کو سارا پورگرام بتا اور سمجھا چکی ۔۔ تو  بولے ٹھیک ہے میری جان جیسے تم کہو گی بندہ  ویسے ہی کرے گا ۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے ٹھیک ہے اب آپ جائیں ۔۔۔ میں نے یہ کہا اور وہاں سے جانے کے لیئے قدم بڑھا دیا ۔۔ انہوں نے مجھے جاتے دیکھ کر میری کلائی پکڑی اور بولے ۔۔۔ ایک منٹ مرینہ ۔۔۔ اور مجھے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔ ان کے  یوں کھینچنے سے میں الُٹے پاؤں ان کے پاس آ گئی اور نہوں نے میری بیک کو اپنے فرنٹ کے ساتھ  چپکا  لیا ۔۔ اچھا  تو مجھے بھی بہت  لگا  لیکن  میں  جعلی نخرہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ چھوڑیں  نا ۔۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ تو  وہ  مجھے مزید اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں کر رہا میری جان بس ۔۔۔ جاتے جاتے ایک چمہ   تو  دیتی  جاؤ ۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں نے اپنی گردن ان کی طرف گھو مائی اور بولی ۔۔۔ چمہ کس لیئے  جی ؟  ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ انہوں نے اپنے جلتے ہوئے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیئے ۔۔۔ اور میرے ہونٹ چوسنے لگے ۔۔۔ آہ ۔۔۔مزہ سے میں بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔ لیکن میں نے پھر جعلی نخرہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ افُ ۔۔ایک تو آپ کو ہر وقت  ۔۔یہی پڑی رہتی ہے ۔۔اب جاؤ بھی ۔۔تو وہ بڑے رومنیٹک لہجے  میں بولے ۔۔۔جاتے  ہیں جاتے پر ایک اچھی سی کس تو لے لیں آپ کی مرینہ جی ۔۔۔ اور پھر انہوں  نے دوبارہ سے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور ۔۔۔ اس دفعہ ۔۔۔۔ اپنی زبان کو میرے منہ میں  داخل کرنے کی کوشش کی ۔۔ لیکن میں نے  بڑی سختی سے اپنے  دانتوں کو آپس میں ملا دیا ۔۔ اور ان کی زبان کو اپنے منہ کے اندر نہ جانے دیا لیکن وہ بھی ہمت نہ ہارے اور اپنی زبان سے  مسلسل اپنی  ۔میرے ہونٹوں کو ٹھوکر مارتے رہے ۔۔ کچھ دیر تک ان کو تنگ کرنے کے بعد میں نے تھوڑا سا منہ کھولا اور انہوں  نے تیزی سے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی ۔۔۔ اور میری زبان کو تلاش کرنے لگے ۔۔ یہاں بھی کچھ دیر تک میں نے اپنی زبان اس سے چھپائے رکھی اور پھر ۔۔۔۔ ان کا شوق دیکھ کر  ۔۔ میں نے اپنی زبان کو ان کی زبان کے حوالے کر دیا ۔۔۔ جیسے ہی ان کی زبان میری زبان سے ٹکرائی ۔۔۔تو اس کے ساتھ ہی میرے  وجود سے ایک چنگاری سی نکلی ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ مجھ پر شہوت  نے حملہ کر دیا ۔۔۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے بڑی گرم جوشی سے ان کی زبان  کے گرد اپنی زبان کو لپیٹ لیا ۔۔۔ اور بھر پور طریقے سے ان کی کس کا جواب دینے لگی ۔۔۔۔ ہماری زبانوں کے بوسے نے ہم دونوں میں ایک آگ سی بھر دی ۔۔۔ اور پھر مجھے اپنی بیک پر ان کے لن کی فیلنگ  ہونے لگیں ۔۔۔ جو  آہستہ آہستہ  اکڑ کر میری ہپس میں گھسنے کی کوشش کرنرہا تھا ۔۔۔اور ان کا سخت پتھر لن ۔۔ اپنی گانڈ کے چھید میں محسوس  کرتے ہی ۔۔ میری پھدی نہ صرف  تندور بن گئی  بلکہ ایڈوانس  میں پانی بھی چھوڑنے لگی ۔

 

اتنی زیادہ جزباتی کسنگ کے بعد  ہم دونوں الگ ہوئے اور ۔۔۔ آمنے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگے مجھے ان کی آنکھوں میں شہوت کے ساتھ ساتھ محبت  کا ایک دریا بھی بہتا ہوا نظر آ رہا تھا  کیونکہ وہ قربان ہو جانے والی  نظروں سے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔ کچھ دیر کے بعد میں نے ان سے کہا ۔۔۔ لالہ جی کسنگ ہو گئی ۔۔اب آپ جاؤ ۔۔۔۔ میری بات سُن کر وہ ہنس پڑے ۔۔۔ ابھی تو صرف کسنگ ہوئی ہے میری جان ۔۔باقی کا  سارا کام تو ابھی باقی ہے ۔۔۔۔ تو میں نے بڑے لاڈ سے ان کو آنکھیں نکالتے ہوئے کہا

۔۔۔ دیکھیں آپ نے صرف کسنگ کی بات کی تھی ۔۔۔ تو وہ بولے چلو  ۔۔۔وہ بھی بات کر لیتے ہیں

۔۔۔ اور پھر انہوں نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔ اور پھر  میرے مموں پر ہاتھ مار  کر بولے

۔۔۔مرینے ۔۔۔ تمھارا  دودھ پی لوں؟ تو میں نے اٹھلاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔مجھے کوئی دودھ نہیں آتا جناب ۔۔۔تو وہ بولے تم بس اجازت دے دو ۔۔۔۔ نکال میں خود لوں گا ۔۔ اور پھر  میرے جواب کو انتظار کیئے بغیر انہوں نے میری قمیض کو اوپر کیا اور ۔۔۔ میرا ایک مما ننگا کر دیا ۔۔۔۔۔ اور اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے ۔۔۔ مرینے ۔۔۔ تمھارے نپلز بڑے اکڑے ہوئے  ہیں اور ۔۔۔پھر انہوں  نے سر  جھکایا اور میرے نپلز کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔۔ اور ان کو چوسنے لگے ۔۔افُ ف فف ف فف ۔۔۔ نپل چوسنے کا انداز اس ظالم اک اتنا سیکسی تھا کہ میں ۔۔نیچے سے پانی پانی ہو گئی ۔۔۔اور آہیں بھرنے لگیں ۔۔ انہوں نے ایک لمحے کے لیئے میری ممے سے منہ ہٹایا اور بولے ۔۔۔۔ کیا ہوا مرینہ ۔۔۔ تو میں نے ان کو سر سے پکڑ کر  کہا ۔۔۔ تمھارا  سر ہوا  ہے   اور  ان کے منہ میں اپنے نپل ڈال دیا۔۔۔۔ 

