951

یو_آر_مائن

"عائشہ مریم آئی ہے تم سے ملنے"
نزہت بھابھی نے عائشہ کو کہا اور نہوست سے سر جھٹک کر وہاں سے چلی گئیں عائشہ جو کہ آٹھ ماہ کی دعا کو سلا رہی تھی بچی کو بیڈ پر لٹا کر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی

"کیسی ہو عائشہ اور کیا حال بنا رکھی ہے تم نے" مریم آٙٹھ سالہ بچے کو لے کر عائشہ کے کمرے میں آئی اور حیرت سے اپنی دوست کو دیکھتے ہوئے کہا کملایا ہوا مرجھایا ہوا روپ وہ کہی سے بھی اس کی پیاری دوست عائشہ معلوم نہیں ہو رہی تھی

"تم کیسی ہو مریم اور یہ تمہارا بیٹا ہے نہ ماشاء اللہ کتنا بڑا ہو گیا دو سال کا تھا جب دیکھا تھا"
مریم نے عائشہ سے مل کر اس کے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے کہا جو کہ سوتی ہوئی ننھی سی گڑیا کو دیکھنے میں مصروف تھا

"تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی اور اسرار بھائی کہاں ہیں۔۔ عائشہ تم نے ذرا اچھا نہیں کیا اپنے ساتھ کتنا منع کیا تھا میں نے اپنے گھر والوں کے خلاف جاکر اس طرح شادی نہیں کرو"
مریم کو عائشہ کی حالت دیکھ کر افسوس ہو رہا تھا کیونکہ عائشہ اور مریم بچپن کی دوست تھی ایک ساتھ پلی بڑھی تھی اسکول بھی ایک ساتھ جاتی گھر بھی ایک محلے میں تھا۔۔۔ انٹر کے بعد مریم کا اچھے گھرانے سے رشتہ آیا تو مریم کے والدین اپنی بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہوئے جب کہ عائشہ نے اپنی تعلیم مزید جاری رکھی،، شادی کے بعد بھی مریم اور عائشہ کی دوستی میں کمی نہیں آئی

ایسے ہی ایک دن عائشہ نے اسے بتایا وہ اسرار کو پسند کرتی ہے جو کہ ان کے گھر میں کا نیا کرائے دار ہے مریم نے اسے سمجھانا۔۔۔کہ وہ اجنبی پر کیسے اعتبار کر سکتی ہے، اس کے آگے پیچھے کا کچھ معلوم نہیں۔ ۔۔کون ہے کہاں سے آیا ہے کہاں رہتا تھا پہلے۔۔۔ اس کی فیملی کہاں ہے یہاں تک کہ عائشہ کا بھائی بھی راضی نہیں ہوا مگر مسلسل عائشہ کی ضد کے آگے انوار بھائی نے عائشہ کی شادی اسرار سے کروا دی

"مریم اسرار برے نہیں ہیں ان کے ساتھ کچھ کاروباری مسائل ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے مجھے یہاں انوار بھائی کے پاس چھوڑ دیا ہے خیر یہ چھوڑو تم بتاؤ پاکستان کب آئی"
عائشہ نے مریم سے پوچھا

مریم شادی کے تین سال بعد ہی اپنے شوہر یاور کے ساتھ سعودیہ شفٹ ہو گئی تھی۔۔۔مگر ٹیلیفون اور خط و کتابت کے ذریعے ایک دوسرے سے دوستی کا سلسلہ جاری رکھا اور اب دوبارہ یاور کا ٹرانسفر پاکستان میں ہوگیا تھا تبھی مریم عائشہ سے ملنے آئی

"یہ ننھی سی گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہے مجھے دو اسے پلیز"
مریم نے سوتی ہوئی گول مٹول سے دعا کو دیکھ کر کہا تو عائشہ نے مسکرا کر اپنی بیٹی مریم کی گود میں دے دی

"ماما یہ گڑیا نہیں یہ تو اسنووائٹ ہے اسے اٹھائے مجھے اس سے کھیلنا ہے اور باتیں کرنا ہے"
مریم کے بیٹے نے اپنی ماما سے آکسائیٹڈ ہوتے ہوئے کہا

"بیٹا اسنووائٹ ابھی بہت چھوٹی ہے اور ابھی سو رہی ہے جب یہ بڑی ہوجائے گی تو آپ اس کے ساتھ کھیلنا بھی اور باتیں بھی کرنا" مریم نے اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو سمجھایا

****

"آو آفیسر میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا کرنل فراز نے سامنے سے اپنی طرف آتے ہوئے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"کہیے سر کیسے یاد کیا آج آپ نے" آفیسر نے کرنل فراز سے مصافحہ کرکے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا

"ایک ضروری کیس کے سلسلے میں تمہیں یاد کیا ہے پچھلے کیسسز میں تمہاری پرفارمنس بہت شاندار رہی ہے اسلیئے کرنل صفدر اور میں نے طے کیا کہ یہ کیس تمہیں سونپا جائے۔۔۔ مگر یہ کیس تمہارے پچھلے کیسز کی بانسبت تھوڑا مختلف نوعیت کا ہے اور کہا جاسکتا ہے۔۔۔۔ تھوڑے سے ذرا زیادہ رسکی اور خطرناک ہے"
کرنل فراز کے بتانے پر آفیسر نے مسکرا کر کرنل فراز کو دیکھا

"سر اگر میں خطرے اور رسک کے بارے میں سوچتا تو یہ لائن کبھی بھی اپنے لیے منتخب نہ کرتا خیر آپ بتائیں کہ کیس کس نوعیت کا ہے اور کس سے ریلیٹڈ"
آفیسر نے دلچسپی لیتے ہوئے کیس کے متعلق جاننا چاہا

"یہ ہمارے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ بیرونی عناصر سے زیادہ کچھ ایسے لوگ ہمارے ملک میں ہیں۔۔۔جو اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں لگے ہوئے ہیں، میں چاہتا ہوں ان لوگوں کے چہرے بے نقاب کئے جائیں اور ان کے اصل چہرے سامنے لائے جائیں۔ ۔۔۔اس میں ہمیں تمہارے تعاون کی ضرورت پڑے گی"
کرنل فراز نے کیس کے حوالے سے آفیسر کو بتایا

"سر ایسے لوگوں کے چہرے ضرور بے نقاب ہوں گے اور سب کے سامنے آئیں گے جو اپنے ملک کے وفادار نہیں مجھے خوشی ہوگی کہ اس  لوگوں کو انکے انجام پر پہنچا سکوں"
آفیسر نے ایک عظم سے کرنل فراز کو کہا

"گڈ آفیسر مجھے تم سے یہی امید تھی اور تم اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اس کیس کو سولو کرو گے۔۔۔ مجھے اس بات کا بھی یقین ہے"
کرنل فراز افیسر  کو سرہاتے ہوئے کہا

"کیس کے متعلق ساری ڈیٹیلیز اس فائل میں موجود ہیں"
کرنل فراز نے ٹیبل پر رکھی فائل آفیسر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔ آفیسر نے فائل تھامی اور دیکھنے لگا
آفیسر کی آنکھوں میں سب سے پہلے شناسائی کی رمک جاگی پھر حیرت کا عنصر ابھرا اس کے بعد آنکھوں میں سرد تاثر اور ماتھے پر شکنوں کا جال سجائے وہ فائل دیکھتا گیا

"یاد رہے یہ ساری معلومات ضیغہ راز رکھنا ہے میڈیا تک یہ بات پھیلنی نہیں چاہیے اور بہت زیادہ محتاط ہوکر تمہیں اس پر ورک کرنا ہوگا"
کرنل فراز نے اس کے چہرے پر اتار چڑھاو دیکھ کر اس کو ہدایت دی

"آپ فکر نہیں کریں ویسے اس کیس کے متعلق اور کس کس کو معلوم ہے"
آفیسر نے چہرے کے زاویے درست کرکے  فائل بند کرتے ہوئے کرنل فراز سے پوچھا

"کرنل صفدر اور میجر ابراہیم اس کیس سے متعلق آگاہی رکھتے ہیں اور تمہیں گھر بلانے کا مقصد یہی تھا کہ میں اپنی اور تمہاری ملاقات بھی کچھ سینئر آفیسر سے پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا"
کرنل فراز نے آفیسر کو دیکھتے ہوئے کہا

****

"آکا کہاں ہیں آپ" مشعل نے گھر میں آتے ہی آکا کو آواز دی

"آ گئی تم آج کافی دیر نہیں ہوگئی"
آکا کچن سے نکل کر مشعل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگیںں

"جی آج سیلری ملی تھی تو سوچا ہانی کے لئے دو تین سوٹ لے لوں اور آپ کی میڈیسن بھی ختم ہوگئی تھی بس انہی چکروں میں وقت کا اندازہ نہیں ہوا۔۔۔۔ ہانی کہاں ہے نظر نہیں آرہا"
مشعل نے دوپٹہ اور بیگ سائیڈ پر رکھ کر دوسرے کمرے میں جھانکتے ہوئے ہانی کا پوچھا

"پڑوس میں جو نئے بچے آئے ہیں انہی کے ساتھ کھیل رہا ہے"
 آکا نے مشعال کو پانی کا گلاس ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا

"آکا میں نے آپ کو منع کیا ہے اس طرح ہانی کو کہیں نہیں بھیجا کریں"
مشعل پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر دوپٹہ اوڑھتی ہوئی برابر والے گھر میں چلی گئی۔۔۔ ہانی کے معاملے میں وہ حد درجہ پوزیسیو تھی وجہ یہ بھی تھی کہ ہانی ہی اس کی کل کائنات تھا یا شاید ہر ماں اپنی اولاد کے لئے ایسے ہی ہوتی ہے

"کتنی بار منع کیا ہے آپکو کہ باہر نہیں نکلا کرو اکیلے"
وہ ہانی کو گود میں اٹھائے ہوئے واپس لائی اور پیار سے سمجھانے لگی

"مما آکا ہانی کے ساتھ نہیں کھیلتی ہیں"
ساڑھے تین سالہ ہانی نے مشعل کو باہر بچوں کے ساتھ کھیلنے کی وجہ بتائی

"میری جان اکا تھک جاتی ہیں سارا دن آپ کو دیکھتے دیکھتے۔۔۔ آپ کی بہت کمپلینز ملتی ہیں مجھے۔۔ آپ آکا کو پریشان نہیں کیا کرو یہاں بیٹھو اور دیکھو مما آپ کے لئے کیا لے کر آئی ہیں"
مشعل نے شاپنگ بیگ سے کپڑے نکالتے ہوئے کہا

"مما ہانی کو کار چاہیے جیسے ثوبان کے پاس ہے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی"
ہانی نے مشعل سے فرمائش کرتے ہوئے کہا

"اوکے نیکسٹ ٹائم وہ بھی لا دو گی لیکن آپ ابھی کھیلوں روم میں جاکر شاباش"
مشعال نے اس کو بہلاتے ہوئے کہا

"اکا اپنی میڈیسن لے لیں آپ اور یہ سیلری بھی"
مشعل نے دونوں چیزیں آکا تھماتے ہوئے کہا

"علیم (مکان مالک) آیا تھا آج۔۔۔ پچھلے دو مہینے کا کرایہ نہیں دیا تو کہہ رہا تھا گھر خالی کرنے کو"
آکا نے اترے ہوئے چہرے کے ساتھ مشعل کو بری خبر سنائی۔۔۔۔ جسے سن کر ایک پل کے لئے اس کے چہرے پر بھی فکرمندی اور تفکرات کے سائے لہرائے مگر اگلے ہی پل خود کو مضبوط بناتے ہوئے بولی

"آپ ٹینشن مت لیں علیم بھائی سے میں خود بات کر لو گی"
مشعل نے جھریوں زدہ ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے آکا کو اطمینان دلایا

****

صبح ہلکا سا ہوتا سر کا درد اب اس کے لئے ناقابل برداشت ہوگیا تھا آفس ٹائم ختم ہونے میں ابھی تین گھنٹے باقی تھے مگر اریش اپنا لیپ ٹاپ بند کر کے سیکرٹری کو بتاتا ہوں افس سے نکل گیا۔۔۔۔ بار بار اپنی کنپٹی دباتا ہوا وہ کار ڈرائیو کرتا ہوا وہ گھر کے گیٹ پر پہنچا تو۔۔۔ واچ مین کو گیٹ پر موجود نہ پا کر اسے کوفت کا سامنا کرنا پڑا 4 سے 5 ہارن دینے کے بعد بھی جب کوئی رسپانس نہ آیا تو اس نے کار سے نکل کر خود گیٹ کھولا اور اندر آیا۔۔۔۔ مگر گھر کے اندر داخل ہوکر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کا غصہ ساتویں آسمان پر چڑھ جانے کے لئے کافی تھا

ہال میں موجود فل سائز ایل ای ڈی پر واچ مین کک مین اور باقی دونوں گھر کے ملازم فل والیوم کرکے کرکٹ میچ دیکھنے میں مگن تھے ٹیبل پر کھانے پینے کی اشیاء پھیلی ہوئی تھی۔۔۔صوفے سے کشن نیچے گرے ہوئے تھے کوئی آرام سے لیٹا ہوا تھا کوئی پیر اوپر کرکے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا کوئی میچ کے ساتھ کھانے پینے میں مصروف

"کیا ہو رہا ہے یہ سب"
آریش کی گرجدار آواز پر سب نے بیک وقت گردن موڑ کر دروازے پر کھڑے اریش کو دیکھا اور سب اس کو دیکھ کر مودبانہ انداز میں کھڑے ہو گئے

"یہ میرا گھر ہے کوئی ہوٹل یا مچھلی بازار نہیں۔۔جینی کہاں ہیں" آریش میں ڈپٹتے ہوئے جینی کے بارے میں دریافت کیا جو کہ اپنی نگرانی میں سب سے گھر کا کام کرواتی تھی

"صاحب جینی میڈم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے اپنے کواٹر میں موجود ہیں"
واچ مین تھوک نکالتے ہوئے اریش کو بتایا

"دو منٹ کے اندر اندر یہاں کا پورا نقشہ درست کرو اور جینی کو میرے روم میں بھیجو"
آریش نے گھور کر سب کو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا تبھی سب کی جان میں جان آئی

****

رات کا پہر تھا جب درخت کی آڑ میں سے ایک ہیولہ نکل کر اور دیوار پھیلانگتا ہوا گھر کے اندر آیا۔۔ 15 منٹ کے لئے اس گھر کے تمام کیمرے ڈی ایکٹیویٹ کیے گئے تھے۔۔۔ اس وقت پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا وہ پورے گھر کا جائزہ لیتا ہوا ایک ایک چیز دماغ میں بٹھاتا ہوا۔۔۔۔۔ آخر میں سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس کمرے کے سامنے آیا جہاں آنا فل الحال اس کے پلان میں شامل نہیں تھا مگر کبھی کبھی انسان اپنی خواہشات کو روک نہیں پاتا

"وہ کیسی ہوگی"
یہی سوچتا ہوا دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے ہینڈل گھما کر روم کا دروازہ کھولا اور روم کے اندر داخل ہوا ٹارچ کی روشنی سے روم کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے وہ بیڈ کی طرف بڑھا
وہ دنیا جہاں کو بھلائے ہوئے بیڈ پر مزے سے سو رہی تھی۔۔۔۔ ٹارچ کی روشنی سے اس کو دودھیاں چہرہ دیکھنے لگا

"بالکل نہیں بدلی"
اپنے آپ سے دل میں کہتا ہوا مزید اس کے مزید قریب آکر اس کے چہرے کا ایک ایک نقش اپنی آنکھوں میں ازبر کرنے لگا۔۔۔۔
اس کی نظر تھوڑی کے خم پر چوٹ کے نشان پر گئی۔۔۔ جو انجانے میں تابی کو تکلیف دینے کا باعث بنی تھی، ہاتھ سے گلف اتار کر انگلیوں کے پورو سے وہ اس کی تھوڑی کے خم  کو چھونے لگا۔۔۔

آنکھوں پر پڑنے والی ٹارچ کی روشنی اور اپنے چہرے پر کسی کے انگلیوں کے لمس سے  اس کی آنکھیں کھل گئی۔۔۔اپنے اوپر کالے لباس میں، چہرے کو ماسک سے کور کیے اس ہیولے کو دیکھ کر ایک پل کے لئے تابی کا دل دہل گیا،،، خوف کے مارے دلخراش چیخ اس کے لبوں سے نکلتی اس ہیولے نے اپنا مضبوط ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھا

"آواز نہیں نکالنا صرف یہ بتانے آیا ہوں  یو آر مائین"

اپنا چہرہ تابی کے کان کے قریب لا کر وہ سرگوشی کرتا ہوا بولا

اس سے پہلے تابی اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے کا ماسک ہٹاتی۔۔۔ اس نے تابی کا ارادہ بھانپ کر اپنے دوسرے ہاتھ سے تابی کا ہاتھ پکڑا

"نہیں ڈارلنگ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم میرا چہرہ دیکھ سکو"
تابی کے ہونٹوں سے اپنا فولادی ہاتھ ہٹا کر اس نے تابی کی گردن کی مخصوص رگ دبائی جس سے تابی ہوش و حواس کی دنیا سے بیگانہ ہوگئی۔۔۔ اس نے تابی کا ہاتھ چھوڑ کر اپنا چہرے سے ماسک اتارا اور لیمپ آن کرکے اسے بغور دیکھنے لگا جیسے ہی اس نے اپنے ہونٹ تابی کے ہونٹوں کے قریب لا کر اپنے آپ کو سیراب کرنا چاہا۔۔۔۔ باہر سے، کمرے کی طرف بڑھتے قدموں کی آواز نے اس کے دماغ کو الرٹ ہو جانے کا حکم دیا حکم کی تعمیل کرنا کرتا ہوا وہ تیزی سے ٹیرس کی طرف بڑھا

"تابی دروازہ کھولو"
وہاج نے دروازہ ناک کیا تو کوئی جواب نہ پاکر اس نے ہینڈل گھمایا دروازہ کھل گیا۔۔۔۔ روم میں آ کر لائٹ ان کی تو تابی کو بیڈ پر سوتے ہوئے پایا پورے کمرے پر ایک نظر ڈال کر وہاج دوبارہ لائٹ بند کرکے واپس چلا گیا۔۔۔
ٹیرس میں موجود ہیولا آہستہ آہستہ پائپ کے راستے سے نیچے اترا گھر کی دیوار پھیلاؤ کر اندھیرے میں غائب ہوگیا


جاری ہے