528

اُستانی جی قسط 11

  سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کاو کروں ؟؟۔۔۔ میں جس دلاور کو جانتی تھی  وہ ایک سیدھا  سادھا   معصوم اور بھولا بھالا  سا  لڑکا  تھا ۔۔ اور میرا خیال تھا کہ وہ آسانی سے میرے جھانسے میں آ جائے گا ۔۔ اور وہ آ بھی  گیا تھا ۔لیکن پھر ۔۔۔   اسے کیا ہوا ۔۔ کہ ۔ اچانک    سارا معاملہ ہی الُٹ ہو گیا تھا ۔میں اس کے اس رُوپ سے بلکل ناواقف تھی  اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ اس قدر تیز ہو گیا ہے تو میں کی ا بھی  اس کے سامنے اپنے سارے  پتے  نہ شو کر تی ۔لیکن کیا کرتی اب تو میں اسے سب کچھ بتا چکی تھی   جس کے بعد ۔  وہ مجھے سامنے سامنے بلیک میل کر رہا

تھا ۔۔ وہ دلاور کتنا  بھولا  لگ رہا تھا اور یہ ۔۔۔ہ دلاور ۔ توبہ توبہ ۔۔۔۔۔ یہ دلاور اپنے رویے سے   پکا حرامی لگ رہا تھا ۔۔  اس کی آنکھوں میں ہوس ناچ رہی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔ پھر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ شرم کرو میں  نہ صرف تمھاری بہن ہوں  بلکہ تمھاری بہن  کی دوست بھی ہوں۔۔۔   اور میں نے آج تک سوئے اپنے خاوند کے کسی کے ساتھ یہ کام نہیں  کیا ۔۔میری باس سُن کر وہ  ہنسنے لگ پڑا اور بولا ۔۔۔ باجی جب میں اپنی خالہ کو کر سکتا ہوں تو  پھر آپ کو ۔۔بھی۔۔کرنے میں کیا حرج ہے؟؟  ۔ پھر  وہ  مجھے  سے بولا  ۔۔ کو ئی مجبوری نہیں ہے باجی ۔۔۔۔۔   اگر آپ راضی نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں ۔۔ پھر وہ   مجھ سے کہنے لگا    اچھا  باجی اب میں چلتا  ہوں ۔۔ لیکن بعد میں گلہ نہ کرنا ۔۔۔ اور پھر اس نے  جانے کے لیئے قدم بڑھا دیا ۔۔۔  اس کی دھمکی سن کر میری تو جان ہی نکل گئی تھی اور میں   ۔خود کو سنے  دینے لگی کہ  اس کے ساتھ ڈرامہ کرنے کی  ضرورت تھی  ۔چپکے سے ان کو پکڑ لیتی  پھر جو ہوتا دیکھا جاتا ۔۔ ۔۔۔  لیکن اب تیر کمان  سے نکل چکا  تھا ۔بجائے اس کے کہ میں اس کے جزبات سے کھیلتی وہ مجھے بلیک میل کر رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد  میں نے اس سے کہا کہ ۔۔ دیکھو  بھائی نہیں ۔۔ سمجھ لو۔۔۔  نہ میں نے تم سے کچھ کہا نہ تم نے سنا ۔۔۔  میری بات سن کر وہ کہنے لگا  سوری باجی ۔۔۔ لیکنمیں صنوبر باجی کو ضرور بتاؤں گا ۔۔ پھر وہ میرے سامنے کھڑ ا ہو گیا ۔۔ تو  اچانک میری نظر اس کی شلوار پر پڑی تو ۔۔  میں نے دیکھا کہ آگے سے اس کی شلوار  کافی  اُ ٹھی ہوئی ہے  ۔۔۔مطلب  اس کو سخت  ہوشیاری آئ  ہوئی تھی ۔۔ ۔۔۔تب میں نے اس کے ۔۔۔۔لن کی طرف  کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ پلیز بھائی سب کچھ بھول جاؤ ۔۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگا ایک شرط پر بھول سکتا ہوں کہ آپ میرا کا م کر دیں ۔۔۔ تو میں نے اس سے قدرے کمزور لہجے میں  کہا کہ ۔ایسا نہ کرو  بھائی ۔اس سے تم کو کیا ملے گا ؟ تو وہ  بڑی عیاری اور بے باکی سے کہنے لگا ۔۔۔۔ مجھے نہیں آپ کو بھی مزہ ملے گا باجی ۔۔۔۔ ۔اور پھر  اس نے مجھے کمزور پڑتے دیکھ کر کنے  لگا ۔باجی اگر آپ میرا کام کر دیں گی نا  تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ خالہ کو ایسی حالت میں پکڑواں گا کہ جس  کو  دیکھ کر آئیندہ  وہ آ پ کے سامنے ساری زندگی نہیں   ہل  سکے گی ۔۔۔پھر اس کے بعد وہ لن  ہاتھ میں پکڑے ہوے  میرے اور  قریب آ گیا ۔۔۔  اور لن کو سہلاتے ہوئے بولا۔۔۔آپ کی مرضی ہے باجی۔یاتو آپ میرے لئے ۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔خالہ کے ساتھ ساتھ خان جی کے  غیظ وغضب  کے لیئے بھی  تیار ہو جاؤ ۔تو میں نے اس سے کہا  ۔۔۔یہ خان جی بیچ میں کہاں سے آ گئے تو وہ اسی پرُ ہوس لہجے میں بولا ۔۔۔۔ جب یہ بات خالہ کو پتہ پڑے گی تو آپ کو سبق سکھانے کے لیئے وہ خواہ مخواہ  یہ بات خان جی کے کانوں تک پہنچائیں گی ۔۔خان جی نام سُن کر میں ایک دم لڑ کھڑا سی گئی اور اس سے بولی ۔۔۔ایسا نہ کرنا پلیز ۔۔ آخر ۔۔۔ میں  ۔۔۔ میں تمھاری بہن لگتی ہوں ۔۔۔۔سُن کروہ  ۔کہنے لگا ۔۔۔ ا ایک دفعہ پھر سوچ لو باجی ۔۔۔اور میری بات  مان لو ۔۔ورنہ۔۔۔    دوسری صورت میں آپ کی اس گھر میں  جو تھوڑی بہت عزت ہے وہ بھی خاک میں ملنے والی  ہے ۔۔۔۔۔  میں اس کی بات سمجھ رہی تھی وہ حرامی ٹھیک کہہ رہا تھا  اگر وہ  ویسا ہی  کرتا ۔۔ جیسا کہ وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔تو میری اس گھر میں کوئی جگہ نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔ مجھے یوں پریشان دیکھ کر وہ  لن ہاتھ میں پکڑے ہوئے   میرے اور  قریب آ گیا ۔۔۔  اوراپنے  لن کو سہلاتے ہوئے بولا۔۔آپ کو آخری موقع دے رہا ہوں ایک دفعہ پھر  ۔سوچ  لو  باجی اگر اپ میرے ساتھ تعاون کرو گی تو  میں گارنٹی سے کہتا ہوں  کہ آپ کی آئیندہ  زندگی بہت اچھی ہو گی ۔۔۔ جبکہ دوسرے صورت میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا باجی ۔۔ آپ کو سب سے زیادہ خطرہ صنوبر خالہ سے ہے نا ۔تو میں نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ کہنے لگا آپ کا یہ خطرہ صرف اور صرف میں ہی دور کر سکتا ہوں ۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میں بری طرح پھنس گئی تھی ۔۔۔۔۔ اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں لڑکے کی بلیک میلنگ سے خود کو کیسے محفوظ رکھوں ۔۔۔ پر کچھ بھی نہ  سوجھ رہا  تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے ۔۔ یوں گوں مگوں کی حالت میں دیکھ کر۔۔۔ کہنے لگا سوچنے کا ٹائم نہیں ہے باجی ۔۔۔۔۔۔۔ جو کرنا ہے  جلدی سے بتا دو،۔۔۔ مجھے ایک ضروری کام سےبھی  جانا ہے ۔۔۔۔ اور وہ چلنے لگا تو  اس جاتے دیکھ کر پتہ نہیں کیسے اچانک میرے منہ سے کیسے نکل گیا ۔۔۔۔ لیکن دلاور اس بات کی کیا گارنٹی  ہے کہ تم اپنا وعدہ پوراکرو گے ؟؟۔۔۔۔۔ میری  یہ بات سُن کو وہ چیتے کی طرح میری طرف لپکا  اور   ۔۔۔ ۔میرے اتنے قریب کھڑا ہو گیا کہ مجھے  اس کے لن کی نوک مجھے چبھنے لگی  لیکن میں انجان بنی کھڑی رہی تھی ۔۔۔۔ تب  اس نے لن کو میری تھائی سے رگڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ جو وعدہ مرضی  ہے لے لو۔۔۔ باجی ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں  پٹھان  کا  بچہ ہو ں اپنی  بات سے کبھی نہیں پھروں گا اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے ممے پر رکھا اور اسے دبانے لگا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ ۔۔۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو ۔۔

