673

یا ربا عشق کیوں ہوا قسط2

جنت حسین بہت نروس اور شاید تھوڑی خوش بھی تھی. آج اسے پہلی بار دانیال سے بات کرنے کا موقع ملا تھا .
ہیلو کیا آپ ہے جنت حسین (دانیال اس کے پاس آکر پوچھتا ہے) 
جی جی اور آپ (وہ اسے پہچان چکی تھی مگر پھر بھی جان بوجھ کر پوچھا) 
میں دانیال علی. آپ کے ساتھ آج ماڈلینگ کروں گا (اس نے ہسنتے ہوئے جواب دیا) 
پھر کافی دیر ان دونوں میں باتیں ہوتی رہی. اس کے بعد ملا قات کا سلسلہ دونوں میں جاری رہا .
part#2
دانیال آج تم ہمارے ساتھ پارٹی میں جاؤں گے. پرویز صاحب بھی آرہے ہیں. معلوم ہے ناں تمہیں میں نے پہلے بتایا تھا. ان کی بیٹی ندا پرویز بھی آرہی ہے. 
ماما آپکو معلوم ہے ناں میں نے جنت کے ساتھ جانا ہے. 
بیٹا تم کبھی بھی جاسکتے ہو جنت کے ساتھ. جنت کہاں بھاگی جارہی ہے مگر ندا جیسی سونے کی چڑیا کبھی نہیں ملے گی. 
ٹھیک ہے (دانیال سازشی نظروں سے دیکھتا ہے) پھر میسج کرکے جنت کو excuse کردیتا ہے 
ماما آپ اپنے انٹرسٹ کےلیے میرا سودا کررہی ہے آپکو معلوم ہے ناں میرا تو. 
میرا انٹرسٹ. تم لاکھ پتی بن جاؤں گے ندا سے شادی کرکے. ندا سے ملو تو سہی تمہیں پسند آئے گی(ابھی اتنا ہی کہتی ہے کہ ندا آرہی ہوتی ہے) 
سیلف لیس ڈریس میں ملبوس,بال کھلے ہوئے اور ڈوپٹے کا نام نشان نہی .
ہیلو آنٹی (ندا ممتاز بیگم کے پاس آکر کہتی ہے) 
ہیلو بیٹا کیسی ہو. میرے بیٹے سے ملو یہ دانیال علی............ 
ہیلو (دانیال اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہتا ہے) 
Hello nice to meet you 
ڈنر کے دوران وہ بہت سی باتیں کرتے ہیں. ندا ساری باتوں کا ہنس ہنس کر جواب دیتی ہے. ممتاز بیگم دل ہی دل میں سوچ رہی ہوتی ہے پراپرٹی کے بارے میں.........

Part#1
بیٹا تم سے ایک بات کرنی ہے آؤ میرے پاس بیٹھو (جنت کو صبح یونیورسٹی جاتے وقت) 
جی بابا (وہ تھوڑے ڈرے ہوئے انداز میں کہتی ہے) 
بیٹا میں کافی دنوں سے دیکھ رہا ہوں تم نماز نہیں پڑھ رہی بیٹا نماز سے دل کو سکون ملتا ہے. 
باقاعدگی سے نماز پڑھا کرو بیٹا. 
جی ابو(اس نے اپنے آپ کو محسوس کیا کہ اب تک اس کی چوری پکڑی نہیں گئی) 
تم پریشان کیوں ہو (اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا) 
نہیں پریشان نہیں (آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا) 
Part#2
ملائکہ بیگم طہٰ صاحب کو دولہا کب بنا رہی ہے (اشرف نے کپ پکڑاتے ہوئے کہا) 
اشرف بابا آپ کو تو پتا ہے جنت ابھی پڑھ رہی ہے. اور طہٰ بھی ابھی اس ذمہ داری کے لائق نہیں........ (مسکراتے ہوئے) میں تو خوب ناچو گا آخر ہمارے طہٰ صاحب کی شادی ہوگی. (طہٰ لاوئنج میں داخل ہورہا ہوتا ہے اور یہ سب سن کر مسکراتا ہوا سلام کرکے کمرے میں چلاجاتا ہے) 
کیا ضرورت تھی جنت کو جھوٹ بولنے کی کیا وہ بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ ماڈلینگ میں حصہ لے رہی ہے. شاید وہ اور بھی بہت کچھ چھپا رہی ہے. 


