1624

اُستانی جی قسط 15

خان جی کی اجازت ملتے ہی میں نے اور صنوبر باجی نے ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر ہم دونوں نے گندے برتن اٹھائے اور کچن میں آگئیں۔۔۔ یہاں آتے ہی میں نے ان سےکہا باجی ۔۔۔ یہ آج آپ کو کیا سوجید ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔ ارے یار۔۔۔ سوجھنا  کیا ہے۔۔۔ میں اب اس ۔۔بات کا  اینڈ چاہتی ہوں تو میں نے ان سے کہا کہ کس بات کا باجی؟؟  تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ بھول گئی لالے والی بات کا ۔۔۔ اور کس بات کا ۔۔۔ اور پھر اس نے مجھے کل ہونے ولای ملاقات کے بارے میں بریف کیا اور ۔۔۔ میں نے ان کی پوری بات کو اپنے پلو سے باندھ لیا ۔۔ اور اگلے دن کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔ 00 بجے کے قریب لالہ اپنی گاڑی لیکر آیا اور ہم دونوں جو صبع وہی ہی تیار بیٹھی تھیں۔۔۔۔ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گیئں ۔۔ اگلی سیٹ پر صنوبر باجی بیٹھی تھی جبکہ اس سے پچھلی سیٹ پر میں بیٹھ گئی۔۔ فوراً ہی  لالے نے بیک مرر سیٹ کیا اور میری طرف دیکھنے لگا پروگرام کے مطابق میں نے بھی اس کو لفٹ کرانی شروع کردی اور بہانےسے  جو بڑی سی چادر جس نے میرا سینہ ڈھکا ہوا تھا  اس کو اپنے سینے سے ہٹایا  اور ۔۔ لالے کو اپنے کھڑے کھڑے مموں کو درشن کرانے لگی ۔مجھے یوں بے تکلفی سے پیچھے بیٹھا دیکھ کر لالے کی تو عید ہو گئی  اور وہ نظروں ہی  نظروں میں مجھے تاڑنے لگا خاص کر اس کی بھوکی نظریں میرے کھڑے ہوئے مموں پر تھیں ۔۔ وہ بار بار کبھی میرے چھاتی کو اور کبھی مجھے دیکھ رہا تھا ۔۔ صنوبر باجی  یہ سب دیکھ کر انجان بنی اگلی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔اور میں لالے کی   ہوس ناک اور بھوکی نظروں کا جواب  اپنی لگاوٹ بھری  نظروں سے دینے لگی ۔۔۔ گاڑی چلنے  کے کوئی دس منٹ بعد اچانک صنوبر باجی ۔۔۔ چلائی ۔۔۔ ایک منٹ لالہ ۔۔۔ اور میں نے پیچھے سے پوچھا خیریت تو ہے نا باجی؟ تو وہ بولی ۔۔۔ ۔۔۔ میرے  پیٹ میں بڑا سخت مروڑ اٹُھ رہا ہے ۔۔۔ اور آج صبع سے ہی ۔۔۔مجھے موشن لگے ہوئے ہیں ۔۔۔ تو میں نے لالے سے کہا لالہ گاڑی واپس موڑیں ۔۔۔ تو صنوبر کہنے لگی ۔۔۔ ارے نہیں ۔۔ میں ٹھیک ہوں ۔۔ تم گاڑی چلاؤ لالہ ۔۔۔ اتنے عرصے بعد تم کو گھر سے باہر جانے کی اجازت ملی ہے میری وجہ سے  تم اپنا یہ دن برباد نہ کرو تو میں نے تشویش بھری لہجے میں ان سے کہا کہ ۔۔۔ باجی یہ بات بھی تو اچھی نہیں ہے نا کہ آپ۔۔ تو وہ میری بات کاٹ کر بولی ۔۔۔ نہیں چندا ۔۔ تم میری فکر نہ کرو ۔۔ پھر لالے سے بولی ۔۔۔ لالہ یہاں الُٹے ہاتھ پر میری ایک دوست کا گھر ہے تم مجھے وہاں اتار دو ۔۔ اور مرینے تم شاپنگ کر کے یہیں آ جانا ۔۔۔ صنوبر کی بات سُن کر لالے کی تو باچھیں کھل گئیں اور اس نے جھٹ سے الُٹے ہاتھ پر گاڑی روکی اور اس سے پہلےکہ میں کچھ کہتی وہ لالے سے بولی تم کو۔۔۔ شاہین کا گھر پتہ ہی ہے ۔۔۔ میں وہاں ہی ہوں گی ۔۔۔ تم واپسی پر مجھے وہاں سے لے لینا ۔۔ اور پھر اچانک اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر چلائی۔۔۔۔ افُ۔ف۔ اور تیز تیز ۔ ۔۔ قدموں سے  سامنے گلی  کی طرف چلی گئی۔۔۔ جیسے ہی باجی نظروں سے اوجھل ہوئی ۔۔۔ مجھے لالے کی آواز سنائ  دی ۔۔ مرینہ تم اگلی سیٹ پر آ جاؤ ۔۔اور تھوڑے سے نخرے کے بعد میں اس کے ساتھ آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی اور ۔لالے نے۔۔ کار سٹارٹ کر دی  ۔۔ 

   کار میں گہری خاموشی چھا ئی ہوئی تھی ۔۔کہ  کوئی ایک کلومیٹر چلنے کے بعد جب لالے  نے گئیر بدلنے کے بہانے ۔۔۔۔ میری مخملی رانوں پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔ اور میرا ردِعمل دیکھنے لگا ۔۔۔ میں کچھ نہ بولی ۔۔ بلکہ ۔۔۔ میں نے پہلو بدلنے  کے بہانے لالہ کی طرف تھوڑی  اور کھسک گئی  اوراپنی گانڈ کو لالے کی طرف کر دیا ۔جس سے میری گانڈ کا ایک پٹ ۔۔ صاف اور نمایاں طور پر اسے نظر آنے لگا ۔۔ ۔۔۔  اور کن اکھیوں سے لالے  کا تماشہ دیکھنے لگی ۔کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ لالہ ایک چھوکرے  باز اور گانڈ کا شوقین  آدمی ہے  اس لیئے میں نے اسے اپنے ڈھب پر لانے کے لیئے یہ حربہ اختیار کیا تھا ۔۔ لالے کی جیسے ہی نظر میری موٹی گانڈ کے پٹ پر پڑی ۔۔۔ تو اس کے تو ہوش اڑُ گئے ۔۔۔۔ اور  میں نے شیشے میں دیکھا کہ میری ہپس کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔ اس کے ہونٹ خشک ہو گئے تھے اور وہ بار بار اپنی  زبان اپنے ہونٹوں پر پھیر کر انہیں تر کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ ۔۔۔کچھ دیر بعد  اس نے ایک دفعہ اور گئیر بدلنے کے بہانے دھیرے سے اپنے بائیں ہاتھ کا  انگھوٹھا میری گانڈ کے ساتھ ٹچ کیا ۔۔۔۔ اور میری ریشمی سی گانڈ کے پٹ میں اس کا انگھوٹھا کھب سا گیا ۔۔۔اور میں نے چوری چوری اس کو دیکھا تو  جوش کے مارے اس کا چہرہ سرُخ ہو رہا تھا ۔۔۔ اور اس کی  آنکھوں میں ہوس ناچ رہی تھی ۔۔۔ اور وہ با ر بار گردن نیچے کر کے میری ریشمی گانڈ کے پٹ کو دکھے جا رہا تھا ۔۔۔ گاڑی میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔ اور  لالے کی یہ حالت دیکھ کر میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔ پھر اچانک میری نظر ۔۔۔ لالے کی گود میں پڑی ۔۔ تو میں نے دیکھا کہ دھیرے دھیرے ایک کنگ سائز کا لن  اس کی گود میں سے سر اٹُھا  تھا ۔۔ اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا لن فلُ کھڑا ہو گیا ۔۔اور اس کے لن کا  سائزدیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔شلوار کے اندر سے ہی اس کا لن بہت بڑا اور موٹا نظر آ رہا تھا ۔۔۔ جسے دیکھ کر میں خاصہ گھبرا رہی تھی کہ اتنا بڑا اور موٹا لن میرے اندر کیسے جائے گا ۔۔۔ لیکن بظاہر میں بے نیاز بنی بیٹھی تھی ۔۔ اور اس کے فل گرم ہونے کا انتظار کر رہی تھی تا کہ میں اپنا کام کر سکوں ۔۔۔اب وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد میری رانوں پر اپنا انگھوٹھا ٹچ کر رہا تھا ۔۔ اس کے کھردرے ہاتھ کے انگھوٹھے کا یہ ٹچ میری چوت کو بھگو رہا تھا لیکن میں اس کے سامنے یہ بات ظاہر نہ کر سکتی تھی ۔۔۔ اس لیئے ویسے ہی بیٹھی رہی ۔۔پھر میں نے اس پر آخری وار کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ۔۔ جیسے ہی وہ گئیر بدلنے لگا ۔۔ میں نے اپنا پرس سیٹ سے نیچے گرایا ۔۔۔ اور اسے اٹھانے کے بہانے ۔۔۔ اپنی بڑی سی گانڈ اس کی طرف کر کے نیچے کو جھکی ۔۔۔ عین اسی وقت اس نے بھی گئیر بدلایا اور ۔۔۔ اس دفعہ اس کا انگھوٹھا عین میری گانڈ اور چوت کے پاس ٹچ ہوا ۔۔۔ جس سے مجھے تو جو مزہ آیا سو آیا ۔۔ میرے سافٹ ٹچ سے اس کی بھی سسکی نکل گئی۔۔۔۔ 

  

بس یہی وہ وقت تھا ۔۔۔ میں ایک دم گھومی اور بڑے سخت لہجے میں اس سے کہا ۔۔۔ یہ کیا حرکت ہے ؟ لالہ آپ کو شرم نہیں آتی ۔۔؟ میرے اس ریمارکس  سے وہ ہکا بکا رہ گیا ۔۔۔ اور پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ وہ ایک دم ڈھیٹ بن کر بولا۔۔۔ کیا کیا ہے میں نے ؟ تو میں نے اس کہا ۔۔ یہ جو آپ حرکت فرما رہے تھے یہ کیا تھی؟ تو وہ بولا ۔۔ یہ تو میرا پیار تھا ۔۔۔ مرینہ جی ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا کہ ۔۔۔ تو ایسا پیار اپنی بہن سے کیوں نہیں کرتے ؟  میری بات سُن کر ترُت ہی وہ کہنے لگا ۔۔۔۔ اس ٹائم اس وقت میری بہن بھی میرے پاس ہوتی تو میں یہی کرتا ۔۔۔جو اس وقت تمہارے ساتھ کر رہا تھا اور ہنسنے لگا اور میں نے اس کی بات سُن کر بظاہر دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔ شرم کرو ۔۔۔ میں تمھاری بھابھی ہوں ۔۔۔تو وہ بولا ۔۔۔ ارے بابا جب میں اپنی بہن سے نہیں ٹل رہا  تو تم تو فقط میری بھابھی ہو ۔۔۔ اور بھابھی بھی ایسی کہ جس پر میں دل و جان سے مرتا ہوں ۔۔۔ پھر بڑا سیریس ہو کر بولا ۔۔۔ مرینہ ۔۔ آئی لو یو۔۔تو میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ شہوت میں فلُ ٹن ہو رہا تھا اور  اس کی آنکھوں میرے  لیئے  شہوت ہی شہوت تھی اور  وہ ہوس ناک نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔مجھے اپنی طرف دیکھ کر وہ بولا ۔۔۔ مرینہ بولو ۔۔۔ کیا میرے ساتھ دوستی کرو گی ؟ تو میں نے کہا  اگر دوستی سے مراد گندی دوستی ہے تو جا ؤ ۔۔۔جاکر    اپنی بہن کے ساتھ  یہ والی دوستی کرو ۔۔۔ جو آج کل بڑی تنگ رہتی ہے ۔۔ میر ے پاس تو میرا خاوند ہے ۔۔ تو میری بات سُن کر وہ بولا ایک تو تم ہر بات میں میری بہن کو کیوں لے آتی ہو۔۔ تو میں نے اس سے کہا کہ بہن کو میں نہیں تم لائے تھے ۔۔۔  یہ شخص گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے  کا ماہر تھا ۔۔ پہلے جب ملتا تو اتنی عاجزی سے ۔۔ اور  مسکینی سے ملتا تھا کہ لگتا تھا کہ اس سے زیادوہ چغد اور کوئی  ہے ہی نہیں اور اب ۔۔۔ توبہ توبہ۔۔ عجیب آدمی تھا یہ  ۔۔۔تو پھر وہ بولا ۔۔۔اوکے ۔۔۔ میں نے مان لیا کہ میں ہی اپنی بہن کو لایا تھا ۔۔ اب تم میرے سوال کا جواب دو۔۔۔ تو میں نے کہا کیا سوال ۔۔۔ تو وہ بولا وہی دوستی والا ۔۔ تو میں نے کہا  دیکھو میں ایک شادہ شدہ عورت ہوں ۔۔۔۔ میں تم سے دوستی کر لوں اور بعد میں کہیں پکڑی جاؤں تو ۔۔ تم تو بھاگ جاؤ گے لیکن میر اکیا بنے گا؟؟ ۔۔۔تو وہ بولا ۔۔۔ مرینے میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔۔۔ اور کان کھول کر سُن لو ۔۔ ہمت خان جو  بات کر دیتا ہے پھر جان تو دے سکتا ہے لیکن اپنی بات سے منکر نہیں ہو سکتا ۔۔۔تم چاہو تو آزما لو ۔۔۔ مچھلی پوری طرح سے میرے جال میں آ گئی تھی ۔۔۔بس آخری وار کرنے کی دیر تھی ۔۔۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا ۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔لالہ میں تم سے دوستی کروں گی ۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے ۔۔ ۔۔ تو وہ بولا ۔۔۔ بولا مجھے تمھاری ہر شرط منظور ہے ۔۔تو میں نے کہا سوچ لو ۔۔ تو وہ بولا یہ مرد کی زبان ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا کہ پہلے تم میرے سامنے صنوبر کے ساتھ کرو ۔۔۔ پھر تم جو کہو گے میں مانوں گی ۔۔۔میری بات سُن کراس کا چہرہ ایک دم لال ہو گیا اور  وہ ایک گہری سوچ میں پڑ گیا ۔۔ تو میں نے اس سے کہا بس یہی تھی تمھاری زبان ؟ میرا یہ طعنہ اس پر اثر کر گیا ۔۔۔ اور وہ بولا ۔۔۔ ٹھیک ہے مرینہ ۔۔۔ مجھے تمھاری یہ شرط بھی منظور ہے میں تمھارے سامنے صنوبر باجی کو چودوں گا لیکن میری بھی ایک شرط ہے تو میں نے کہا وہ کیا تو وہ بولا وہ یہ کہ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ٹوکن کے طور پر تم نے ابھی   میرے لن  کو اپنے ہاتھ میں لن پکڑنا ہو گا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر روک لی۔۔۔ اور میرا جواب سنے بغیر ہی اس نےاپنی   شلوار کا  آزار بند  کھول لیا ۔۔۔۔۔۔   اوراس کے ساتھ ہی اس کا کالا ناگ ۔۔ پھن پھیلاتا ہوا  میری آنکھوں کے سامنے آ گیا ۔۔۔۔ جسے دیکھ کر میر ے منہ میں پانی بھر آیا اور میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑنے کے لیئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ۔۔۔ میں دیکھا کہ ایک ٹریفک سارجنٹ ہاتھ میں چالان کی بکُ لیئے تیزی سے ہماری گاڑی کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔او ر اس سے پہلے کہ میں ۔۔۔ لالے سے کچھ کہتی ۔۔۔ وہ ہمارے بلکل قریب پہنچ گیا تھا ۔۔۔ ادھر لالہ آس پاس کے ماحول سے بے نیاز ۔۔۔ اپنا   لن لہرا  لہر کر کا مجھے اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور ادھر ۔۔۔ دم بدم سارجنٹ ۔۔۔ گاڑی کے قریب ۔۔۔۔۔۔۔ سے قریب آ رہا تھا ۔۔۔ میں کبھی لالہ کے مست لن کی طرف دیکھ رہی تھی اور کبھی سارجنٹ کی طرف ۔۔۔ اور میرے چہرےکی رنگت اڑُ گئی تھی ۔۔۔ اور پھر میں ہکلاتے ہو ئے ۔۔۔ لالے سے کچھ کہنے ہی لگی تھی ۔۔۔ کہ سارجنٹ کار کے اور قریب پہنچ گیا۔اور قریب۔۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔۔۔