وہ کہنے لگا کچھ نہیں باجی ۔۔۔ بس تھوڑا سا پیار ہی کروں گا ۔۔۔۔ تب وہ آگے بڑھا اور اس نے اپنا منہ میرے منہ کے قریب کر لیا اور میرے ہونٹ چومنے کی کوشش کرنے لگا  تو میں نے اس سے کہا کہ دیکھو ۔۔۔ میں یہ کام مجبوری سے کر رہی ہوں ۔۔۔ کوئی شوق سے نہیں ۔۔۔ تم اپنا کام کرو ۔۔ ۔۔ تو  وہ کہنے  لگا۔۔              کوئی  بات نہیں  باجی اگر آپ چمی نہیں دیتی تو ایسے ہی سہی ۔۔ پھر وہ گھوم کر میرے پیچھے آیا اور میرے گانڈ کی دراڑ میں اپنا لن پھنسا کر   خود آگے پیچھے ہونے لگا ۔۔۔ اس کا لن  کافی  بڑا  اور گرم تھا  اور اس  کے لن کی یہ           گرمی  مجھے اپنے گانڈ کے اندر تک محسوس ہو رہی تھی ۔۔جس سے مجھے کچھ کچھ ہونے لگا  اور ۔۔۔ ۔۔۔ اور مجھے اپنی گانڈ کی دراڑ میں گھسا اس کا یہ لن اچھا بھی لگ رہا تھا ۔۔ کوئی اور ٹائم ہوتا تو میں اس بات کو انجوائے  کرتی ۔۔۔۔ لیکن اس کے طریقہ کار ۔۔ اور بلیک میلنگ  نے مجھے بڑا    اپ سیٹ کر دیا تھا ۔۔۔ اس لئے میں نے اس کو نرمی سے پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ دیکھو دلاور ۔۔ تم نے جو کرنا ہے  جلدی کرو ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ تو وہ ایک دم پیچھے ہٹ گیا اور بولا ٹھیک ہے باجی ۔۔۔ چلو پھر ۔۔ اندر چلتے ہیں ۔۔۔اس   افتاد  نے مجھے اتنا چکرا  دیا تھا کہ میں یہ بات بھول ہی گئی تھی ہم برآمدے میں بیٹھے ہیں ۔اور ہمارا  مین گیٹ کھلا ہے اور کوئی بھی کسی وقت بلا روک ٹوک اندر آ سکتا ہے ۔۔۔ یہ سوچ کر ۔۔۔ چ میں نے اس سے کہا کہ تم اندر جاؤ میں باہر مین گیٹ کو  کنڈی لگا کر ابھی آتی ہوں ۔۔۔ تو وہ کہنے لگا۔۔ نہیں جب تک آپ میرے ساتھ اندر نہیں جاؤ گی میں ادھر ہی کھڑا رہوں گا آپ جاؤ۔۔۔ کنڈی لگا کر آؤ  تب تک میں یہاں آپ کاانتظار کرتا ہوں ۔۔۔۔ چنانچہ میں دروازے کی طرف گئی اور کنڈی لگانے سے پہلے احتیاطً ایک نظر باہر بھی جھانک کر دیکھا تو باہر گلی سنسان تھی ۔۔۔ ویسے بھی اس ٹائم لوگوں کی آمد و رفت کم ہی ہوتی تھی ۔۔ باہر سے مطمئن ہونے کے بعد میں نے  دروازے کو کنڈی  لگائی اور واپس آ گئی۔۔۔۔ دیکھا تو دلاور   برآمدے میں کھڑا ۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے اپنے لن کو مسل رہا تھا ۔۔۔ پھر میں اس کو لیکر اپنے سٹور روم میں چلی گئی  جو کہ  باقی کمروں سے تھوڑے فاصلے پر تھا ۔۔اور میرے خیال میں اس وقت یہ جگہ بڑی  محفوظ تھی ۔۔ روم میں داخل ہوتے ہی وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اس کا لن مجھے اپنی ٹانگوں کے بیچ میں محسوس ہونے لگا ۔۔۔ ۔۔۔ 

تب میں نے اس سے کہا دیکھو دلاور میں نے تمھاری بات مان لی ہے ۔۔۔ اب تم بھی مہربانی کرو اور اپنا کام جلدی سے ختم کرو اور    جاؤ ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ میرے پیچھے آ گیا اور ایک دفعہ پھر میری گانڈ کی دراڑ میں لن پھنسا کر آگے سے میرے ممے پکڑ لیئے اور ایسے ہی گھسے مارنے لگا ۔۔۔۔ میں نے اس کو ایک دو گھسے مارنے دئے پھر اس سے بولی۔۔۔ دلاور ۔۔  ایک دفعہ تم سے کہہ جو دیا ہے کہ اپنا کام جلدی کرو ۔۔۔ اس نے اپنا بڑا سا لن میرے پیچھے سے نکالا اور میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ۔۔۔ باجی اس کو ایک دفعہ پکڑو نا۔۔اس کے بڑے سے لن کو دیکھ کر میرا دل ۔۔۔۔۔ تو کر رہا تھا  ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ میں نے  تھوڑی سختی سے اس  اس کی طرف دیکھا اور بولی  ۔۔۔ دیکھو دلاور  تم کو  اچھی طرح پتہ ہے  کہ میں ایسی عورت نہیں ہوں میں نے آج تک اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور کے ساتھ یہ کام نہیں کیا ہے ۔۔۔ تم  اپنا کام ختم کرکے  یہاں سے چلتے بنو  ۔۔ میری بات سُن کر وہ ہنسنے لگا اور بولا ۔۔۔۔ میرے سامنے تو جھوٹ نہ بولو نہ باجی۔۔۔ تو میں نے اس کو کہا  نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں دلاور ۔۔!! تو وہ کہنے لگا مت بھولو باجی کہ جب ٹال آپ لوگوں کے پاس تھا   تو آپ اکثر  فرید کے ساتھ وہاں آیاکرتی تھیں ۔۔۔ اور میرے سامنے فرید نے آپ کے ساتھ یہی کیا تھا جو میں ابھی آپ کے ساتھ کر رہا تھا ۔۔۔۔میرے سامنے فرید نے  کئی دفعہ آپ کے ممے چوسے ہیں اور کئی دفعہ آپ نے اس کی مُٹھ ماری ہے۔۔۔ اس کی بات سُن کر میرے پاؤں تلے سے زمین  نکل گئی اور مجھے یاد آیا کہ میں اور فرید  ٹال پر ہی  ملا کرتے تھے اس وقت دلاور بہت چھوٹا تھا ۔۔۔ فرید اس کو تھوڑے پیسے وغیرہ دیکر  کسی کام سے بھیجتا تھا ۔۔۔ اور اب مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ حرامی بجائے کام کرنے کے ہمیں ہی تاڑتا  رہتا  تھا ۔۔۔۔ مجھے یوں سوچ میں پڑا دیکھ کر وہ حرامی کہنے لگا ۔۔ باجی پلیز آپ اسی طرح سے میرا لن پکڑو نہ جس طرح آپ فرید کا پکڑا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات سُن کر مجبوراً  میں نے اپنا بایاں   ہاتھ آگے بڑھایا  اور اس کے تنے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔ اسکا لن کافی لمبا اور موٹا تھا  میرے خیال میں خان جی جتنا بڑا ہوگا ۔۔۔۔ اور اس کے کہنے پر میں نے لن کو دبایا تو وہ کافی سخت محسوس ہوا۔۔۔ اپنے لن کو میرے ہاتھ میں پکڑا کر وہ اور  مست ہو رہا تھا۔۔۔۔ اور  مسلسل میرے مموں کو چھیڑ رہا تھا  جس کی وجہ سے ہولے ہولے ہی سہی میں بھی موڈ میں آ رہی تھی لیکن میں اس پر یہ بات ظاہر نہ کرنا چاہتی تھی چنانچہ ۔۔۔ کچھ دیر تک اس کا لن آگے پیچھے کرنے کے بعد میں نے اسکا لن چھوڑ دیا اور ۔۔۔۔۔ بولی ۔۔۔ جلدی کر و ۔۔ ان لوگوں کے آنے کا ٹائم ہونے والا ہے ۔۔۔ تب اس نے جلدی سے اپنی شلوار کا نالہ کھولا اوراپنا ننگا لن مجھے دکھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ بس آخری دفعہ میرا  ننگا لن بھی پکڑ لیں ۔۔ اس کے بعد میں مزید کوئی اور مطالبہ نہیں کروں گا ۔۔۔ اور میں نے اس کا ننگالن ایک دفعہ پھر  اپنے بائیں ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اور کچھ دیر  تک اس کو آگے پیچھے کرتی رہی ۔۔۔۔لن چھوڑنے کو جی تو نہیں کر رہا تھا  لیکن ۔۔ میں  نے   ۔۔۔ بڑی بے رُخی سے اس کو کہا کہ  ۔۔ دلاور میں تم سے  آخری دفعہ کہہ رہی ہوں جو کرنا ہے کر لو یہ نہ ہو میں اپنا ارادہ تبدیل کر لوں ۔۔۔ وہ اس وقت جزبات کے عروج پر تھا  میری دھمکی سن کر ایک دم چونک گیا  اور پھر میرے پیچھے آ گیا اور مجھے نیچے کی طرف   جھکنے کو کہا میں نے اپنا نالا کھولا  جس سے میری شلوار میرے  قدموں جا گری ۔۔اور اس کے کہنے پر میں شلوار اتُار کر نیچے جھکی لیکن میں نے قمیض کو اپنے ہپس سے نہ ہٹایا ۔ وہ آگے بڑھا اور  ۔۔۔ اس نے میری قمیض کو  میری ہپس سے ہٹایا اور پھر ۔۔۔ میری گوری گوری گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔ اس کے ہاتھ پھیرنے سے میرے اندر کچھ سرسراہٹ سی ہونے لگی ۔۔۔ لیکن میں نے بڑی سختی سے اپنی گرمی کو روکا ۔۔۔ اور اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا لیئے کہ کہیں میرے منہ سے کوئی سسکی نہ نکل جائے ۔۔  میرے ہپس پر کچھ دیر تک وہ ہاتھ پھیرتا  رہا ۔۔  پھر وہ مجھ سے بولا ۔۔ باجی اپنی ٹانگیں تھوڑی کھول دو۔۔۔ اور میں نے  اپنی ٹانگوں کو مزید کھول دیا ۔۔ اب وہ تھوڑا نیچے جھکا اور میری چوت  کی  لیکر پر انگلی پھیرنے لگا ۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر ۔۔۔ میرے اندر سرسراہٹ سی ہوئی لیکن میں نے اسے  دبا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر تک انگلی کو  میری چوت کی لر ج پر پھیرتا رہا ۔۔ پھر  وہ  میری ٹانگوں کے بیچ میں آ کر اکڑوں بیٹھ گیا ۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا ۔۔۔ یہ کیا کرنے لگے ہو تو وہ بڑے سیکسی موڈ میں بولا ۔۔۔ باجی مجھے ٹھنڈی چوت بلکل بھی نہیں پسند اس لیئے میں اس کو تھوڑا گرم کرنےلگا  ہوں اور اس کے ساتھ ہی ان نے اپنے منہ سے زبان  نکالی   اور میری چوت کی لیکر پر رکھ دی

