350

یا ربا عشق کیوں ہوا

قہقہوں کی آوازیں پورے ہال میں گونج رہی تھی. سٹوڈنٹ کے گروپس ہال سے کیفڑیا کی طرف جارہے تھے .
(سعد چلتا ہوا آہستہ سے فائزہ کو عینکو کہہ کر آگے جانے کی کوشش کرتا ہے تو دعا اپنا پاؤں اس کے پاؤں پر میں اٹکا کر سعد کو گراتی ہے مگر آدھا گرتا ہی ہے تو دعا اسے کالر سے اوپر اٹھاتی ہے.) 
دعا :اوہیلو! عینکو کہنے کی ہمت کیسے ہوئ فائزہ کو........... 
سعد :(ہنستے ہوئے) تمہیں بڑی مرچی لگ رہی ہے میرے فائزہ کو عینکو کہنے پر.................................................... 
دعا:میں تمہیں بتاتی ہوں مرچی کیسے لگتی ہے (اپنا پاؤں اس کے پاؤں پر مارا) اب بتاؤ مرچی کیسے لگی. 
سعد:تمہیں میں دیکھ لوں گا دعا آفتاب.
دعا:اور سعد صاحب میں بھی تمہیں دیکھ لوں گئ. اور بتا بھی دوگئ کہ دعا آفتاب کی دوست کے ساتھ پنگا لینے کا انجام کیا ہوتا ہے. 
(وہ کچھ کہنے لگا ہی ہوتا ہے کہ روحاب پاشا اسے کیھنچ کر لے جاتا ہے)

Part :1
سعد :(جوش میں) یار مجھے اس سائیکو لڑکی کو جواب تو دینے دیتے. دیکھنا تھا کیسے چپ ہوجاتی. 
(سب دوست اسے گھورنے لگتے ہیں) 
مومن:تو کبھی نہیں بدلے گا..... پہلے لڑکی سے اتنا سن کر آیا ہے. اب اتنی لمبی چھوڑ رہا ہے. 
سعد:یار حوصلہ بڑھانے کے بجائے تم لوگ زخم پر نمک چھڑک رہے ہوں(معصومیت سے)................... روحاب تمہیں کیا ہوا ہے مار میں نے کھائی ہے درد تمہیں ہورہا ہے. 
روحاب :بکواس مت کرو. آئندہ کبھی دعا آفتاب سے اونچی آواز میں بات مت کرنا.... سمجھ گئے (وہ غصہ میں بات کرکے کمرے سے باہر نکل جاتا ہے) 
ٹونی :یار سعدی اس کو کیا ہوا ؟
سعد:کوئی نہیں سال میں ایک بار ہمارے دوستوں میں سے کسی ایک کا ضمیر جاگتا ہے اسکا بھی جاگ گیا ہوگا. ٹینشن نہ لو. جس شخص کے ہمارے جیسے دوست ہو اسے اور کیا چاہئے (بات کو ہنسی میں بدلتے کرتے ہوئے) 
ٹونی :نہیں تم نے غلط کہا جسکے ہمارے جیسے دوست ہو وہ کچھ سوچنے کے قابل رہتا ہی کہاں ہے ہم اسے گنگال کر کے چھوڑتے ہیں 
سعد:پہلے تو یہ بتا ہمارا دوست ہے یا دوشمن. (ہنستے ہوئے) 
Part #2
(اکیلے کمرے میں روحاب کھڑا ہوتا ہے) 
سعد :روحاب یار ابھی تک ناراض ہے اپنے جگیری یار سے.
روحاب:نہیں.
سعد :تو پھر یہ اداسی کیوں....... کہی تو دعا آفتاب سے پیار تو نہیں کرتا. 
روحاب:نہیں (اٹکتے ہوئے) 
سعد :جھوٹ کب سے بولنے لگا تو....... معاملہ تو میں تب ہی سمجھ گیا تھا جب تو ناراض ہوا. 
روحاب :تم پتا نہیں کس بات کو کس سے ملا رہے ہو. 
سعد :اچھا میں اگر غلط ہوں تو پھر آپ بتا دیں روحاب پاشا اپنی اس اداسی کی وجہ.............. کیونکہ ہم پہلے بھی ایسی شرارتیں کرتے تھے مگر کبھی تم نے پہلے تو ایسا برتاؤ نہیں کیا. 
روحاب :یار ہاں تم سچ کہہ رہے ہو. میں پیار..... بلکہ عشق کرتا ہوں. پتا نہیں مجھے کب کیسے ہوا .
سعد :میں تو مذاق کر رہا تھا تو کب سے مذاق کرنے لگا. 
روحاب : لیکن میں مذاق نہیں کر رہا .(سنجیدگی میں)
سعد:جب پیار ہوگیا ہے تو اظہار محبت بھی کردے........... میں بھی لڑنا کم کردوگا اس سے. 
روحاب :اظہار محبت کا موقع ہی نہیں آئے گا..... وہ کسی سے انگیجڈ ہونے والی ہے. 
سعد:کیا وہ اُس سے پیار کرتی ہے ؟
روحاب :پتا نہیں (اداسی سے) 
سعد:اگر پتا نہیں تو دعوے سے کیسے کہہ رہا ہے کہ وہ انگیجڈ ہونے والی ہے. 
روحاب :میں نے اسے خودفون پر باتیں کرتے سنا ہے. 
سعد: یقین نہیں آرہا دعا آفتاب کو بھی پیار کرنا آتا ہے....... 
روحاب :یار پھر تم.... 
سعد: اچھا اچھا....

