2193

اُستانی جی قسط5

  یہ سن کر  جیسے انہیں کچھ یاد آ گیا ہو ۔۔ انہوں نے  میری طرف دیکھا اور بولی ۔ ۔  ایسے ہی وہ تمھاری جان نکال دے گا  ۔ ۔  پھر وہ  اپنے گلے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولیں ۔  ۔ ۔ جب تم دس دن کا کرایہ اس کے منہ پر مارو گے تو وہ تم کو کچھ نہیں کہے گا اور پھراپنے گلے میں ہاتھ ڈالے ڈالے میری طرف دیکھ کر بولی  ۔۔ کیا خیال ہے ۔۔۔ میں جو بڑےہی  اشتیاق سے ان کے ہاتھ کو گلے میں جاتے دیکھ رہا تھا  ۔۔  ۔ ہولے سے بولا   ۔ ۔ ایک دفعہ وہ بھی دکھا دیں نا  ۔ ۔  تو میڈم شرارت سے بولی  وہ کیا ۔۔ دیکھنا ہے تم نے ؟ ۔  ۔ تو میں نے کہا وہ آپ کی  خوبصورت ۔ ۔ ۔۔  چھاتی  !! میری بات سن کر ان کو جیسا نشہ سا ہو گیا ہو بولی ۔۔۔ میری چھاتیاں کیا بہت خوبصورت ہیں ؟ تو میں نے کہا میڈم بہت نہیں بہت  ہی  زیادہ  پیاری  ہیں ۔ ۔ ۔ یہ سُن کر وہ خمار آلود لہجے میں بولیں  ۔ ۔ ۔ اندر آ جاؤ میں تم کو یہ کوخوبصورت  چیز دکھاتی ہوں  تو میں نے کہا   میں کنڈی لگا آؤں ۔ ۔  تو وہ کہنے لگی نہیں اتنا ٹائم نہیں ہے پھر وہ میرے ساتھ  کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے بولی ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم سکول سے سیدھے میرے پاس آ جاتے نا تو پھر ہم کنڈی لگا کے تسلی سے یہ کام کرتے فی الحال تو بس ۔۔۔ اور ہم کمرے میں داخل ہو گئے ۔ ۔ ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میڈم نے اپنی قمیض اوپر کے برا بھی ہٹا دی اور  اپنی دونوں چھاتیاں ننگی کر کے بولی ۔ ۔ ۔  لوجی بھر کر دیکھ لو اپنی پسندیدہ  چھاتیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میری نظروں کے سامنے میڈم کی گوری چٹی موٹی موٹی  چھاتیاں تھیں ۔ ۔ ۔۔ جن  کے اوپر  براؤن رنگ کا نپل ۔ ۔   ۔۔  عجیب شان سے کھڑا تھا ۔   ۔ ۔ جسے دیکھ کر میں آپے سے باہر ہو گیا اور جا کراپنے دونوں ہاتھوں میڈم کی خوبصورت چھاتیوں کو تھام لیا ۔ ۔ ممے ہاتھ میں پکڑتے ہی میرا لن  تن گیا اور مجھ پر ایک عجیب سا نشہ چھا گیا   ۔۔۔ اور  میں نے میڈم کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیے اپنے مموں پر میرے ہاتھوں کا  مزہ لے رہی تھیں ۔اور پھر    ہولے ہولے۔ ۔ ۔ میں  ان کا ممے دبانے لگا   ۔ 
۔  کچھ دیر ان کے ممے دبانے کے بعد میں نے ان کا ایک مما اپنے منہ میں لیا  اور زبان نکال کر ان کے نپل پر پھیرنے لگا ۔۔۔ پھر میں نے  اسے  اپنے دونوں ہونٹؤں میں دابا اور اس کو چوسنے لگا۔ ۔ ۔  اور ساتھ ہی میڈم  کےمنہ سے ایک آہ  نکلی اور وہ  کہنے لگی ۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم دوپہر کو آتے نا تو ۔۔ ۔ ۔توکیا  ہی بات تھی  پھر انہوں نے میرے منہ سے اپنا  وہ  والا مما  نکالا  اور  دوسرے میرے آگے لا کر بولی اب اس کو چوسو ۔  ۔۔ ۔  اور پھر میں نے اس کو بھی ویسے ہی چوسنا شروع کر دیا جیسا کہ پہلے کو چوس رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر تک ممے چسوانے کے بعد انہوں نے شلوار کے اوپر سے ہی میرا لن پکڑ لیا اور اسے دباتے ہوئے بولی  ۔۔۔۔۔ سالے اگر تم پہلے  آ جاتے تو ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میم اپنا فقرہ مکمل کرتی ۔  اچانک  گلی کی نکڑ سے کار  کے ہارن   کی آواز سنائی دی  جسے سنتے ہی  وہ ایک دم سنبھل  سی  گئیں اور جلدی سے  اپنے ممے قمیض کےاندر   کر لئے اور   مجھے دو سو روپے دیکر کر بولی یہ پیسے تم   کرائے کی مد میں لائیبریری  والے کو دے دینا  اور فکر نہ کرنا اگر ہم مزید لیٹ ہو گئے تو کسی سے ادھار لیکر کرایہ دے دینا میں آ کر تم کو دے دوں گی پھر انہوں نے مجھے ایک ٹائیٹ سی جھپی لگائی اور بولی  وہ پہلے زیبا کے گھر جائے گا تم جلدی سے نکل جاؤ ۔۔۔ اور میں نے اس سے پیسے لیئے اور گھر آ گیا ۔۔۔۔  
 اگلے دن میں حسبِ معمول اٹھا اور  تیار شیار ہو کر سکول جانے کے لئےجیسے ہی گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے سے  ارمینہ کے گھر سے ماسی ارصلا  کو لیکر میری ہی طرف آ رہی تھیں انہیں دیکھ میں  تھوڑا شرمندہ سا ہو  گیاکیونکہ میں نے ماسی کو کہا تھا کہ میں خود  ارصلا  کو لے جایا کروں گا  ۔ چنانچہ  ماسی سے نظر ملتے ہی میں نے کہا ۔ ۔ ۔ سوری ماسی جی میں نے تو سمجھا تھا کہ آج ارصلاچھٹی کرے گا  تو میری بات سُن کر ماسی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ  ۔۔۔ ہاں بیٹا  ۔ ۔ تمھارا نہیں اس کا بھی یہی خیال تھا ۔ ۔ اور پھرارصلا سے بولی بھائی کے ساتھ سکول جاؤاور جب تک یہ تمھارے پاس نہ آئیں تم نے سکول کے گیٹ سے باہر نہیں نکلنا پھر وہ میری طرف  مخاطب ہوئی اور کہنے لگی بچے یاد سے ارصلا کو اپنے ساتھ لانا اور واپس اپنے گھر کی طرف مُڑ گئی – میں دیکھا کہ ارصلا کا موڈ خاصہ خراب تھا چنانچہ میں نے اسے ویسے ہی چھیڑنے کے لیئے کہا  یار تم نے آج چھٹی کرنی تھی میری بات سُن کر وہ بڑے تلخ لہجے میں بولا ۔ بھائی جان آپا نے نہیں کرنے دی خیر آج تو اس نے میری چھٹی روک لی ہے دیکھتا ہوں وہ کل کیسے مجھے چھٹی کرنے سے روکتیں ہیں ۔۔ تو میں نے اس سے کہا کیوں کل کوئی خاص بات ہو گی کیا تو وہ بولا ۔ ۔ خاص نہیں بھائی جان بہت خاص بات !! تو میں نے اس سے پوچھا کہ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے تو وہ چلتے چلتے رُک گیا اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگا  بھائی جان آج  مرینہ آپا جو آ رہی ہیں ۔ تو میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا گویا پوچھ رہا تھا کہ یہ مرینہ آپا کون ہے۔۔
 تو وہ میری نظروں کا مفہوم سمجھ کر بولا بھائی جان مرینہ میری سب سے بڑی بہن ہے جو کہ حیدر آباد میں رہتی ہیں اور آج  4 بجے کی  ٹرین سے  پنڈی آ رہی ہیں تو میں نے اس سے  ویسے ہی پوچھا کہ تو تم اپنی آپا کو لینے ریلوے سٹیشن جاؤ گے ؟  تو وہ کہنے لگا میں ہی  نہیں امی   اور دا جی (ابا) بھی جائیں  گے اس کی بات سُن کر میرا کان کھڑے ہو گئے اور میرے شیطانی  دماغ میں یک لخت ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے کوندا ۔ ۔ ۔اور میں نے دھڑکتے دل سے  اس سے پوچھا کیوں تم ماسی اور چاچا ہی جاؤ گے ؟ ارمینہ باجی کو  ساتھ نہیں لے جاؤ گے ؟ تو وہ لاپرواہی سے بولا دا جی  (ابا) کہتے ہیں سٹیشن پر لڑکیوں کا کوئی کام  نہیں  اس لیئے وہ گھر پر ہی رہے گی اور ارصلا کی بات سُن کر میرے دماغ میں شیطانی منصوبہ بننے لگا اور میں دل ہی دل میں اس کے تانے بانے جوڑنے لگا اور اسی دوران ارصلا کا سکول بھی آ گیا اور وہ مجھے ٹاٹا کرتے ہوئےسکول چلاگیا اور میں ۔۔۔۔۔ اپنے منصوبے کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔ 
سکول سے واپسی پر میں نے جلدی جلدی کھانا  کھایا  اور تین بجے ہی چھت پر جا  کر ناکہ لگا لیا میرا فوکس ماسی کا گھر تھا کہ کب وہ لوگ گھر سے جائیں اور میں وہاں جا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریباً سوا تین بجے کے قریب  ارصلا کا والد جسے وہ  دا جی کہتے تھے ایک رکشہ لیکر آیا اور اسے اپنے دروازے کے پاس   کھڑا کرے کے  خود اندر چلا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی دو تین منٹ بعد ہی ماسی اور ارصلا خان   اپنے والد کے ساتھ گھر سے باہر برآمد ہوئے اور وہ  سب جلدی سے رکشے میں بیٹھ گئے ۔۔۔ اور رکشہ چل پڑا ۔۔۔۔   اور  میں دھڑکتے دل کے ساتھ یہ سب دیکھتا  رہا   جب رکشے کو گئے ہوئے کوئی دس منٹ ہو گئے تو میں اپنے چھت سے نیچےاترا اور  خود بخود میرے قدم ماسی کے گھر کی طرف اُٹھ گئے کہ جہاں اس وقت  گھر میں  ارمینہ اکیلی تھی  لیکن اس سے قبل میں بھاگا بھاگا   بازار گیا اور PCO  پر جا کر  ریلوے انکوائری   والوں سے پوچھا کہ کیا  کراچی سے آنے والی  ریل ان ٹائم ہے یا نہیں تو انہوں نے میری توقع کے عین مطابق بتلایا کہ مطلابہ ٹرین  دو گھنٹے لیٹ ہے اور یہ ٹائم بڑھ بھی سکتا ہے ۔۔۔یہاں سے مطمئن ہو کر میں واپس اپنی گلی کی طرف آیا  ۔۔۔ اور  ۔۔۔پھر ۔۔ احتیاطً میں نے ادھر ادھر  نگاہ  دوڑائی  تو ساری گلی کو سنسان پایا   ویسے بھی گرمیوں کی دو پہر کو کم ہی لوگ گھروں  سے نکلتے ہیں سو میں جلدی سے ارمینہ کے         گھر کے پاس گیا حسبِ معمول دروازے پر پردہ لٹکا ہوا تھا میں نے وہ پردہ ہٹایا تو دروازے بند تھا   یہ پہلی دفعہ تھی کہ  میں  نے ان کے گھر کا  دروزہ  بندپایا  تھا   ورنہ یہ ہمیشہ ہی کھلا   ہی  ملتا تھا ۔۔۔ خیر میں نے پردے کے اندرہی  رہتے ہوئے دروازے پرہلکی سی دستک دی  لیکن کوئی جواب نہ آیا پھر میں نے قدرے ذور کی دستک دی تو اندر سے ارمینہ کی آواز سنائی دی ۔۔۔ کون ۔؟؟؟؟۔
۔ اور اس کے ساتھ ہی دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا تو میرے  سامنے میرے سپنوں کی رانی  ارمینہ کھڑی تھی  اس نے سُرخ رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا جس میں قیامت لگ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔مجھے دیکھتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کولہوں پر رکھے اور بولی جی فرماؤ ؟؟ ۔۔۔  تو میں نے کہا مجھے اندر آنا ہے تو وہ بولی  گھر میں اس دقت کوئی نہیں ہے ۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اسی لیئے تو میں اندر آنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔  میری بات سُن کر وہ قدرے غصے سے بولی کیا مطلب ہے تمھارا ؟ تو میں نے جلدی سے کہا وہ ۔۔۔ وہ باجی میرا آپ سے ایک بڑا ضروری  کام ہے  پلیز اندر آنے دیں نا ۔ ۔  ۔۔ میر بات سن کر اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر مجھے اندر آنے کے لیئے     راستہ  دے  دیا  اور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا اس نے دروازہ لاک کیا اور بولی ہاں جی بولو کیا ضروری  کام تھا ؟تو میں نے کہا باجی میں یہاں نہیں بتا سکتا آپ پلیز اندر چلیں نا  ۔ ۔  تو وہ کچھ نخروں کے میرے ساتھ اندر جانے پر راضی ہو گئی اور پھر ہم ان کے ڈرائینگ روم میں آ گئے وہاں اس نے مجھے ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور خود  میرے سامنے کھڑی ہو کر بولی  جلدی بولو کیا کام ہے ؟ تو میں اس کی بات سُن کر گھبرا گیا اور ۔۔۔۔ سر نیچا کر کے بیٹھا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ دیر تک تو اس نے میرے جواب کا نتظار کیا پھر کہنےلگی ۔۔ کچھ بولو بھی ۔۔ یہ منہ میں  گھونگنیاں  ڈالے کیوں بیٹھےہو ۔ ۔  تو میں نے سر اٹھایا  اور  ڈرتے ڈرتے ارمینہ سے  بولا ۔ ۔ ۔ ۔ باجی آپ بہت خوبصورت  ہیں   اور مجھے بہت اچھی لگتی ہیں  میری بات سن  کر اس کے چہرے کا رنگ سُرخ ہو گیا اور وہ کہنے لگی بس یہی اطلاع دینے کے لیئے آپ یہاں تشریف لائے تھے ؟ اس کی بات سُن کر میں ایک  بار پھر گڑبڑا گیا  اور سوچنے لگا کہ ابتدا کیسے کروں کہ ارمینہ ناراض  بھی نہ ہو اور کام بھی بن جائے  سوچتے سوچتے میں نے ارمینہ کی  طرف دکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی اور ساتھ  ساتھ اپنے دوپٹے کے پلو کو کبھی رول کرتی اور کھبی  اسے کھول  رہی تھی اس کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کا  رنگ  بھی کچھ زیادہ  ہی سُرخ ہو رہا تھا اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان بھی پھیر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔  ارمینہ کی یہ حالت دیکھ کر میں نے خود پر ایک سو ایک دفعہ لعنت بھیجی اور  کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا  اور بلکل ارمینہ کے سامنے کھڑا  ہوا  اور اس سے  بڑے ہی رومینٹک لہجے میں بولا  ۔ ۔  باجی میں آپ کے خوبصورت گال پر ایک چمی کر لوں  ؟ اور پھر  ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ۔ ۔ ۔ ۔  میں ۔ ۔ بنا  اسکی اجازت کے اچانک  آگے بڑھا اور اس کے لال  گال کو چوم لیا ۔۔۔ اس نے فوراً ہی مجھے دھکا دیکر پرے کیا اور بولی یہ کیا بے ہودگی ہے ؟ تو میں نے کہا باجی یہ بے ہودگی نہیں پیار ہے اور پھر آگے بڑھ کر اس کو دوبارہ   چومنے کی کوشش کی ۔  ۔