اور اس  سے قبل کہ وہ    سارجنٹ ہماری گاڑی کا شیشہ ناک کرتا ۔۔ لالہ نے صورتِ حال  کا  ادراک کرتے ہوئے   اپنی اوپر اٹُھی ہوئی  قمیض کو لن کے اوپر کر لیا اور کہنے لگا کیا ہوا مرینہ یہ تم  اتنی گھبرائی ہوئی کیوں  ہو؟ اس کے ساتھ ہی اس نے میری ڈائیریکشن میں گاڑی کے باہر دیکھا ۔۔۔ اور اس سے قبل کہ سارجنٹ ہمارے قریب  آ کر شیشے پر ناک کرتا ۔۔۔۔لالے نے  ایک لمحے میں گاڑی سٹارٹ کی اور  پھر  بڑی ہی  تیزی سے گاڑی کو وہاں ے نکال کر بھگا  لیا  ۔۔۔ گاڑی کووہاں سے بھاگتے   دیکھ کر میری جان میں جان آئی اور میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو  دور کھڑا سارجنٹ ہماری طرف دیکھ کر غالباً دانت پیس رہا تھا ۔۔۔ میرے  یوں پیچھے دیکھنے  پر وہ بولا فکر نہ  کرو   مرینہ ۔۔ سارجنٹ  ہمارے پیچھے نہیں آئے گا ۔تو میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آئے گا  ؟؟ تو کہنے لگا۔۔کہ ۔کیونکہ ہم نو پارکنگ ایریا میں کھڑے تھے اور اب ہم وہاں سے نکل گئے ہیں لالے کی بات سُن کر  ۔میں نے ایک نظر پھر پیچھے کی طرف  سارجنٹ کو دیکھا تو وہ کسی اور طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔یہ سب دیکھ کر میں قدرے  بے فکر ہو گئی اور   پھر اس کے ساتھ ہی مجھے تھوڑی دیر قبل کا واقعہ یاد آ گیا اور اسے یاد کرتے ہی میں لالے   اس  پر  بر س پڑی کہ آپ کو موقعہ محل تو  دیکھنا  چاہئے تھا ۔۔۔یہ کوئی جگہ تھی ایسی حرکت کرنے کے لیئے ؟؟۔۔۔ میری بات سن کر۔۔لالہ  بغیر شرمندہ ہوئے کہنے لگا   ۔۔۔۔مرینہ میری جان ۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات ہے کہ تم دیکھ کر موقعہ تو   کیا   میں  تو   اپنے  آپ کو  بھی بھول جاتا ہوں ۔۔کیونکہ  یہ دن کا ٹائم تھا اور ہر طرف لوگوں کی چہل پہل تھی ۔۔ اس لیئے لالہ ۔۔ تیزی کے ساتھ  اس رش والی جگہ سے گاڑی نکالنے لگا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس سے کہا ۔۔ کہ آپ مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔وعدے کے مطابق ۔۔ تم نے میرےہتھیار  کو  اپنے ہاتھ میں پکڑنا ہے ۔۔۔اسی لیئے  میں گاڑی کو کسی سنسان جگہ پر لے جا رہا ہوں۔۔۔تو  میں نے اس سے کہا کہ یہ کام کسی اور وقت بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر کہنے لگا ۔۔ نہیں میڈم ۔۔ میں آج  کا  کام کل پر نہیں چھوڑا کرتا ۔اس لیئے  یہ  کام ابھی اور اسی وقت ہو گا ۔ اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے  گاڑی کو ایک سنسان سڑک  کی طرف موڑ لیا  ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہماری گاڑی شہر سے باہر ایک نو تعمیر شدہ ہاؤسنگ  کالونی کے قریب پہنچ گئی ۔۔یہاں پر  ہمیں اکا  دکا   مزدور  ٹائپ لوگ نظر آئے ۔۔ جو گھروں  کی تعمیر وغیرہ کا  کام کر رہے تھے ۔۔ یہاں سے ہٹ کر وہ   اسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک اور بلاک میں پہنچ گیا کہ جس کی ابھی تعمیر ہونا تھی۔   یہ  ایک بلکل ہی ایک سنسان ایریا تھا ۔۔۔  یہاں آ کر انہوں نے اپنے آس پاس کا اچھی طرح جائزہ لیا اور پھر مطمئن ہو کر انہوں نے   دوبارہ لن سے اپنی قمیض ہٹا لی۔ تو میں نے دیکھا کہ اس وقت لالے کا لن نیم مُرجھایا  ہو اتھا ۔۔ لیکن پھر  میرے دیکھتے  ہی دیکھتے ۔۔  لالے   کا   ہتھیار ۔۔جان پکڑنا  شروع ہو گیا ۔۔۔۔ اور پھر  کچھ ہی دیر بعد ۔۔اس کا موٹا ۔۔ لمبا   اور مضبوط لن لہراتا  ہوا  میری آنکھوں کے سامنے آ گیا  ۔۔ لالہ کا مضبوط لن دیکھ کر میری  پھدی نے گرم ہو کر نیچے سے پانی کا   ایک قطرہ چھوڑا دیا ۔۔ جو ۔۔ باہر آ کر میری شلوار  میں جزب ہو گیا  ۔۔۔ ابھی میں ستائیش بھری نظروں سے لالے کے لن کو دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک میں نے لالے کی سرسراتی ہوئی آواز سنی  وہ کہہ رہا  تھا ۔۔ مرینہ ۔۔۔   اپنے نرم  ہاتھوں میں  میرے لن کو  پکڑو ۔۔۔ دل   تو  میرا بھی یہی  چاہ  رہا  تھا ۔۔۔ لیکن اس کو پکا کرنے کے لیئے تھوڑا    ناز  نخرہ بھی ضروری  تھا۔۔ اس لیئے میں نے اس کے موٹے لن پر نظریں جماتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ دیکھو لالہ   دن  کا وقت ہے یہاں کسی وقت بھی  کوئی بھی آ سکتا ہے ۔۔۔۔۔اس لیئے ۔ آپ  یہاں سے چلو۔۔۔ تو  وہ  کہنے  لگا ۔۔زرا آس پاس نظر دوڑاؤ ۔۔دور دور تک تمہیں کوئی فرد نظر آ رہا ہے ۔۔۔ اس کے کہنے پر میں نے آس پاس نظر دوڑائی  تو  واقعہ ہی  وہاں کسی زی روح   کا   نام  و نشان بھی  نہ تھا ۔۔۔پھر میں نے لالے کی آواز سُنی وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اب شرافت سے اسے پکڑ بھی لو ۔۔۔۔۔۔ اور  پھر وہ جزبات سے اتنا بے قابو ہو گیا  کہ اس نے فوراً  ہی میرا ہاتھ پکڑا  اور اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ افُ کیا  بتاؤں کہ  اس کا لن کس قدر  گرم  اور تپا  ہوا  تھا ۔۔۔۔ اور اسے پکڑ کر میرا     جی کر  رہا  تھا کہ اس کو ابھی میں اپنی چوت میں لے  لوں لیکن ۔۔۔۔ ظاہر ہے میں ایسا  نہ کر سکتی تھی  مجھے  تو   اس کے لنسے مسلسل  اپنی  بے نیازی  شو کرنی تھی  اور اسے مزید ٹیز کرنا  تھا تا کہ وہ  میرے قابو  میں  رہے  اس لیئے  میں نے چند سکینڈ کے بعد اس کے لن پہ رکھا ہوا    اپنا  ہاتھ ہٹا  لیا اور بولی  بس۔۔اتنا  کافی  ہے۔۔۔میری بات  سنتے   ہی  وہ عاجزی  سے  بولا ۔۔۔ یہ کیا  غضب کر رہی ہو مرینہ ۔۔۔ ابھی تو  تم  نے میرے لن پر ہاتھ رکھا  ہی ہے اسے پکڑا  تو  نہیں  ۔۔تو میں نے قدرے شوخی سے کہا ۔۔۔ ہاتھ رکھنا یا پکڑنا بات  ایک ہی  ہے  تو وہ کہنے لگا ۔۔ جی نہیں یہ ایک نہیں ۔۔بلکہ ۔۔دو الگ  الگ  باتیں  ہیں  ۔۔ اور پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کے دوبارہ سے اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔ اب میں نے اس کے لن کو اپنی مٹھی میں لیا اور تھوڑا سا دبا دیا۔۔۔ اس کا لن کسی پتھر کی طرھ سخت تھا ۔۔۔۔ اور سے ہاتھ میں پکڑ کر اسے دبا کر مجھے بڑا مزہ آرہا تھالیکن زیادہ دیر تک میں  بوجہ ایسا  نہ کر سکتی تھی ۔۔۔ اسلیئے  چند سیکنڈ  تک اس کا  لن اپنے  ہاتھ میں پکڑ کر دبایا اور پھر ہٹا کر بولی ۔۔۔ اب خوش۔۔۔۔اور پھر ساتھ  ہی اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیئےاور بولی   ۔۔ چلو لالہ  ہم پہلے ہی بہت  لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔

میری بات سُن کر لالہ نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بولا ۔۔۔ تم بہت ظالم ہو مرینہ ۔۔۔ اورپھر  گاڑی سٹارٹ کر کے چل پڑا ۔۔ تا ہم راستے بھر   وہ میری نرم   نرم رانوں  پر   اپنے کھردرے  ہاتھ پھیرتا  رہا  جو ظاہر ہے مجھے  اچھے  لگا  لیکن میں نے کوئی اس سلسلہ میں کوئی ریمارکس نہ دیئے اور بس ۔۔۔ یہی کہتی رہی کہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔ ایسے مت کرو پلیززززز۔۔۔۔لیکن وہ کہاں باز آنے والا تھا ۔۔۔اسی کشمکش میں بازار آ گیا اور وہ مجھے کپڑوں کی دکان پر لے گیا جہاں پر میں نے اپنے اور  باجی کے کپڑے لیئے اور پیسے دینے لگی تو اس نے مجھے پیسے نہیں دینے دیئے میں نے بھی واجبی سی کوشش کی اور پھر پیسے  واپس اپنے پرس میں ڈال دیئے ۔۔اور ہم واپس آ گئے ۔۔۔صنوبر کی دوست شاہین کے گھر جاتے ہوئے اچانک  لالہ سیریس ہو کر کہنے لگا ۔۔۔۔ مرینہ ایک  بات  پوچھوں ؟ تو میں  نے کہا جی پوچھو۔۔ تو وہ کہنے لگا  یہ تو بتاؤ  کہ تم مجھے صنوبر کے ساتھ سیکس   کرنے پر اتنا  ذور کیوں دے رہی  ہو؟ تو میں نے ایک لمحہ سوچنے کی اداکاری کی پھر ۔۔۔ میں نے لالہ کی طرف ۔۔۔ غور سے دیکھا اور ۔۔۔ کچھ ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔ سچ  بتاؤں؟؟؟؟  تو  وہ بڑی بے تابی سے کہنے لگا ۔۔۔ہاں ہاں ۔۔۔بولو ۔۔۔ تو میں نے  کچھ شرماتے ہوئے ۔۔۔کچھ گھبراتے ہوئے اس سے کہا کہ ۔ اپنی سیفٹی کے لیئے ۔۔۔ تو وہ  میرا مطلب نہ سمجھا اور بولا ۔۔۔ میں سمجھا نہیں  ۔۔۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہئے کہا ۔۔۔وہ۔۔۔۔وہ ۔۔۔دیکھو ۔۔لالہ ۔۔آپ مجھے بڑے اچھے لگتے ہو۔۔۔۔ اور میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔تعلق رکھوں ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ تمھاری بہن کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔ تو اس کا ایک ہی  تو ڑ ۔۔۔ میرے ذہن میں آیا ہے اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔ کیوں نہ وہ  میرے سامنے ۔۔۔۔ کانی۔۔ ہو جائے ۔۔۔ اس کے بعد میں جب ۔۔۔۔۔ یہاں میں نے وقفہ لیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔کیا میں نے غلط کہا ہے ؟ میری بات سُن کر وہ تو نہال ہی ہو گیا اور پھر اس نے جلدی گاڑی ایک سائیڈ پر روکی اور میری طرف  دیکھ کر جھکتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔مرینہ ۔۔۔ اور میرے گالوں کا بوسہ لے لیا  مجھے اپنے گالوں پر اس کے ہونٹ اتنے اچھے لگے اور میں اتنی جزباتی ہو گئی کہ میں نے فوراً ہی اپنے ہونٹ اس آگے کر دیئے اس۔۔نے میرے نرم ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں لے لیا اور انہیں  چوسنے لگا۔۔۔یہ سارا عمل چند سکینڈ کا تھا لیکن مجھے ایسا لگا کہ جیسے اس عمل میں صدیاں لگ گئیں ہوں ۔۔۔پھر اس نےخود ہی میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے آذاد کیا اور ۔۔۔۔۔سوری بول کر دوبارہ  گاڑی چلانے لگا ۔۔۔ ادھر پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ خود بخود ہی میرا ہاتھ سرکتا ہوا اس کی گود میں گیا اور میں نے اس کا نیم مرجھایا ہوا لن اپنے ہاتھ میں  پکڑ لیا ۔۔۔۔ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔ گاڑی چلتی رہی اور میں اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑے اسے دباتی رہی ۔پھر آہستہ آہستہ اس کو مرجھایا ہوا لن سخت پتھر کا ہو گیا اور اسے دبا دبا کر میں نیچے سے پانی پانی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔کار میں گھنی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔۔وہ گاڑی چلا رہا تھا ۔اس کے لن پر میرا ہاتھ تھا ۔۔۔۔ اور میرا وہ ہاتھ جس میں اس کا لن تھا اس پر اس نے اپنا    ہاتھ رکھا ہوا تھا اور گاڑی چل رہی تھی ۔۔۔۔ شاہین کے  گھر کے  قریب پہنچ کر میں نے ان کے لن سے اپنا  ہاتھ ہٹایا  اور ۔۔۔پھر انہوں  نے گاڑی روک دی اور میری طرف دیکھ کر بولے ۔۔۔ فکر نہ کرو مرینہ۔۔۔ میں ایسا  بندوبست کروں گا کہ وہ اور تم ایک ساتھ میرے نیچے سیکس کرو گی ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں نے قدرے غصے سے اس کی طرف دیکھا اور بولی ۔۔۔ جی نہیں میں نے اس کو اپنا  کانا کرنا ہے اس کا  کانا  نہیں ہونا ۔۔۔۔۔۔ میری بات سُن کر وہ جلدی سے بولا ۔۔۔۔سوری بابا ۔۔۔۔۔ مجھے اس بات کا دھیان نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ پھر بولا بے غم رہو جیسا تم چاہتی  ہو ویسا  ہی  ہو گا اور ہم دونوں گاڑی سے باہر آ گئے اور اس شاہین کے گھرکی گھنٹی  بجا دی  ۔۔۔ واپسی  پر کوئی  خاص بات نہیں ہوئی لیکن جیسے ہی لالہ ہمیں چھوڑ کر  گھر کے گیٹ سے آؤٹ ہوا  تو  صنوبر باجی نے مجھے پکڑ لیا اور بولی ۔۔۔۔ مرینہ کی بچی ۔۔۔اب بتاؤ کہ تم نے میرے پیچھے کیا گُل کھلائے تو میں نے  سٹوری کو تھوڑا  حزف کر کے  باقی کا  سارا  احوال ان کے گوش گزار کر دیا  ۔۔۔۔ اور جب انہوں نے یہ سنا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ لالہ ان کو چودنے کے لیئے راضی ہو گیا تو وہ ایک دم خوش ہو گئیں ۔۔۔۔اور بولیں ۔۔۔۔ کوئی پروگرام بنایا ہے اس نے کہ وہ مجھے کیسے راضی کرے گا؟ تو میں نے ان سے کہا کہ نہ تو میں نے اس بارے ان سے بات کی اور نہ ہی انہوں نے کچھ بتایا۔۔۔۔اس دن ساری رات میں لالے کے لن کے بارے میں ہی سوچتیرہی ۔۔۔ باجی جیسی حرافہ عورت کے لالہ کے لن کے بارے میں یہ کمنٹس تھے کہ ۔۔۔ جو عورت بھی ایک دفعہ لالے سے چودوا  لیتی تھی  پھر وہ بار بار اس کا لن اپنی چوت  میں لینا  چاہتی تھی ۔۔۔۔اور پتہ نہیں کیوں مجھے  باجی کے  یہ کمنٹس بار بار یاد آ رہے تھے ۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری آنکھوں کے سامنے لالے کا سخت پتھر لن آ جاتا اور میری چوت گیلی سے گیلی ترین  ہو جاتی تھی ۔۔۔  اس دن کے بعد میں نے محسوس کیا کہ لالے کا  رجحان صنوبر باجی کی طرف کچھ زیادہ  ہی ہو گیا  تھا ۔۔اور لالہ جو باجی کو پھنسانے کے لیئے جو بھی حرکات کرتا باجی اکثر  باجی باتیں   مجھ سے شئیر کرتیں تھیں اور ہم دونوں اس کی باتیں کر کے خوب انجوائے کرتیں  ۔۔پہلے تو لالہ روٹی کھاتے ہوئے خان جی سے گپ شپ لگاتا  تھا  لیکن اس کے بعد وہ زیادہ باتیں  صنوبر باجی سے ہی کرتا تھا ایک رات روٹی کھاتے ہوئے وہ باجی سے کہنے لگا پتہ ہے باجی ۔۔ آپ کی سہیلی رضیہ  بمعہ اہل و عیال دوبارہ سے حیدرآباد  میں  سیٹل ہو گئیں ہیں   ۔۔۔ رضیہ کا نام سُن کر باجی ایک دم چونکی اور بولی ۔۔ تمیں کیسے پتہ ؟ تو وہ  کہنے ل گا ۔۔ مجھے ایسے پتہ چلا کہ    کل مجھے  اس کا میاں ملا تھا  ۔۔۔ اس نے بتایا ۔۔ تو باجی کہنے لگی  کراچی چھوڑنے کی وجہ کیا  ہوئی؟ تو لالہ کہنے لگا ٹھیک سے تو پتہ نہیں ۔۔ لیکن اڑُتی اڑُتی یہ سنی ہے کہ وہاں پر ان لوگوں کسی کام میں ایک تو کچھ گھاٹا پڑا ہے دوسر ۔۔۔ رضیہ کی اپنے سسرال سے نہیں بنی ۔۔اس لیئے رضیہ کے والد نے ان کو یہاں حیدرآباد بلُا کر دوبارہ سے سیٹل کرنے کی کوشش کی ہے تو باجی نے کہا ۔۔۔ دیکھو رضیہ کتنی بدتمیز ہے ۔۔ ایک  ماہ  ہو گیا لیکن ایک دفعہ بھی مجھ سے  ملنے نہیں آئی تو ۔۔۔ لالہ کہنے لگا ۔۔۔  ابھی وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ آپ لوگوں سے مل سکے ۔۔تو باجی کہنے لگی لیکن لالہ وہ میری  بہت اچھی دوست ہے ۔۔۔پھر وہ لالے سے بولی ۔۔۔ تم کو ان کا گھر معلوم ہے؟ تو لالہ کہنے  لگا ۔۔ معلوم تو نہیں لیکن اگر آپ کہو تو معلوم ہو سکتا ہے ۔۔۔ تو  باجی  نے بڑے اشتیاق سے کہا ۔۔۔۔  ۔۔۔پتہ کرو  پلیز میں نے اس سے ملنا ہے  باجی کی بات سُن کر لالہ نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔ اور کھانا کھانے لگا۔۔۔ کھانا کھانے  کے بعد ایک دفعہ جب لالہ اٹُھ کر جانے لگا تو اچانک صنوبر باجی نے  ان  کا ہاتھ  پکڑ لیا اور بولی ۔۔ بیٹھو ۔۔ قہوہ تو  پی کر جانا ۔۔۔۔ ۔۔۔ صنوبر کی بات سُن کر لالے نے  ان   سے اپنا  ہاتھ چھڑانے کی کوئی کوشش نہ کی بلکہ کہنے لگا ۔۔ ۔۔ میں کہیں نہیں  جا  رہا   باجی ۔۔بس   زرا  ہاتھ دھو آؤں ۔۔۔ یہ سُن کر باجی بولی ہاتھ تو میں نے بھی دھونے ہیں اور وہ بھی اٹُھ  کر اس  کے ساتھ ہی  واش روم کی طر ف چل دی ۔۔ ۔۔۔ ان کو جاتے دیکھ کر خان جی نے مجھے اور میں نے ان کی طرف دیکھا لیکن ہم دونوں خاموش رہے ۔۔

 یہ اسی رات کا ذکر ہے کہ  بستر  پر  جاتے ہی وہ مجھ سے کہنے لگے ۔۔ ۔۔۔۔مرینے ۔۔۔ میں دیکھ  رہا  ہوں کہ آج کل صنوبر اور ہمت  خان کچھ زیادہ  ہی نزدیک نہیں آ رہے ؟ تو  میں نے ان سے کہا کہ اس میں کیا بری بات ہے ؟۔۔۔ ہمت لالہ  صنوبر کا چھوٹا  بھائی  ہے اور بہن بھائیوں میں محبت  ہونا  ایک  فطری بات ہے ۔۔۔ تو میری بات سُن کر خان جی کہنے لگے وہ تو ٹھیک ہے لیکن پتہ نہیں کیا بات ہے مجھے ان کی یہ  فرینک نس بہت عجیب سی  لگ  رہی  ہے ۔پھر مجھ سے کہنے لگے کہیں یہ دونوں مل کر میرے خلاف کوئی  سازش  تو  نہیں کررہے ؟ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔۔ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں خان جی ؟ یہ دونوں آپ کے بھائی بہن  ہیں ۔۔۔۔۔یہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟  ۔اور پھر بڑے پیار سے ان سے بولی  کہ ۔یہ  آپ کا  آپ کا وہم ہے خان جی ۔۔۔اور ان کا  دھیان  بٹانے کے لیئے اپنی قمیض اتار کے  گھٹنوں کے بل ان کے سامنے کھڑی ہو گئی اور   اپنے  نپل  ان کے ہونٹوں کے قریب کر کے بولی ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ چھوڑو  خان  جی ۔۔۔ وہ جانے اور ان کی فرینک نس آپ میرے نپل چوسو۔۔۔ اور خان جی ۔۔ نے ایک لمحے کو میری طرف دیکھا اور پھر میرے نپل اپنے منہ میں لیکر انہیں چوسنے لگے ۔اورساتھ ہی اپنی ایک انگلی   میری چوت میں ڈال دی اور اسے اندر باہر کرنے لگے ۔۔اس طرح میں نے خان جی  کا  دھیان صنوبر باجی اور لالے سے ہٹا کر سیکس کی طرف کر دیا اور انہوں نے مجھے  ویسے ہی چودا  جیسا کہ  وہ  چودا  کرتے تھے ۔۔۔۔ لیکن اس رات میں  باجی اور لالے کے سیکس کے بارے سوچ سوچ کر معمول سے زیادہ چھوٹی جسے انہوں نے بھی محسوس  کیا اور بولے  ۔۔۔ مرینے تم ایک گرم لڑکی ہو۔۔۔ اور میں نے کہا اور یہ گرم لڑکی صرف آپ کے لن سے ہی ٹھنڈی ہوتی ہے خان جی ۔۔۔ جس کا ثبوت میرا یہ ڈھیر سا را پانی ہے جو آپ نے میری چوت سے نکالا ہے ۔۔۔ میری یہ بات سُ ن کر خان جی بڑے خوش ہوئے ۔۔  اس سے اگلے روز    کی بات ہے کہ کھانے کی  ٹیبل پر لالے نے باجی کو مخاطب کرتے  ہوئے کہا ۔۔۔ باجی ۔۔ میں نے آپ کی دوست کا  گھر تلاش کر  لیا ہے ۔۔۔ اور نہ صرف تلاش کر لیا ہے بلکہ اس  اسے مل کر بھی آ رہا ہوں  اور اس نے آپ کو اور بھابھی کو کل دوپہر کو کھانے کی دعوت پر  بھی بلایا ہے  لالے کی بات سُن کر صنوبر ایک دم خوش ہو گئی اور بولی ۔۔۔ یہ تو تم نے بڑی اچھی بات کی ہے  بھائی ۔۔۔۔کل ہم رضیہ سے بھی مل لیں گے اور اسی بہانے اس کے گھر  دوپہر کا کھانا بھی کھا آئیں گے ۔۔۔۔ پھر صنوبر باجی میری  طرف گھومی اور بولی کیا خیال ہے ۔۔۔ مرینے تمھارا ۔۔۔ تو میں نے خان جی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ جب تک خان جی اجازت نہ دیں میں آپ لوگوں کے ساتھ کیسے چل سکتی ہوں ؟ میری بات سن کر صنوبر باجیاور لالے نے ایک ساتھ خان کی طرف دیکھا اور بولے ۔۔۔ یہ کون سی بڑی بات ہے خان جی سے اجازت ہم لے دیتےہیں۔۔۔ اور پھر صنوبر نے خان جی سے کہا ۔۔۔ بھائی اگر اجازت ہو تو  کل ہم مرینہ کو اپنے ساتھ دعوت پر لے چلیں ؟ ۔۔۔۔ تو  خان جی نے جواب دیا کہ صنوبرے ۔۔۔۔ رضیہ تمھاری  پکی دوست ہے اس کے ہاں بھلا ۔۔۔۔۔مرینہ کا کیا کام ہو سکتا ہے  اور ویسے بھی  یہ  وہاں  پر بور  ہی          ہو گی ۔   اس لیئے  تم  لوگ اس کو رہنے دو  ہاں  تم اور ہمت جانا  چاہو  تو ضرور جاؤ ۔۔ ۔۔۔خان جی کی بات سُن کر صنوبر باجی کہنے لگی ۔۔۔ آپ فکر نہ کریں رضیہ  اور میں آپ کی بیگم کو  ہر گز بور نہ ہونے دیں  گی ۔۔۔ بس آپ اسے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت  دے دیں ۔۔۔ اس سے قبل کہ  خان جی کچھ اور کہتے۔۔۔ لالہ کہنے لگا۔۔۔۔ اجازت دے دیں خان جی ۔۔۔ بے چاری  سارا  دن گھر میں پڑی  بور  ہوتی  رہتی   ہے۔۔۔ اور ویسے بھی ۔۔۔رضیہ نے بھابھی کے لیئے خاص طور پر تاکید کی ہے ۔۔۔ اور پھر دونوں نے  بڑی مشکل  اور منت سماجتوں کے بعد  خان جی سے  مجھے اپنے ساتھ  چلنے کی سے اجازت لے ہی دی ۔۔ کھانے کے بعد جب میں اور باجی کچن میں  برتن وغیرہ دھورہی تھیں تو میں نے صنوبر  باجی  سے پوچھ ہی لیا کہ باجی یہ رضیہ کون ہے اور دوسرا یہ کہ آپ دونوں مجھے ساتھ لے جانے کی اتنی ضد کیوں کر رہے تھے ؟ تو باجی کہنے لگیں کہ رضیہ اس کی ایک بہت ہی خاص اور پکی سہیلی ہے اور یہ وہی سہیلی ہے کہ جسے لالے نے  بڑا چودا ہے اور جو لالے کے لن کی دیوانی ہے پھر کہنے لگی کہ سچ پوچھو تو اسی حرامزادی نے ہی  مجھے لالے کے لن کا شوق دلایا تھا  ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی کہ رہی یہ بات کہ  میں تم کو لے جانے پر کیوں بضد تھی تو ۔۔۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے  بس میرا دل کیا کہ تم کو بھی ساتھ لے جاؤں ۔۔۔ پھر راز داری سے کہنے لگی کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ  میری اور لالے  کی فرینک نس خان جی کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی اس لیئے میں نے سوچا کہ تم ساتھ ہو گی تو شاید وہ کچھ   زیادہ شک نہیں کریں گے ۔۔

     تو میں نے کہا ۔۔ آپ نے کیسے محسوس کیا کہ خان جی آپ دونوں پر کڑی نگاہ  رکھ رہے  ہیں؟؟  تو وہ کہنی لگی  ۔۔تم کو پتہ ہے مرینے ۔۔۔ سکول کالج کے زمانے میں بھی یہ مجھے اکثر اس بات پر ٹوکا کرتے تھے کہ میں لالے کے ساتھ زیادہ فری کیوں ہوتی ہوں تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس کی وجہ ؟ تو وہ کہنے لگی ایک دجہ تو یہ تھی کہ لالہ  میری سپورٹ کی وجہ سے میری دوستوں کو چودا کرتا تھا ۔۔۔ دوسرا ۔۔اس خان جی نے متعدد دفعہ  لالے کو پکڑا تھا کہ کبھی  وہ مجھے نہاتے ہوئے دیکھ رہا ہوتا تھا ۔یا میں کپڑے بدلا رہی ہوتی تھی ۔۔ تو میں نے ان سے کہا تو  باجی آپ نے خان جی کا بھی کہیں داؤ  ۔۔لگوا دینا تھا  نہ ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن ۔۔۔ اس معاملے میں بے چارے خان جی بس ایسے ہی تھے ۔۔۔جبکہ لالہ ایک منٹ میں نہ صرف لڑکی پھنسا لیتا تھا بلکہ اگلے منٹ میں اسے  چود بھی لیتا تھا ۔۔تب سےاب تک خان جی لالے سے بہت جیلس ہے ۔۔اور خاص طور پر رضیہ پر تو خان جی  نے بڑے  ہی ڈورے ڈالے تھے لیکن اس نے ان کو زرا  سی بھی لفٹ نہیں کرائی تھی ۔۔۔۔پھر کہنے لگی قسمت کی بات ہے اس وقت لالہ پرنس ہوتا تھا اور ۔۔۔ خان جی ایوں سا ۔۔۔ اور اب  وہ زمانہ آ گیا ہے کہ خان جی پیسے والا ہے اور لالہ ۔۔۔  اسی رات کا زکر ہے کہ   بستر پر جاتے ہی  خان  جی مجھ سے کہنے لگے کہ دیکھ مرینے ۔۔۔ میں نے اوپری دل سے  صنوبر اور ہمت کے ساتھ تم کو جانے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن میرا دل نہیں کرتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ جاؤ ۔۔۔ تم ایسا کرو کہ ۔۔۔ کل کوئی بہانہ  بنا  لینا ۔ لیکن ان  لوگوں کے ساتھ مت جانا ۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا اس کی وجہ کیا ہے؟؟  تو وہ بولے ۔۔۔  وہ اس لیئے کہ مجھے لگ رہا ہے کہ یہ لوگ میرے خلاف سازش کرر ہے ہیں ۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ خان جی اگر یہ لوگ آپ کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں تو پھر تو مجھے ان کے ساتھ خواہ مخواہ  جانا چاہیئے تو وہ کہنے لگے وہ کیوں؟  ۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔۔ وہ اس لیئے  تا کہ اگر وہ واقعہ ہی آپ کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں تو میں اس سے باخبر  ہو کر آپ کو بتا سکوں ۔۔۔  پھر میں نے ان کے گلے میں اپنی باہیں ڈالیں اور بولی ۔۔۔  وہ اس لیئے بھی خان جی  کہ اب میرا جینا مرنا آپ کے ساتھ ہے ۔۔ آپ ہی میرے مجازی خدا ہو اور آپ ہی میرا سہارا ہو۔۔۔ میرے اس قسم کے جزباتی ڈئیلاگ سُن کر خان جی بڑے خوش ہوئے اور مجھ سے کہنے لگے ۔۔۔ ہاں یار اس بارے میں تو میں نے سوچا ہی نہ تھا ۔۔۔۔ پھر کہنے لگے  میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ آج کے بعد تم ان کے درمیان  رہو ۔۔۔ اور  ان کی ہر سرگرمی سے مجھے مطلع کرتی رہنا ۔۔۔ میں نے ان کی  یہ بات سن کر ا ن سے چمٹ گئی اور لمبی سی کسنگ کر کے  جیمز بانڈ سٹائل میں بولی ۔۔۔ فکر نہ کرو خان جی ۔۔۔ آج کے بعد مرینہ  آ پ کی بیوی ہی نہیں ۔۔۔ جاسوسہ بھی ہے جو آپ کو ان دونوں  کی  ہر قسم کی سرگرمیوں سے آگاہ رکھے گی   میرا سٹائیل دیکھ کر وہ خوب ہنسے اور پھر اپنی  شلوار کا ۔۔آزار بند کھولتے ہوئے بولے ۔شاباش میری جاسوسہ ۔۔۔مجھے تم سے یہی امید ہے ۔ لیکن اس سے پہلے ۔۔۔تم ادھر آ کر میرا لن کی جاسوسی بھی کرو کہ یہ بڑی  شدت سے تمھارے ہونٹوں  کو مِس کر رہا ہے ۔۔ اور ان کی بات سن کر میں نے اپنا سر نیچے جھکایا اور ان کا مرا ہوا  لن اپنے  منہ میں لے کر  اسے چوسنے لگی ۔۔۔۔ اگلے دن ایک بجے کے قریب لالہ گاڑی لے آیا اور میں اور صنوبر باجی اس کے ساتھ بیٹھ کر چلی گئیں اور  سارا  راستہ  وہ  دونوں  بس رضیہ کا  ہی  زکر کرتے رہے جس سے میں نے اندازہ  لگایا کہ واقعہ ہی رضیہ ان کی بہت قریبی فیملی فرینڈ تھی ۔۔۔ کوئی آدھا گھنٹہ کی ڈرائیوکے بعد ہماری گاڑی ان کے گھر پہنچی ۔۔پھر گاڑی سے  باہر نکلتے وقت  لالے نے باجی کے ہاتھ میں ایک مٹھائی کا  ڈبہ پکڑاتے  ہوئے کہا کہ باجی  یہ آپ رضیہ کو دے دینا ۔۔ اور خود  ان کے گھر کی بیل بجا دی ۔۔۔ دوسرے ہی لمحے گھر کے اندر سے باجی کی ہم عمر ایک بڑی ہی کیوٹ سی عورت اور اس کے ساتھ  دو مرد باہر نکلے ۔۔۔باہر نکلتے ہی وہ عورت رضیہ کے ساتھ چمٹ گئی یقیناً یہ رضیہ تھی ۔۔۔  اور بعد میں پتہ چلا کہ دو مردوں میں ایک تو رضیہ کا خاوند اور دوسرا اس کا باپ  تھا ۔۔۔ جب وہ دونوں گلے سےمل چکیں تو ۔۔۔۔باجی نے اس سے میرا تعارف کرایا ۔۔۔ اور مجھے دیکھ کر اس نے بڑی ہی خوش دلی سے اپنے دونوں بازو  کھولے  اور     باجی کی طرف دیکھ کر یہ کہتی ہوئی آگے بڑھی کہ ۔۔۔   صنوبر تمھاری بھابھی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ قاسم بھائی کی لاٹری نکل آئی ہو  اور پھر وہ بڑی گرم جوشی سے مجھے ملی ۔۔۔ اور پھر ہمیں لے کر سیدھا ڈائینگ روم میں آ گئی  جہاں کچھ دیر کی گپ شپ کے بعد انہوں نے کھانا لگا دیا  ہاں ایک بات میں بھول گئی ۔۔۔ تھوڑا آگے جا کر  جب باجی نے رضیہ   کو مٹھائی کا ڈبہ  پکڑایا  تو  وہ چلتے چلتے اچانک  رُک گئی اور بولی ۔۔۔  اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ تو صوبر باجی نے اسے آنکھ مارتے ہوئےکہا میری جان مجھے تو یاد بھی نہ تھا ۔۔۔یہ تو لالہ  تمھارے لیئے  لایا  ہے ۔۔۔ تو  میں نے دیکھا کہ لالے کا ذکر سُن کر وہ تھوڑی سُرخ ہو گئی اور بولی ۔۔۔ اگر لالہ لایا ہے ۔۔۔تو ۔۔۔پھر  ٹھیک ہے اور  پھر کہنے لگی تم کو تو پتہ ہی ہے کہ  لالہ  کا رس گُلا  ویسے بھی بڑے مزے کا ہوتا ہے ۔۔ کھا کے مزہ آ جاتا ہے   پھر اچانک اسے کچھ یاد آ گیا اور وہ میری طرف دیکھ کر چپ ہو گئی ۔۔۔ تو باجی بولی ۔۔۔  اس سے شرمانے کی کوئی ضرورت نہیں  میری جان ۔۔۔۔یہ میری بھابھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔ تمھاری طرح  ایک راز دار دوست  ۔۔۔ اور  بہن بھی ہے  صنوبر باجی کی بات سُن کر رضیہ ان کی طرف جھک گئی  اور  سرگوشی میں کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔ پھر تو تم نےاس کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا ہو گا ۔۔۔جو اپنی راز دار دوست اور ۔۔۔۔ بہن  کے ساتھ کرتی ہو ۔۔ اور پھر دونوں ہنسے لگیں اور میں یہ سب کچھ سُن کر اور سمجھ کر  بھی بظاہر  انجان رہی ۔۔۔۔۔اور خاموشی سے ان کے پیچھے پیچھے چلتی رہی ۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ہماری بہت اچھی گپ شپ ہوئ ۔۔۔اور پھر  کچھ دیر رہنے کے بعد ہم واپس گھر آ گئے ۔    اسی طرح  اگلے چند دن کوئی  خاص واقعہ نہیں پیش آیا جو تحریر کیا جا سکے۔۔۔۔  ایک دن کا زکر ہے کہ باجی صنوبر۔۔۔خان جی کے ساتھ حسبِ معمول کہیں چلی گئی اور دوپہر کو واپس آئی تو بڑی خوش اور پرُجوش لگ رہی تھی  چنانچہ میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔کہ کیا بات ہے باجی آج بڑے مُوڈ میں لگ رہی ہو ۔۔  میری بات سُن کر اس نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور پھر بڑے شکوہ  آمیز لہجے میں کہنے لگیں  دیکھ لو جانی ۔۔۔تم نے تو کوئی  مدد نہیں  کی لیکن    پھربھی میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ہوں ۔۔۔ تو میں نے ان سے پوچھا کون سا مقصد اور کونسیکامیابی    کچھ بتائیں گی تو پتہ چلے گا   نا ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔تمھارا  لالہ  میرے  ساتھ اوپن ہو گیا ہے  تو میں نے کہا  وہ کیسے  ؟   تو وہ میری طرف دیکھ کر مست لہجے میں بولی ۔مرینہ میری جان آج میرےدل کی تمنا پوری ہوئی ہے اور۔۔۔ میرا کام ہو گیا  ہے ۔۔۔ تو میں نے  باجی سے پوچھا کہ باجی ۔۔ کچھ تفصیل بھی بتاؤ گی ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔  سوری میں نے تم کو بتایا نہیں ۔۔۔