162

جھگڑالو عورت قسط2

ان کی بات سُن کرمیری کچھ جان میں جان آئ   ۔۔۔ اور پھر  میں نے ان سے پوچھا کہ اب آپ کی امی  کیسی ہیں ؟ ۔۔۔ کہنے لگی  ٹھیک ہیں اور دوائ کھا کر سو گئ ہیں  - اب میں نے دوبارہ اپنی پینٹ پہننے کے لیۓ ہاتھ جیسے ہی گھٹنوں تک لانے کی کوشش کی۔۔۔۔  تو وہ خود ہی  اُٹھتے ہوۓ  بولی ۔۔۔ بیٹھے رہو شربت میں لا دیتی ہوں ۔۔۔ پھر وہ اُٹھی اور جگ سے شربت کا گلاس بھر کر لائ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شربت کا گلاس تو میرے ہاتھ میں  پکڑا رہی تھیں پر  اُن کی نظریں  ابھی بھی میرے انڈروئیںر کی طرف تھیں  ۔۔ یہ محسسوس کرتے ہی میں نے ایک دفعہ پھر اپنی پینٹ اوپر کرنے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگی  ۔۔۔۔ ابھی رہنے دو۔۔ کہ    تمھارا پسینہ ابھی   خشک  نہیں ہوا ہے  ۔۔۔ ۔۔۔   اور    تمھارے کپڑے   ابھی تک ویسے کے ویسے     بھیگے ہوۓ ہو۔۔  زرا پسینہ  سوکھ جاۓ تو   بے شک پہن لینا  ۔۔۔    پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ یہ تم  اتنے گھبراۓ ہوۓ کیوں ہو؟  ۔۔ ؟؟؟  تو میں نے کہا ۔۔۔وہ جی ۔۔ وہ جی میں ڈر تو بلکل بھی  نہیں رہا ۔۔۔ تو وہ مسکُرا کو بولی کمال ہے یہ تم ڈر نہیں رہے تو پھر   تمھارا رنگ اتنا  کیوں اُڑا ہوا ہے ؟ ( وہ بات تو مجھ سے کر رہی تھی پر ان کی نظریں سٹل میرے انڈروئیڑ ہی  کی طرف تھیں ۔۔۔۔) آخر میں نے سچی بات کرنے کا فیصلہ کر لیا اور بولا ۔۔۔ آنٹی مجھے آپ سے ڈر لگتا  ہے ۔۔ تو وہ تھوڑا حیران ہو کر بولی ۔۔۔  تم مجھ سے ڈرتے ہو۔۔؟ کیوں کیا  میں کوئ جن  ہوں  ؟؟ جو مجھ سے ڈر رہے ہو پھر خود ہی  ہنس کر بولی ۔۔۔۔۔  تم مجھ سے نہ ڈرو ہم دوست ہیں یار ۔۔۔ ہاں میں بہت سخت ہوں اور کھچہ  بلڈ پریشر کی مریضہ بھی ہوں  ۔۔۔۔ پر میری سختی  دوسروں کے لیۓ ہے  ۔۔۔ تمھارے لیۓ تو ایسی کوئ بات نہیں اور آئ تھنک ۔۔۔۔۔۔ اور نہ ہی  میں نے کھبی تم سے ایسی کوئی سخت  بات   کی ہے  ۔۔۔ ۔۔۔  پھر مُسکراتے ہوۓ ۔۔۔ بولی  ٹیک اٹ ایزی یار  (بے شک  میں اُس وقت  عمر میں کم تھا پر اتنا بھی کم نہیں تھا کہ آنٹی ۔ کے اشارے نہ سمجھ سکتا۔۔ ویسے بھی مجھے  آنٹیاں چودنے کا  کا فی وسیع  تجر بہ تھا  )  ۔۔۔ اب میں نے ان  کے ہاتھ سے  شربت کا گلاس لے کر ان کا شُکریہ ادا کیا اور شربت پیتے ہوۓ  ان سے باتیں کرنے لگا   ۔۔۔   وہ  اب بھی چور نظروں سے اُدھر ہی دیکھ رہی  ہیں 
       اور  پھر میں نے دیکھا کہ اب وہ انڈروئیڑ کی طرف  دیکھنے کے ساتھ ساتھ  وہ بار بار اپنی زبان   خشک ہوتے ہونٹوں پر پھیر رہی تھی ۔۔۔ اور  اُن کا رنگ بھی تھوڑا لال   ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اُن کی یہ حالت دیکھتے ہوۓ اچانک مجھے اپنے انڈروئیر سے کلئیر سگنل    موصول ہونا شروع ہو گۓ ۔۔۔۔ اور اب میں ۔۔۔۔ تھوڑا ۔۔۔ الگ ۔۔تھوڑا ۔۔۔۔ ۔  تھوڑا ۔۔۔۔ مختلف سوچنے لگا اور اُن کی یہ حالت دیکھ کر میرا لن اندر ہی اندر   مست ہونے لگا ۔۔ اورپھر  میں نے میڈم کو تھوڑا ۔۔۔  تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ اور یہ سوچ کر میں جو بیٹھ کر  ان سے باتیں کر رہا تھا اب  میں نے  اپنی کُہنیاں قالین پر ٹکا دیں اور  نیم دراز ہو کر ان سے باتیں کرنے لگا ۔۔۔ اور میں نے جان بُوجھ کر ایسے زاویہ سے نیم دراز ہؤا ۔۔۔۔۔۔  کہ میرا سامان عین ان کی سامنے آ گیا  تھا – جسے وہ باربار چور نظروں سے دیکھے جا رہی تھیں ۔۔۔ اب ان کی یوں دیکھتے دیکھ کر میرے لن نے جان پکڑنی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔پر میں ابھی لن کھڑا کر کے ان کو نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔میں ان کو تھوڑا اور ترسانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ سو میں نے اپنی سانس روک   لی جس سے لن کو آتی ہوشیاری کچھ کم  تو  ہو گئ تاہم  یہ ہوشیاری    اتنی بھی کم نہ ہوئ تھی  کہ لن بلکل  ہی مر گیا ہو ۔۔۔ اور پھر اسی دوران   اک شرارت میرے زہن میں  آئ۔۔۔۔۔ اور میں نے خارش کے بہانے اپنے  سوجھے ہوۓ ٹوپے کا موٹا سرا ۔۔۔۔ انڈروئیر کی ایک سائیڈ سے باہر   نکالا۔۔۔۔۔۔ اور پھر ویسے کا ویسا  ہی نارمل ہو کر کر ان سے باتیں کرنے لگا ۔۔۔۔۔ اُف ۔۔۔ اس دفعہ ان کی حالت دیکھنے والی تھی۔۔۔۔ ٹوپے کو دیکھ کر ان کا رنگ لال سُرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اور ایک لمحے کو تو جیسے ان کی آنکھیں میرے ٹوپے پر جم سی گئیں پھر آئ تھنک  ۔۔۔انہوں نے بڑی مشکل سے اپنی نگاہوں کو میرے ٹوپے سے ہٹایا اور پھر سر جھکا لیا اور اپنے ہونٹ چبانے لگی ۔۔۔۔ اور میں ان کی یہ حالت دیکھ کر انجواۓ کرنے لگا ۔۔۔۔ پھر میں نے ان سے پوچھا ۔۔۔۔ آنٹی آپ کتنے بھائ بہن ہو ۔۔۔۔ میرا سوال سُن کر انہوں نے عجیب سی  نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ خشک  ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کیا اور پھر تھوک نگل کر بولی ۔۔۔۔ وہ ۔۔وہ ہم ۔۔ پانچ بھائ بہن ہیں اور پھر چوری چوری   میرے انڈروئیر سے جھانکتے ہوۓ ٹوپے کو دیکھ کر اپنے دانتوں میں اپنے ہونٹ لے لیۓ ۔۔۔اور سر جھکا لیا ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر تک کمرے میں بڑی ہی گمبھیر سی   خاموشی  چھا گئ  ایسی خاموشی جو طوفان آنے سے پہلے چھایا کرتی     ہے۔

 یہ خاموشی ہم دونوں کے  پیچ  وہ  خاص سگنل دے رہی تھی  جسے سمجھ وہ بھی رہی تھی اور میں بھی ۔۔۔۔ پر ر ر ۔۔ دونوں انجان بنے بیٹھے تھی ۔۔۔ وہ بدستور نگاہ نیچ کیے گردن   جھکا کر قا لین پر اپنے پاؤں کا انگوٹھا رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔ اور گاہے چور نظروں سے میرے انڈروئیر کو بھی تاڑ لیتی تھی  ۔۔۔ اور میں مسلسل ان کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔پھر جب انہوں نے  چھٹی یا ساتھویں دفعہ زبان اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرنے کے لیۓ پھیری تو ۔۔۔۔ اچانک مجھے ایک آئیڈیا سوجھا اور میں نے خواہ مخواہ ہی کہہ دیا کہ ۔۔۔۔ کہ لگتا ہے آپ کو بھی سخت گرمی لگ رہی ہے ۔۔۔ میری بات سُن کر اُنہوں نے سر اُٹھا کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولی گرمی میں گرمی ہی لگے گی نا ۔۔۔۔ اور کیا سردی لگے گی ؟ پھر میں نے ان کی بات کا کوئ جواب نہ دیا اور قالین سے یہ کہتا ہوا  اُٹھ گیا کہ آپ کو بھی ایک گلاس ٹھنڈے شربت کی سخت ضرورت ہے جب میں شربت کے لیۓ اُٹھا تو پینٹ میرے پاؤں میں آگئ ۔۔۔۔۔ اور میں پینٹ اُتار کر انڈروئیر میں ہی میز کے پاس چلا گیا اور پھر جگ سے شربت کا گلاس بھرا اور  وہ گلاس  آنٹی کے پاس لے گیا ۔۔۔۔ اور ان کے پاس جا کر  اس زاویہ سے کھڑا ہوا کہ ۔۔۔ میرا انڈروئیر سے جھانکتا ہوا ٹوپا ان کے چہرے کے پاس ہو ۔۔ پھر میں  ان کےتھوڑا اور قریب ہو گیا اور گلاس ان کے ہاتھ میں پکڑا دیا اور اس کے ساتھ ہی اپنا لن ہلکے سے ان کے کندھے کے ساتھ  مس کر دیا ۔۔۔۔ جیسے ہی میرا  لن ان کے  کندھے  ٹکرایا ۔۔۔ تو انہوں نے ایک جُھرجھری  سی لی ۔۔۔۔ اور پھر شربت پینے لگ پڑیں ۔۔۔۔۔ اور کوئ ردعمل نہ شو کیا ۔۔۔۔۔ ان کے نرم کندھے سے لن ٹکرانے کے بعد میرا جی چاہا کہ میں دوسری دفعہ بھی لن کو ان کے کندھے سے لگاؤں ۔۔۔۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔ نہ لگایا ۔۔۔

        اور پھر ایک اور خیال کے تحت میں ان کے سامنے قالین پر لیٹ گیا اور ۔۔۔ اور ان سے زُومعنی لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔۔۔  آنٹی جی کچھ گرمی کم ہوئ ؟؟؟؟ ۔۔۔ وہ بھی میری بات کی تہہ تک پہنچ گئ اور بولی۔۔۔ نہیں بلکہ کچھ اور بڑھ گئ ہے اور مسکرا دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب صورت حال یہ تھی کہ وہ میرے سامنے صوفے پر دونوں ٹانگیں اُوپر  کر کے بیٹھی تھیں اور میں ان کے بلکل سامنے کار پٹ پر لیٹا ہوا تھا ۔۔۔ پھر میں تھوڑا کھسک کر صوفے کے اور قریب آیا اور اور اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کر ان کے پاس صوفے پر رکھ دی ۔۔۔۔ اور پھر پوچھا ۔۔۔۔۔ ایک گلاس اور ڈالوں ۔۔ ؟؟؟۔۔۔  یہ کہتے ہوۓ خاص کر  " ڈالوں " پر تھوڑا زیادہ زور دیا اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی ایک ٹانگ صوفے پر رکھ دی ۔۔۔۔۔ ادھر وہ بھی میری بات کا مطلب سمجھ کر بولی ۔۔۔ اس چھوٹے سے گلاس سے بھلا کہاں پیاس بجھتی ہے۔۔۔ پورا جگ پلاؤ تو بات پنے گی ۔۔۔ اور ساتھ ہی مُسکرا دی ۔۔۔۔ اور اب میں نے اپنا صوفے پر دھرا  پاؤں دھیرے دھیرے سرکانا شروع کر دیا یہاں تک کہ انگھوٹھا  سرکتے سرکتے ان کی نرم گانڈ سے جا لگا ۔۔۔۔۔   یہ دیکھ کر  انہوں نے بھی فوراً  اپنی دونوں ٹانگیں صوفے سے نیچے لٹکا دیں اور اپنی ایک ٹانگ میری تھائ پر رکھ دی ۔۔۔۔۔۔۔۔  اور اُسے میرے لن کی طرف سرکانا  شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرنے لگیں ۔۔۔ جب انہوں نے اپنی ٹانگیں نیچے اُتاری تھیں تو میں نے بھی اُس وقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوۓ اپنا انگھوٹھا ان کی چوت کے پاس کر دیا تھا –