۔ اور اس کے ساتھ ہی دروازہ کھلا اور میں نے دیکھا تو میرے  سامنے میرے سپنوں کی رانی  ارمینہ کھڑی تھی  اس نے سُرخ رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا جس میں قیامت لگ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔مجھے دیکھتے ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کولہوں پر رکھے اور بولی جی فرماؤ ؟؟ ۔۔۔  تو میں نے کہا مجھے اندر آنا ہے تو وہ بولی  گھر میں اس دقت کوئی نہیں ہے ۔۔ تو میں نے جواب دیا کہ اسی لیئے تو میں اندر آنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔  میری بات سُن کر وہ قدرے غصے سے بولی کیا مطلب ہے تمھارا ؟ تو میں نے جلدی سے کہا وہ ۔۔۔ وہ باجی میرا آپ سے ایک بڑا ضروری  کام ہے  پلیز اندر آنے دیں نا ۔ ۔  ۔۔ میر بات سن کر اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر مجھے اندر آنے کے لیئے     راستہ  دے  دیا  اور جیسے ہی میں اندر داخل ہوا اس نے دروازہ لاک کیا اور بولی ہاں جی بولو کیا ضروری  کام تھا ؟تو میں نے کہا باجی میں یہاں نہیں بتا سکتا آپ پلیز اندر چلیں نا  ۔ ۔  تو وہ کچھ نخروں کے میرے ساتھ اندر جانے پر راضی ہو گئی اور پھر ہم ان کے ڈرائینگ روم میں آ گئے وہاں اس نے مجھے ایک کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور خود  میرے سامنے کھڑی ہو کر بولی  جلدی بولو کیا کام ہے ؟ تو میں اس کی بات سُن کر گھبرا گیا اور ۔۔۔۔ سر نیچا کر کے بیٹھا رہا ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ دیر تک تو اس نے میرے جواب کا نتظار کیا پھر کہنےلگی ۔۔ کچھ بولو بھی ۔۔ یہ منہ میں  گھونگنیاں  ڈالے کیوں بیٹھےہو ۔ ۔  تو میں نے سر اٹھایا  اور  ڈرتے ڈرتے ارمینہ سے  بولا ۔ ۔ ۔ ۔ باجی آپ بہت خوبصورت  ہیں   اور مجھے بہت اچھی لگتی ہیں  میری بات سن  کر اس کے چہرے کا رنگ سُرخ ہو گیا اور وہ کہنے لگی بس یہی اطلاع دینے کے لیئے آپ یہاں تشریف لائے تھے ؟ اس کی بات سُن کر میں ایک  بار پھر گڑبڑا گیا  اور سوچنے لگا کہ ابتدا کیسے کروں کہ ارمینہ ناراض  بھی نہ ہو اور کام بھی بن جائے  سوچتے سوچتے میں نے ارمینہ کی  طرف دکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی اور ساتھ  ساتھ اپنے دوپٹے کے پلو کو کبھی رول کرتی اور کھبی  اسے کھول  رہی تھی اس کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کا  رنگ  بھی کچھ زیادہ  ہی سُرخ ہو رہا تھا اور وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان بھی پھیر رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔  ارمینہ کی یہ حالت دیکھ کر میں نے خود پر ایک سو ایک دفعہ لعنت بھیجی اور  کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا  اور بلکل ارمینہ کے سامنے کھڑا  ہوا  اور اس سے  بڑے ہی رومینٹک لہجے میں بولا  ۔ ۔  باجی میں آپ کے خوبصورت گال پر ایک چمی کر لوں  ؟ اور پھر  ۔ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ۔ ۔ ۔ ۔  میں ۔ ۔ بنا  اسکی اجازت کے اچانک  آگے بڑھا اور اس کے لال  گال کو چوم لیا ۔۔۔ اس نے فوراً ہی مجھے دھکا دیکر پرے کیا اور بولی یہ کیا بے ہودگی ہے ؟ تو میں نے کہا باجی یہ بے ہودگی نہیں پیار ہے اور پھر آگے بڑھ کر اس کو دوبارہ   چومنے کی کوشش کی ۔  ۔
 ۔ لیکن اس نےہاتھ ہٹا کر مجھے اپنے سے  پرے کر دیا اور بولی تم عجیب لڑکے ہو مجھے باجی بھی کہتے ہو اور میرے ساتھ بےہودہ حرکات بھی کرتے ہو ۔۔ میں نے محسوس کیا کہ ارمینہ کا لہجہ بات کرتے  ہوئے کوئی غصیلا  نہ تھا  بلکہ  کافی  ہموار تھا ۔۔ ۔ جیسے وہ  اس صورتِ حال پر  مزہ  لے رہی ہو ۔   یہ دیکھ کر میں بھی شیر ہو گیا اور اس سے بولا     ۔۔۔۔ کہ  اگر آپ باجی  کہنے پر ناراض ہوتی ہیں تو میں آپ کو ڈارلینگ بھی کہہ سکتا ہوں  ۔ ۔  میری بات سُن کر اس کا رنگ کچھ اور سُرخ ہو گیا اور  وہ   سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔ ۔ ۔  ڈالنگ کے  بچے ۔ ۔ ۔۔ بھاگو یہاں سے  ۔   ورنہ ابھی  دا جی (ابا)   آ گئے نا   تو ۔ ۔تمھاری یہ ساری  شوخیاں  اور  ۔  شرارتیں نکال دیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ارمینہ کی بات سُن کر میں نے اس سے کہا  باجی جی آپ ۔ ۔ اپنے دا جی کی آپ فکر نہ کرو کیونکہ وہ  کم از کم دو گھنٹے  بعد آئیں  گے۔ ۔  میری بات سن کر وہ ایک دم چونک گئی اور بولی  یہ تم کیسے کہہ سےتن ہو؟  تو میں نے اس سے کہا میں اسیے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے پاس آنے سے پہلے میں نے پی سی او سے ٹرین کے بارے میں معلومات کیں تھیں اور ریلوے والوں نے مجھے  بتلایا تھا کہ ٹرین کم از کم 2 گھنٹے لیٹ ہے  میری بات سُن کر ارمینہ نے ایک گہرا سانس لیا اور بولی ۔ ۔  بڑے تیز ہو تم ۔ ۔    
ارمینہ کی بات سُن کر میں آگے بڑھا اور اسے گلے لگا کر بولا میں کوئی تیز نہیں ہوں    ڈارلینگ  یہ سب آپ کے پیار نے سکھایا ہے اور ایک بار پھر اس کو چوم لیا اب کی بار اس نے واجبی سی مزاحمت کی اور بولی ۔ ۔   مجھے چھوڑو  بد تمیز ۔ ۔   لیکن بدتمیز کہاں چھوڑنے ولا تھا  ۔ ۔  سو میں نے دوبارہ سے اپنے  ہونٹ اس کے  لال گالوں پر رکھے اور بولا  بس تھوڑا سا پیار کرنے دو نا جان ۔۔ ۔  تو وہ میری باہوں میں کسمساتے ہوئے بولی ۔ ۔ ۔ اُف اور کتنا پیار کرو گے اب چھوڑ بھی دو  نا  ۔ ۔ لیکن میں نے اس کو نہیں چھوڑا اور  پھر میں نے اپنے ہونٹوں  سے زبان باہر نکالی اور   اس کے  لال گال کو چاٹ لیا ۔ ۔ ۔  ارمینہ کے منہ سے ایک لزت بھری سسکی نکلی  ۔۔۔ سس۔سس۔ اور بولی  ۔ یہ کر رہے ہو تم ؟؟ تو میں نے  مستی میں ڈوبے لہجے میں کہا   آپ سے پیار کر رہا ہوں میری جان ۔ ۔ ۔۔  اور پھر میری یہ زبان گھومتے  گھومتے   اسکے نرم ہونٹؤں پر پہنچ  گئی اور میں نے اپنی زبان ارمینہ  کے نرم ہونٹوں پر رکھی اور آہستہ آہستہ اپنی  زبان کو  ارمینہ کے نرم ہونٹوں پر  پھیرنے لگا  ۔ ۔ ارمینہ کے ہونٹ ایسے  نرم  تھے کہ جیسے پنکھڑی کوئی گلاب کی سی ہو ۔ ۔ ۔۔  کچھ دیر تک تو میں اپنے زبان اس کے ہونٹؤں پر پھیرتا رہا پھر بڑی ہی آہستگی سے میں نے اپنے زبان کو اس کے منہ میں داخل کرنے کی کوشش کی پہلے تو اس نے اپنے ہونٹ نہ کھولے لیکن جب میں اپنے زبان سے بار بار اس کے ہونٹوں پر دستک دیتا رہا تو پھر اس نے تھوڑا سا منہ کھولا اور میں نے بجائے زبان اس کے منہ میں  دینے کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے اوپر ولا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں  لیا اور اسے چوسنے لگا  ۔اور اس کے منہ  سے صرف  ۔ ۔ آہ ہ  ۔ کی آواز ہی نکل سکی     کیونکہ پھر میں نے اپنا منہ اس کے منہ سے جوڑ لیا تھا ۔  وہ  اس عمل میں  ایکٹولی تو میرا ساتھ  نہ دے رہی تھی لیکن اب مجھے منع بھی نہیں  کر رہی تھی  بلکہ میری ساتھ  کسنگ  کا  لطف اُٹھا رہی تھی ۔ ۔   ارمینہ کے ہونٹ چوسنے کے ساتھ ساتھ اب میں نے ایک ہاتھ اس کے ممے پر رکھا اور اسے دبانے لگا ۔۔
۔۔ جب میں اس کا مما  دباتا  تو اس کے منہ سے بے اختیار  ایک آہ سی نکلتی تھی ۔ ۔  اؤئی  ۔ ۔  ارمینہ کے ہونٹ چوستے چوستے میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں  ڈال دی ۔ ۔ اُ ف ف ف ۔۔۔فف   ۔۔۔ ارمینہ کے منہ سے بڑی ہی دلکش سی مہک آ رہی تھی اور اس کی زبا ن سے جب میری زبان ٹکرائی  تو ارمینہ کے گرم جسم  کو  ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے میرے گلے میں باہیں ڈال دیں اور مجھے بڑا ہی ٹائیٹ ہگ دیا ۔۔ ۔
   اور اس کی اس ٹا ئیٹ جھپی کی وجہ سے میرا لن جو اس وقت تک فُل مستی میں آ چکا تھا ارمینہ کی رانوں کے  عین بیچ میں آ گیا اور  پھر میں نے  محسوس کیا کہ ارمینہ اپنی نرم رانوں سے  میرے لن کو دبا رہی ہے  وہ بار بار اپنی رانیں میرے لن کے گرد ٹائیٹ کر  لیتی  اور کبھی کبھی تو  لن کو رانوں میں دبا کر  تھوڑا سا آگے پیچھے بھی ہو جاتی تھی جس سے میرے لن کو عجیب لزت ملتی اور ۔  ۔پھر  ۔۔ میرے منہ سے بھی لزت بھری سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں اور پھر میں نے ارمینہ کو دوسری طرف گھما دیا ۔ اور اس کی گانڈ کو اپنے سامنے کر لیا ۔ اب ارمینہ کی موٹی گانڈ میرے لن سے ٹچ ہو رہی تھی سو میں نےلن پکڑا اور ارمینہ کی گانڈ کی موری پر رکھا اور اسے دبا دیا اور خود اپنے ہونٹ اس کے صراحی دار گردن پر رکھ دیئے اور انہیں چومنے لگا   ۔  ۔ ۔ میرے اس عمل سے ارمینہ کے منہ سے سسکیوں کا طوفان سا  نکلا  آہ ہ ہ  ہ ہ۔۔۔۔ ۔ ۔ اور وہ بے اختیار  ہو کر اپنی گانڈ کو  مرہے  لن سے رگڑنے لگی ۔ ۔  اب میں نے پیےھھ سےاس کی قمیض کو اوپر کیا اور اس کے مموں کو ننگا  کر   کے اس کے موٹے موٹے نپل اپنی انگلیوں  میں لیکر انہیں  مسلنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔  میری اس  حرکت سے  ارمینہ کے جزبات  بے قابو ہو گئے  اور وہ ایک دم  اپنے نپل چھڑاکے میری طرف مُڑی اور میرا لن اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا اور اسے آگے پیچھے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ جوڑ لیئے اور پھر کسنگ کرنے لگی کچھ دیر کسنگ کے بعد وہ تھوڑا پیچھے ہٹی اور بنا کچھ کہے مجھے اندر کمرے میں لے گئی اور جا کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔ ۔
           اس کی دیکھا دیکھی میں نے بھی اپنے جوتے اتارے اور بیڈ پر چلا گیا اور عین اس کے اوپر لیٹ کر اپنا لن اس کی چوت پر رکھا اور پھر اسے کے منہ میں اپنا  منہ دیکر کر  اسکی لزت  میں گم ہو گیا  ۔ پھر میں  اپنا منہ اس کے منہ سے الگ کیا  اور ۔ ۔ ۔ ۔ آہستہ آستہ نیچے کی طرف  آنا شروع ہو گیا ۔۔۔ اور ارمینہ  کی قمیض کو  اوپر کر کے اس کے ممے چوسنے لگا ۔۔۔ اور کافی دیر تک باری باری اس کے ممے چوستا رہا اس دوران میرا لن مسلسل اس کی گرم چوت پر دستک دیتا رہا تھا جسے  وہ کبھی کھبی اپنے ہاتھ میں پکڑ کے اپنی چوت پر رگڑ بھی لیتی تھی ۔ ۔ 
کافی دیر ممے  چوسنے کے بعد میں  تھوڑا اور نیچے جھکا اور ارمینہ کی شلوار کا  آزار بند پکڑ کر اسے  کھولا اور پھر اس نے خود ہی  اپنے  چوتڑ    اٹھا  کر مجھے  اپنی شلوار اتارنے  میں مدد دی ۔ ۔ واؤؤؤؤؤؤؤو۔ ۔ ۔ جیسے ہی اس کی شلوار نیچے ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔   میرے سامنے ارمینہ کی موٹی  اور ابھری  ہوئی چوت میری آنکھوں کے سامنے   آگئی  ۔ ۔ آہ ہ ۔۔ اس کی چوت کے دونوں لب  اندر کی طرف  مڑے  ہوئے تھے اور اس  ابھری ہوئی چوت پر ہلکے ہلکے  سیاہ بال تھے جو سفید پھدیپر بڑے بھلے لگ رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان بالوں کو دیکھ کر  ایسے لگ رہا تھا کہ جیسےچوت کی ایک  ہفتہ قبل  شیو کی ہو ۔۔۔ ارمینہ کی شاندار چوت دیکھ کر میں اسے چومنے کے لئے  تھوڑا اور نیچے جھکا   ۔ ۔ ۔۔اور ۔ ۔  اچانک ارمینہ نے اپنےدونوں گھٹنے آگے کر دئے جس کی وجہ سے میرا منہ اس کی چوت تک نہ جا سکا اور میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی مجھے اپنی طرف دیکھ کر وہ بولی ۔ ۔  گندی فلمیں دیکھتے ہو؟ تو میں نے کہا بہت ۔  تو وہ پھر کہنے لگی پہلے کبھی ایسا کیا ہے تو میں نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا نہیں یہ فسٹ ٹائم ہے ۔ ۔   تو وہ اپنے گھٹنے نیچے کرتےہوئے بولی۔ ۔ 
۔ ۔ ۔ میری    چاٹنے کو بہت دل کر رہا ہے ؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو  وہ اپنی چوت کے دانے  پر ہاتھ رکھ کر بولی   ۔۔  اسے چھوستے ہیں تم  ایسا کر و اس کو اپنے ہونٹوں سے پکڑواور منہ لیکر اس  کو خوب چوسو ۔ ۔   ۔ اس کی بات سُن کر میں نے اپنا سر نیچے جھکایا اور ارمینہ کی چوت پر منہ رکھ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ واؤؤؤؤ۔ اس کی چوت سے بڑی ہی سیکسی  مہک آ رہی تھی ---   سو سب سے پہلے میں نے اس  کی شاندار پھدی کا ایک زور دار چما لیا ۔۔۔ ۔  اور پھر اس کے بعد اس کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔۔