556

جھگڑالو عورت

ہیلو دوستو ۔۔۔۔ کیسے ہو آپ ۔۔۔  میں ہوں آپ کا شاہ ۔۔۔۔ آگے آپ جانتے ہی ہیں ۔۔۔ تو چلیں کہانی کر طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ  تب کی بات ہے جب ہم ڈھوک کھبہ راولپنڈی میں رہتے تھے ۔۔ ہمارے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک خالی پلاٹ تھا جہاں پر ہم ہر   شام  کرکٹ کھیلتے  تھے ۔۔۔۔ اور بد پومتی سے ۔۔۔ اس خالی پلاٹ کے عین  سامنے  ثوبیہ آنٹی کا گھر تھا ۔۔ وہ لوگ  کچھ ہی دن پہلے یہاں شفٹ ہوۓ تھے گھر میں اب تک ہم نے  صرف  دو میاں بیوی ہی دیکھے تھے ۔۔۔ میاں جی تو صبح صبح کام کو چلے جاتے تھے اور کہیں رات گۓ ہی واپس آتے تھے ۔۔۔ پیچھے گھر میں یہ خاتون اکیلی رہ جاتی تھی اور جس کا مشغلہ شاید لڑائ تھا ۔۔ ان کے باقی فیملی ممبر کہاں  رہتے تھے ۔۔؟  فیملی میں اور لوگ تھے بھی کہ نہیں۔۔۔ ؟ کسی کو کچھ علم نہ تھا کہ نہ تو وہ کسی کے گھر جانا پسند کرتی تھی نا ہی ان کے ڈر سے کوئ ان کے گھر جاتا تھا   ۔۔۔  بیٹنگ کرتے ہوۓ اگر زرا بھی زور سے شارٹ لگتی  تو بال سیدھا آنٹی کے گھر جا گرتا  تھا ۔۔۔ جو وہ نہ صرف  واپس نہ کرتی   ۔۔بلکہ  اُلٹا باہر نکل کر ہمیں خوب  صلواتیں سناتیں تھیں ۔۔ہم لوگ بہتیری کوشش کرتے تھے مگر اس کے باوجود ۔۔۔ ہردوسری  شام ہمارا ایک آدھ بال  ان کے گھرضرور  جا گرتا تھا۔۔۔ جو ظاہر ہے کھبی واپس نہ ملتا تھا ۔۔ اس طرح   ہم   نۓ بال خرید خرید کر عاجز آ چکے تھے ۔۔۔ آخرتنگ آ کر  ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کی بھی  ہٹ سے بال آنٹی کے گھر جائ گی وہ ہی نیا بال خریدے گا ۔۔۔۔ اس فیصلے کے بعد ہم  لوگ کافی محطاط ہو گۓ تھے ۔۔۔۔۔  پر کھبی کھبی ۔۔۔۔ بندہ جوش میں  آ کر ہٹ لگا ہی دیتا ہے خاص کر جب لوز بال ملے  تو۔۔۔۔۔۔۔!!!!

 سو خوش قسمتی یا بد قسمتی سے ایسا ہی ایک  دن  میرے ساتھ بھی ہوا۔۔۔۔ میں بیٹنگ کر رہا تھا اب  پتہ نہیں دوست نے جان بوجھ کر یا کسی اور وجہ  سے مسلسل   لوز بالیں پھینکیں ایک دو بار تو میں نے لحاظ کیا ۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔ اس حرامی نے آخری بال کچھ زیادہ ہی لوز پھینک دی ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اتنی لوز بال کو دیکھ کر میں رہ نہ سکا اور۔۔۔ بیٹ گھما دیا ۔۔۔۔ رزلٹ وہ  ہی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ جو ہونا چا ہیۓ تھا  ۔۔۔ بال نے زقند بھری  ۔۔۔ ہوا میں اُڑا ۔۔۔۔ اور اُڑتے اُڑتے ۔۔۔۔۔سیدھا ۔۔۔ آنٹی جی کے گھر جا ۔۔۔ گرا ۔۔۔۔۔ 


 شارٹ لگا کر جتنا مزہ آیا تھا   ۔۔۔۔  آنٹی کے گھر بال گرتا دیکھ کر  میں اتنا ہی   بے مزہ ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے  ساتھ ہی میرے ٹٹے بھی  ہوائ ہو گۓ  کہ فیصلے کے مطابق اب مجھے نئ بال لانا تھی اور میری جیب بلکل  خالی تھی ۔۔ ادھر دوستوں کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا کہ میں جلدی سے نیو بال لاؤں کہ گیم شروع ہو ۔۔ ۔۔ او ر ادھر میرے پاس ایک  پُھوٹی کوڑی بھی نہ تھی ۔۔۔ محلے کے اکلوتے دوکاندار نے بھی ہمارا ادھار بند کیا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور کسی سے ادھار کیا مانگتا کہ سب کا حال ایک جیسا تھا ۔۔ ادھر سب مجھ سے  نئ  بال کا تقاضہ کر رہے تھے ۔۔۔ آخر میں نے سوچا کہ نئ بال تو میں لانے سے رہا ۔۔۔۔۔ چلو آنٹی کے گھر جا کر بال مانگتے ہیں۔۔ کیا پتہ ۔۔بال مل ہی جاۓ ویسے بھی اگر یہاں کھڑا رہا تو۔۔۔۔ یہ لوگ جان کو آ جائیں گے ۔۔۔یہ سوچا اور آنٹی کے گھر کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر     ڈرتے ڈرتے آنٹی  کے گھر کی گھنٹی بجائ ۔۔۔۔ دروازہ آنٹی نے ہی کھولا اور حسب عادت کھا جانے والی نظروں  سے مجھے دیکھا  اور پھر  سخت  آواز میں بولی ۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟؟؟ اس کے لہجے کی پھنکار سن کر ایک بار تو میری  جان ہی نکل گئ ۔۔ پر۔۔۔۔۔ پھر بھی  میں نے ہمت کر کے (کہ اس کے سوا  کوئ چارہ  نہ تھا )   بولا ۔۔۔وہ آنٹی بال آئ ہے۔۔۔  ایسا کہتے ہوۓ میں نے بڑا ہی مسکین منہ بنا لیا اور نطریں نیچی کر کے کھڑا ہو گیا ۔

اب  مجھے نہیں  پتہ کہ  ان کو میری مسکین شکل پر رحم آیا تھا یا   کوئ اور وجہ تھی   ۔۔۔۔۔۔ بحرحال  میں نے محسوس کیا کہ  آنٹی جی کچھ ڈھیلی پڑ گئیں ہیں ۔۔ سو میں نے ایک دفعہ پھر سارے جہان کی مسکینی اپنے اکلوتے  منہ پر طاری کی اور بڑے ہی عاجزانہ لہجے میں دوبارہ درخواست کی کہ پلیز آنٹی آج بال دے دیں ۔۔ آئیندہ  ایسی غلطی   نہیں ہو گی ۔۔!!!  میری بات سُن کر وہ کہنے لگی ۔۔ اگر میں بال نہ دوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟  تو میں نے کہا کہ مجھے نئ بال خریدنی پڑے گی اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔۔۔۔   پہلی د فعہ میں نے ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی وہ کہ رہی تھی ۔۔۔۔  ۔۔۔۔ ابھی تو مہینہ شروع  ہی ہوا ہے اور تمھارے پاس پیسے کیوں  نہیں ہیں ؟؟؟ کیا  تمہیں جیب خرچ نہیں ملتا ؟ تو میں نے جلدی سے کہا وہ تو جی سارے کا سارا  خرچ بھی ہو گیا  ہے  بلکہ تھوڑا ادھار بھی چڑھ گیا ہے ۔۔۔ اس پر وہ تھوڑا حیران ہو کر بولی۔۔۔ خرچ ہو گیا ہے  ۔۔؟ پر  وہ کیسے ۔۔؟؟؟ وہ میری حالت/ ایکٹنگ  دیکھ کروہ  خاصی محظوظ ہو رہی تھی۔۔

 ۔۔۔ ۔۔۔ ویسے بھی  میں اس ٹائم  خاصہ کنفیوز تھا سو گھبراہٹ میں بولا  وہ۔۔وہ  جی ۔۔ ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ یہ سُن کر وہ قدرے غصوے سے بولی ۔۔۔۔ جلدی بولو کیسے خرچ ہوۓ پیسے ؟؟؟ ان کا ڈر تو پہلے ہی دل میں بیٹھا ہوا تھا سو میرے منہ سے جلدی میں سچی بات نکل گئ اور نے کہہ دیا کہ وہ جیب خرچ سے میں نے اپنی گرل فرینڈ کو سال گرہ کا تحفہ لے دیا تھا میری بات سُن کر  وہ بڑی حیرانی سے مجھے دیکھنے لگی اور بولی ۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔پھر تو پرابلم ہے  ۔۔ پھر کہنے لگی اوکے ۔۔  انتظار کرو میں بال لاتی ہوں ۔۔اور خود گھر کے اندر چلی گئ ۔۔۔

          کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئ تو اس کے ہاتھ میں بال تھی۔۔۔  جسے دیکھ کر میری جان میں جان آئ اس نے  مجھے بال دینے سے پہلے   کہا ۔۔۔۔۔ فرض کرو اگر میں تم کو بال نہ دیتی تو تم کیا کرتے ۔۔؟ تو میں نے جواب دیا  کسی نہ کسی طرح  نیا بال خریدتا ۔۔۔۔  اور اس کے بعد پھر  تین چار دن تک  روزانہ آپ کی گھنٹی بجا کر بھاگ جاتا ۔۔۔( یہ بھی ہماری ٹیم کا فیصلہ تھا)۔۔۔ میری بات سُن کر وہ دوبارہ حیران ہو گئ اور بولی ۔۔۔۔اچھا ۔۔۔ تو جس کو بال نہیں ملتی   تو وہ یہ کام  کرتا ہے ۔۔ ۔۔۔ پھر اس کو پتہ نہیں کیا خیال آیا بولی ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔۔ اچھا اچھا ۔۔تو یہ چکر ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس کا چہرہ غصوے سے لال ہو گیا  پر۔۔۔ مجھے کچھ نہ کہا ۔۔۔اور بال میرے ہاتھ میں پکڑا دی ۔۔۔۔۔۔۔  جب میں بال لے کر واپس جانے لگا تو وہ بولی ۔۔۔ سُنو ۔۔۔!!!!! ۔۔ میں نے مُڑ کر ان کی طرٖف دیکھا تو وہ کہنے لگی  اپنے دوستوں سے کہہ دو کہ آئیندہ ہماری گھنٹی نہ بجایا کریں ۔۔۔ میں بال دے دیا کروں    گی پر میری اک شرط ہے  ۔۔۔ اور  وہ یہ کہ بال لینے صرف اور صرف  تم ہی  آؤ گے میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی   صرف میں ہی آؤں گا اور وہاں سے چلا آیا ۔

واپس آ کر جب میں نے دوستوں کو یہ بات بتائ تو وہ بڑے خوش ہوۓ ۔۔ پر میری جان مصیبت میں آ گئ تھی وہ اس لیۓ کہ جب بھی بال گرتی مجھے ہی جانا پڑتا اور وہ عموماً دو چار سُنا کر ہی   بال  مجھے دیتی تھی روز  روز کے اس آنے جانے سے اب میری ثوبیہ آنٹی کے ساتھ پہلے تواچھی  ہیلو ہاۓ ہوئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پھر  کچھ  کچھ فرینڈ شپ بھی  ہو گئ تھی ۔۔۔ گاہے گاہے اب وہ بال دیتے ہوۓ مجھ سے میری گرل فرینڈ کے بارے میں بھی  پوچھ لیتی تھی ۔۔۔ اور میں بھی ان کو سچ سچ بتا دیتا تھا ۔۔۔ اس طرح کچھ دن بعد   ہماری گپ شپ تھوڑی اور  بڑھ  گئ تھی ۔۔۔ اب کھبی کھبی وہ  مجھے کولڈ ڈرنک کی بھی آفر دیتی تھی اور بعض دفعہ تو میں خود بھی ان کے گھر کے  اندر جا کر بال لے آتا تھا ۔۔۔۔ہاں مگر ایک بات تھی وہ یہ کہ جس دن میں کھیلنے نہ جاتا اور بال ان کے گھر چلی جاتی تو وہ میرے سوا   کسی اور  کو ہر گز ہرگز  بال نہ دیتی تھی ۔۔
صرف  اور صرف میں ہی ان کے گھر سے   بال لا سکتا تھا ۔۔
ایک دن کی بات ہے کہ جب میں ان کے گھر سے  بال لینے گیا تو وہ کافی گھبرائ  ہوئ  لگ رہئ تھی ۔۔ میں نے ان کے چہرے کا رنگ  دیکھ کر  پوچھا ہی لیا کہ  آنٹی خیر تو ہے نا ؟؟؟ تو وہ گھبراہٹ میں بولی ۔۔۔۔۔ امی کی طبعیت اچانک زیادہ ہی خراب ہو گئ ہے ( ان دنوں ان کی ماما ان سے ملنے آئ ہوئ تھیں ) تو میں نے کہا کوئ دوائ وغیرہ نہیں دی۔۔ ؟؟؟؟؟ تو وہ کہنے لگی دوائ ہی تو ختم ہونے کی وجہ سے ان کی یہ حالت ہو رہی ہے پھر بولی اگر تم برا۔۔  نا مانو تو مجھے ان کی دوائ لا کر دے سکتے ہو۔۔؟ تو میں نے کہا اس میں بُرا ماننے والی کون سی بات ہے۔۔؟   آپ حُکم  کریں کہ  کون سی دوائ لانی ہے میں منٹوں میں  لا دیتا ہوں تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ یہ بہت ارجنٹ مسلہ ہے پلیز تم 10،15 منٹ میں دوائ لا سکتے ہو کیونکہ اس کے بعد ان کی طبیعت اور  زیادہ بھی خراب ہو سکتی ہے اس لیۓ پلیز  جتنی جلدی ہو سکے مجھے دوائ لا دو۔۔۔۔ اور پھر مجھے جلدی سے ایک کاغز پردوائ کا نام لکھ دیا اور ایک بار پھر تاکید کی کہ جتنا جلدی ہو سکے یہ دوائ مجھے پہنچاؤ ۔۔۔۔ کہ ٹائم بہت کم ہے۔۔۔ میں نے ان کے ہاتھ سے کاغز  لیا۔۔۔۔۔  بال میں  پہلے ہی    صحن سے لا چکا تھا  ۔۔ سو میں نے جلدی سے  کاغز پکڑا اور  وہا ں سے دوڑ لگا دی ۔۔۔ راستے میں گراؤنڈ پڑتا تھا وہاں  بال اپنے دوست کو دی اور یہ کہ کر دوڑ لگا دی   کہ میں  آنٹی کے لیئے   میڈیسن لے  کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔ اور پھر وہاں سے     بھاگم بھاگ   میڈیکل  سٹور پر جا پہنچا ۔۔  ان کو دوا کا کاغز دکھایا تو پتہ چلا کہ ان کے پاس   ۔۔۔۔ وہ دوائ  ختم ہو چکی ہے ۔۔ دوسرا سٹور  وہاں سے تھوڑا  دُور تھا  سو اب میں اور بھی تیز بھاگ کر اس  سٹور پر گیا خوش قسمتی سے وہ دوائ ان کے پاس  موجود تھی چنانچہ میں نے جلدی جلدی دوائ لی اور پھر وہاں سے فُل سپیڈ سے   بھاگ کر آنٹی کے گھر پُہنچ  گیا  --

وہ دروازے پرکھڑی میرا ہی انتظار کر رہی تھیں  جب میں نے دوائ  ان کو پکڑائ  تو اس وقت  میرا سانس دُھوکنی کی طرح چل رہاتھا۔۔۔ سخت گرمی لگی ہوئ تھی اور  تیز  سانسوں کے ساتھ ساتھ میں پسینے میں  شرابور   تھا ۔۔۔۔۔ انٹی نے مجھ سے دوائ لی اور فوراً اندر اپنی  امی کے کمرے میں  چلی گئ اورجاتے جاتے مجھ سے کہہ گئ کہ میں ڈرائینگ روم میں بیٹھ جاؤں ۔۔۔۔۔ اور پسینہ سُکھا کر ہی جاؤں ۔۔