Part#1
فائزہ :یار میرے لیے تمہیں اس کے منہ لگنے کی کیا ضرورت تھی .
دعا:اب تو یہ بات کی ہے آئندہ نہ کرنا....... تم میری دوست ہو. 
فائزہ :یار. (منہ لٹکا کر کہتی ہے) 
دعا :تم اپنا موڈ اچھا کرو. اور فکر نہ کرو ایسے لوگوں کو جواب دینا پڑتا ہے. 
عینی :یار (وہ کچھ کہنے کی کوشش کرتی ہے مگر فائزہ 
اسے روک لیتی ہے) 
دعا:مجھے بتاؤ کیا چھپا رہی ہو (بے چینی کے انداز میں) 
عینی :کچھ بھی تو نہیں. 
دعا :فائزہ تم بتاؤ نہیں تو میں جا رہی ہوں. (وہ یہ کہہ کر اٹھنے والی ہوتی ہے)
عینی :اچھا میں بتاتی ہوں وہ سعد نےassessment تیار نہیں کی تھی تو فائزہ میڈم نے اٹھا کر اپنی assessment اس کے نام سے جمع کروا دی. 
دعا :کیا.( غصے سے) 
عینی :ہاں. 
(دعا غصے سے فائزہ کو دیکھتی ہے مگر فائزہ اپنا منہ نیچے کر لیتی ہے.) 
Part #2
ٹونی :یار آؤ. آج آخری دن ہے اپنی assessment جمع کروا آتے ہیں. بلکہ تم نے تو اپنی جمع کروا دی ہے. 
سعد :میں نے کب جمع کروائی. (حیرانی سے)
ٹونی:سَر صبح حیرانی سے بتا رہے تھے کہ اس بار تو سعد صاحب نے بھی اپنی assessment جمع کروا دی ہے. تو ان کو اتنا تنگ کیوں کرتا ہے. 
سعد:میں نے بنائی ہی نہیں لگتا ہے سَر کو کوئی صدمہ لگا ہے .
ٹونی :صدمہ لگا ہے.مگر تمہاری assessment دیکھ کر. 
سعد :پھر وہی. 
ٹونی : میں نے خود سَر کے ہاتھ میں تمہاری assessment دیکھی ہے. 
سعد :آخر کس نے جمع کروائی. 
(وہ ابھی سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس کے کندھے پر کوئی ہاتھ رکھتا ہے) 
روحاب : میں بتاتا ہوں کس نے جمع کروائی. 
سعد :بتاؤ. 
روحاب :فائزہ نے. 
سعد : مگر کیوں . میں نے تو اسے نہیں کہا تھا.
روحاب : اگر وہ جمع نہ کرواتی تو آپ کو یہ سمیڑر دوبارہ clear کرنا پڑتا. 
ٹونی :مجھے تو لگتا ہے فائزہ تم سے محبت کرتی ہے. (سنجیدگی سے) 
سعد :میں ابھی جا کر پوچھتا ہوں. (بات کو نظر انداز کرتے ہوئے) 
ٹونی :کل اسے عینکو کہا اب کون سا منہ لے کر جاؤ گے.
مومن:یہی والا منہ لے کر جائے گا. 
(پھر سب ہسنے لگتے ہیں. خالی کمرے میں ہنسی کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں.) 
Part#3
(اگلے دن ٹونی اور سعد عینی کے پاس کھڑے ہوتے ہیں) 
سعد:عینی آج فائزہ نظر نہیں آرہی. 
عینی :تم کیوں ڈھونڈ رہے ہو. 
سعد :میں نے..... وہ...................... معافی مانگنی تھی. 
عینی :کوئی ضرورت نہیں اب معافی مانگنے کی .کیونکہ اب وہ کبھیuniversity نہیں آئے گی. 
ٹونی :وہ کیوں؟
عینی :وہ اپنی اس سال کی فیس جمع نہیں کروا سکی. 
سعد :اونو! میں اُسکی فیس جمع کروا دیتا ہوں. 
ٹونی :کچھ مدد میں کر دوں گا.
عینی :اور کچھ میں..... 
سعد :چلو آؤ فیس جمع کروا آتے ہیں. 
ٹونی :چلو.
عینی :مگر میرے پیسے تو گھر پر ہے 
سعد :میرے پاس گاڑی ہے .آؤ اُس میں چلتے ہیں .
عینی:ہاں چلو. 
(گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے) 
سعد:ویسے وہ اس سال کیوں فیس جمع نہیں کرا سکی. 
عینی :وہ..................وہ
ٹونی:وہ وہ کیا. 
عینی :وہ اس لیے کہ اس کے بابا کی death ہوچکی ہے. اس کی امی کو کینسر ہے. اسلے وہ جو شام کو جوکماتی ہے وہ اپنی امی کی دوا لانےمیں خرچ کر دیتی ہے 
سعد:کافی بہادر اور بلند ہمت لڑکی ہے. (چلو گھر آگیا) 
عینی :ہاں. 
(وہ پیسے لاتی ہے پھر سب مل کر فیس جمع کرا دیتے ہیں)

Part #1
سعد:ہیلو.
فائزہ :کون؟
سعد: میں سعد. تم کیسی ہو؟
فائزہ :ٹھیک. کیوں فون کیا ؟
سعد:وہ تم سے اُس دن کیلے معافی مانگنی تھی. 
فائزہ :its OK 
سعد :ایک سوال کروں. 
فائزہ :بولو (بے نیازی سے) 
سعد:تم نے اپنی assessment میرے نام سے کیوں جمع کروائی.(ہچکچاکر) 
فائزہ:کیونکہ میں نے سوچا کہ اب میں تو university آؤں گی نہیں. پھر تمہارے نام سے ہی جمع کروادیتی ہوں. 
سعد :اچھا. (جیسے اسے اُس کی بات پر یقین آتا)
تمہاری امی کیسی ہیں ؟
فائزہ:ٹھیک.(روتے ہوئے) 
سعد :رو کیوں رہی ہوں. اچھا ایک اور سوال کروں.
فائزہ :بولو. 
سعد :تم مجھے پسند کرتی ہو
فائزہ :(ہچکچاکر) نہیں............ ہاں.......... پتا نہیں. کل ملتے ہیں. اچھا خدا حافظ. 
Part #2
روحاب:یارآج تو فائزہ سے معافی مانگے گا. 
سعد :(ہنستے ہوئے) میں نے معافی مانگ لی.
روحاب :کیا واقعی! (خوشی سے) 
سعد:جی بلکل. آپ کب دعا کو پرپوز کررہے ہیں.
روحاب:کبھی نہیں. 
سعد:وہ کیوں؟
روحاب:کیونکہ وہ انگیجڈ ہونے والی ہے. 
سعد:ہونے والی ہے ہوئی تو نہیں. 
روحاب :تو. 
سعد :تو یہ کہ تُو اسے آج پرپوز کرے گا بس. 
روحاب:یار.
سعد:بس تُو کرے گا. 
ٹونی:ہاں یار. 
Part #3
(وہ ہال میں اکیلی بیٹھی کچھ سوچ رہی ہوتی ہے روحاب بے حد نروس پھرہمت کرکے ہال میں جاتا ہے. اس کے قدموں کی آواز سے دعا چوکتی ہے.) 
روحاب :میں نے تم سے کوئی بات کرنی ہے. 
دعا:کیا بات ہے.
روحاب:سوچ رہا ہوں بات کہاں سے شروع کروں.
دعا:سوچنے کی کیا بات ہے اس میں (اُسے غور سے دیکھتے ہوئے) 
روحاب:آئی لو یو.
دعا:کیا.(جیسے اُس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئ.) 
روحاب:میں تم سے پیار کرتا ہوں. 
دعا: میں انگیجڈ ہونے والی ہوں کسی سے. 
روحاب: کیا تم اس سے پیار کرتی ہو. 
دعا :پتا نہیں. مجھے ابھی محبت کا کچھ علم نہیں. میرے لیے میرے والدین کی عزت ہی سب کچھ ہے. 
(پھر ہال میں خاموشی چھا جاتی ہے .ہر طرف خاموشی دل میں بھی.)