         

ایک کے بعد ایک نپلز چوسنے کے  دوران انہوں نے اپنی ایک نگلی میری چوت پر رکھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور  پھر ایک دم ۔۔۔۔وہاں سے  ہٹا لی اور میری طرف دیکھ کر بولے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھارے نیچے تو سیلاب آیا ہوا ہے تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔۔۔۔ یہ سیلاب بھی تو آپ ہی لایا ہوا ہے ۔۔۔  میری بات سُن کر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا اور بولے کیا سارا کام یہاں ہی کرنا ہے ؟  اور پھر انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور ہمارے کمرے کی طرف چلنے لگے تو میں نے ان سے کہا کہاں لے جا رہے ہو ؟ تو وہ کہنے لگے ۔۔۔تمھارے کمرے میں  لے جا رہا ہوں ۔۔ جہاں جا کر میں تم سے خوب پیار کروں گا ۔۔۔۔تو میں نے ان سے کہا نہیں میرے کمرے میں نہیں ۔۔۔ تو وہ حیران ہو کر کہنے لگے  تو پھر کہاں ؟ ان کی بات سُن رک میں نے ان کو بازو سے پکڑا اور صنوبر باجی کے کمرے  کی طرف لے جاتے ہوئے بولی ۔۔۔ یہ جگہ بہت محفوظ ہے ۔۔۔  

کمرے میں پہچتےا ہی ۔۔۔۔ انہوں نے مجھے  اپنے بازؤں میں اٹُھا لیا اور ۔۔۔۔پھر بستر پر جا کر گرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر خود میرے اوپر گر گئے اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگے۔۔ ان کا طاقتور لن میری دونوں  رانوں کے بیچ  میں گھسا ہوا تھا اور ۔۔ان کے لن کا  موٹا سا ہیڈ میری گیلی  چوت کے لبوں پر دستک دے رہا تھا ۔۔  میرے ہونٹوں کو چوسنے کے کچھ دیر بعد وہ نیچے آئے ۔۔۔ اور پھر انہوں نے اپنے    کھردرے ہاتھوں میں  میرے دونوں ممے پکڑ لیئے اور  اسے ہلکا  ہلکا  دبانے لگے ۔۔۔ان کے ممے دبانے سے میری تو جان ہی نکل گئی اور میں  تڑپنے لگی ۔۔۔۔ اور میرے منہ سے ویسے ہی سیکسی آوازیں نکلنے لگیں جن کو سُن کر وہ مزید  جوش میں آ گئے ۔۔۔ اور اب انہوں نے میرے ممے چھوڑ دیئے اور میری شلوار کا آزار بند کھولنے لگے ۔۔۔۔ اور ۔۔ آزار بند  کھولنے  کے بعد انہوں نے  میری طرف دیکھا اور میں نے بنا کوئی بات کیئے  اپنے  ہپس اوپر کو اٹُھا دیئے اور انہوں نے میری شلوار اتار کر سائیڈ پر پھینک دی ۔۔۔ اور  میری پرُ گوشت  رانوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔۔۔۔۔۔ان کے یوں ہاتھ پھیرنے سے مجھے اتنی لزت ملی  کہ ۔۔۔ جس سے میرے سارے  وجود میں بارُود   سا بھرنے لگا ۔۔۔ اور میرے اندر سیکس کی طلب شدید سے شدید تر ہو گئی ۔۔لیکن میں منہ سے کچھ نہ بولی اور ان کے  کھردرے ہاتھوں کو اپنی نرم رانوں پر پھیرتے ہوئے دیکھنے لگی  ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ مزید نیچے جھکے اور میری چوت کو بڑے غور سے دیکھنے لگے ۔۔۔اور  اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی ایک موٹی سی انگلی  کو میری تنگ چوت میں ڈال دیا اور اسے گھماتے ہوئے بولے ۔۔۔ مرینہ ۔۔۔ تمھاری چوت بہت تنگ ہے ۔۔۔ اور پھر وہ مزید نیچے جھکے اور ۔۔۔اور ۔۔ میری چوت پر اپنی زبان رکھ دی ۔۔۔ اور بڑے سکون کے ساتھ میری چوت کو چاٹنے لگے  ۔۔۔۔   چوت کے جس جس حصے پر ان کی زبان پھیرتی ۔۔۔وہاں سے مجھے ایسا لگتا  گویا ۔۔۔ کسی نے آگ بھر دی ہو ۔۔اور میں ان کی زبان کے نیچے اچھلنے لگتی  لیکن انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا اور مری چوت کو چاٹتے رہے ۔۔ جس سے میں مزے کی آخری حد تک پہنچ گئی ۔۔۔ اور میری چوت  نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔  میری چوت سے ڈھیر سار ا پانی نکلتے ہوئے دیکھ کر ۔۔۔وہ ایک دم رُک گئے اور بڑے پیار سے بولے ۔۔ مرینہ ۔۔ تم  نے ابھی سے چھوٹنا شروع کر دیا ہے جبکہ ابھی تو پیار کے بہت سے مراحل باقی ہیں ۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا لالے ۔۔۔ تم میرے چھوٹنے کی فکر نہ کرو۔۔  میری چوت کو چاٹنا  جاری رکھو۔۔۔ میری بات سں کر انہوں نے دوبارہ سے میری چوت پر اپنی زبان رکھی اور  اپنی درمیانی انگلی کو میری چوت میں داخل کرتے ہوئے کہنے لگے ۔۔۔  یقین کرو مرینے  میں نے بہت کم چوتیں چاٹی ہوں گی ۔۔ اور ان میں مجھے لزت بھی ملی ہے لیکن جان      ۔۔۔جو لزت تمھاری چوت چاٹ کے مل ہے  یقین کرو ۔۔۔ کسی اور میں اتنی لزت نہیں  ملی ان کی بات سُن کر ظاہر میں بہت خوش ہوئی اور ان کا سر  پکڑ کر اپنی چوت پر دبا دیا ۔۔ اب انہوں نے میری چوت کا  دانہ  اپنے ہونٹوں میں لیا اور اسے چوسنے لگے ۔۔۔افُ۔ف۔ف۔ف۔ اتنا مزہ مجھے زندگی میں کسی اور سے نہیں ملا تھا کہ جتنا مزہ ۔۔۔۔ لالہ دے رہا تھا ۔۔۔ خیر  انہون نے کافی دیر تک میری چوت چاٹی اور اس دوران میں کوئی تین چار دفعہ ڈسچارج ہوئی ۔۔۔ پھر وہ اٹُھے بولے چل اب تیری باری اور بستر پر لیٹ گئے ۔۔۔

    ان کی بات سُن کر میں اٹھی اور ان کے اوپر آ گئی اور ان کے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے نیچے کی طرف آنے لگی ۔۔۔۔پھرمیں نےان کی چھاتی کے   چھوٹے چھوٹے   نپل چاٹے ۔۔۔  میری زبان کا لمس پا  کر وہ تھوڑے سے کسمائے ۔۔۔  اور میں اپنی زبان کو  نپل سے لیکر اور نیچے  آ گئی اور  پھر آہستہ آہستہ ۔۔۔ ان کی ٹانگوں کی طرف آنے گی ۔۔۔۔  نیچے ۔۔۔اور نیچے ۔۔۔۔ اور پھر میری زبان۔۔۔۔ ان کے ۔۔۔۔ اکڑے ہوئے لن کی طرف آ گئی ۔۔ لیکن میں نے ان کے لن کو کچھ نہ کہا اور ان کی  بھاری  بھاری  تھائیز  پر اپنی  زبان پھیرنے لگی ۔۔۔ساتھ ساتھ ۔۔۔ان کے بالز کو بھی پکڑ کو ان پر مساج کرنے لگی  ۔۔۔۔میرے اس عمل سے وہ  تڑپنے لگے ۔۔۔۔ اور پھر ان کی ہمت جواب دے گئی اور بولے ۔۔۔۔۔۔ مرینے میرے لن کی طرف بھی آ۔۔۔۔ نہ  ۔۔۔۔۔تو میں نے ان سےکہا ۔۔۔دھیرج رکھیں جناب کہ ابھی   اس کی باری نہیں آئی  ہے ۔۔۔اور ا ن کی رانوں پر زبان پھیرتی رہی ۔۔۔۔۔۔ آخرِ کاران  کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔۔۔وہ اپنے بستر سے اٹُھے اور  پھر  انہوں  نے مجھے بالوں سے پکڑا          اور اپنے لن پر میرا منہ رکھتے ہوئے بولے ۔۔۔مرینہ ۔ اس کا کچھ کر ۔۔۔ اور پھر میں نے ان کے کھمبے کی طرح  کھڑے ۔۔۔اور ۔۔ اکڑے ہوئے  لن کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور ۔۔۔ اسے آگے پیچھے کرنے لگی ۔۔۔ مجھے اپنا لن پکڑ کر اس سے کھیلتے ہوئے دیکھ کر وہ تھوڑے مطمئن ہوئے اور دوبارہ بستر پر لیٹ گئے اور مجھے لن چوستے ہوئے د یکھنے لگے ۔۔۔ ا ب میں نے ایک نظر ان کے موٹے اور بڑے سے لن  کو دیکھا اور پھر اپنی زبان  نکال کر ان کے ٹوپے پر پھیرنے لگی ۔۔۔ اور پھر اپنی زبان کو وہاں سے نیچے لاتے ہوئے ان کے سارے لن کو چاٹنے لگی ۔۔۔۔  مجھے معلوم تھا کہ ابھی  وہ میری زبان کی تاثیر سے جل بن مچھلی کی طرح تڑپنے لگیں گے ۔۔۔ اور پھر ایسا ہی ہوا ۔۔  جیسے جیسے میں اپنی زبان کو ان کے موٹے لن کے ارد گرد پھیرتی ۔۔۔ پہلے تو وہ گہرے گہرے سانس لینے لگے پھر ۔۔آہستہ آہستہ ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں نکلنے لگیں ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔افُف۔۔ف۔ف۔ف۔ ۔۔ام م م۔۔  ادھر میں نے ان کا لن اپنے منہ میں لیا اور اسے چوسنے لگی ۔۔۔ ان کے لن سے کافی تعداد میں نمکین سا پانی نکل رہا تھا جسے میں ساتھ ساتھ  چاٹتی گئی اور ان کے لن کو چوسنا جاری رکھا ۔۔۔۔ ان کے لن کو منہ میں لیئے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی ۔۔ کہ لالے کی ہمت جواب دے گئی اور اچانک ہی وہ بستر سے اٹُھا اور مجھے نیچے لیٹنے کو کہا تو میں نے ان سے بولی ۔۔۔ ابھی تھوڑا اور چوسنے دو نا۔۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔۔ جی تو میرا بھی چاہتا ہے  کہ تم میرے لن کو مزید چوسو ۔۔۔  لیکن۔۔۔۔ بس تم لیٹ جاؤ ۔۔۔ان کے کہنے پر میں بستر پر لیٹ گئی اور وہ میرے اوپر آ گئے ۔۔۔ اور  پھر وہ میری ٹانگوں کے بیچ آ گئے اور میری دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھا اور ۔۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے لن  کے ہیڈ پر تھوڑا سا تھوک لگا کر اسے گیلا کیا اور پھر

۔۔۔۔پھر اس ہیڈ کو میری چوت پر رکھ کر بڑے ہی جزباتی انداز میں بولے ۔۔۔ مرینے ۔۔۔ میں تمھاری مارنے لگا ہوں ۔۔۔ تو نیچے سے میں نے ان کو کہا ۔۔۔۔ مار ۔۔ نا میری جان۔منع کس نے کیا ہے ۔۔اور پھر اس سے بھی سیکسی انداز میں بولی ۔۔۔ ۔۔ میری چوت کو مار ۔۔۔۔ نہ ۔۔۔میری بات سُن کر انہوں نے  اپنا لن جو کہ  پہلے سے  ہی میری چوت کے لبوں پر ایڈجسٹ کیا ہوا تھا ۔۔۔ ایک دھکہ مارا ۔۔۔۔ اور ان کا لن پھسلتا ہو ا میر تنگ چوت میں چلا گیا۔۔۔۔  جیسے ہی ان کا لن میری چوت میں گیا ۔۔۔

 مزے کی ایک تیز ۔۔لہر اٹُھی ۔۔۔۔ اور میری  گیلی چوت کی دیواروں سے  پانی نکل نکل کر اسے مزید گیلا کرنے لگا ۔۔۔آہ۔۔۔ان کے طاقتور   دھکوں نے میرا   انگ انگ  ہلا کر رکھ دیا ۔۔۔ اور میں ان کے دھکے کھاتے ہوئے۔۔۔۔ ان سے ایسا کرنے کےلیئے مزید کی رٹ لگانی لگی ۔۔۔۔ مجھے اتنا مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ ہکہ مجھے ہوش ہی نہ تھی کہ میں ان سے کیا کہہ رہی ہوں ۔۔۔ میں ان سے بول رہی تھی کہ ۔۔۔۔ جان ن ن ن ن ن ن۔۔۔سس۔۔۔س۔سس۔۔س۔۔ اور  ذور سے دھکے مار ۔۔۔۔ میری چوت پھاڑ دے ۔۔۔ مار مار ۔۔۔۔ اور  وہ میری لزت بھری باتیں سن سن کر مزید مشتعل  ہو جاتا اور خوب جم کر میری چودائی کر تا۔۔۔ اس طرح انہوں  کافی سارے سٹائلز  بنا کر میری چوت کو خوب مارا ۔۔۔۔لیکن  مجھے سب سے ذیادہ مزہ ۔۔۔ ڈوگی سٹائل میں چودوانے پر آیا ۔۔۔ اور یہ سب سے آخری پوز تھا جو انہوں نے مجھ سے بنوایا ۔۔۔  ان کے کہنے پر جیسے ہی میں ڈوگی سٹائل میں  ہوئی انہوں نے  پیچھے  آکر میری چوت میں اپنا بڑا سا اور مضبوط لن ڈالا اور پھر ۔۔۔۔ طاقتور گھسوں سے میری چوت کو بار بار چھوٹنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔  اس طرح مرے میں  نہ صرف میری بلکہ ان کی بھی لزت آمیز سسکیاں گونجتی رہیں ۔۔۔ اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جب میں نے محسوس کر لیا کہ  ۔۔۔لالہ اب جانے والا ہے ۔۔۔۔ اور عین اسی لمحے لالہ نے ۔۔ مجھے بتایا ۔۔۔۔ مررررینہ    نہ نہ نہ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔ جانے والا ہو ں۔۔۔ اور ان کی یہ لزت آمیز بات سُن کر  یکایک میری  چوت کی  دیواروں نے  ان کے لن کے گرد گھیرا  ڈال  دیا  اور پھر میری چوت کے سارے ٹشو ز نے ان کو لن کو بڑی سختی سے پکڑ لیا ۔۔۔اور ۔وہ آخری آخری     گھسے مرنے لگے ۔۔۔۔۔۔اور ۔۔ پھر اس کے بعد انہوں نے ایک لمبی سے ۔۔۔۔اوہ ۔۔ کی   اور  واضع طور پر میں نے ان کے لن کا  شاور  اپنی چوت میں گرتا ہوا محسوس کیا ۔۔ جہاں جہاں ۔۔۔ان کی منی گرتی ۔۔ مجھے ایسا لگتا کہ جیسے کسی نے  میری جلتی ہوئی  چوت پر ۔۔۔۔ ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہوا۔۔۔ اور میں اور میری چوت۔۔۔ شانت ہوتی گئیں ۔۔۔مزے سے میری آنکھیں بند ہو گئیں ۔۔۔ اور میں مزے کے سمندر میں ڈوب گئی ۔۔۔۔۔۔

           اسی رات کا زکر ہے کہ کھانے کے بعد  میں اور باجی گندے برتن  سمیٹ کر جب کچن میں پہنچیں تو ۔۔۔ باجی نے مجھ سے کہا کہ ۔۔۔تیار ہو جاؤ مرینہ۔۔۔۔ کل تم سیکس کی دنیا کے دو مشہور لوگوں کی چودائی لائیو دیکھنے والی ہو ۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں بڑی خوش ہوئی اور بولی ۔۔۔۔۔۔ تو آخر ۔۔۔ آپ لالے کا ۔۔۔ لینے میں کامیاب ہو گئیں ۔۔۔ تو وہ مسکرا کر کہنے لگیں ۔۔۔ ہاں ۔کل ۔میں اس علاقے کے سب سے زیادہ سیکسی مرد۔۔۔اور اپنے سگے بھائی  کے  نیچے لیٹنے  والی  ہوں ۔۔ اور میں نے ان سے کہا اپنا  وعدہ یاد ہے نا   باجی ؟ تو وہ کہنی لگی ۔۔۔ کیسے بھول سکتی ہوں جانی ۔۔۔ جو بھی ہو گا سب تیرے سامنے ہو گا۔۔۔ باجی کی باتیں سن کر  جوش سے میرا رنگ لال ہو گیا ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں میں باجی سے لپٹ گئی اور پھر ہم دونوں نے  جلدی سے ایک کس بھی کر لی ۔۔۔۔۔ اب مجھے بے صبری سے اگلے دن کا انتظار تھا ۔۔۔۔ 

اگلی صبع جیسے ہی خان جی کام پر گئے ۔۔باجی نے مجھے اشارہ کیا اور میں اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔ لالہ غالباً  خان جی کے جانے کا انتظار ہی کر رہا تھا ۔۔۔ کیونکہ خان جی  کی گاڑی ابھی مین روڈ پر بھی نہیں پہنچی ہو گی کہ میں نے اپنی کھڑکی سے باجی کو باہر کی طرف  بھاگتے ہوئے ۔۔۔ دیکھا ۔۔۔ اور میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔ اور یہ سوچ سوچ کر  نیچے  سے میری پھدی گیلی ہونے لگی کہ ۔۔۔۔ ابھی میں ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔ اور میں نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھا اور اس کے لبوں کو مسلنے لگی ۔۔۔ نظریں میری بدستور کھڑکی سے باہر کی طرف لگیں ہوئیں تھیں ۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد میں نے لالے کو باجی کے کمرے کی طرف جاتے دیکھا ۔۔۔ وہ  دونوں  باہنوں  میں باہیں  ڈالے بڑے آرام اور اطمیان باجی کے کمرے کی طرف ایسے جا  رہے تھے کہ جیسے  وہ  لوگ کسی  باغ  میں واک پر آئے ہوں ۔۔۔ ادھر میری دلی خواہش تھی کہ وہ  لوگ جلدی سے کمرے میں پہنچیں تا کہ میں ان کو لائیو پروگرام دیکھ سکوں ۔۔۔ وہ لوگ عین باجی کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور  صنوبر باجی نے نہ جانے ایسی کیا بات کی کہ لالہ ۔۔۔ ایک دم رُک گیا اور پھر اس نے باجی کے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔ اور  کچھ دیر ہی دیر میں دنوں نے اپنے منہ ایک دوسرے کے ساتھ لاک کر لیئے ۔۔۔ 

اور پھر وہ ایسے ہی منہ سے منہ جوڑے وہ کمرے میں داخل ہو گئے ۔۔ ان کے اندر داخل ہوتے ہی میں بھی ان کا نظارہ کرنے کے لیئے ۔۔۔ اپنے کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔ اور پھر  ۔۔۔ یہ سوچ کر رک گئی کہ  ابھی  تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔  اس لیئے جب معاملہ زیادہ  گرم ہو جائے تو پھر جایا جائے  ۔۔۔ چنانچہ  دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد میں دبے پاؤں  باجی کے کمرے کی کھڑکی کی طرف جانے لگی ۔۔۔ ویسے تو ان دونوں کو ہی پتہ تھا کہ میں کھڑکی میں  بنفس ِ نفیس  ان کی ساری  کاروائی  کو  ملاحظہ کروں گی لیکن ۔۔۔ پھر بھی  یہ   ڈرامہ ضروری  تھا کیونکہ میں نے ایسی گیم ڈالی تھی کہ  دونوں کو بس یہ پتہ تھا کہ صرف وہی یہ جانتا ہے کہ میں انہیں سیکس کرتے ہوئے  دیکھ رہی ہوں  جبکہ  دوسرا  اس بات سے بے خبر ہے  ۔۔۔ اس لیئے احتیاط ضروری تھی . دبے پاؤں چلتے ہوئے جب میں کھڑکی کے پاس پہنچی ۔۔تو  حسب پروگرام  کھڑکی کے  ایک کونے کا پردہ سرکا ہوا تھا ۔جہاں سے مجھے اندر کا نظارہ بڑا صاف اور واضع نظر آ رہا تھا  اور  میں نے دیکھا کہ باجی اور لالے  دونوں  کے کپڑے اترے ہوئے تھے ۔۔۔  لالہ بستر پر دراز لیٹا ہوا تھااور کی دونوں ٹانگیں کھلی ہوئین تھیں  ۔۔۔ جبکہ باجی ننگی ہو کر  لالے کے پاس بیٹھی تھی اس کے  ایک ہاتھ میں لالے کا لن تھا جسے وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہولے ہولے  اس کی مُٹھ  مار  رہی تھی ۔۔ اور اس کے  ساتھ ہی  وہ  لالے کے ساتھ  بڑی ہنس ہنس کر  باتیں بھی کر رہی تھی ۔۔میں نے بڑی کوشش کی کہ ان کی باتیں سُن سکوں لیکن کھڑکی کا دروازہ  بند ہونے کی  وجہ سے میں اس میں   کامیاب  نہ ہوسکی  ۔۔۔۔پھر میں نے دیکھا کہ باجی  لالے کے لن پر جھکی اور اس کے بڑے سے ہیڈ پر تھوک لگایا ۔۔۔۔ اور پھر اس تھوک کو اس کے سارے لن پر مل کر اسے چکنا کر دیا اور اب بڑی آسانی سے باجی کا ہاتھ لالے کے لن کے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔ باجی کچھ دیر تک ایسا کرتی رہی پھر۔۔ لالے نے کچھ کہا  اور اپنی ٹانگیں مزید کھول دیں ۔۔۔ اور میں سمجھ گئی کہ اب باجی لالے کی ٹانگوں کے بیچ آئے گی اور اس کا لن چوسے گی ۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ میری  بات  سچ ثابت ہوئی ۔۔۔ باجی نے لالے کے لن سے اپنا  ہاتھ  ہٹایا  اور اٹُھ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔ اور پھر اس نے ایک قدم بڑھایا اور لالے کی دونوں  ٹانگوں کے بچ  کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی پھدی کو کھول کر لالے کو اس کے درشن کرایئے اور پھر ہنستے ہوئے نیچے  بیٹھ  گئی ۔۔۔ اور اپنا منہ عین لالے کے لن کے ہیڈ کے پاس لے گئی اور ۔۔۔۔ اپنے دونوں ہونٹ  جوڑ کر اس نے ہیڈ پر بڑا سا تھوک کا گولہ پھینکا اور ۔۔۔ پھر اپنی زبان سے  لالے کے لن پر لگے تھوک کو چاٹنے لگی ۔۔۔ میر ی طرح  باجی نے بھی پہلے لالے کا ہیڈ اور پھر سارا لن چاٹنا شروع کیا ۔۔باجی لالے کا لن اتنی  مستی سے چوس رہی تھی  کہ میری پھدی میں بھی آگ لگنا  شروع  ہو گئی اور ان کو لن چوستے  دیکھ کر بے اختیار  میرا  ہاتھ  اپنی  پھدی کی طرف چلا گیا اور  میں اسے اپنی مُٹھی میں لیکر مسلنے لگی ۔۔ ادھر  باجی نے اب لالے کے ہیڈ کو اپنے منہ میں لے لیا تھا اور اس پر اپنے نرم ہونٹ لگاتے ہوئے اس کو چوس رہی تھی  اور میں نے دیکھا کہ باجی کا ایک ہاتھ لالے کے بالز پر بھی تھا۔۔ اور وہ  مزے لے لے کر اس کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔۔۔  کچھ دیر تک لن چوسنے کے بعد وہ اوپر اٹُھی اور گھٹنوں کے بل  چلتی ہوئی اپنی پھدی کو لالے کے منہ سے جوڑ دی ۔۔۔۔افُ۔۔ف۔ف۔ف۔۔ف یہ دیکھ کر کہ لالہ  اپنی زبان باجی کی چوت میں ڈال رہا ہے میری چوت  خود بخود اوپن کلوز ہونے لگی ۔۔۔کچھ دیر تک ایسا کرنے کے بعد ۔۔۔  باجی نے لالے کہ منہ سے اپنی پھدی ہٹائی اور ۔۔۔الُٹی ہو گئی۔۔۔ اور میں سمجھ گئی کہ وہ لوگ 99 کرنے والے ہیں ۔۔۔ افُ ف ف ۔۔۔۔ اب بیک وقت لالے باجی کی  چوت چاٹ رہا تھا اور باجی کے منہ میں لالے کا لن تھا دونوں بڑی ہی گرمی سے ایک دوسرے کے پرائیویٹ اعضا ء  کو چوس رہے تھے ۔۔۔        

کافی دیر تک وہ ایک دوسرے کو چاٹتے رہے پھر وہ الگ ہو گئے اور لالہ کھڑا ہو گیا

۔۔۔اور روشنی میں میں نے دیکھا کہ لالے کا چہرہ باجی کی منی سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ میری  طرح  باجی بھی کافی دفعہ چھوٹی تھی ۔۔۔۔  پھر میں نے دیکھا کہ بجائے باجی لیٹنے کے وہ گھوڑی بن گئی اور مین دیکھا کہ بجائے لالہ  باجی کے  پیچھا جا کر اس کی چوت میں اپنا لن ڈالتا ۔۔۔۔۔ وہ آگے باجی کے منہ کی طرف آیا اور ۔۔۔ اپنا لن باجی کے منہ کے پاس لے گیا ۔۔۔۔ اور باجی نے تیزی سے اپنا منہ کھولا اور ۔۔۔لالے کا آدھا لن اپنے منہ میں  لے لیا اور اسے چوسنے لگی ۔۔۔  پھر جلد ہی باجی نے لالے کا لن اپنے منہ سے نکا لا اور اس پر تھوک پھینکا اور ۔۔۔لالہ اس کا تھوک اپنے لن پر ملتا ہوا ۔۔باجی کے پیچھے آ گیا ۔۔۔۔ اور پھر  اس نے اپنے  لن  کے ہیڈ کو باجی کی چوت پر رکھا اور ایک ٹھوکر ماری ۔۔۔۔اور ۔۔لن پھسلتا ہوا ۔۔ باجی کی چوت میں چلا گیا ۔۔۔۔۔اور وہ دھکے مارنے لگا ۔۔۔ پہلے آرام آرام سے ۔۔ پھر تیز۔۔۔اور تیز ۔۔۔۔۔ میں ان  کے چودائی سین کو  ہوش و حواس سے  اس قدر بے گانہ ہو  کر دیکھ رہی  تھی کہ  مجھے آس پاس کا بھی ہوش نہ رہا تھا ۔۔ اور ہوش تب آیا ۔۔۔۔۔ جب ۔۔۔ پیچھے سے کسی نے  مجھے آواز دیکر  بلایا ۔۔۔۔ پہلے  تو میں اسے اپنا  وہم سمجھی ۔۔۔۔ لیکن جب  وہی آواز بار بار  میرے کانوں میں گونجی تو میں چونک اٹُھی ۔۔۔کوئی مجھ سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ کیا   دیکھ رہی ہو  مرینے ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔ اور میں نے مُڑ کر دیکھا ۔۔۔ تو  دیکھا کہ عین۔۔۔۔ میرے۔۔ پیچھے خان جی کھڑے مجھے گھور رہے  تھے۔۔۔۔مجھے اپنی طرف متوجہ  دیکھ کر  اس دفعہ وہ اشارے سے بولے ۔۔۔ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟ ان کو دیکھ کر میری تو سیٹی گم  ہو گئی ۔چہرے  کا رنگ  اڑُ گیا  ۔ اور میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا ۔کیونکہ کہ میرے  وہم  و گمان میں بھی  نہ تھا کہ وہ اس وقت بھی گھر آ سکتے  ہیں ۔۔ اور ان کو دیکھ کر میری  حالت ایسی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔ کہ جیسے کاٹو تو لہو نہیں ۔۔۔۔ اور میں تیزی کے ساتھ سوچنے لگی اب میں کیا کروں ۔۔۔ اندر باجی کی دھواں دھار چودائی جاری تھی ۔لالہ ان کی چوت میں دھکے پہ دھکا مار رہا تھا ۔ان کی ۔  کھڑکی بھی بند تھی ۔۔۔ کہ میں اونچی آواز میں باتیں کرتی  ۔۔ کہ جے سُن کر  وہ دونوں سنبھل جاتے ۔ یا چھُپ جاتے لیکن ایسا کچھ نہ تھا ۔۔۔ کچھ بھی نہ تھا ۔۔۔ میرا دماغ   ماؤف  ہو رہا  تھا ۔۔۔ ۔۔ ہاتھ پاؤں شل ہو رہے تھے ۔۔۔ ڈر کے مارے  میرے ہونٹ خشک ہو چکے تھے اور  ان پر پیڑیاں سی بن گئی تھیں۔۔۔اور مجھے اس مشکل سے نکلنے کا  کوئی حل نظر نہ آ رہا تھا ۔۔اور میں سوچ رہی تھی کہ ۔۔ کیا کروں ۔۔ کس طرح ۔۔ ان لوگوں  کو     بچاؤں ۔ کیا کروں یہی سوچ سوچ کر میں پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔ کہ اچانک ۔۔ خان  جی بولے ۔۔ذرا  میں بھی  تو  دیکھو ں کہ ۔ تم کھڑکی سے لگی  اندر کیا  دیکھ  تھی ؟ اور پھر وہ اپنے قدم بڑھاتے ہوئے کھڑکی کی طرف آنے لگے ۔۔۔اور ۔۔۔۔اور

۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟ ؟  ادھر  خان جی  کھڑکی کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔ ادھر ڈر کے مارے میرا  حال بہت  ہی   برُا  ہو رہا  تھا ۔۔۔۔۔۔۔میں شور  مچانا  چاہتی تھی  تا کہ   وہ  لوگ ہوشیار ہو جائیں اور کچھ کر لیں ۔۔ ۔۔لیکن میری آواز  میرے  حلق  میں  ہی کہیں پھنس کر  رہ گئی تھی ۔۔اور ۔ویسے بھی  اب  شور  مچانے  کا کوئی  فائدہ بھی  نہ تھا کہ ۔۔ شیشے والی کھڑکی سے اندر کا نظارہ تو کیا جا سکتا تھا مگر ۔۔۔ باہر سے کسی آواز کا اندر جانا  بہت  مشکل تھا   اور اگر  فرض کریں    آواز  اندر جاتی بھی ۔۔۔ تو  جس حساب سے  وہ  لوگ لگے  ہوئے تھے  انہوں نے کسی بھی   آواز  پر  دھیان  نہیں  دینا  تھا ۔۔۔۔ یہ سوچ کر  میں نے  ان کو  حالات  کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور سوچنے لگی کہ موجودہ  صورتِ حال میں  مجھے کیا کرنا  چاہیئے ؟؟۔۔۔۔ اور پھر  ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں ۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس  صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا ہے۔۔۔ اسی دوران  خان جی کھڑکی کے پاس پہنچ چکے تھے ۔۔۔اندر کا  نظارہ ان کے لیئے کسی طور بھی خوش کن نہ تھا ۔۔ اس لیئے کہ اندر ان کا  سگا  چھوٹا  بھائی ان کی سگی چھوٹی بہن  کو چود رہا تھا ۔۔۔۔۔ انہوں نے بس  چند ہی سیکنڈ اندر کا نظارہ  دیکھا پھر مزید دیکھنے کا ان میں  یارا نہیں رہا ۔۔۔ اور وہ سر پکڑ کر نیچے بیٹھ گئے ۔۔۔ یقینا انہیں  بہت گہرا  صدمہ پہنچا تھا ۔۔۔اب میں آگے بڑھی اور ان کو سہارا  دیکر  اوپر اٹُھایا ۔۔۔۔ رنج ۔حیرت ۔ غم اور صدمے کی وجہ سے  ان کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور  وہ  رو رہے تھے ۔۔۔۔میں نے ان کو رسمی سی تسلی دی اور پھر ان   کو سہارا  دیکر ۔۔۔۔۔اپنے کمرے کی طرف چلنے لگی ۔۔۔سارا  راستہ  وہ  یہی  بات بڑُبڑاتے رہے   ۔۔۔ کہ مجھے اسی بات  کا ڈر تھا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مزید بھی کچھ کہتے رہے لیکن وہ  بات میری سمجھ میں نہ آ رہی تھی  ۔۔ ۔۔۔۔۔کمرے میں آ کر میں نے ان کو بستر پر لٹا  دیا  اور  پاس بیٹھ کر ان کی دل جوئی کرنے لگی ۔۔۔ پھر میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے اٹُھی کہ میں آ پ

کے لیئے  پانی لیکر آتی ہوں ۔۔ اور بہانے سے باہر گئی اور اپنے کمرے  کے  سامنے  لگا  ہوا     پردہ       نیچے گرا  دیا  ۔۔۔۔ یہ بھی  ہمارا کوڈ  تھا ۔۔کہ گھر میں کوئی  اور بھی ہے ۔۔۔ اس لیئے  محتاط ہو جاؤ۔۔۔

         پانی پلانے  کے بعد میں ان کا سر دبانے لگی ۔۔۔۔ اور ان سے بات چیت کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ میری کسی بھی بات کا کوئی  واضع جواب  نہ دے  رہے تھے    میرا خیال  ہے  گہرے صدمے کی وجہ سے وہ  ایسا  کر رہے تھے  ۔۔۔اور میں سوچ رہی تھی کہ  جب انہوں نے کھڑکی سے صنوبر باجی  کا  شو  دیکھا  تھا  تو  اگر وہ  اسی  وقت اپنا ردِعمل شو کر دیتے  تو  یہ  ردِعمل ان کے لیئے  بہت  اچھا  ہونا  تھا کہ  اس وقت کی چیخ  و پکار سے ان کا  اندر کا سارا  غبار نکل  جاتا ۔لیکن  سارا  غصہ اپنے اندر ہی  دبا کر انہوں نے اچھا نہیں کیا تھا  کیونکہ یہ بات  خان جی اوران کی  صحت دونوں  کے لیئے  خطرناک  ہو سکتا  تھا  ۔۔۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔۔ ۔۔۔۔  کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے جانے کے لیئے کہا ۔۔۔ لیکن میں نے انکار کر دیا ۔۔۔اور ڈھیٹ بن کے بیٹھی رہی اور ان کا سر دباتی رہی ۔۔۔۔ اس وقت ان کا  چہرہ لال بھبھوکا  ہو رہا  تھا  اور ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اپنی مُٹھیاں بھینچ  بھینچ کر اپنے غصے  کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے  پھر وہ بستر سے اٹُھے اور کمرے میں ٹہلنے لگے۔۔۔۔ اور میں بھی  انتہائی غم  ذدہ  سا  منہ بنائے  ان کے سامنے بیٹھی ان کے اگلے ردِ عمل کا انتظار  کرتی رہی ۔۔۔۔ کافی دیر کے بعد انہوں نے اپنے  غصےپر کسی حد تک قابو  پا  لیا ۔۔۔۔ اور پھر میرے سامنے پلنگ پر بیٹھ کر بڑے ہی جلال سے کہنے لگے ۔۔۔۔   میرے گھر میں ان کا  یہ گندہ کھیل  کب سے جاری ہے ؟ تو  میں  نے ان کی طرف دیکھ کر انتہائی خوفذدہ  ہونے کی ایکٹنک کرتے ہوئے کہا ۔۔ کہ  قسم لے لو   خان  جی آپ  کی طرح  میں نے بھی ان کو آج پہلی دفعہ اس حالت میں دیکھا ہے ۔۔۔۔ پھر ڈرتے ڈرتے بولی ۔۔۔ وہ آپ نے   خود ہی تو میری ڈیوٹی  لگائی تھی ۔۔۔ تو وہ میری بات سُنی ان سنی کرتے ہوئے  کہنے  لگے ۔۔۔۔۔ میں  چاہوں  تو  ابھی ان دونوں کے جسموں کو  گولیوں سے چھلنی کر سکتا  ہوں لیکن اس طرح سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا  اور  ہمارے گھرانے کی بڑی بدنامی ہو گی ۔۔۔۔۔ اور پھر خود ہی بولے ۔۔۔۔ باہر اتنی دنیا پڑی ہے اس ہمت کو بھی اس گندے کام کے لیئے صرف  اپنی بہن  ہی نظر آئی تھی۔۔ انہوں نے  یہ کہا  اور پھر  پریشانی کے عالم میں اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا اور  رونے لگے  اب  میں اٹُھی اور ان کو چُپ کرانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔۔  اب انہوں نے اپنا سر میرے ساتھ جوڑ لیا اور روتے ہوئے بولے ۔۔۔۔ مرینے میں کیا کروں ؟ کس کو   بتاؤں ۔۔؟ اور کیا  بتاؤں  کہ میرا  بھائی اپنی بہن کے ساتھ خراب ہے اور پھر رونے لگے ۔۔۔ اس دوران میں ان کو مسلسل تسلیاں دیتی رہی جس سے ان کو کافی ڈھارس بندھی اور  پھر میں نے ان کو بستر  پر لیٹنے کو کہا اور  اور خود بھی ان کے ساتھ چپک کر لیٹ گئی اور ان کے  بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی ۔اور ساتھ ساتھ ان کے ساتھ   ایسی باتیں بھی کرتی رہیں جس سے ان کا صدمہ کچھ کم ہو ۔۔۔میری کوشیشں  رنگ لائیں اور ۔۔ کچھ ہی دیر بعد خان جی گہری نیند سو گئے ۔۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ خان جی کے ساتھ ہی میں بھی نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔۔ کوئی ایک گھنےا کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں  ہڑبڑا کر اٹُھی ۔۔۔ اور  چند سیکنڈ تک میں بلکل  خالی الذہن بیٹھی رہی پھر آہستہ آہستہ ۔۔۔۔ میری ذہن  میں کچھ دیر پہلے کے سارے واقعات ایک ایک کر کے میری نظروں کے سامنے  آنے لگے ۔۔۔۔۔ساری  باتیں  یاد آتے  ہی میں پھرتی سے پلنگ پر سے اٹُھی اور باہر چلی گئی اور باہر دیکھا تو برآمدے میں صنوبر باجی بیٹھی سبزی چھیل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجےگ اپنے سامنے پا کر وہ ایک دم اٹُھ کر  کھڑی ہو گئی اور بولی ۔۔۔ سب خیر تو ہے نا؟ تو  میں ان کو ان  کے کمرے کی طرف لے جاتے ہوئے بولی ۔۔۔ سب خیر نہیں ہے باجی اور پھر بلا کم و کاست ساری سٹوری ان کے گوش گزار کر دی ۔۔۔ جسے سُن کر وہ  از حد پریشان ہوئیں اور مجھ سے بولیں ۔۔۔۔ اب کیا  ہو گا ۔؟  تم  ہی کچھ مشورہ   دو کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے  ؟؟؟ تو میں نے ان سے کہا ۔۔کہ میرا مشور تو یہ ہے کہ ۔ کہ فی الحال آپ لوگ سین سے غائب ہو جائیں ۔۔۔ اس دوران میں کچھ کرتی ہوں ۔۔۔ اور جیسے ہی  حالات  نارمل  ہوئے  میں آپ لوگوں کو  بتا دوں گی ۔۔۔ میری بات صنوبر باجی کے دل کو لگی اور  وہ  بولی  ٹھیک  ہے  میں کچھ  دنوں کے لیئے اپنی  بیٹی کے پاس  کراچی  چلی  جاتی  ہوں ۔۔۔۔ اور  لالے سے بھی کہتی ہوں کہ وہ بھی کچھ دنوں کے لیئے منظر سے غائب ہو جائے ۔۔پھر انہوں نے جلدی جلدی  میں  اپنی پیکنگ کی اور پھر اسی تیزی سے وہ  گھر سے باہر نکل گئیں ۔۔ اور جاتے جاتے کہہ گئی کہ اگر خان جی پوچھیں تو کہنا کہ کراچی اپنی بیٹی سے ملنے ایک ارجنٹ کام کے سلسلہ میں گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔ خان جی دوپہر کے قریب اٹُھے اور مجھ سے بنا کوئی  بات کئے باہر نکل گئے ۔۔۔ لیکن پھر وہ   جلد  ہی  واپس لوٹ آئے ۔۔ اور اندر کمرے میں جا کر لیٹ گئے ان کے رویہ سے مجھے کافی تشویش ہوئی اور میں ان کے پاس چلی گئی اور ان سے ان کا حال احوال وغیرہ دریافت کیا ۔۔۔ اس واقعہ کے بعد آہستہ آہستہ وہ   بستر پر لگ گئے ۔۔۔ اور  ان  کو مختلف بیماریوں نے گھیر لیا ۔۔۔۔ ہر چند کہ   میں نے ان کی صحت کے لیئے  کافی  بھاگ دوڑ کی ۔۔۔ لیکن ایک دفعہ جب  خان جی گر گئے تو  پھر وہ   دوبارہ  نہ اٹُھ  سکے ۔۔۔۔ اور آخرِ کار اس حادثے کے  چھ ماہ کے اندر اندر ہی  وہ  اس جہانِ فانی سے کوچ کر  گئے۔۔۔ اس کے  باوجود  کہ میری  ان  کے ساتھ ونی  ہوئی تھی  محبت تو خیر  مجھے  کبھی بھی ان کے ساتھ نہ ہو سکی ۔۔۔۔۔۔لیکن اتنا  عرصہ  ان  کے ساتھ  رہ رہ کر مجھے ان کے ساتھ کافی انسیت سی ہو گئی تھی ۔۔اور    کچھ بھی ہو آخر وہ  میرے شوہر تھے ۔۔۔چنانچہ  ان  کے یوں  جانے سے میرا دل بہت دکھا ۔۔۔ اور میں نے ان کا بڑا سوگ منایا ۔۔۔۔۔۔ خان جی مرنے کے بعد  لالہ  گھر میں ہی شفٹ ہو گیا تھا ۔۔۔۔اور صنوبر باجی بھی واپس آ گئی تھیں ۔۔۔ پھر عدت کے بعد   کچھ تو صنوبر  باجی کے دباؤ ۔۔۔اور  کچھ چونکہ   خان جی کا سارا  کاروبار  لالہ ہی دیکھتا  تھا ۔۔اس لیئے     کچھ کاروباری مجبوریوں کی وجہ  سے بھی۔۔۔۔ کیونکہ  مجھے  کاروبار کی الف بے بھی نہ آتی تھی  ۔ اس لیئے ان کے مرنے کے بعد  ۔۔۔۔صنوبر باجی نے اپنے قریبی   رشتے داروں کے مشورے اور میری مرضی سے  میرا نکاح لالے کے ساتھ کر دیا ۔۔۔۔۔۔