یہاں میں  ایک بات  بتانا بھول ہی گیا وہ یہ کہ اس دن میں نے پینٹ کے نیچے نائیلون کا انڈر ویئر پہنا ہوا تھا ( کہ کاٹن کا ملا نہیں تھا اور ہمیشہ کی طرح مجھے جلدی بڑی تھی ) اب میں  ڈرائینگ  روم میں گیا اور پنکھا فل سپیڈ پر کر کے صوفے پر بیٹھ گیا پر۔۔۔۔۔ گرمی پھر بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور خاص کر میرا نایئلون کا انڈروئیر تو آگ کا گولا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ میں نے پہلے تو اپنی شرٹ اتاری اور صوفے پر عین پنکھے کے نیچے بیٹھ گیا ۔۔۔ اس  وقت جینز کے نیچے  میرا انڈر وئیر پسینے سے بُری طرح بھیگا ہوا تھا ۔۔۔ جس سے میں بڑا تنگ ہو رہا تھا اب میں نے یہ سوچ کر کہ آنٹی اپنی امی کے ساتھ بزی ہوں گی ۔ پینٹ کی زپ کھولی اور خاص کر لنڈ والی سائیڈ بلکل پنکھے کے نیچے کر دی ۔۔۔ اور کارپٹ پر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ  5 سات منٹ تک میں ایسے ہی   سانس لیتا رہا۔۔۔۔ پھر پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئ ۔۔۔۔ اور میں سو گیا اب مجھے یاد نہیں کہ میں کتنی دیر تک سوتا رہا اور یہ بھی نہیں معلُوم کہ ثوبیہ آنٹی کب کمرہ میں داخل ہوئ ۔۔ جب میری آنکھ کھلی تو وہ ڈرائینگ روم میں موجود تھیں اور سامنے صوفے پر بیٹھی میری  ہی طرف دیکھ رہی تھیں ۔۔ اور جب میری نطر ان کی نظر سے ملی  تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دی ۔۔۔

مجھے نہیں پتہ   کہ آنٹی کب سے وہاں بیٹھی مجھے  دیکھ رہی تھیں  پھر   میں نے ان کو دیکھ  کر اُٹھنے کی کوشش کی  ۔۔۔  تو مجھے  اُٹھتا دیکھ کر کہنے لگی ۔۔۔ کافی تھکے لگتے ہو۔۔۔۔ اور پھر ٹائم پر دوائ لا کر دینے پر میرا شکریہ ادا کرنے لگی اور بولی ۔۔۔ اگر تم بھا گ دوڑ نہ کرتے تو پتہ نہیں آج کیا ہو جاتا ۔۔۔۔۔ پھر میز کی طرف اشارہ کر کے بولی  ۔۔ سامنے میز پر ٹھنڈے  شربت کا  جگ اور  گلاس رکھا ہے اُٹھ کر  پی لو ۔۔ اور  پھر بڑے ہی  معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔
۔
لگتا ہے  تم کو  بہت گرمی لگی تھی  ۔۔

جیسے ہی آنٹی نے یہ با ت کی میری نظر اپنی پینٹ کی طرف چلی گئ ۔۔۔۔۔ جو کہ اس وقت میرے گُھٹنوں تک  آئ ہوئ تھی  اور میں صرف   انڈروئیر پہنے لیٹا تھا  ---  اور یہ انڈروئیڑ بھی کافی  چھوٹا تھا جو  صرف میرے لن کو ہی کور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ جبکہ لن کے آس پاس کا باقی حصہ  جس میں میری جھانٹیں بھی شامل تھیں  جو  اس ٹائم کافی  بڑھی ہوئ تھیں صاف نظر آ رہی تھیں اور وہ  بھی میرے خیال میں یہی دیکھ رہی تھی ۔۔ ۔۔ ان کی نظروں کو  اپنی طرف پا کر میری تو جان ہی نکل گئ اور میں نے فوراً ہی اپنی پینٹ اوپر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ میں اپنی پینٹ  اوپر کرتا ۔۔۔ وہ بولی ۔۔ ناں ۔۔ ناں ۔۔۔ ایسا مت کرو ۔۔۔ میں نے یہ بات اس لیۓ نہیں کہی تھی کہ تم فوراً ہی  اپنی پینٹ درست کرنی شروع کر دو  ۔۔ پھر بولی ۔۔۔۔  مجھے پتہ ہے کہ تم کافی تیز  بھاگ کر آۓ تھے اور اس سے پہلے تم نے  2،3 گھنٹے تک گیم  بھی  کھیلی تھی۔۔۔۔ سو  اٹس او کے یار  ۔۔۔ ایسا ہو جاتا ہے اس میں ڈرنے کی کوئ بات نہیں ۔۔۔۔   اب تم جلدی سے  اُٹھو اور ٹھنڈا   شربت پی لو ۔۔۔