240

دل امید توڑا ہے کسی نے

معمول کے مطابق کمرہ تاریخی میں ڈوبا ہوا دوپہر ہونے کو آئی تھی. لیکن ابھی تک اٰحد گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا. سبین غصے کے عالم میں کمرے میں آئی اور پردے ہٹانے لگی. وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اٰحد کو آوازیں دے کر تھک چکی تھی تو بالاآخر کمرے میں چلی گئی. 
امی سونے دے ناں بالاآخر اٰحد نے کروٹ بدلتے ہوئے بولا. 
پتا بھی ہے ناں مہمان آرہے ہیں. تم ہو ایک ابھی تک سو رہے ہو. جلدی اٹھو. کاکا میاں نے تمہارے کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے ابھی .سبین بھی تب تک بولتی رہی جب تک اٰحد اٹھ نہیں گیا. 
امی اٹھ گیا میں اب.اٰحد تنگ آکر بولا. 
اچھا اپنا کمرہ صاف رکھنا تمہارے کزن کیا سوچے گے وہ مزید تاکید میں بولی. 
امی عشاء اور وریشہ تو روز آتی ہے اب نہ گھبرائے وہ عادی ہے. اٰحد بکھیرے بالوں اور نائٹ ڈریس میں ملبوس. 
نہیں ان کی بات نہیں کررہی. آج میرے بھائی آرہے ہیں. پورے چار سال بعد. میں اُم ہانیہ اور طلحہ کی بات کررہی ہوں
شیراز کی شادی میں آنے والے مہمانوں میں سے اٰحد کو کسی میں دلچسپی نہیں تھی مگر وہ حامد ماموں اور اُم ہانیہ لوگوں کا کافی پوچھتا. 
آپ تو کہہ رہی تھی کہ ماموں اور ممانی صرف آئے گے. 
ہاں کہا تو انہوں نے بھی یہی تھا مگر میں نے ہی اصرار کر کے کہا کہ وہ اُم ہانیہ اور طلحہ کو بھی ساتھ لے آئے. سبین کمرے میں بکھیری ہوئی چیزوں کو سیمٹتی ہوئی چلی گئی. اٰحد کچھ باتیں سوچ کر مسکرانے لگا. 
چھوٹے صاحب کےلیے ناشتہ تیار کردو. وہ ابھی فریش ہوکر آتے ہوگے. سبین نے کاکا میاں کو ہدایت کی. کاکا میاں نے جی حضوری میں سر ہلا دیا.
جینس ,سفید شرٹ کے اوپر بلیک جیکٹ پہنے بائیس سال کا اٰحد اب نہا دھو کر نیچے ناشتے کیلیے آیا. 
کاکا میاں صرف چائے پیو گا. موبائل چلاتے ہوئے. 
کیوں چھوٹے میاں طبیعت تو ٹھیک ہے ؟
جی بس چائے کی طلب ہورہی ہے اس وقت. کاکا میاں چائے رکھ کر جاچکے تھے
******************
پانچ بجے فلائیٹ کا ٹائم ہوگیا تھا سبین اپنے بھائی بھابھی کا کمرہ سیٹ کرنے میں مصروف تھی. عشاء, وریشہ اور اٰحد بچپن کے قصے یاد کر کر کے ہنس رہے تھے. 
عشاء تمہیں یاد ہے جب ہم گاؤں گئے تھے تو تم ٹیوب ویل کے قریب جانے سے ڈر رہی تھی میں اور اُم ہانیہ تمہیں زبردستی لے کر گئے تھے. 
ہاں یاد ہے تم نے بھی تو مالی بابا کے آم چوری کئے تھے وہ ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے شرارتی قصے یاد کررہے تھے. 
اتنے میں گاڑی کا ہارن بجا گاڑی اندر داخل ہوئی. طلحہ کالی شلوار قمیض میں چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا. اُم ہانیہ کالا ڈریس پہنے,لال ڈوپٹہ گلے میں لپیٹا ہوا ایک طرف پونی کیے ہوئی .ایک گڑیا لگ رہی تھی. اُم ہانیہ گاڑی اترتے ہی معصوم شکل اور چہرے پر مختصر سی مسکراہٹ لیے سبین کے گلے لگی. 
کیسی ہے پھوپھو ؟ وہ مسکراتے ہوئے سب سے ان کا حال دریافت کررہی تھی.