۔اور  پھر وہ  میری چوت کو  چاٹنے لگا ۔۔۔ یہاں آ کر میری چوت نے مجھ سے بغاوت کر دی اور جیسے ہی اس کی زبان میری پھدی کے ساتھ ٹچ ہوئی ۔۔۔ میری چوت نے دھڑا  دھڑ پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ اور اس سے قبل کہ میرے منہ سے کوئی سسکی نکلتی میں نے بڑی سختی کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے داب لیا ۔۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میری لذت بھری  سسکیاں سُن کر  مجھ سے کوئی لمبی امیدیں باندھے اور میں یہی ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ میں یہ کام بڑی مجبوری کے عالم میں کر رہی ہوں ۔۔۔لیکن میری۔۔ چوت نے  مجھے دھوکہ دیا اور ۔۔۔۔۔ پانی چھوڑنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر تک وہ میرے دانے پر زبان پھیرتا  رہا پھر اس نے اپنی انگلیوں کی مدد سے میری چوت کے دونوں لبوں کو کھولا اور اپنی زبان اندر داخل کر دی ۔ایک دم سے مزے کی ایک تیز لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا ۔۔۔۔۔اورمزے کے مارے  بے اخیتار   میرے۔منہ سے ایک لذت بھر ی  لؤڈ  سی  چیخ   نکلنے لگی تھی  جو  میں  نے بڑی ہی مشکل سے خود پر کنٹرول کر کے ضبط کی ۔۔۔ لیکن میری پھدی میرے کنٹرول میں نہ آ رہی تھی ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں میری چوت کی دیواریں دھڑا دھڑا اتنا پانی کیوں اگل رہیں تھیں ۔۔ اور میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ چوت سے اتنا پانی نکلتے ہوئے دیکھ کر    وہ ۔۔۔۔ کیا سوچتا ہو گا ؟؟؟ ۔۔۔۔ عین اسی لمحے اس نے میری چوت سے اپنا منہ ہٹایا اور بولا ۔۔۔ باجی آپ  ایسے کو۔ں ڈرامہ کر رہی ہو۔۔۔ مزے لو  نا۔۔۔ پھر کہنے لگا  باجی آپ کی چوت کچھ اور کہک رہی ہے اور آپ کچھ پوز کر رہی ہو ۔۔۔۔ کھل کے مزے لو نا ۔۔ کہ اب پیچھے کیا رہ گیا ہے ۔۔؟  اس کی بات سن کو میں نے کہا کہ دیکھو دلاور ۔۔ جو تم چاہتے تھے وہی میں کر رہی ہوں ۔۔ تم اپنا کام کرو ۔۔۔۔ تو میری بات سُن کر وہ کہنے لگا آپ کی مرضی باجی ۔۔ اور پھر سے  نیچے بیٹھ گیا اور میری چوت کے گلابی ہونٹوں کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگا ۔۔۔ اور میں اپنی چوت پر  اس کی اس زبان کی لذت کو  ضبط کر کر کے مرنے والی ہو گئی ۔۔۔۔لیکن میرے  بر عکس ۔۔۔ میری چوت  اس کے ساتھ خوب تعاون کر رہی تھی اور اس کی دیواریں سے آبشار کی طرح پانی بہہ رہا تھا اور میں حیران تھی کہ اتنا ڈھیر سارا پانی میری

چوت لا کہاں سے رہی ہے ؟وہ کافی دیر تک میری چوت کو چاٹتا رہا ۔۔۔ ادھر میری  ۔۔ ضبط   کی     ہمت جواب دیتی جا رہی تھی  لیکن میں نے اس پر یہ بات ظاہر نہیں ہونے دی ۔۔پھر اس سے قبل کہ میں اپنا کنٹرول کھو دیتی دلاور نیچے سے اٹُھا اور  میرے سامنے کھڑا ہو گیا ۔اور ۔ میں دیکھا کہ اس کا  منہ۔۔میری چوت کے پانی سے چمک رہا تھا ۔۔ کچھ پانی اس کے ہونٹوں سے بہہ رہا تھا ۔۔۔ اس نے جب دیکھا کہ میں اس کا جائزہ لے رہی ہوں تو کہنے لگا۔۔ باجی آپ کی چوت کا پانی بہت  ۔۔۔ مزے کا ہے ۔۔۔ پھر اس نے اپنی زبان باہر نکالی اور اپنے ہونٹوں کے ارد گرد لگی میری منی کو چاٹتے ہوئے بولا ۔۔۔ باجی ۔۔۔بس ایک دفعہ مجھے اپنے ممے بھی چوسنے دو  ۔۔۔ میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔اور اس کی خوہش کو پورا کرتے ہوئے   اپنی قمیض کو برا  سمیت اوپر کر دیا۔۔۔۔۔  کیونکہ اس وقت  مررا بھی یہی جی  چاہ  رہا  تھا کہ وہ میرے مموں کو چوسے ۔۔جونہی اس کی نگاہ میرے ننگے مموں پر پڑی   ۔۔۔۔۔۔ وہ تو دیوانہ ہو گیا ۔۔۔۔۔اور اس نے    پاگلوں کی طرح ایک نعرہ  مارا  اور میرے مموں پر پل پڑا ۔۔

اور پھر  ایک ایک کر میرے دونوں مموں کو چوسنے لگا ۔۔اس کی اس حرکت سے  ۔ایک دفعہ پھر میری چوت نے پانی چھوڑنا  شروع کر دیا ۔۔۔ اور مجھ پر سیکس کا غلبہ ہونے لگا لیکن وہ میری حالت سے بے نیاز ۔۔۔۔۔۔ میرے ممے چوسے جا  رہا  تھا ۔۔۔۔۔ کافی دیر تک وہ ایسا کرتا رہا اور میں اندر ہی اندر مست ہوتی گئی ۔۔ پھر ۔۔ میں نے اس سے کہا ۔۔۔دلاور ۔۔ اب بس بھی کرو۔۔۔ تو میں بات سُن کر وہ کہنے لگا کیسے بس کروں باجی ۔۔ ان مموں کے نام پر تو میں نے بڑی مُٹھ  ماری  ہے ۔۔۔ لیکن اس کے بعد اس نے میرے مموں کو چوسنا چھوڑ دیا اور پھر ۔۔۔۔۔ گھوم کر میرے پیچھے آ گیا ۔۔۔ اور بولا باجی اب میں آپ کے اندر ڈالنے لگا ہوں ۔۔ اس کی بات سُن کر ۔ اور میں تھوڑا  اور جھک  گئی  اور  میری چوت اس کے  لن  کا   بڑی بے صبری سے  انتظار کرنے لگی ۔۔۔ اب نے اپنی مرضی کے مطابق مجھے سیٹ کیا اور پھر میری چوت کے لبوں پر اپنا لن رکھا اور پھر بڑی نرمی سے  اس کو میری چوت میں  اِن آؤٹ کرنے  لگا ۔۔۔  میری پھدی  خاصی  ٹائیٹ تھی اس لیئے اس  کا   لن پھنس پھنس کر میرے  اندر  جانے  لگا ۔۔۔۔۔ اس کے لن نے  میرے اندر ایک آگ سی لگا دی تھی لیکن میں نے بڑی مشکل سے خود پر جبر کیا 

۔۔ اور اپنے منہ سے نکلنے والی سسکیوں کو روکا۔  گھسے مارتے مارتے اچانک مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری گانڈ پر  تھوک لگا کر اسے  چکنا کر رہا ہے۔میں نے محسوس تو کر لیکن  چُپ رہی ۔ جب  میری گانڈ اچھی طرح سے چکنی ہو گئی تو اس نے اپنا  انگھوٹھا  میری گانڈ  کے سوراخ پر رکھا  اور آ ہستہ سے میری گانڈ میں گھسا دیا    اس پر   میں نےاپنا منہ   پیچھے  کی طرف کر کے اس سے پوچھا ۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ؟ تو وہ ہنستے ہوئے بجائے کوئی جواب دینے کے الُٹا مجھ سے کہنے لگا  ۔۔لگتا ہے ۔۔باجی  قاسم چا چا نے  آپ کی چوت سے زیادہ  آپ کی گانڈ ماری ہے   اس کی بات سُن کر میں نے قدرے غصے سے اس سے کہا کہ بکواس بند کرو ۔۔۔ خان جی تو اس چیز کے شوقین نہیں ہیں وہ تو بس مجھے آگے سے ہی کرتے ہیں ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ ہنسنے لگا اور بولا ۔۔۔ کیا کہا خان جی گانڈ کے شوقین نہیں ہیں ۔۔۔ اور پھر سے گھسے مارتے ہوئے ہنسنے لگا ۔۔۔ تو میں نے چڑ  اس سے کہا ہاں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں وہ بلکل بھی گانڈ کے شوقین نہیں ہیں ۔۔ تو وہ مجھ سے بولا ۔۔۔ جھوٹ مت بولو باجی آپ کے خان جی تو  گانڈ کے دیوانے ہیں  جس کا جیتا جاگتا ثبوت ۔۔ اس وقت آپ کی لے رہا ہے ۔۔۔ اس کی بات سُن کر میں حیران رہ گئی اور اس سے بولی ۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔۔ تو وہ بولا چھوڑو باجی ۔۔۔ایک  آپ کا خان ہی نہیں   بلکہ  یہ سارے ہی  خان اسی چیز کے شوقین ہیں  … اور پھر اس کے بعد اس نے میری جم کر چودائی شروع  کر دی ۔۔۔ اس کے جاندار گھسوں سے میں کوئی تین چار دفعہ فارغ ہوئی ہوں گی لیکن وہ ایک دفعہ بھی ڈسچارج نہ ہوا تھا ۔۔۔ اور اسی ردھم میں میری چوت کو مسلسل  بجاتا رہا ۔۔۔  ۔۔۔۔  پھر کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ دلاور خان کے گھسوں میں مزید شدت آ گئی ہے ۔۔۔ یہ بات محسوس کرتے ہی میری چوت گرمی سے بھر گئی اور میری چوت اس کےلن کے گرد ۔۔ کسنا ۔۔ شروع ہو گئی ۔۔ اور اس کی دیواروں نے اپنے چکنا  پانی  اس کےموٹے لن پرانڈیلنا  شروع کر دیا ۔۔۔ لیکن وہ  اپنے لن کے گرد میری ٹائیٹ ہوتی ہوئی چوت سے بے نیاز زبر دست دھکے مار رہا تھا ۔۔۔ پھر اس نے ایک عجیب حرکت کی ۔۔ وہ یہ کہ اس نے اچانک اپنا لن میری چوت سے باہر نکالا اور میری گانڈ جس کو وہ پہلے ہی اچھی طرح سےچکنا کر چکا تھا میں میں گھسا دیا ۔۔ اندر جاتے ہوئے۔۔۔  بس کچھ سکنڈ کے لیئے مجھے تھوڑا درد ہوا ۔۔۔ پھر ایک دم سے مزے کی  بہت سی لہریں میری گانڈ میں لہرانے لگیں ۔۔۔۔ اور اس دفعہ بھی میں نے اپنی  سیکسی چیخ کو بڑی مشکل سے روکا اور بظاہر بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھنے ہوئے بولی ۔۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟ تو اس نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ تیز تیز گھسے مارنے لگا ۔۔ اور پھر ۔۔۔ اگلے ہی لمحے میں نے اپنی گانڈ میں ۔۔۔ اس کے گرم پانی کی تیز دھاریں محسوس کیں ۔۔  اور اس کے اس چھڑکاؤ نے میرے سارے وجود میں ایک مستی سی بھر دی اور میں نہ چاہتے ہوئے اپنی گانڈ کو اس کے لن کو چاروں طرف سے لپیٹنے لگی ۔۔۔۔۔

  کپڑے پہن کے جب وہ باہر جانے لگا تو میں نے اس  کو روک لیا اور    اس سے کہا کہ دیکھو دلاور ۔۔ میں نے تمھارا کام کر دیا ہے اب تم بتاؤ کہ تم کب میرا کام کرو گے ؟؟ تو وہ ایک دم سیریس ہو گیا اور کہنے لگا ۔۔۔۔ باجی میں نے جو وعدہ کیا ہے یقین کرو میں اسے ہر صورت میں نبھاؤں گا ۔۔۔ بس زرا ۔۔۔ ایک دو دن دے دو ۔۔ کہ اگر میں نے کل ہی اس کو پکڑا دیا تو کہیں وہ شک میں نہ پڑ جائے ۔۔۔۔ بس ایک دو دفعہ پروگرام کرنے کے بعد میں آپ کو  بتا اور سمجھا دوں گا ۔۔۔ پھر کہنے لگا  ۔۔  ایک بات یاد رکھیں  باجی آپ نے اپنے طور پر کوئی کوئی حرکت نہیں کرنی۔۔۔ ورنہ نقصان کی آپ خود ذمہ دار ہوں گی ۔۔۔ بلکہ جیسا میں کہہ رہا ہوں آپ نے ویسا ہی کرنا ہے اور پھر زبردستی سے مجھے چوم کر چلا گیا ۔

  اگلے دو دن  وہ   روزانہ  ہی ہمارے گھر آتا رہا اور میں بس کھڑکی سے اس کو جاتے دیکھتی رہی ۔۔ لیکن اس سے بات کرنے کا موقعہ نہ مل سکا ۔۔ وہ آتا اور گھنٹہ سوا گھنٹہ وہاں گزار کر چلا جاتا تھا ۔۔۔ اور میں کھڑکی میں بیٹھی پیچ و تاب کھاتی رہتی تھی ۔لیکن ایک دفعہ بھی اس نے مجھ سے رابطہ نہ کیا ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی مجھے یقین تھا کہ وہ مجھ سے دھوکہ نیں  کرے گا کیونکہ میں اس کو بچپن سے جانتی تھی ۔۔۔  یہ کوئی دو ہفتے کے بعد کی بات ہے کہ ایک دن صنوبر باجی اپنی  بہن سےملنے گئی تھی کہ اس کے جانے کے تقریباً آدھے گھنٹے کے  بعد  دلاور خان گھر میں آیا وہ بڑی جلدی میں تھا ۔۔ آتے ساتھ ہی کہنے لگا باجی تیار ہو جاؤ کل آپ کا کام ہو جائے گا ۔ اور پھر  کہنے لگا کہ سوری کہ پہلے مجھے آپ سے بات کرنے کا موقعہ ہی  نہ ملا تھا  میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ   خالہ آپ کے چچا کے گھر جانے کے لیئے  ٹال پر آئی تھی اور کل آنے کا کہہ گئی ہے جیسے ہی وہ چچا کے گھر میں داخل ہوئی میں بھاگا بھاگا آپ کے پاس آ گیا ہوں اس کے بعد اس نے مجھے سارا پلان سمجھایا اور آخر میں کہنے لگا کہ باجی مہربانی کر کے آپ نے کوئی شور نہیں کرنا  ۔۔۔ اس کا پلان یہ تھا کہ نمبر وہ کھڑکی جو کہ  برآمدے کی طرف کھلتی تھی اس کے پردہ کو تھوڑا ہٹا دے گا ۔ نمبر 1 یہ کہ وہ دروازے کو لاک نہیں کرے گا اور جیسے ہی صنوبر اس کےلن پر سوار ہونے کے لیئے اس پر چڑھے گی تو میں نے ایک دو گھسوں کے بعد اندر داخل ہو جانا ہے اور ظاہر ایسے کرنا ہے کہ میں کسی کام سے آئی تھی ۔ جب وہ  سارا  پلان بتا چکا  تو میں نے اس سے کہا کہ مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ وہ تمھارے ۔۔۔ اس پر سوار ہے ؟ سُن کر وہ ہنس پڑا اور بولا باجی ابھی بتایا تو ہے کہ میں  برآمدے والی کھڑکی کا پردہ تھوڑا سا  ہٹا دوں گا آپ دیکھتی رہنا  جب وہ میرے )لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے( اس پر سوار ہو گی تو آپ نے ایک دو گھسوں کے بعد اندر آ جانا ہے اور مہربانی فرما کر شور نہیں کرنا بس ایسے ایکٹ کرنا ہے کہ جیسے آپ کسی کام سے آئی ہو ۔۔ تو میں نے اس سوال کیا ۔۔ کہ تم کو کیسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے ۔۔۔اس پر لازمی ہی سواری کرے گی  فرض کرو ۔۔ اگر کل وہ وہاں نہ بیٹھی تو؟ اس پر وہ بڑے یقین سے بولا ۔۔۔ اس بات کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔۔ آپ کو معلوم نہیں  کہ صنوبر خالہ کی تسلی اوپر جمپ  مار مار کر ہی   ہوتی ہے ۔۔۔۔  اس کے بعد ہم دونوں نے پلان کی باقی تفصلات بھی طے کیں ۔۔۔ اور جب وہ مطمئن ہو گیا تو مجھ سے کہنے لگا  اوکے باجی اب میں چلتا ہوں  لیکن جانے سے پہلےایک کس تو دے دو۔۔۔ اور میں نے بظاہر بڑی بے مروتی سے کہا کہ دیکھو  اس دن تم اس کام کا معاوضہ لے چکے ہو ۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔سوچ لو باجی ۔۔۔ کل کوئی گڑ بڑ بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا منہ آگے کر دیا ۔۔۔۔ اور میں اس کی بلیک میلنگ میں آ گئی اور اس کے ہونٹوں کےساتھ اپنے ہوٹ جوڑ دئے ۔۔۔ کس  کرتے کرتے اس نے مجھے اپنی باہوں کے حصار میں لے لیا اور میں نے اپنی رانوں میں اس کا کھڑا لن محسوس کر لیا ۔۔اور میں نے ۔ اپنی رانوں میں اس کا لن کا مزہ  لیا ۔۔۔اور  پھر  ایک دم پرے ہٹ گئی اور بولی ۔۔۔۔ اب تم جاؤ ۔۔ وہ مجھ سے الگ ہو کر جاتے جاتے بولا ۔۔۔ کچھ بھی کر لو میں نے ایک دفعہ اور آپ کی ضرور لینی ہے ۔۔۔ میں نے بھی دل میں کہا جب چاہے لے لینا ۔۔۔ لیکن اوپر سے بولی ۔۔۔ ذیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ اور وہ مجھے ٹاٹا کرتا ہوا چلا گیا ۔۔۔  اس رات میں بڑی مشکل سے سو پائی ۔۔۔۔ اور صبع وقت سے بہت  پہلے ہی میری آنکھ کھل گئی ۔۔ کافی دیر بعد خان جی بھی اٹُھے اور میں نے حسبِ معمول ان کو ناشتہ دیکر دواع کیا ۔۔۔ اور دھڑکتے دل کے ساتھ آ کر اپنی کھڑکی  کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔ خان جی کے جانے کے کوئی آدھے گھنٹے کے بعد صنوبر باجی دروازے پر گئی اور جب وہ واپس آئی تو اس کے ساتھ دلاور خان بھی تھا اس کے ہاتھ میں حسب روایت ایک شاپر تھا جس میں مجھے معلوم تھا کہ اس میں صنوبر باجی کے  ناپ والے  کپڑے ہوں گے جو کہ وہ  بظاہر درزی سے واپس لایا تھا ۔۔۔ وہ دونوں دھیمی آوازوں  میں باتیں کرتے ہوئے۔۔۔صنوبر کے کمرےمیں داخل ہو گئےانہیں اندر جاتے دیکھ کر میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔۔۔ پھر میں نےبڑی مشکل سے 05منٹ گزارے اور پھر میں اپنے کمرے سے  دبے پاؤں چلتے ہوئے صنوبر باجی کےکمرے کی کھڑکی کی طرف چل پڑی ۔۔۔ اور وہاں جاکر نیچے بیٹھ گئی اس وقت میرا دل کنپٹیوں میں دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔ خیر کچھ دیر تک وہاں بیٹھنےکے بعد میں دھیرے دھیرے اوپر  اٹُھی اور ۔۔۔ کھڑکی کے درمیان میں دیکھنے لگی ۔۔۔ لیکن وہاں پردہ لگا ہوا تھا ۔۔۔ میں تھوڑی مایوس ہوئی اور سوچنے لگی کہ اب کیا کروں ؟؟ کہ اچانک میری نظر  کھڑکی کے دوسرے کونے پر پڑی تو وہاں سے مجھے روشنی باہر آتی ہوئی نظر آئی میں فوراً نیچے بیٹھ گئی اور رینگتی ہوئی ۔۔۔ کھڑکی کے اس کونے تک پہنچی ۔۔۔۔ اور پھر دھیرے دھیرے ۔۔ سر اٹُھا کر دیکھا تو ۔۔۔ تو ۔۔۔ کھڑکی سے تھوڑا  ہی دور صنوبر باجی کا پلنگ تھا ۔۔ اور اس وقت وہ پلنگ پرلیٹی ہوئی تھی اور اس کی دونوں ٹانگیں ہوا میں تھی ۔۔جسے دیکھ کر ۔ میں سمجھی کہ دلاور باجی کو چود رہا ہے لیکن یہ کیا ۔۔۔ وہ تو باجی کے  ٹانگوں کے بیچوں بیچ ۔۔۔۔ بیٹھا تھا اور اس نے اپنا  منہ صنوبر کی چوت پر رکھا تھا ۔۔۔ اور وہ صنوبر کی چوت چاٹ رہا تھا ۔۔اور صنوبر ہلکے ۔کراہ رہی تھی اور مزے کے مارے اپنے سر کو دائیں  بائیں  مار رہی تھی ۔۔۔۔دلاور کو چوت چاٹتے دیکھ کر  مجھے یاد آیا کہ سالا بہت اچھی چوت چاٹتا ہے اور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنی چوت چٹائی یاد آ گئی ۔۔۔ چٹائی یاد آتے  ہی میری پھدی میں ایک چنگاری سی بھڑکی اور مجھے ایسے لگا کہ جیسے میرا پیشاب نکل گیا ہو ۔۔۔ اور میں نے بے دھیانی میں نیچے ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ پیشاب نہیں۔۔۔ تھا بلکہ ۔۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر اور اپنا  اپنا    منظر یاد کر کے  میری چوت پانی چھوڑ رہی تھی ۔۔جس کی وجہ سے  میں نیچے سے کافی گیلی ہو گئی تھی ۔۔۔پھر  میں نے دیکھا کہ صنوبر کا جسم ایک دم جھٹکے  مارنا شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔ میراخیال  ہے کہ صنوبر چھوٹ گئی تھی ۔۔۔۔ جیسے ہی صنوبر باجی چھوٹی اس نے دلاور کا اشارہ کیا اور وہ باجی کی چوت سے اٹُھ گیا ۔اور میں نے دیکھا کہ باجی کی کافی منی دلاور کے چہرے پر لگی ہوئی تھی ۔۔ اس کے  باجی بھی پلنگ سے  اٹُھی اور اس نےدلاور کا منہ اپنے سامنے  کیا اور پھر میں نے دیکھا کہ باجی نے اپنی لمبی سی زبان اپنے منہ سے باہر نکالی اور پھر دلاور کے چہرے کے آس پاس لگی اپنی ساری منی چاٹ گئی۔یہ دلکش منظر دیکھ کر ایک دفعہ پھر میری  پھدی نے پانی چھوڑدیا ۔۔ ۔۔۔    

        کسنگ کرنے کے بعد اب دلاور نیچے لیٹا اور میں نے دیکھا کہ صنوبر باجی  اس کے اوپر آ گئی ہے ۔۔۔ جسے دیکھ کر میرا سانس بند ہو گیا ۔۔ میرا خیال تھا کہ اب باجی دلاور کے لن پر سواری کرے گی ۔۔۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔ باجی نیچے جھکی اور دلاورکا لن اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اسے بڑی نرمی اسے آگے پیچھے کرنے لگی ۔۔۔ پھر وہ اور نیچے جھکی اور پھر اس نے دلاور کا لن اپنے منہ میں  لے لیا اور اسے مزے لے لے کر چوسنے لگی ۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ باجی بڑی ہی گرم اور سیکسی عورت تھی ۔۔۔ وہ بڑی ہی مہارت سے دلاور کا لن چوسے جا رہی تھی ۔باجی کو لن چوستے دیکھ کر میرا برا حال ہو رہا تھا ۔۔۔ اور میرے نیچے لگی آگ میرے کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی تھی اور پھر خود بخود میرا ۔ہاتھ اپنی پھدی پر گیا اور میں سامنے کا منظر دیکھتے ہوئے اسے مسلنے لگی ۔۔۔ ۔ پھر کچھ دیر بعد وہ منظر تبدیل ہو گیا ۔۔۔۔اب باجی نے دلاور کا لن اپنے منہ سے نکالا ۔۔۔ اور گھٹنوں کے بل سیدھی  کھڑی ہو گئی۔۔۔۔پھر اس نے اپنے منہ سے تھوک نکال کر اپنی چوت پر لگایا اور ۔۔۔ اپنی ٹانگوں کو  ادھر ادھر کرتے ہوئے دلاور کے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔ جسے دیکھ کر میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔۔ کہ اب میرے  ایکشن کرنے کا وقت قریب آ گیا تھا ۔۔۔پھر  باجی نے دلاور کے  لن کو اپنی چوت پر ایڈجسٹ کیا اور ۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ لن پر بیٹھنے لگی۔۔۔۔۔ اور پھر وہ لن پر بیٹھ گئی اور سارا لن اپنی چوت میں لے لیا ۔۔۔ اس کے بعد اس نے لن کو اپنے اندر باہر کرنا  شروع کر دی ۔۔۔  اور اچانک  ہی میں ہوش میں آ گئی مجھے یاد آیا کہ میں یہاں سیکس سین دیکھنے نہیں آئی بلکہ ان  دوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے آئی ہوں ۔۔۔ ۔۔۔ یہ سوچتے ہی میرا دل دھک دھک  کرنے لگا ۔۔۔ اور میں نے جیسے ہی اپنے قدم صنوبر کے کمرے کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔  پتہ نہیں کیوں میرے دل میں یہ خیال  کہاں سے آ گیا کہ ۔۔۔ اگر ۔۔ صنوبر نے  ویسا   بی  ہیو  نہ کیا  کہ جیسا میں نے سوچا ہے  تو پھر کیا ہو گا  ؟؟؟؟؟۔۔  اگر معاملہ الُٹ ہو گیا  تو؟؟؟ ۔۔۔ صنوبر باجی ایک چھٹی ہوئی چالاک عورت تھی ۔۔۔۔ الٹا  اس نے مجھ پر کوئی الزام لگا دیا تو ۔۔۔؟  وہ لوگ پاور میں تھے اور دلاور ان کا ملازم تھا  ۔۔۔ اگر دلاور بھی صنوبر  کے ساتھ مل گیا تو ؟ اور سب سے بڑی بات یہ کہ  کیا واقع ہی دلاور نے کنڈی کھولی ہو گی ؟ اگر دروازہ لاک ہوا تو؟   سوچوں کا ایک طوفان تھا جس نے میرے سارے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔۔۔۔۔ گو مگو کا شکار ہو رہی تھی ۔۔۔۔ صنوبر کے آگے میری حیثیت صفر تھی ۔۔۔  اس وقت وہ گھر کی کار مختار تھی ۔۔۔۔ اگر۔۔۔وہ بجنگ آمد ہو گئی تو۔۔۔۔؟؟؟؟ یہ باتیں سوچتے ہوئے میں  میں دھیرے دھیرے صنوبر کےکمرےکی طرف بڑھنے لگی۔اور پھر اس کے دروازے پر پہنچ گئی ۔۔۔۔ اس کے بعد مزید آگے کی  طرف بڑھتے ہوئے میرے قدم من من بھر کے ہو گئے  اور میرے سارا بدن پسینے میں نہا  گیا ۔جب میں نے دروازے کے ہنڈدل پر ہاتھ  رکھا تو ۔۔۔میرے اندر ۔۔ سوچیں وسوسے ۔اور       نامعلوم اندیشے سر اٹُھانے لگے ۔۔۔پھر  میں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ سے دروازے کے ہنڈنل پکڑ کر  گھمانے کے لیے ذور    لگایا  تو۔۔اچانک۔