بی بی صاحبہ آپ سے ایک بات کہو اگر آپ برا نہ مانے. 
"ہاں کہو "وہ اس کی طرف دیکھ کر بولتی ہے .
آپ زندگی کے ہر مقام پر غلط راستہ ہی کیوں چنتی ہے. (اس کی اس بات پر مجھے حیرانی ہوئی) 
بی بی صاحبہ معاف کیجئے گا میں کچھ زیادہ ہی بول رہی ہوں. مگر میں آپکو غلط راستے پر چلتا دیکھتی ہوں تو دکھ ہوتا ہے.. 
(جنت بے بسی سے ہستی ہے) 
آپ کہتی ہے کہ آپ اس دنیا کے سفر میں اکیلی ہے ؟؟؟؟؟
ہاں سچ بھی یہی ہے (وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہے. 
میں نے سنا ہے کہ اللّٰہ ہر وقت ساتھ ہوتا ہے. جب آپ سے دنیا روٹھی تو آپ نے خودکشی کرلی. آپ شیطانی دنیا کو اپنانے چلی. مگر آپ نے جتنی بار بھی خودکشی کرنے کی کوشش کی اگر ایک بار بھی خدا کو راضی کرنے کی کوشش کرتی تو آج اکیلی نہ ہوتی (میں اسے دیکھتی رہی مگر وہ وہاں سے چلی گئی) 
Episode :7
Part#1
آپ اتنی خاموش کیوں رہتی ہو اب (نقاب پوش لڑکی نے چمکی ہوئی آنکھوں سے کہا) 
اب شاہد خاموشی میرا مقدر بن گئی ہے. 
اور کوشش کررہی ہوں اللّٰہ کی غلام بن جاؤں بس. میں نے کل کچھ لائین لکھی. 
میری زندگی میری خاموشی ہے. 
میری خاموشی ایک عبادت ہے. 
عبادت ایک رضائے خدا کا ذریعہ ہے .
رضائے خدا ایک سکون قلب ہے .
سکون قلب خوش قسمتی سے ملتا ہے. 
واہ کیا بات ہے. 
تم کتنی خوش قسمت ہو کتنی اچھی ہو. اللّٰہ کی کتنی پسندیدہ بندی ہوگی (اس بات پر اس کی آنکھوں میں آنسو آگے)
میں اس کے آنسو دیکھ کر گبھرا گئی. "میں معذرت چاہتی ہوں "
کوئی بات نہیں کیا تم میرے ساتھ میرے گھر چلو گی میں تم کو سب بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہوں. 
میں چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑی وہ مجھے ایک کمرہ نماں گھر میں لے گئی...... سادہ اور سکون دہ چھوٹا سا گھر....... 
اس نے اپنا نقاب اترا اور بولا بیٹھو........ میں چپ چاپ بیٹھ گئی. وہ خاموشی کے تالے توڑنے والی تھی میرے دل میں ہلچل مچ گئی. 
تم دنیا میں میری واحد دوست ہو میں نے تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے اپنائیت دیکھی ہے. اور میں دعا کروں گی کبھی تمہاری زندگی میری جیسی نہ ہو. (میں خاموش رہی) 
میں ایک ماڈل اور مغربی لباس پہنے والی لڑکی تھی. مگر معلوم نہیں کب مجھے محبت کے نشے نے جکڑ لیا. تم نے ایک درخت دیکھا ہے ناں......... میں اس کی شاخوں کو محبت اور نیچلے حصے کو عشق سمجھتی ہوں................میں آہستہ آہستہ محبت کے نشے سے عشق کے نشے میں ڈوب گئی. معلوم نہیں چلا کب دنیاوی چیزوں سے دل بھر گیا. میں نے ایک لڑکے کو پیار کیا ٹوٹ کر چاہا. مگر اس نے مجھے ٹھکرا دیا (مجھے ایسا معلوم ہوا کہ وہ میری کہانی مجھے سنا رہی ہے) 
وہ مگر کسی اور کو پیار کرتا تھا....................میں نے بغیر کچھ کہے قدم پیچھے کرلیے اور سوچا میں کیوں نہ اس سے پیار کروں جو مجھ سے بے انتہا پیار کرتا ہے. وہ صرف اور صرف خدا ہے. اس کے بعد میں تبدیل ہوگی مگر نا جانے کیوں عبادت ابھی تک نا مکمل ہے. 
میں تو کافر تھی ایک شخص کی محبت میں 
عشق ہوا تو اُس خدا نے مسلمان بنا دیا 
پھر وہ رونے لگی. اور میری طرف دیکھ کر بولی تمہیں بھی یہی درد ہے ناں....... ۔......

Part#1
جنت سیڑھیوں پر بیٹھی کچھ سوچ رہی ہوتی ہے. مگر دانیال کو اپنی طرف آتے دیکھ کر چونک جاتی ہے. 
تم کیسی ہو؟؟اتنے دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی (وہ جنت کی طرف دیکھ کر کہہ رہا ہوتا ہے) 
بس طبیعت ٹھیک نہیں تھی. تم کیسے ہو ؟
میں بھی ٹھیک. کل میرے گھر پارٹی ہے تم ضرور آنا. 
میں نہیں آسکتی میری طبیعت ٹھیک نہیں. 
کیوں ؟؟مجھے تمہیں اپنی امی سے ملنا ہے. (وہ رونے شروع ہوجاتی ہے )
تم کیوں رو رہی ہو. Plzz چپ ہوجاؤ. 
مجھے شرمندگی ہوتی ہے اپنے بابا سے جھوٹ بول کر..........ماڈلینگ کے بارے میں نہ بتا کر میں ان سے نظریں ملا نہیں پارہی. 
تم نے کچھ غلط نہیں کیا................ بس دل کی سنی 
Part#2
صوفیہ تمہیں پتا ہے تم میری سب سے اچھی دوست ہو .تم مجھے بہت سمجھتی ہو..................میری پیاری دوست دعا کرو میری محبت مجھے ملے (صوفیہ کی آنکھوں میں آنسو اور مایوسی ہوتی ہے) 
طہٰ تمہیں ضرور تمہارا پیار ملے گا... نام کیا ہے اس کا. (مایوسی سے پوچھا) 
جنت حسین بہت پیاری سی معصوم سی اور سادہ سی..... مگر اب وہ بدل گئی .
کیوں وہ تو کتنی خوش قسمت ہے کہ اسے تمہارے جیسا جیون ساتھی ملا........ بہت پیاری ہوگی وہ
ہاں بہت پیاری. مگر تم سے ایک بات کہو. 
ہاں کہو (صوفیہ حیران ہوتی ہے) 
تم بھی بہت معصوم ہو میری پیاری دوست. مگر تم مغربی لباس کو چھوڑ دو. نہیں تو . 
نہیں تو کیا ؟؟
نہیں تو میں بڑے بھائیوں کی طرح روب جمائیوں گا 
(وہ ہسنتی ہوئی) اچھا ٹھیک. تم میری فکر نہ کیا کرو. 
کیوں نہ کروں فکر تم میری بہنیوں کی طرح ہو. 
(وہ خاموش رہتی ہے) 
Part #3
کیوں اتنا رو رہی ہو. (صوفیہ کو روتے دیکھ کر نوکرانی نے پوچھا) 
نہیں رو نہیں رہی بس افسوس ہے 
افسوس کیسا بیٹا. (نوکرانی نے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا) 
آپ نہیں سمجھے گئی. اچھا مجھے تنہائی چاہیے. 
نوکرانی کمرے کا دروازہ بند کرکے چلی جاتی ہے. 
کیوں مجھے ایسا لگا کہ مجھ سے پیار کرے گا کیوں ؟؟؟آخر کیوں جب میں پوری زندگی اکیلی رہتی آرہی ہوں تو مجھے پتا ہونا چاہیے کہ میں اکیلی ہوں اور اکیلی ہی رہو گی. اس نے کون سا مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھ سے پیار کرتا ہے ؟؟غلطی تو میری ہے. اس کا تو احسان ہے کہ اس نے مجھے عزت دی .کبھی غلط نظر سے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا. میں اس کی شکرگزار رہوں گی کہ اس نے مجھے سنوار دیا....... آج میں اپنے آپ کو ایک خدا کے سامنے بہت چھوٹا اور کمتر محسوس کررہی ہوں. یا اللّٰہ مجھے معاف کردے —(کافی دیر بعد صوفیہ کمرے سے نکلتی ہے اس کو دیکھ کر سب نوکر حیران رہ جاتے ہیں شلوار قمیض میں ملبوس سر پر ڈوپٹہ لیے اطمینان سے آکر کرسی پر بیٹھ جاتی ہے اور قرآن کی تلاوت کرکے رونے لگتی ہے اور مسلسل روتی رہتی ہے)

Part#1
دانیال کب تک ہم ایسے چھپ چھپ کر ملتے رہے گئے. 
اس کے علاوہ ہو بھی کیا سکتا ہے. میری ماما تو میری شادی ندا سے کروا کر چھوڑے گی. اور تمہارے بابا طہٰ سے... (جنت مایوس ہوجاتی ہے) 
میں بابا کو صاف صاف انکار کردوں گی. وہ میری بات ضرور مانے گے. (آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ) 
چلو کوشش کرکے دیکھ لو. ویسے Date پر کب جائیں گے. (یہ سنتے ہی جنت کا رنگ سفید پڑ جاتا ہے) 
ہم کیسے ؟؟؟
تم اپنے بابا سے کہنا کہ یونیورسٹی کا ٹرپ جارہا ہے پھر ہم وہاں سے مری چلے جائیں گے. (طنزیہ ہنستے ہوئے جیسے وہ اس کا مذاق بنا رہا ہو) 
میں نہیں جاؤں گی. 
نہیں جانا نہ جاؤ پھر مجھ سے کبھی نہ ملنا. تمہیں مجھ پر اعتبار ہی نہیں (غصے میں) 
مجھے تم پر اعتبار ہے (روتے ہوئے) 
اگر اعتبار ہوتا تو جانے سے ہچکچاتی نہیں (وہ کہہ کر اٹھ جاتا ہے) 
Part #2
یہ ساری میری غلطی ہے مجھے ہچکچانا نہیں چاہیے تھا وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور کسی بھی رشتے کی بنیاد بھروسے پر رکھی جاتی ہے........................کاش میری زندگی اتنی دشوار نہ ہوتی. پتا نہیں وہ کتنا پریشان ہوگا. میرے بارے میں کیا کیا سوچ رہا ہوگا. (اتنے میں طہٰ کمرے میں آجاتا ہے) 
کیسی ہو؟؟؟اتنے دنوں سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی سوچا پوچھ لو 
ٹھیک (خاموشی سے) 
کل ہم کہی گھومنے چلے (وہ خوشی سے کہتا ہے) میری دوست بھی ساتھ ہوگی مزہ آئے گا. 
نہیں میں کل نہیں جاسکتی. (کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے) 
مگر کیوں ؟؟؟
(اس کی طرف ایک بار دیکھ کر) کیونکہ مجھے یونیورسٹی ٹرپ پر جانا ہے کل. 
اچھا اچھا ٹھیک. میں باقی سب سے مل کر آتا ہوں. 
اس کے جانے کے بعد ہی ١٥سے ١۹ بار دانیال کو بیل دی. مگر اس نے فون نہیں اٹھایا. اس کے بعد وہ مایوس ہوکر بیڈ پر بیٹھ کر روتی رہتی ہے اور روتی روتی پتا نہیں اسے کب نیند آجاتی ہے. 
Part#3
دو ہفتے صوفیہ کے یونیورسٹی نہ آنے پر طہٰ پریشان ہو جاتا ہے. وہ اس کے ہر دوست سے اس کا پوچھتا ہے مگر کسی کو کوئی پتا نہیں ہوتا. ہر اس کلب میں پتا کرتا ہے مگر کہی اب صوفیہ غازی کا نام نشان نہیں. سب حیران ہوتے ہے کہ آخر صوفیہ غازی گئی تو گئی کہاں ؟؟؟؟؟ ہر جگہ تھک ہار کر وہ کہی نہ کہی سے صوفیہ کے گھر کا پتہ لے لیتا ہے. 
(وہ بیل بجا کر دروازے پر کھڑا ہوجاتا ہے) 
کون بیٹا ؟؟؟(ایک بوڑھی سی عورت عالی شان محل جیسے گھر سے نکل کر پوچھتی ہے) 
جی وہ میں صوفیہ کا دوست ہوں. جی صوفیہ سے ملنا تھا کیا وہ گھر پر ہے. (وہ بے چینی سے کہتا ہے) 
نہیں بیٹا وہ تو دوہفتے پہلے ہی چلی گئی تھی.. 
مگر کہاں ؟؟
یہ تو معلوم نہیں. مگر جاتے وقت آپ کے لیے ایک خط دے کر گئی ہے (اور کہہ کر چلی جاتی ہے خط لینے) 
آپ نے روکا نہیں (خط پکڑتے ہوئے) 
روکا تھا. مگر انھوں نے کہا روکنے کے بجائے دعائیں دیں (طہٰ کو ایسے لگتا ہے جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئ ہو)

Part#1
ایک سال کے عرصے میں جنت اور دانیال کے تعلقات کافی گہرے ہوجاتے ہیں. 
بابا ہم سب گھومنے جا رہے ہیں. میں ان کے ساتھ جا سکتی ہوں کیا (حسین صاحب کو اخبار پڑھتے دیکھ جنت کہتی ہے) 
ہاں ہاں کیوں نہیں. جا کہاں رہے ہو. (یہ سنتے ہی جنت کا رنگ سفید پڑ جاتا ہے) 
وہ مری جارہے ہیں 
واہ بھئی واہ جاؤں. (جنت خوشی خوشی اٹھ کر کمرے میں چلی جاتی ہے اور دانیال کو کال ملا تی ہے) 
دانیال بابا راضی ہوگے. (خوشی خوشی دانیال کو بتاتی ہے) 
Part #2
نشے میں مست دانیال شراب پی جارہا تھا. اس کا موبائل مسلسل بج رہا تھا. مگر دانیال نشے میں اتنا مست تھا کہ اس کو موبائل کی کوئی خبر نہیں تھی. 
یار تیرا موبائل کب سے بج رہا ہے. جنت کی ١٥ سے ١۹ کال آئی ہیں اٹھا تو لے (احمد شراب پیتے کہتا ہے) 
نہیں اٹھنا سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو.......... مجھ سے مجھ سے نہیں بولے گی. یہ ہر میڈل کلاس لڑکی کا ڈرامہ ہوتا ہے .اپنے باپ کو کب سے دھوکا دے رہی ہے میں نے کہا date پر چلتے ہے تو........... سب ڈرامہ ہوتا ہے. (وہ نشے کی دھن میں مست احمد سے بول رہا تھا) 
احمد کچھ کہے بغیر اس کو کمرے میں لے جاتی ہے. 
(دس گھنٹہ بعد جب دانیال اٹھتا ہے اپنے آپ کو ایک بستر پر پاتا ہے) 
یار پتا نہیں یہاں کیسے آیا. (اتنا کہتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے رات کا سارا واقع گومنے لگتا ہے) او تیری خیر جنت کی ١٥سے ١۹ کال آئی ہیں. 
ہیلو جنت وہ میں رات کو کال نہیں اٹھا سکا. 
میں معافی مانگنا چاہتی ہوں. میں نے ابو کو منا لیا. مری جانے کے لیے (اتنا سنتے ہی دانیال کے چہرے پر طنزیہ ہنسی آجاتی ہے) 
part#3
(جنت کی مری سے واپسی پر جیسے ہی گھر آتی ہے تو اس کو خبر ملتی ہے کہ طہٰ کے گھر والے اس کی منگنی طہ کر کے جاچکے ہیں وہ مری کی ساری سوہانی یادیں بھول کر طہٰ سے منگنی کے غم میں بیٹھ جاتی ہے.) 
بیٹا اتنی اداس کیوں ہو ؟؟(جنت کے پاس آکر) 
امی میں طہٰ سے شادی نہیں کرنا چاہتی (وہ ہمت کرکے بولتی ہے) 
کیا (جیسے انھیں اپنے کانوں پر اعتبار نہیں ہورہا تھا) 
میں دانیال علی سے پیار کرتی ہوں اور اس سے ہی شادی کروں گی. 
کیا اس لیے تجھے یونیورسٹی بھیجا تھا کہ تم یہ کام کرتی پھیرو.بس تم جتنی جلدی دانیال کو بھول جاؤ تو اچھا ہے.
امی میں نہیں بھول سکتی (آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر) 
تم بہت پچھتاؤ گی طہٰ جیسے ہیرے کو ٹھوکرا کر...... 
امی آپ دانیال سے مل کر تو دیکھے بہت اچھاہے وہ..... (معذرتی انداز سے) 
جنت تم کب سے لوگوں کو پہچاننے لگی.بس اب کچھ نہیں ہوسکتا تمہاری منگنی طہ ہوچکی ہے...... محبت کا پودا جو تمہارے دل میں پروان چڑھ رہا ہے اس کو دفنا دو .(اتنا کہتے ہی وہ کمرے سے نکل جاتی ہے)