حامد اور قدسیہ سبین سے باتیں کرتے ہوئے اندر چلے گئے. طلحہ کافی پرجوش لڑکا تھا. وہ آتے ہی سب سے گل مل گیا. لیکن اُم ہانیہ پہلے والی پٹر پٹر بولنے والی اُم ہانیہ نہیں تھی. وہ تھوڑی سنجیدہ طبیعت کی ہوگی تھی.
بھائی آپ لوگوں کو آنے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی. میں شیراز کو بھیج دیتی لیکن آپکو تو پتا ہے آفس کا کام. وہ تھوڑی شرمندہ تھی کہ چار سال کے بعد آئے اور وہ ائیرپورٹ ریسو کرنے بھی نا جاسکی. 
کوئی بات نہیں. ہاں بھئی شیراز بیٹا کہا ہے وہ شیراز کی غیرموجودگی دیکھتے ہوئے بولے. 
وہ آتا ہی ہوگا آپ لوگ فریش ہو جائے اپنے اپنے کمروں میں جاکر. جاؤ اٰحد سب کو ان کے کمرے دیکھا دو. کاکامیاں ان کا سامان لے جاؤ. اٰحد باری باری سب کو ان کے کمرے دیکھانے لگا. طلحہ جاتے ساتھ ہی بیڈ پر دھرم گر گیا.
عشاء میں نے مغرب کی نماز پڑھنی ہے جاہ نماز لا دو. وہ پہلی بار اتنا مختصر سا جملہ بولی. 
ہاں الماری میں پڑی ہے میں لا دیتی ہوں. وہ کہتی ہوئی الماری کی طرف بڑھ گئی. 
حامد اور قدسیہ سے باتیں کرتے وقت سبین کا موضوع صرف اور صرف اُم ہانیہ تھی. حامد تو کافی خوش تھے مگر قدسیہ کو یہ سب اچھا نہ لگا تو انہوں نے بات بدلتے ہوئے طلحہ کی ذہانت کے قصے سنانے لگی.
 

میں ایسے ہی سوچ رہی تھی کہ کراچی میں سب کا رویہ بدلا ہوگا. سبین پھوپھو ,شیراز بھائی ,اٰحد اور عشاء یہ سب میرا کتنا خیال رکھتے ہیں. اللّٰہ نے اس دنیا میں ہر انسان ایک جیسا نہیں بنایا. 
کیا سوچ رہی ہو اُم ہانیہ نماز پڑھ لی ہے آؤ کھانا کھاتے ہیں. عشاء کی دھماکے دار آواز نے اُم ہانیہ کو ڈرا دیا. 
بس آرہی ہوں. ڈوپٹہ گلے میں لیتے ہوئے کپڑے سیدھے کئے اور عشاء کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترنے لگی.
میز پر ہر قسم کے پکوان سجھے پڑے تھے. سب اپنی اپنی پسندیدہ چیز کھانے میں مصروف تھے .شیراز اور حامد بزنس کے بارے میں گفتگو کررہے تھے. 
بیٹا کھاؤ ناں اور یہ کیا تھوڑے سے چاول پلیٹ میں ڈالے ہیں. سبین نے اُم ہانیہ کی پلیٹ دیکھتے ہوئے کہا. تو وہ چونک گئ اس کی نظر ان سب کے خلوص میں تھی جو چار سال پہلے اس کی زندگی میں بھی تھا. 
جی ڈالتی ہوں. اُم ہانیہ نے سپنوں کی دنیا سے واپس آتے ہی کہا. 
ہاں بھی اُم ہانیہ بی بی کیا کررہی ہے آج کل. اٰحد نے شرارتی انداز میں پوچھا. 
بی ایس مکمل ہوگیا ہے ایم ایس کرنے کا سوچ رہی ہوں.
ارے واہ بھئی. 
یوں گفتگو کا سلسلہ کھانے کے دوران وقفے وقفے سے جاری رہا. 
اٰحد کھانے کی میز سے اٹھتے ہوئے اُم ہانیہ کو اشارہ کرتے ہوئے بولا
چلو آؤ میں تمہیں اپنی بنائی گئی تصوریں دیکھتا ہوں. 
کیا واقعی. 
جی تو اور کیا آپ اٰحد کو معمولی لے رہی ہیں. 
"یہ دیکھو". ہر ایک تصویر باخوبی بنائی گئی تھی .میں ان تصویروں کی تعریف کیسے کرتی. لفظ تلاش کرنا مشکل ہورہے تھے. 
It's amazing
تصویریں دیکھاتے ہوئے اٰحد کو اُم ہانیہ کا پرانا قصہ یاد آیا. 
تمہیں یاد ہے ناں جب تم چوہدری صاحب کے کتے کو تنگ کررہی تھی تو ان کی پوری فوج نے تمہیں ڈیفنس کی سیر کروائی تھی. میں اور عشاء تو ہنس ہنس کر پاگل ہورہے تھے وہ تو رضوانہ ممانی نے تمہیں بچا لیا.......... وہ بات کرتا کرتا رک گیا وہ اُم ہانیہ کی گالوں سے آنسو ٹپکتے دیکھ جان گیا تھا کہ اسے رضوانہ کی یاد آگی ہے
********************
"کیا ہے قدسیہ بیگم آپ کا رویہ سبین کے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں ہے "حامد کا لہجہ سخت تھا 
"تو بھی ہر بات میں اُم ہانیہ اُم ہانیہ کرتی ہیں "تڑخ لہجے میں 
تو وہ آپ کی بیٹی ہے کوئی آپ کی بیٹی کی تعریف کرے تو آپ ایسا کرے گی مجھے امید نہ تھی حامد صاحب چار سال پہلے لیے گے فیصلے پر شرمندہ تھے.
مجھے کچھ نہیں سننا بس. اب وہ ہمارے ساتھ اسلام آباد نہیں جائے گی. آپ یہی اس کو ایڈمیشن لے کر دیں دے. قدسیہ کا لہجہ دو ٹوک تھا.
ابھی حامد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اُم ہانیہ کو دروازے پر دیکھ کر خاموش ہوگیا.آنسو گالوں سے ٹپک رہے تھے. وہ حامد کو اشارے سے چپ کرواتی آگے بڑھی. 
امی میں واپس اسلام آباد نہیں جاؤں گی بےفکر رہے. 
بیٹا تم کدھر جاؤ گی میں قدسیہ کو سمجھا دوں گا. حامد نے پریشانی میں کہا 
نہیں آپ کسی کو نہیں سمجھائے گے. 
اچھی بات ہے تم خود ہی سمجھ گئی کہ میں تمہیں اور برداشت نہیں کرسکتی.
اُم ہانیہ دراصل انھیں کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کی خوشخبری سنانے آئی تھی مگر یہ سب سن کر وہ بغیر بتائے واپس چلی گئی. باہر نکلتے وقت اس نے وہاں اٰحد کی غیرموجودگی پائی تو اللّٰہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا. 
اٰحد مٹھائی اوپر تو آیا مگر وہاں کی گفگتو سن کر اُم ہانیہ کے کمرے سے آنے پہلے واپس چلا گیا.

اُم ہانیہ جلدی آجاؤ میں تمہارا نیچے انتظار کر رہی ہوں رضوانہ بیگم کار میں بیٹھتے ہوئے بولی. 
اُم ہانیہ کا یونیورسٹی کا آج پہلا دن تھا.اس لیے اس نے آج کم سے کم تیار ہونے میں ایک گھنٹہ لگایا تھا. وہ بیگم رضوانہ کی آواز پر دوڑتی ہوئی کار میں آکر بیٹھ گئی. 
I really sorry mom. 
میں نے دیر کردی. چلیں جلدی چلے نہیں تو آپ بھی لیٹ ہوجائے گی. 
کوئی نہیں مما کی جان تم نے ناشتہ نہیں کیا. پہلے بتاؤ کیا لے کر دوں پھر یونیورسٹی چھوڑ دوں گی. گاڑی بیکری کی طرف موڑتے ہوئے کہا. 
Mom. Juice Only nothing else 
اوکے میں لے کر آتی ہوں تم گاڑی میں بیٹھو وہ کہتے ہوتے گاڑی بند کرکے سٹرک پار کررہی تھی. اُم ہانیہ سپنوں میں گم تھی کہ اچانک سٹرک سے چیخ کی سنائی دی. 
وہ زور سے چلائی "مما مما مما "
اتنے میں اس کی آواز سے ساتھ سوئی ہوئی عشاء کی آنکھ کھل گئی 
"کیا ہوا اُم ہانیہ آنکھیں کھولو "
اُم ہانیہ نے آنکھیں کھولی تو اس کا چہرہ پسنے سے بھرا ہوا تھا.. 
"اُم ہانیہ تم نے کوئی برا خواب دیکھ لیا ہوگا. آیت الکرسی پڑھ لو "
"عشاء یہ خواب نہیں میری زندگی کا ماضی ہے " وہ یہ کہہ کر عشاء کے گلے لگ گئی.
------------------------------
اگلی قسط اگلے ہفتے. 
شکریہ.