     پھراچانک ہی  میرے ذہن میں آیا کہ میں اتنی کمزور کیوں پڑ رہی ہوں ؟ اگر میں نے ایسے ہی بزدلی دکھانی تھی تو ۔۔۔ پھر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔اور سب سے بڑی بات یہ  کہ میں نے اس کام کے عوض اپنی عزت لٹُوائی ہے  پہلی بار کسی غیر مرد کے نیچے لیٹی ہوں ۔۔ اور اب میں ؟؟    ۔۔۔ پھر میں نے خود سے کہا  ہمت پکڑو مرینہ ۔۔۔۔۔وہ تمھارا کچھ  بھی نہیں بگاڑ سکے گی  ۔ ۔۔۔ اس  بات نے میری کچھ  ڈھارس بندھائی اور پھر میں کچھ دیر کے لیئے رُک گئی کیونکہ اس وقت میرے منہ پر بارہ بج رہے تھےاور مجھے ایسی حالت میں دیکھ کر صنوبر نے کبھی بھی  مجھ سے  نہیں ڈرنا تھا ۔۔۔ اس لئے میں کچھ دیر تک ٹھہری  رہی ۔۔۔ پھرجب میرے  اوسان  کچھ بحال ہوئے  ۔۔۔ اور میں دوبارہ سے اپنی پہلی والی پوزیشن پر آ گئی تو میں نے ۔۔۔ بڑے اعتماد سے ہینڈل گھمایا ۔۔۔۔۔ دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔۔ سو میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور ۔میں اندر چلی گئی  ۔۔۔۔ جس وقت میں کمرے   داخل ہوئی تو اس وقت صنوبر اپنے عروج پر تھی

۔۔۔۔ اور وہ   دلاور کے لن پر چڑھ کر زبردست   جمپیں لگا  رہی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔  یہ سارا منظر دیکھنے کے بعد میں  نے اونچی آواز میں کہا ۔۔۔ ۔۔۔ وہ باجی ۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ پھر ۔۔پھر۔ بظاہر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے والا  منظر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی صنوبر کی مجھ پر نظر پڑی ۔۔۔۔ تو  وہ حقا  بقا   رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے چہرے پر ہوائیں اڑُنے لگیں ۔اور اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ کاٹو  تو لہو نہیں ۔۔۔ ۔پھر مجھے ایسا لگا کہ   چند  سکینڈ کے لیئے   یہ سارا منظر تھم سا گیا  ہو ۔۔۔۔۔ پھر اچانک جیسےصنوبر  کو ہوش سا آ گیا ۔۔۔ اور وہ جلدی سے دلاور کے لن سے نیچے  اتُری ۔۔۔ اس کی دیکھا دیکھی دلاور  نے بھی جمپ لگائی  اور پلنگ سے نیچے اترآیا ۔۔۔۔۔۔ اور اپنے لن کو دونوں ہاتھوں سے ڈھانپ کر   میرے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔ قربان جاؤں میں اس کی ایکٹنگ پر ۔۔کہ ۔۔ وہ   میری طرف دیکھ کر۔۔۔ تھر تھر کانتپے ہوئے  رونے لگا ۔۔۔  دلاور کو روتے دیکھ کر ۔۔۔۔۔ صنوبر ایک دم مزید پریشان ہو گئی اور اس نے جلدی سے ایک چادر لی اور اس سے اپنا بدن ڈھانپا اور  مجھے نظر انداز کرتے ہوئے  دلاور سے بولی۔ ۔۔۔۔۔ دلاور تم جاؤ ۔۔۔۔ دلاور نے ایک نظر مجھے دیکھا ۔۔۔۔ اور میں نے بھی اس کی طرف  دیکھا تو اس  وقت وہ  پلنگ سے اپنی قمیض اٹُھا رہا تھا اور اس  وقت اس کا بڑا سا لن سُکڑ کر چھوٹا سا رہ گیا تھا   ۔۔۔۔ بلا شبہ وہ بڑا اچھا  ایکٹر تھا ۔اس  نے  صنوبر کی بات سُن کر ایک بار پھر میری طرف دیکھا تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ اگر باجی کہہ رہی ہے  جاؤ ۔۔۔ تو تم جاؤ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ میری بات سُن کر  صنوبر نے  بڑی تشکر بھری نظروں میری طرف  دیکھا اور ۔۔۔ پھر خود بھی کپڑے پہننے لگی ۔۔۔۔ میں  اس ساری کاروائی کے دوران بلکل چُپ رہی اور پلان کے مطابق  اپنا کوئی بھی ردِ عمل نہ شو کیا ۔۔۔۔ 

ادھر دلاور نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور خوف  ذدہ  ہونے کی ایکٹنگ کرتا  ہوا   دروازہ  کھول کر  بھاگ گیا ۔۔۔ اس کے جانے کے بعد میں بھی بنا کوئی لفظ کہے ۔۔۔باہر کی طرف جانے لگی ۔۔۔ تو اچانک پیچھے سے صنوبر نے آواز لگائی۔۔۔۔۔ ایک منٹ مرینہ !!!!! اور میں وہان رُک گئی اور مُڑ کر صنوبر کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور ۔۔۔ میرے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔ کافی دیر تک وہ  یوں ہی اپنی نظروں کو  جھکائے  کھڑی رہی ۔۔ ۔۔ پھر ۔۔۔ اس نے اپنا سر اٹُھا کر میر ی طرف  دیکھا اور ٹھہر ٹھہر کر بڑی آہستگی سے بس اتنا  ہی بولی  ۔۔۔سوری ۔۔۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ مرینہ ۔۔۔۔ !!! میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا  اور آگے بڑھ کر صنوبر باجی کو  اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔ اور ان  سے بولی ۔۔۔۔سوری  تو مجھے کہنا  چاہئے تھا   باجی ۔۔۔۔ میرا ان کو  گلے سے  لگانے کی دیر تھی کہ    اچانک  ہی  وہ   پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔ اور ساتھ ساتھ ۔۔ کہتی  جاتی ۔۔۔۔ میں تم کو غلط سمجھی تھی ۔۔۔ مجھے معاف کر و۔۔ میں نے اسے چُپ کرانے کی کوئی کوشش نہ کی اور اسے کھل کر رونے دیا۔۔۔  ۔۔۔کافی دیر بعد جب وہ شانت ہوئی تو میں نے اسے اپنے گلے سے الگ کیا اور بولی ۔۔۔۔ اچھا باجی اب میں چلتی ہوں ۔۔اور سنجیدہ سا منہ بناتے ہوئے    تیز تیز قدم اٹُھا کر  باجی کے کمرے سے  باہر آگئی اور پھر تقریباً بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں گئی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی ۔۔ذور  سے۔۔۔ "لوشے" ۔کہا ۔۔۔ اور ۔پھر ۔۔ خوشی کے مارے  خٹک ڈانس کرنے لگی ۔۔۔ آج  میں بہت خوش تھی ۔۔۔ میں نے اپنی  سب  سے بڑی  دشمن ۔۔ صنوبر کو  ایسی اخلاقی  مار مری تھی ۔۔۔۔ کہ مجھے یقین تھا کہ آج کے بعد  وہ  مجھے کبھی بھی تنگ نہیں کرے گی ۔۔۔ کچھ دیر کی اچھل کود کے بعد میں شانت ہو گئی اور پھر سونے کے لیئے  لیٹ گئی ۔۔۔۔