صبع میں گئی تو میں  خان جی کے ساتھ تھی ۔۔۔ لیکن پھر چونکہ میں نے بینک میں جانا تھا اور میرا بینک لالے کے آفس کے قریب ہی ہے اس لیئے   آج صبع میں لالے کے ساتھ بینک میں گئی تھی ۔۔۔ اور  مجھے یاد  نہ رہا تھا  کہ آج یکم تاریخ ہے اور تم تو جانتی ہو کہ یکم تاریخ کو سارے رٹائرڈ     لوگ  پینشن لیتے  ہیں ۔۔۔  پھر کہنے لگی حالانکہ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ہر یکم کو یہ ریٹائرڈ   لوگ  پنشن لینےکےلیئے آتے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں  یہ  بات میرے ذہن سے نکل گئی تھی  وہاں جا کر دیکھا تو لوگون کا ایک جمِ غفیر تھا ۔۔ اور یہ لمبی  سی لائین لگی ہوئی تھی ۔۔ خیر میں بھی  لائین میں لگ گئی ۔۔۔ لالہ بھی میرے ساتھ ساتھ تھا ۔۔۔ لائین چلتی چلتی جب ٹوکن والے کے پاس پہنچی تو وہاں  مرد و زن اکھٹے کھڑے تھے اور دھکے پہ دھکہ لگ رہا تا  ۔۔۔ چنانچہ  میں نے اسے کہا کہ وہ میرے پیچھے کھڑا ہو جائے کیونکہ میرے پیچھے کافی مرد  حضرات کھڑے تھے ۔۔۔ یہ دیکھ کر لالہ میرے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ۔۔۔  پھر تھوڑی ہی دیر بعد ایک دھکا لگا تو لالہ کھسک کر  عین میرے پیچھے آ گیا ۔۔۔ اور پھر اگلا دھکا میں نے خود مارا اور لالے کے ساتھ اپنی گانڈ لگا دی ۔۔۔  تو میں ان سے کہا کہ باجی آپ کو ایسا کرتے کسی نے دیکھا نہیں ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔  ارے ایک تو ہمارا  بینک بھی  چھوٹا  سا ہے اس پر آج  رش بھی کچھ ضرورت سے زیادہ تھا  اور اتنے لوگوں میں کیا پتہ چلتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ۔۔ ۔۔۔ اور پھر کہنے لگی فرض کرو اگر پتہ چل بھی جائے تو۔۔۔۔۔پھر اس نے  مجھے آنکھ ماری اور بولی ۔۔۔۔۔ اس کی پرواہ بھی کس کو تھی ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔  اور پھر کہنے لگی جب میں نے مسلسل اپنی گانڈ لالے کے ساتھ لگانی شروع کر دی تو وہ سمجھ گیا۔۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ  ہم دونوں میں آگ تو  کافی  دنوں سے لگی ہوئی تھی ۔۔لیکن موقعہ نہ مل رہا تھا ۔۔۔اور اب جو میں نے لالے کو موقعہ دیا  تو ۔۔پھر اس نے بھی اپنا لن کھڑا کیا اور میرے گانڈ  کے چھید میں رکھ دیا ۔۔۔ اس نے بس چند سکینڈ کے لیئے اپنا لن میری گانڈ میں  پھنسایا لیکن یقین کرو ۔۔۔ یہاں تک آتے آتے اسے کئی سال لگ گئے ۔۔۔ پھر وہ  کہنے لگی ۔۔۔  جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ  جان بوجھ کر اپنا لن میری گانڈ  سے لگا رہا ہے تو میں نے  اسے اپنے  پاس کھڑا ہونے کے لیئے کہا اور وہ کیش کاؤنٹر کے پاس میرے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں نے ہولے سے اسُ کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے باجی    یک  دم   مزید پرُ جوش سی  ہو گئی  اور بولی  ۔ مت پوچھ مرینے  ۔۔۔ اس ٹائم مجھے ۔  کتنا مزہ آ رہا تھا  وہ جتنا مجھ سے بچنے کی کوشش کرتامیں اتنا ہی  اس  کے آگے آگے ہوتی ۔۔۔پھر جب اس نے دیکھا کہ ۔۔ مجھ سے جان نہیں چھوٹے گی تو وہ کھڑا ہو گیا اور چور نظروں سے  بار بار ادھر ادھر دیکھتا رہا ۔۔۔لیکن ۔۔۔میں نے جب ایک دفعہ اس کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا  تو چھوڑ ا نہیں ۔۔اور چھوڑا  تب جب  کیشئر نے میرا ٹوکن نمبر پکارا    ۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔۔ پیسے لیکر  جب ہم  گاڑی میں بیٹھے تو  کافی دیر تک ہم دونوں خاموش  رہے  وہ ابھی بھی جھجھک رہا تھا چنانچہ اس کی جھجھک دور کرنے کے لیئے میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسکی گود میں رکھ دیا اوراور پھر ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔اس نے اپنی ٹانگیں بند کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن میں نے  ۔۔۔اس کا لن پکڑ ہی  لیا ۔۔۔یہ دیکھ کر  پہلی دفعہ اس نے اپنی  خاموشی  توڑی اور  کہنے لگا ۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو باجی ؟؟ ۔۔آپ میری سگی بڑی بہن ہو ۔۔۔ تو میں  نے ترت ہی جواب دیا کہ یہ جو تم بینک میں میرے ساتھ کر رہے تھے میرے سگے بھائی وہ کیا تھا ۔۔ ؟؟  ۔۔۔ کیا  وہ بھائیوں والا کام تھا ؟؟ ۔۔۔۔  میری یہ بات سُن کر  وہ شرمندہ ہو گیا ۔اور بولا ۔۔۔وہ سوری باجی ۔۔۔ وہ تو بس ۔۔۔ لیکن میں نے اس کی بات نہیں سنی اور اس سے کہا  کہ گاڑی  کو ایک سائیڈ پر روک لو  ۔۔۔ اور اس نے ایک سائیڈ پر گاڑی کھڑی کر لی  ۔۔۔ تب بنا کوئی بات کیئے  میں اس کی طرف جھک گئی اور اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ۔۔۔ اوراس کو  ایک ذبردست سی کس دی۔۔اور اس سے بولی ۔۔۔ لالے مجھے تمھارا   ۔۔۔جسم ۔۔۔چاہیئے   ۔۔میری بات سمجھ کر وہ بڑا ۔۔۔۔ حیران ہوا  اور ۔۔۔ کہنے لگا ۔۔ باجی ۔۔۔ آپ نے پہلے کبھی ایسی ۔۔۔ بات نہیں کی ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا اب تو کر لی ہے نا ۔۔۔۔ اور دوبارہ اس کی طرف جھک گئی   ۔۔۔۔۔اور پھر  ہم  کافی دیر تک کسنگ کرتے رہے ۔اور اس کے بعد جب ہمارا دل بھر گیا تو اس نے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔ اور پھر ابھی ابھی  وہ  مجھے باہر اتار کر چلا گیا ہے ۔۔۔ پھر صنوبر کہنے لگی ۔۔۔۔۔ یار کیا  بتاؤں  بینک سے لیکر ابھی تک میری پھدی مسلسل  پانی  چھوڑ  رہی ہے اور پھر انہوں اپنی شلوار تھوڑا نیچے کی اور بولی نہیں یقین تو خود چیک کر  لو ۔۔۔ ان کی بات سُن کر میں بھی گرم ہو گئی تھی ۔۔ چنانچہ ان کی آفر سُن کر میں  ان کی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔اور  ان س