55

دل امید توڑا ہے کسی نے قسط2

اٰحد پریشانی کے مارے ساری رات جاگتا رہا. جب وہ سوتا تو اس کے سامنے اُم ہانیہ کا چہرہ آتا جس کی گالوں سے آنسو ٹپک رہے تھے. 
"یااللہ یہ کیسا احساس ہے. کیسی پریشانی ہے. میں کیوں آخر اُم ہانیہ کیلیے اتنا پریشان ہورہا ہوں. کیوں اس کی آنکھوں سے نکلے آنسوؤں سے مجھے کیوں تکلیف ہورہی ہے. اس بے چینی کو کیا نام دوں"
وہ ساری رات کمرے میں ٹہلتا رہا. صبح فجر کی نماز پڑھ کر نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی. ساری رات وہ قدسیہ کی اُم ہانیہ سے نفرت کی وجہ نا جان سکا.ابھی سویے چار گھنٹے ہی گزرے تھے کہ دروازہ کھٹ کھٹ بجنے لگا. وہ اتنی گہری نیند میں تھا کہ اسے دروازے کی آواز سنائی نہ دی سبین واپس چلی گئی.دوپہر ایک بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی اس کی آنکھیں سرخ تھیں. آنکھ کھلتے ہی اسے اُم ہانیہ کی یاد آئی.وہ سب یادوں کو جھٹلا کر اٹھا. سبین اس کے لیے بلیو جینس اور سفید شرٹ استری کر کے رکھ گئی تھی.وہ کپڑے لیے باتھ روم میں فرش ہونے چلا گیا.
عشاء تم میرے میں کیا کررہی ہو کبھی تو اپنے گھر چلی جایا کرو. اٰحد نے شرارتی انداز میں کہا 
مسٹر اٰحد میں صرف خالہ کی مدد کےلیے آئی ہوں اور آپ کی معلومات میں اضافہ کردوں میں شام کو چلی جاؤں گی امی کے ساتھ. عشاء چڑ گئی. 
چلو اچھا ہوا خالہ کو مجھ پر رحم تو آیا. اٰحد نے عشاء کو مزید تیلی لگائی
سبین کمرے میں داخل ہوتے ہی دونوں کی نوک جھوک دیکھ کر بولی.
اٰحد کیا تم عشاء سے لڑتے رہتے ہو. چلو تم سب باہر گھومنے چلے جاؤ.اُم ہانیہ اور طلحہ کو بھی ساتھ لے جانا .
اٰحد نے کچھ سوچ کر حامی بھر لی.
اٰحد گاڑی کے فرنٹ ڈور پر کھڑے اُم ہانیہ اور عشاء کا انتظار کر رہا تھا. اُم ہانیہ پینک ڈریس پہنے عشاء سے باتیں کرتے چلی آرہی تھی. اٰحد تو اُم ہانیہ کو دیکھ کر سانس لینا ہی بھول گیا تھا. اس کی رات کی ساری تھکن اُم ہانیہ کو دیکھتے ساتھ اتر گئی.یہ کیسی کیفیت تھی وہ خود واقف نہ تھا اس نے اُم ہانیہ کے قریب آتے ہی فرنٹ ڈور کا دروازہ کھولا اور عشاء کو پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا. 
اٰحد گانے لگا دو. عشاء چڑتی ہوئی بولی. 
اٰحد نے گانا لگا دیا. اور مسکراتے ہوئے بولا یہ لو چڑیل.
تیرے سامنے آجانے سے یہ دل میرا دھڑکا ہے 
یہ غلطی نہیں ہے تیری قصور نظر کا ہے. 
اٰحد کو عجیب سی کیفیت ہوئی وہ پتا نہیں کب اُم ہانیہ کےلیے کچھ محسوس کرنے لگا اسے پتا نہ چلا. 
تم نے گانا کیوں بند کیا اتنا اچھا تو چل رہا تھا. عشاء گانا بند ہوتے ہی پھٹے سپیکر کی طرح بولنے لگی. 
اس سارا وقت اُم ہانیہ خاموش رہی جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو.
ہم گانا سننے نہیں گھومنے پھرنے آئے ہیں. اٰحد نے بات بدلتے ہوئے کہا. کیونکہ اسے خود نہیں پتا تھا کہ اس نے گانا کیوں بند کیا. وہ ریسٹورنٹ کی طرف گاڑی موڑ لی.

کئی بار اُم ہانیہ کے خواب میں وہ ایکسیڈنٹ گھومتا .وہ اب تک اس زخم کو بھول نہ پائی تھی. وہ بےسود بیٹھی رضوانہ کو غور سے دیکھ رہی تھی. رضوانہ کی آنکھیں بند تھی. سفید کفن میں ملبوس. عورتیں قرآن پاک پڑھ رہی تھی.
اُم ہانیہ تھوڑا رو لو. دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا. سبین اُم ہانیہ کے کندھوں پر رکھتے ہوئے بولی. 
پھوپھو امی مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی. وہ میرے ساتھ مذاق کررہی ہے وہ تو جوس لینے گئی تھی. وہ انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولی. پھر چیخیں مارنے لگی "مما,مما,مما"
Mama I miss you alot 
عورتیں اس کو حوصلہ دینے لگی لیکن وہ کہاں تھی جو کسی کی بات سنتی. اس کے سب رشتہ دار اسلام آباد آگئے تھے. حامد کی حالت بھی اُم ہانیہ سے کچھ مختلف نہ تھی .اُم ہانیہ راتوں کو اکثر چلاتی "مما, مما, مما "
اُم ہانیہ تین ہفتے بعد یونیورسٹی گئی. اس نے خود کو کیسے سنھبالا وہ یہ خود ہی جانتی تھی وہ رضوانہ کا خواب پورا کرنا چاہتی تھی. وہ گاڑی ڈرائیو کرکے گھر پہنچی تو حامد صاحب پہلے ہی موجود تھے. باقی سب لوگ رفتہ رفتہ جا چکے تھے .گھر میں مکمل تنہائی تھی. 
"بیٹا میں نے آپ سے کچھ بات نہیں کرنی ہے". وہ آکر بولے
"جی بابا "وہ تحمل سے بولی .
"ہم نے قدسیہ سے نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے. وہ میرے دوست کی بہین ہے. میں نہیں چاہتا آپ کو ماں کی کمی محسوس ہو". اس کا ایک ایک لفظ اُم ہانیہ کے دل پر تیر کی طرح لگ رہا تھا. 
"جب آپ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو لے آئیں. لیکن یاد رکھیں گا وہ آپ کی بیوی بن کر آئے گی میری ماں بن کر نہیں "وہ روتی ہوئی اندر چلی گئی. حامد وہی کھڑا رہا. یہ فیصلہ آپ کی بھلائی کا ہے.وہ سوچتے ہوئے دوبارہ لان میں ٹہلنے لگے. 

آئس کریم کھاتے ہوئے عشاء سے خاموش نہیں رہا گیا اور بولی 
"ہاں بھئی اُم ہانیہ میں تمہیں اٰحد میاں کے قصے سناتی ہوں کہ انہوں نے شیراز بھائی کی محبت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا "
"اچھا "اُم ہانیہ نے دلچسپی سے پوچھا. 
"ہاں تو قصہ کچھ یوں ہے کہ شیراز بھائی کو شیزا بھابھی سے پہلی نظر میں پیار ہوگیا. شیزا بھابھی کو بھی بھائی قدرے اچھے لگے. مسلہ یہ تھا کہ آغاز کون کرے دونوں قدرے شرمیلے تھے. اٰحد نے ماری انڑی اور اس محبت کو اگے بڑھیا اور سبین خالہ شیزا بھابھی کے گھر رشتہ لے کر گئی. "عشاء نے نان سٹاپ ساری کہانی سنا دی. 
"واہ کیا بات ہے "اس بات پر دونوں زور سے قہقہہ لگا کر ہنسی. 
اٰحد ان کی متوجہ ہوا اور بِل دے کر واپس آتے ہی پوچھا کیا باتیں ہو رہی تھی. 
کچھ نہیں تمارے قصے سنا رہی تھی. اچھا کافی ٹائم ہوگیا ہے. مجھے گھر چھوڑ دینا. میں نے کچھ تیاری کرنی ہے. 
شکر ہے بلا ٹلی. اٰحد نے مسکراتے ہوئے عشاء کو تیلی لگائی.
**********************
حامد اور قدسیہ کمرے میں بیٹھے ہوتے ہے کہ اُم ہانیہ کمرے میں داخل ہوئی. قدسیہ اسے غور سے گھورنے لگی. اُم ہانیہ نظر انداز کرتے ہوئے بولی 
"اسلام وعلیکم! میں آپ دونوں کا زیادہ وقت نہیں لوں گئی. میں بس یہ بتانے آئی ہوں کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد نہیں جاؤں گئی. میں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لیا ہے ہاسٹل کا انتظام بھی ہوگیا ہے. بس شیراز بھائی کی شادی کے بعد ہاسٹل چلی جاؤں گئی "اُم ہانیہ نے ایک سانس میں اپنا فیصلہ سنا دیا.
تم ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتی نہ جاؤ مگر سبین کے گھر رہو ہاسٹل نہیں. حامد نے سرد لہجے میں فیصلہ سنایا. 
"چلے ٹھیک ہے " اس لہجے میں اداسی تھی.

تو نے رلا کر رکھ دیا اے زندگی 
جاکے پوچھ میری ماں سے کتنے لاڈلے تھے ہم 

قدسیہ اس فیصلے سے خوش تھی
************************
اُم ہانیہ اور سبین لان میں ٹہل رہی تھی کہ علی اندر داخل ہوتے ساتھ بولا 
اسلام وعلیکم آنٹی. علی نے گیٹ سے داخل ہوتے ہی کہا. 
وعلیکم اسلام کہاں گم تھے. سبین علی سے کافی بےتکلف تھی کیونکہ کہ علی اٰحد کے بچپن کا دوست تھا اور ان کے گھر آتا جاتا رہتا تھا. 
میں یہی تھا آنٹی.ایک آپ کی فیملی میں پیاری پیاری لڑکیاں اور ایک ہماری فیملی ہے کہ. علی نے اُم ہانیہ کی طرف دیکھتے شرارتی انداز میں کہا. 
اُم ہانیہ کو اس کا مذاق اچھا نہ لگا مگر وہ خاموش رہی. 
شیطان. یہاں شیطانی نہیں .تمہارا دوست اندر ہے جاؤ مل لو. سبین نے علی کے کان پکڑتے کہا
علی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اٰحد کے کمرے میں گیا جہاں اٰحد کسی کی یادوں میں گم تھا. 
کیا سوچ رہا ہے کہ گھر کا نقشہ کیسے بدلوں.علی نے اس کا مذاق اڑایا. 
یار کچھ سمجھ نہیں ارہا عجیب سا کچھ ہورہا ہے. اٰحد نے اپنے حالات بیان کیے اور سب کچھ بتا دیا.
یار یہ تو واقعی میں بہت افسوس کی بات ہے علی کو بھی افسوس ہوا. 
ہاں یار سمجھ نہیں آرہا مجھے اس سے ہمدردی ہے یا پیار. 
یار مجھے تو لگتا ہے تو اس سے پیار کر بیٹھا ہے. علی نے اٰحد سادگی سے بولا .
ہاں ہماری حالت تو ایسی ہے. 
تم کو چاہا تو محبت کی سمجھ آئی 
ورنہ اس لفظ کی تعریف سنا کرتے تھے 
اچھا اس کا مطلب لڈو پھوٹ رہے ہے. علی نے شرارت سے کہا.
ویسے تیرا اور اس کا کوئی میچ نہیں. علی نے مزید آگ لگائ. اٰحد نے تکیہ اٹھا کر اس کے منہ پر مارا.
ام ہانیہ رضوانہ کی وفات کے بعد اکثر اوقات ہی اکیلا کھانا کھاتی تھی۔آج بھی وہ رات کا کھانا کھا رہی ہوتی ہے کہ حامد قدسیہ اور طلحہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔قدسیہ نے نیلے رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی اور اور طلحہ 12 سالہ بچہ لگ رہا تھا انہیں یوں دیکھ کر ام ہانیہ ہاتھ سے چمچ نیچے گر گئی ام ہانیہ کو یقین نہ آیا کہ اتنی جلدی اس کی ماں کی جگہ کسی اور نے لے لی ہے۔
قدسیہ نے پیار سے اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی ہوئی بولی
مجھ سے ہمدردی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں میں آپ کا نوالہ نہیں جو اپ نگل لےشوق سے رہیں گھر میں حامد کی بیوی بن کر میری ماں بن کر نہیں۔یہ کہہ کر دوڑتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ قدسیہ کے دل میں ام ہانیہ کے لیے جو ہمدردی تھی وہ ختم ہو چکی تھی۔
امی میں آپ کی جگہ اس گھر میں کسی کو نہیں لینے دوں گی وہ رضوانہ کی تصویر گلے سے لگا کر کمرے میں کافی دیر روتی رہی۔
وہ روتے روتے کب سو گئی اسے خود نہیں پتا لگا آنسو اسکی گالوں پر پڑے خشک ہو چکے تھے سوتے ہوئے اس نے کیا دیکھا۔
امی آپ یہاں؟آپ مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئیں۔
مما کی جان اللہ نے جب بولانا تھا بلا لیا۔میں نے تمہاری تربیت ایسی تو نہیں کی تھی کہ تم بڑوں کا ادب ہی بھول جاؤ ۔قدسیہ تمہاری مجھ سے ماں ہے۔اتنا سنتے ہی ام ہانیہ کی آنکھ کھل گئی۔
یہ میں نے کیا کر دیا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ میرے بارے میں کیا سوچیں گی اسی سوچ میں وہ ساری رات بے چینی سے کمرے میں ٹہلتی رہی اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
---------------------------------------------------
ہال میں شیراز کی مہندی کی تیاریاں جاری تھیں۔ ہادی،احد اور عبداللہ صبح سے تیاریوں میں مصروف تھے شاندار ہال سجایا گیا۔سجاوٹ کے لئے سبین کی پسند کے سفید پھول کا انتخاب کیا گیا ہر طرف گہماگہمی کا عالم تھا۔قدسیہ اور حامد مہمانوں کو خوش آمدید کر رہے تھے تینوں کو بدحال حالت میں دیکھا تو حامد میاں بولے
جاؤ تم تینوں تیار ہوا۔میں سب سنبھال لوں گا۔
جی ماموں بس ہم جا ہی رہے ہیں ۔احد نے بولا۔
گھر پہنچنے پر دیکھا کہ ام ہانیہ وہاں بھی موجود نہ تھی اس نے سوچا کہ آج قسمت ہی خراب ہے۔
پانچ منٹ میں تیار ہوکر احد اورہادی فنکشن کے لئے نکل پڑے انہوں نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ہال میں پہنچتے ہی احد کی نظر ام ہانیہ پر پڑی۔
ام ہانیہ نے سادہ اور خوبصورت سی پیلی فراک پہن رکھی تھی بال کھلے ہوئے پیاری سی مسکراہٹ کانوں میں جھمکے۔ یہ دیکھتے ہی احد کے منہ سے نکلا 
میری مانو تو اپنے یہ جھمکے اتار دو
ہیرے کبھی سونے کے محتاج نہیں ہوتے۔
___________________________
ام ہانیہ صبح اٹھتے ہی کھانا بنانے میں مصروف ہوگئ۔وہ رات کے رویے سے شرمندہ تھی۔8 بجے کے قریب قدسیہ کچن میں آ ئی اور دیکھتے ساتھ بولی ۔
تم کیوں ناشتہ بنا رہی ہو ۔تمہیں بھوک لگ رہی تھی تو مجھے بول دیتی۔
نہیں آ پ بیٹھے امی۔مجھے آ پ سے معافی مانگنی ہے کل رات جو کچھ بھی ہوا 
حامد کو یہ سب سن کر بہت خوشی ہوئی۔
قدسیہ ام ہانیہ کی معافی کو ڈرامہ سمجھی اسے ام ہانیہ سے اور نفرت ہونے لگی۔لیکن اس نے خاموش مسکراہٹ سے یہ سب ہونے دیا۔
_________________________
ہادی نے احد کو دھمیے لہجے میں شعر کہتے سنا تو بولا 
بھائی کس کو بولا جارہا ہے۔
کسی کو نہیں۔علی کدھر ہے ۔اس نے بات بدلتے ہوئے بولا۔
وہ شیطان کا نام لیا شیطان حاضر۔ہادی نے علی کو دیکھتے بولا۔
علی اتے ساتھ بولا آگے تم دبمئ سے ۔
پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔احد نظریں بچاتا ام ہانیہ کے پاس پہنچا۔
اور کیا کررہی ہو ام ہانی ۔
یہ فراک اس تار میں پھنس گئی ہے وہ نکلتے ہوئے بولی۔
میں نکل دیتا ہوں اس نے فراک نکال دی غضب لگ رہی ہو ۔یہ کہتے ساتھ وہ چلا گیا۔
ام ہانیہ وہی کھڑی رہی۔
_

فنکشنن سے فارغ ہوکر وہ کمرے میں گی اور جمکے اتارنے لگی۔بال باندھ ہی رہی تھی کہ موبائل پر میسج آیا ۔میسج کسی نامعلوم نمبر سے آیا۔وہ بغیر میسج پڑھے بغیر واش روم میں کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی ۔جب واپس آئی تو اسے میسج کا خیال آیا اس نے موبائل اٹھایا اور میسج پڑھنے لگی۔
"السلام علیکم ام ہانی تم نے تو اج فنکشن میں آ کر چار چاند لگادیے اگر تم گجرے پہنتی تو زیادہ اچھی لگتی۔ویسے پیلی فراک بہت اچھی لگ رہی تھی تمہارا دیوانہ"
اس میسج کو پڑھتے ہی ام ہانی میں ہلچل مچ گئی کہ آخر ایسی گھٹیا حرکت کی تو کی کس نے۔کون تھا وہ؟؟؟؟وہ ٹینشن سے کہنے لگی۔پہلے اس نے احد سے مدد لینے کا سوچا پھر چپ ہو گی۔
---------------------------------
یار آج فنکشن میں وہ پیلی فراک والی لڑکی کون تھی۔اور ابھی دیکھا تو وہ سبین آنٹی کے ساتھ بیٹھی تھی۔ہادی دبئی سے آیا تھا اسی لئے اسے ام ہانیہ کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا۔
وہ حامد مامو کی بیٹی ام ہانیہ ہے۔احد نے خوشی سے بتایا۔
اچھا ویسے کافی پیاری ہے۔ میں تو سمجھا کوئی مہمان ہے اس لئے بات نہیں کی ہادی ٹی وی میں ام ہانیہ کو دیکھتے ہوئے بولا۔
علی یار جلدی نکل کیا کر رہا ہے واش روم میں ۔احد نے علی کو آواز دی۔
نکل آیا چل جا تو بھی۔احد پانچ منٹ میں کپڑے تبدیل کر کے آیا تو دیکھا ہادی کمرے میں نہ تھا۔
اس نے باہر نکل کر دیکھا تو ہادی ام ہانیہ سے باتیں کر رہا تھا۔عہد موبائل اٹھا کر میسج کرنے لگا اور کچھ لمحوں میں ٹی وی میں چلا گیا۔
تم کیلے بیٹھے ہو یہاں ہم یہاں ام ہانیہ کدھر ہے اس نے ہادی کو اکیلے ٹی وی کا چینل بدلتے دیکھا تو بولا۔
وہ سبین آنٹی کے لیے چائے بنانے گئی ہے اچھا میں بھی واک پر چلا۔
کچھ لمحے بعد ام ہانیہ چائے لے کر ای اور بولی۔
پھپھو کدھر ہے۔سبین کی غیرموجودگی دیکھتے ہوئے بولی۔
وہ کمرے میں ہے احد نے جواب دیا۔
اچھا یہ آپ چائے لے میں ان کو بھی دیے کر آتی ہوں۔چائے پکڑاتے ہوئے دونوں کی انگلیاں مل گئی احد کی نظر ام ہانیہ پر پڑی ۔

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں 
مرا لفظ لفظ ہو آئینہ تجھے آئینے میں اتار لوں
میں تمام دن کا تھکا ہوا تو تمام شب کا جگا ہوا۔
ذرا ٹھہر جا اسی موڑ پر تیرے ساتھ شام گزارلوں
اگر آسماں کی نمائشوں میں مجھے اذن قیام ہو
تو میں موتیوں کی دکان سے تیری بالیاں تیرے بار لوں 
کہیں اور بانٹ دے شہرتیں کہیں اور بخش دے عزتیں
میرے پاس ہے مرا آئینہ میں کبھی نہ گردوغبار لوں
کئی اجنبی تری راہ میرے پاس سے یوں گزر گئے
جنہیں دیکھ کر یہ تڑپ ہوئی تیرا نام لے کر پکار لوں

ام ہانیہ جلدی سے چائے پکڑاتی ہوئی چلی گئی احد زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ چائے پینے لگا.
--------------------------------------
آج تو بہت کام ہے جلدی جلدی کرو سبین کا کامیاں کو سامان اٹھاتے دیکھ ہدایت کرنے لگی۔
احد اور شیراز کھڑے سبین کو بھاگتے دوڑتے دیکھ مسکرا رہے تھے سبین کی اچانک نظر ان دونوں پر پڑلی تو بولی۔
ہاں ہنس لو احد تم کیوں اتنے فارغ کھڑے ہو دیکھو ذرا قدسیہ،ام ہانیہ اور عشاء کو پالر لے جاؤ۔
ہاں بی میری تو شادی ہے تم تو کام کرو شیراز نے احد کی ٹانگ کھینچتے ہوئے کہا۔
یہ سہی ہے میں تو نوکر ہوں معصومانہ انداز میں بولا۔
اتنے میں قدسیہ اور ام ہانیہ طلحہ کے لطیفے سنتیں نیچے اتر رہی تھی۔
قدسیہ تم اور ام ہانیہ جاکر پالر سے ہو آؤ۔سبین نے بولا
نہیں بھابھی میں تو نہیں جاؤں گی۔
چلو ام ہانیہ میں تمہیں لے کر جاتا ہوں اور عشاء کو بھی لینا ہے یہ کہتے ہی احد نے ام ہانیہ کا ہاتھ پکڑا اور گاڑی میں بٹھا دیا جو ام ہانیہ کو تھوڑا عجیب لگا۔
کون سے پالر جاؤں گی احد نے ام ہانیہ سے پوچھا۔
میں نے تو کسی پالر نہیں جانا عشاء کو لے جانا۔
چلو پھر واپس چلتے ہیں عشاء کو عبداللہ بھائی لے جائیں گے۔
اس نے واپس گھر پہنچتے ہی ام ہانیہ سے تھوڑی دیر اپنے ساتھ لان میں ٹہلنے کی فرمائش کر ڈالی۔ام ہانیہ سکائےبلیو فراک میں اسمانی گڑیا لگ رہی تھی۔
وہ اسے یونیورسٹی کے قصے سنانے لگا جس کو سن کر ام ہانیہ نے زور کا قہقہہ لگایا.
---------------------------------
معنی آنے پیچ رنگ کی اوپن شرٹ پہن رکھی تھی عشاء نے بلیک رنگ کے میکسی پہنی ہوئی تھی شیراز اورشیزا کے اندر آتے ہی دونوں نے پھول پھینکنا شروع کر دیے۔سبین نے کچھ پیسے کا کامیاں کو صدقہ دینے کے لئے دیئے۔
شیراز نے کالے رنگ کی شیروانی اور شیزا نے سرخ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔
یار دیکھو ہماری قسمت ہم اندر آئے اور پھول ختم ہوگئے ہادی نے شرارتی انداز میں کہا۔
بھائی دراصل شادی جو شیراز بھائی کی تھی ام ہانیہ بولی۔
یار پھول نہیں پھینکنے تو نہ پھینکو بھائی تو نہ کہو۔
وہ وہ کچھ کہے بغیر شیزا کو کمرے میں لے کر چلی گئی شیراز کی نظریں شیزا پر یہ جمی ہوئی تھی۔احد اور ہادی نے شیراز کو شیزا کا نام لے کر تنگ کرنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔
-----------------------------------
یار میں سوچ رہا ہوں کہ اب تو شادی ختم ہوگی کیوں نہ ام ہانیہ کو پرپوز کر دو اب تو تو ویسے بھی حامد مامو اور قدسیہ ممانی بھی واپس چلے گئے ہیں ۔احد نے علی سے بولا
تو بول دی روکا کس نے ہے میرے بارے میں بھی کچھ سوچ۔
تو تو بول دی عشاء کو اپنے دل کا حال احد نے علی کا مذاق بناتے ہوئے کہا۔
پوری مرچی ہے مجھے کھا جائے گی میں نہ بولوں گا تو ہی کچھ کرے گا۔
--------------------------------------
ام ہانیہ کہیں کھوئی بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس دن احد نے کیا بولا
"غضب لگ رہی ہو"
وہ سوچتے سوچتے مسکرانے لگی پھر اچانک خوابوں کی دنیا سے باہر آئی تو دیکھا عشاء کرسی پر بیٹھی مسکرا رہی ہے۔
کیا سوچا جا رہا ہے عشاء میڈم اس نے ہلکا ہاتھ اس کے سر پر مارتے دیکھا۔
کچھ نہیں بس احد کے بارے میں سوچ رہی تھی عشاءنے شرما کر بولا۔
کیا سوچ رہی تھی اس کی شیطانیاں کیا یاد آرہی ہے۔ام ہانیہ نے پوچھا
نہیں یار پتہ نہیں کب احد سے پیار ہو گیا وہ خوشی سے بولتی گئی اور ام ہانیہ آنکھوں میں آنسو لیے سنتی گی لب پہ مسکراہٹ اور دل کی خواہشات چکناچور ہو چکی تھی۔
-----------------------------
اگلی قسط اگلے ہفتے۔
شکریہ۔