7294

اُستانی جی قسط4

        اس  سے اگلے دن کی بات ہے اور یہ  وہ   دن تھا کہ جب  میڈم ندا نے مجھے کہا تھا کہ کل چھٹی کر کے میرے گھر آنا ۔۔۔ چنانچہ اس دن سکول سے چھٹی ہوتے ہی میں بھاگم بھاگ میڈم کے گھر کی طرف روانہ ہو رہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ آج تو میں میڈم کی ننگی چھاتیاں جی بھر کے چوسوں گا اور اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں میڈم کی ننگی چھاتیوں کا  تصور  آ گیا   اور میں  آنے والے لمحات کے تصور کی لزت میں گُم چلا   جا رہا تھا یہاں میں یہ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ  سکول سے گھر آتے ہوۓ راستے میں ایک  گندا نالہ  بھی آتا تھا  جس   پر ایک ٹوٹا  ہوا  پُل  بھی   تھا  اور  یہ    کافی   ویران سی جگہ تھی  جب میں وہاں پہنچا  تو  وہاں  پر  میں نے دیکھا کہ تین چار لڑکے مل کے ایک لڑکے کو مار  رہے  ہیں    میں  نے  ان پر کوئ  خاص توجہ نہ دی کیونکہ   مجھے میڈم کے گھر جانے کی بڑی     جلدی تھی لیکن جونہی  میں  نے  وہ گندا   نالہ عبور  کیا تو میرے کانوں میں ایک آواز سنائی دئ  ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی جان !!!  ۔بھا ئی جان ۔۔۔ ۔ لیکن میں نے  وہ آواز سنی اَن سُنی کر دی اور جھگڑے میں نہ پڑنے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر  جب اسی آواز نے مجھے میرا نام لیکر پکارا   تو مجھے رُکنا پڑا اور پھر جب میں نے مُڑ کر دیکھا  تو وہ آواز دینے والا اورکوئی نہیں ۔۔ارصلا  خان تھا  ارمینہ  کا  چھوٹا بھائ ۔ اور۔ ۔ ہمارا ہمسایہ  ۔  ۔۔۔ ۔ جیسے ہی میری نظریں اس کی نظروں سے ٹکرائیں  تو اس نے ایک بار پھر التجائیہ لہجے میں مجھے پکارا ۔۔۔۔۔ اور پھر  میں نے دیکھا کہ ایک بچے نے ارصلا  خان کو   گریبان سے پکڑا ہوا تھا جبکہ باقی دو بچوں نے اس کا ایک ایک بازو پکڑ کر اسے  مروڑا  ہوا تھا اور وہ لڑکا جس نے اس کو گریبان سے پکڑا تھا وہ ارصلا کو مسلسل  تھپڑ  مار  رہا  تھا   ۔۔    ارصلا  مار کھاتے ہوئے میری ہی طرف دیکھ رہا تھا  اور جب اس نے دیکھا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں تو وہ  جلدی سےبولا  بھائی جان  مجھے ان سے بچائیں   یہ مل کر مجھے کافی دیر سے  مار رہے ہیں ۔ اس کی بات سُن کر میں ان کی طرف بڑھا اور ان بچوں کو ارصلا خان کو چھوڑنے کو کہا لیکن وہ تینوں اس وقت بڑے غصے میں تھے اس لیئے انہوں نے میری بات نہ سُنی  بلکہ مجھے بھی  ماں کی گالی دے دی  جسے سُن کر مجھے بھی طیش  آ گیا اور میں نے اس لڑکے کو کہ جس نے ارصلاکو گریبان سے پکڑا ہوا تھا اور گالی دی تھی اسے  بالوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک زور کا مکا اس کی گردن پردے  مارا ۔ ۔ جس سے وہ چکرا کر نیچے گرا ۔۔
۔۔۔اس کے بعد میں ان دو بچوں کی طرف متوجہ ہوا  جنہوں نے  ارصلا کو بازؤں سے پکڑا ہوا تھا  اور ان کو بازو چھوڑنے کو کہا اپنے ساتھی کا حال وہ دیکھ ہی چکے تھے اس لئے انہوں نے تھوڑی سی مزاحمت کے بعد اس کے بازو چھوڑ دیئے اب میں دوسری طرف وہ بچہ جو میرے مکے سے نیچے گرا تھا  اسے اُٹھتا دیکھ کر ارصلا  تقریباً روتے ہوۓ بولا بھائی اس نے مجھے بہت مارا ہے اس کی بات سُن کر میں نے اس بچے کو دونوں بازؤں سے پکڑا اور ارصلا کو کہا کہ اب تم اس کو مارو  یہ سن کر ارصلا آگے بڑھا اور اس نے اس بچے کو کافی تھپڑ مارے  تھپڑ کھا کے بچہ اور بھی غصے میں آ گیا اور ارصلا کو  گندی گندی گالیاں دینا شروع ہو گیا لیکن  پھر چوتھے پانچوں تھپڑ پر ہی وہ بس کر گیا اور رونے لگ گیا   وہ روتا بھی جاتا اور ہم دونوں کو گندی گندی گالیاں بھی دیتا جاتا تھا ۔۔ وہ چونکہ چھٹی کا ٹائم تھا اس لئے تھوڑ ی ہی دیر میں وہاں پر لڑکوں کا کافی رش لگ گیا  اور پھر ان کی کوششوں سے ہی  ہمارے درمیان  بیچ  بچاؤ  ہو گیا   اور پھر جب ہماری لڑائی ختم ہو گئی تو میں  ارصلا کو لیکر گھر کی طرف چل پڑا راستے میں میں نے اس سے پوچھا  کہ  یہ تم لوگ کس بات پر جھگڑ رہے تھے تو اس نے مجھے اس بات کا کوئی واضع جواب نہ دیا بلکہ  ٹرکانے کو شش کیاور   میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے اصل بات نہیں بتانا  چاہتا  اس لئے میں  نے بھی  اس سے   اس  موضو ع پر مزیدکوئی بات نہ کی اور چپ ہو گیا پھر تھوڑی دیر بعد میں نے  اس سے پوچھا کہ  یہ بتاؤ کہ تم کو کوئی چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی تو وہ تقریباً  روہنسا ہو کر بولا  بھائی جان آپ کے آنے سے پہلے ان لوگوں نے مجھے  بہت   مارا  تھا  اور پھر وہ  ا پنے سر پر ہاتھ رکھ کر  بولا   بھائی  جان ان لوگوں نے میرے  سر پر شاید  کوئی پتھر وغیرہ  بھی   مارا  تھا اس کی بات سُن کر میں نے چونک گیا
 اور رُک کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو مجھے  وہاں  دو تین  جگہ پر گومڑ سے بنے نظر آئے اور ایک آدھ جگہ سے اس کا سر بھی  پھٹا ہوا  نظر آیا   جس سے بہت تھوڑی  مقدار میں   خون بھی  رس رہا تھا اس کی یہ حالت دیکھ  میں اسے  ایک قریبی کلینک لے گیا جہاں کا ڈسپنسر  میرا  اچھا    واقف اور سابقہ محلے دار  تھا  اس سے میں نے ادھار پر ارصلا کی مرہم  پٹی  وغیرہ  کروائی اور اس کے  ساتھ اسے  ایک  پین کلر ٹیکہ بھی لگوا دیا ۔ اور اس کے بعد ہم گھر کی طرف چل پڑے
 کچھ دور جا کر میں نے اس سے  پوچھا کہ اب تمھاری طبیعیت کیسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگا کہ درد میں  کچھ آرام ہے لیکن  مجھے آپ سے ایک بات کہنی  ہے تو  میں نے کہا ہاں بولو  تو وہ کہنے لگا میں گھر میں جا کر خوب واویلا کروں گا اور کہوں گا کہ
 انہوں نے مجھے بہت  مارا  ہے تو میں نے اس سے پوچھا اس سے کیا ہو گا تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا اور کچھ ہو نہ ہو کل ٍمجھے سکول سے ضرور  چھٹی مل  جائے گی پھر وہ مجھ سے منت بھرے لہجے میں بولا ۔۔ پلیز بھائی جان آپ میرا ساتھ دینا اور امی سے بولنا  ۔ ۔کہ مجھے بہت مار پڑی ہے   ۔ اس کی بات سُن کر میں ہنس پڑا  اور کہا کہ جیسا وہ کہے گا ویسے ہی کروں گا اور اتنی دیر میں ہم ارصلا کے گھر کے قریب پہنچ گئے  ارصلا کے گھر کےسامنے پردہ لگا ہوا تھا اور یہ ہمارے  محلے کا واحد گھر تھا کہ جس کے دروازے کے سامنے ہر وقت پردہ لٹکا رہتا  تھا  گھر  قریب آتے ہی  ارصلا نے شور مچانا اور  قدرے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہو گیا جبکہ میں باہر کھڑا سوچنے لگا کہ مجھے اندر داخل ہونا چاہئیے کہ نہیں ؟ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ان کے گھر کا پردہ ہٹا اورارصلا کی ماں ماسی پٹھانی  باہر نکلی  وہ کافی غصے میں  لگ رہی تھی  اس نے باہر نکلتے ہی مجھ سے کہنے لگی  تم   بتاؤ کہ  ہمارا  بیٹے  کو کس  کنجر نے مارا   ہے  ؟؟ہم اس کو  زندہ نہیں چھوڑے گا   ابھی میں اس کو جواب دینے والا ہی تھا کہ ان کا پردہ ایک دفعہ پھر ہٹا اور اس دفعہ پردے سے باہر آنے والی ہستی اور کوئ  نہیں ارمینہ تھی   وہ   باہر آئی اور اپنی ماں سے مخاطب ہو کر بولی " شور مکاوا  مورے " (امی شور نہیں کرو)  پھر وہ اس سے کہنے لگی کہ اس سے  جو بات بھی پوچھنی ہے   اندر لے جا کر پوچھو  ۔ ۔ ۔گو کہ ماسی بڑے غصے میں تھی لیکن  ارمینہ کے کہنے پر وہ  گالیاں بکتی ہوئی اپنے گھر کے اندر  داخل ہو گئی   جیسے ہی ماسی  گھر میں داخل ہوئی  ارمینہ  مجھ سے مخاطب ہوئی اور بولی ۔ بھائی آپ بھی اندر آ جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  سو میں بھی ارمینہ کے کہنے پر ان کے گھر  کے اندر چلا گیا ۔ ۔  جہاں ماسی     شدید غصے میں کھڑی ارصلا کو مارنے والوں کی ماں بہن ایک کرتی نظر آ رہی تھی خیر ارمینہ مجھے اور ماسی کو لے کر ایک کمرے میں  آ گئی  جہاں  ارصلا پہلے ہی   بیڈ پر لیٹا ہوا تھا وہاں جا کر ارمینہ نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اورجب میں کرسی پر بیٹھ گیا تو وہ مجھ سے بولی ہاں بھائی اب  آپ   مجھے تفصیل سے  بتاؤ کہ یہ واقعہ کیسے ہوا  تھا ۔  اسی دوران ماسی ارصلا کو مارنے والوں کو مسلسل اونچی آواز میں   بددعائیں دیتی جا رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے بات کرنا مشکل ہو رہا تھا یہ بات ارمینہ نے بھی بھانپ لی اور وہ قدرے تیز لہجے میں اپنی ماں سے کہنے لگی ۔۔۔  یو منٹ   صبرو  کا ۔۔ مورے ( امی ایک منٹ صبر کرو  )  مجھے  بھائی سے واقعہ کی تفصیل تو پوچھنے دو ۔ ۔   ۔   ارمینہ کی بات سُن کر ماسی حیرت انگیز طور پر چُپ ہو گئی اور میری طرف دیکھنے لگی  چنانچہ موقعہ غنیمت جان کر میں نے   بلا کم  و کاست سارا   واقعہ ان  ماں بیٹی کے  گوش گزار کر دیا ۔
 جسے سُن کر  انہوں نے میرا بہت بہت  شکریہ ادا کیا اور پھر ماسی   ارصلا کی طرف متوجہ ہو گئی وہ ابھی تک رونے کا ڈرامہ کر رہا تھا جبکہ ماسی  اس کے پاس بیٹھ کر اس کو چُپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی  پھر ماسی نے ارمینہ کو کہا کہ جا کر بھائی کےلئے پانی لائے اور وہ اُٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی کچھ دیر بعد  وہ پانی  کا گلاس لیکر آئی جبکہ اسی  دوران  جب ماسی کسی کام سے اُٹھ کر باہر نکلی تو  موقعہ دیکھ کر ارمینہ نے   ارصلا  سے کہا ۔ ۔  بس بس اب  زیادہ  ڈرامہ نہ کر  مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تم کواتنی چوٹیں  نہیں آئیں جتنی تم شو  کر رہے ہو ۔ ۔  ارمینہ کی بات سُن کر ارصلا نے میری طرف دیکھا اور بڑی معصومیت سے بولا بھائی جان آپ نے  آپا  کو کیوں بتا یا ہے؟؟  ۔ ۔ اس کی بات سُن کر ارمینہ کھلکھلا کر ہنسی  اور بولی  بھائی نے   مجھے  کچھ نہیں  بتایا ۔ ۔  بلکہ مجھے    ویسے ہی تمھاری  کرتوتوں  کا  سب علم ہے  تو  ارصلا کہنے لگا آپی اگر پتہ چل ہی گیا ہے تو پلیز امی سے اس بات کا زکر نہ کرنا تو وہ بولی  ایک شرط پر نہیں کروں گی کہ تم آئیندہ میرا کہا مانو گے ؟ تو ارصلا نے جھٹ سے اس بات کا وعدہ کر لیا  اتنی دیر میں ماسی بھی کمرے میں داخل ہو گئی تھی جسے دیکھتے ہی ارصلا نے ہائے ہائے کرنا شروع کر دیا ۔۔  ماسی نے ایک نظر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف منہ کر کے بولی ۔ ۔  ابھی ابھی ایک بات میرے زہن میں آئی ہے وہ  یہ کہ   اس کی ان لڑکوں سے لڑائی تو ابھی ختم نہیں ہوئی  ہے نا  تو میں نے کہا جی جی ماسی ایسی ہی بات ہے تو وہ کہنے لگی اس کا مطلب ہے کہ ان میں پھر سے جنگ ہو سکتی ہے  تو میں نے کہا جی ایسا چانس ہے تو وہ میری بات سُن کر فکر منڈی سے بولی اس کامطلب ہے کہ  اب میں خود ارصلا کو چھوڑنے جایا کروں   اور لے کر بھی آیا کروں  ۔ ۔  تا کہ بچوں کی اس لڑائی سے بچا جا سکے ۔۔    تو ماسی کی بات سُن کر ارمینہ فوراً بولی ۔ ۔ ۔ امی  ارصلا کو چھوڑنے کے لیئے  آپ کو جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ؟ تو ماسی حیران ہو کر بولی وہ کیسے ؟ تو ارمینہ کہنےلگی وہ ایسے کہ یہ چھوٹا بھائی بھی تو روز سکول جاتا ہے نا ہم اس سے درخواست کریں گے کہ یہ ہمارے بھائی کو اپنے ساتھ لے بھی جائے اور چھٹی کے بعد اس کو اپنے ساتھ لے آیا کرے پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولی کیوں بھائی آپ ہمارا یہ کام کرو گے نا؟  اس سے پہلےکہ میں کوئی جواب دیتا   ماسی بڑے جوش سے بولی ۔ ۔ ۔ ۔ ارے ہاں یہ بات تو  میں نے سوچی  ہی   نہ تھی۔۔ ۔ واقعی ہی ارمینہ تم ایک  سمجھدار لڑکی ہو  پھر  وہ میری طرف گھومی اور کہنے لگی  بیٹا ۔ ۔ ۔ کیا آپ کل سے  اپنے چھوٹے بھائی کوبھی  اپنے ساتھ لے جایا کرو گے نا ؟ تو میں نے ایک نظر ارصلا پر ڈالی اورپھر  ارمینہ کی طرف دیکھا کر  بولا   جو آپ کا حکم ماسی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اور ماسی نے خوش ہوکر میرا ماتھا چوم لیا اور بولی  شکریہ بیٹا اب  میری ساری فکر دور ہو گئی ہے ۔۔  ۔۔  
          اسی دوران  ماسی کے گھر میں محلے کی دو چار عورتیں داخل  ہوئیں اور  سیدھا  ارصلا والے کمرے میں آ گئیں اور پھر ماسی سے مخاطب ہو کر بولیں کہ انہوں نےابھی  ابھی سنا ہے  کہ ارصلا کو کسی نے بہت پیٹا ہے ؟؟  انہوں نے یہ بات کی اور پھر سیدھی ارصلا کے پاس چلی گئیں    ۔ اور اس سے اس کا حال احوال دریافت کرنے لگیں ۔۔۔  ان خواتین کو دیکھ کر میں نے ان کے لیئے جگہ خالی کی اور میں جو ارصلا کے بیڈ کے پاس کھڑا تھا وہاں سے ہٹ کر تھوڑا پیچھے کھڑا ہو گیا جبکہ ان خواتین میں سے کچھ تو پاس پڑی کرسی پر اور کچھ ارصلا کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں  اب صورتِ حال یہ تھی کہ ہمارے آگے لیڈیز بیٹھی بڑی ہمدردی سے ارصلا کے ساتھ پیش آئے واقعات کو ۔۔۔۔کچھ ماسی اور کبھی ارصلا کی زبانی سن رہیں تھیں جبکہ میں اس سے تھوڑی دور کھڑا تھا میرے سے کچھ فاصلے پر ارمینہ کھڑی تھی اب میں نے ایک نظر لیڈیز  اور ماسی کو دیکھا تو وہ سب آپس میں بزی نظر آئیں  ۔ ۔ ۔ پھر میری دماغ میں ایک بات آئی اور ۔۔۔۔ میں ان لیڈیز کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ تھوڑا      کھسک کر ارمینہ کے پاس  کھڑا ہو گیا ارمینہ نے بھی ایک نظر میری اس جسارت کو دیکھا لیکن کچھ نہ بولی نہ ہی اس نے کوئی ہل جل کی۔۔۔۔  یہ دیکھ کر میں تھوڑا  سااور اس کی طرف  بڑھ گیا اور ۔پھر  ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ کرتے کرتے میں ارمینہ کے ساتھ بلکل  جُڑ کر کھڑا ہو گیا – اور پھر ایک نظر لیڈیز کی طرف دیکھا تووہ   بڑے   زور  و شور سے باتیں کرنے میں لگی ہوئیں تھیں ان کا جائزہ لینے کے بعد میں نے کھڑے کھڑے  اپنا  ایک باتھ ارمینہ کے ہاتھ سے ہلکا سا ٹچ کر دیا  اور پھراس کے ردِعمل کا  جائزہ  لینے  لگا  اور پھر جب وہاں سے کوئی رسپانس نہ ملا تومیں نے ایک قدم آگےبڑھنے کا فیصلہ کیا  اور دوبارہ  اپنا  ہاتھ  اس کے ہاتھ کے ساتھ ٹچ کر دیا ۔۔۔اور ارمینہ کے ردِ عمل کا انتظار کرنے لگا لیکن جب وہاں سے کوئی ردِعمل نہ آیا تو  ۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد میں نے اپنا وہ ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ ۔ آہ ہ ہ   ہ ہ ہ ۔۔مزے کی بڑی ہی تیز لہر اُٹھی جو میرے سارے جسم میں سرائیت کر گئی  اور میں نے جلدی سے ارمینہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس پر   ہلکا  ہلکا مساج کرنے لگا ۔۔۔
پھر میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بظاہر عورتوں کی طرف متوجہ تھی  چنانچہ اب کی بار میں نےارمینہ  کی ایک انگلی کو پکڑا اور اس پر اپنی شہادت کی انگلی پھیرنی شروع کر دی اور دوبارہ  چوری چوری اس کی طرف

دیکھا لیکن وہاں ایک طویل خاموشی تھی اوراس کہ  یہ خاموشی   میری  ہلہ شیری  میں مسلسل  اضافہ کر رہی تھی سو اب   میں نے ایک سٹیپ اورآگے  بڑھنے  کا سوچا  اور پھر میں نے تھوڑی جرات سے کام لیتے ہوۓ اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اسے دبا دیا اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ میں نے ان کا ہاتھ دبانے کے کچھ دیر بعد ۔ ۔ ۔ ۔ میں اپنا ہاتھ  ہولے ہولے  ان کی  ہپس پر لے گیا اور ان کی ہپس پر رکھ دیا آہ ۔ ۔ ہ ۔ ہ  کیا بتاؤں دوستو ۔ ۔ ۔  ۔ ان کی ہپس بڑی ہی نرم تھی اور اس کا لمس محسوس کرتے ہی  میری شلوار میں سرسراہٹ سی ہونے لگی اور ۔ ۔  ۔ ۔۔ لیکن  ابھی  میرے ہاتھ نے ان کی ہپس کو
چھوا ہی تھا کہ وہ ایک دم تن گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کرایک جھٹکے سے پرے   ہٹا  دیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور ویسے ہی کھڑی رہی لیکن میں نے ہمت نہ ہاری  اور دوبارہ اپنا ہاتھ اس کی گانڈ  کی طرف بڑھایا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس دفعہ وہ تیار تھیں اس لیئے جیسے ہی میرے ہاتھ نے اس کی ہپس کو چھوا ۔ ۔  ۔ تو اس نے اپنے ہاتھ میں  میرا ہاتھ پکڑ لیا
اور پھر ۔ ۔ میرے ہاتھ کی پشت پر ایک زور دار چٹکی کاٹ لی ۔ ۔ ۔ ۔ اُف ۔ف۔ف۔ف ۔ ۔  ۔ ۔ ارمینہ  نے اس قدر زور سے چٹکی کاٹی تھی کہ مجھے سچ مُچ نانی یاد آگئی اور میں نے بڑی مشکل سے اپنی چیخ کو ضبط کیا اور اپنے ہاتھ کو چھنکاتے ہوۓ بڑی مسکین سی شکل بنا کر  اس کی طرف دیکھا تو وہ  سامنے کی طرف منہ کر کے  ایسے دیکھ رہیں تھی کہ جیسا کچھ ہوا ہی نہیں تاہم جب اس کی نظر میری  رونے والی  شکل  پر  پڑی  تو میں نے دیکھا کہ ارمینہ اپنا منہ دوسری طرف کر کے مسکرا رہی تھی ۔ ۔ ۔ اب میں نے اس کی طرف دیکھنے ہوئے  اپنے  ہاتھ کو ملنا شروع کر دیا اور ایسے ری ایکٹ کیا کہ جیسے مجھے بڑا سخت  درد ہواہو (اور ہوا بھی تھا   لیکن اتنا نہیں جتنا کہ میں شو کر رہا تھا ) اور پھر جیسے ہی ارمینہ نے میری طرف دیکھا تو  میں نے اور زیادہ درد میں مبتلا  ہونے کی ایکٹنگ شروع کر دی اور خواہ مخواہ  برے برے  منہ بنا کراپنا چٹکی ولا  ہاتھ ملنے لگا ۔۔ ۔  ۔ میرا تیر نشانے پر لگا ۔ ۔ 
۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے چہرے پر  مجھے کچھ تشویش کے
 آثار نظر  آئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن وہ ایسے   ہی کھڑی رہی لیکن  کچھ  ہی دیر بعد مجھے ان کا ہاتھ اپنی چٹکی والی جگہ پر محسوس ہوا اور پھر ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ یا حیرت۔۔۔۔۔۔۔ یہ میں کیا محسوس کر رہا ہوں ۔۔اورپھر اس   نے اپنا نرم و نازک سا  ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ چٹکی والی جگہ پر مساج کرنے لگی ۔ ۔ ۔  اس کا یوں میرے ہاتھ پر اپنا نرم ہاتھ رکھ کر مساج کرنے سے  میری روح  تک تو  اس کی ۔۔۔۔  مسیحائی  نہ گئی ہاں لن ضرور تن گیا  جسے میں نے بڑی مشکل سے  قابو گیا  اور یہ بات بھی   اچھی طرح محسوس کر لی کہ ارمینہ ۔ ۔ ۔  راضی ۔ ۔ہے  ۔ ۔ ۔ یا یہ بھی  ہو سکتا ہے کہ یہ میری خوش فہمی ہو   جیسے  بقول شاعر ۔ ۔ ۔   زندگی تم نے کب وفا کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے ۔۔ ۔ ۔ اور اس بلا کی خوش فہمی    کا میں اور میرا لن دونوں  شکار ہو چکے تھے ۔ ۔   ابھی میں یہی  بات سوچ کر  انجوائے کر  رہا تھا کہ اچانک ماسی کی آواز سنائی دی وہ ارمینہ سے کہہ رہی تھی ارمینہ بیٹی مہمانوں کے لیئے چائے تو بنا لاؤ ۔ ۔  ۔ ہر چند کہ آنے والی لیڈیز نے بہت کہا کہ  چائے رہنے دیں ہم ابھی پی کے آئی  ہیں پر ماسی نہ مانی ۔۔۔۔اور ارمینہ کو جانے کا اشارہ کیا  اور میں نے ارمینہ کو کچن کی طرف جاتے دیکھ کر  دل ہی دل میں ماسی کو گالیاں سو کروڑ  گالیاں دینے لگا  کہ اگر ارمینہ کو تھوڑی دیر بعد کہہ دیتی  تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پر   ۔ ۔ ۔ ۔  مجھ غریب کی یہاں سننے والا کون تھا  ؟؟   سو چُپ چاپ  رہا اور  ماسی کی طرف دیکھ کر اسے منہ ہی منہ میں گالیاں دیتا رہا ۔ ۔ ۔  ۔ ۔۔
   کچھ دیرتک  تو میں ایسے ہی منہ بسورے کھڑا  رہا ۔ ۔  ۔۔ پھر سوچا کہ آج کے لیئے اتنا ہی کافی ہے  اب گھر چلا  جائے  اور ابھی میں  جانے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک  ان میں سے ایک عورت مجھ سے مخاطب ہو کر بولی ۔ ۔  ۔ بیٹا   زرا  ایک گلاس پانی تو پلا دینا   اس کی بات سُن کر ماسی مجھ سے بولی ہاں ہاں بچہ کچن میں جاؤ اور باجی  سے کہہ کر ایک ٹھنڈا گلاس پانی لے آؤ   میں  ماسی کی بات سُن کر کچن کی طرف چلا  گیا اور جب میں کچن میں داخل ہوا تو ارمینہ سنک  کے پاس کھڑی    چائے  والے   برتنوں کو ہنگال   رہی تھی  چانچہ میں نے اس کو ماسی کو پیغام دیا تو وہ کہنے لگی کولر  سے پانی لے جاؤ  تو میں نے اس سے کہا باجی  گلاس کہاں ہے ؟ تو وہ کہنے لگی اندھے ہو کیا نظر نہیں آ رہا  ۔۔ پھر وہ   سنک کے اوپر اشارہ کر کے بولی  دیکھو  کتنے  گلاس پڑے  ۔ ۔ ۔  ہیں ۔۔۔۔ واقعی میں نے نظر  اٹھا کر اوپر دیکھا تو ان کے سنک کے اوپر ایک شلف سی بنی ہوئی تھی اور اس میں  بڑی ترتیب سے  کانچ  و سٹیل کے جگ گلاس  رکھے ہوئے تھے ۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ شلف کے عین نیچے ارمینہ برتن  ہنگال رہی تھی اس لیئے میں نے اس سے کہاکہ باجی  زرا ہاتھ بڑھا کر مجھے گلاس تو  پکڑا دیں تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی خود پکڑ لو نا  ۔ ۔ اور پھر برتن  ہنگالنے  میں مصروف ہو گئی ۔ ۔  ۔ ۔۔  اس کی بات سُن کر میں نے ایک نظر حالات کا جائزہ لیا اور پھر اچانک  میرے  ۔ ۔ دماغ میں ایک چھناکا   سا ہوا اور  ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سارا نقشہ میرے ذہن میں آ گیا اور میں ارمینہ سے بولا ٹھیک ہے باجی میں خود ہی لے لیتا ہوں اور پھر میں چلتا  ہوا  اس کے عین پیچھے ہو لیا اور  اپنا ہاتھ شیلف کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ لیکن شیلف تھوڑی اوپر ہونے کی وجہ سے میرا ہاتھ نہ پہنچا  چانچہ اب  میں تھوڑا اور آگے بڑھا اور شلف پر ہاتھ بڑھانے  کے انداز میں اپنا اگلا حصہ ارمینہ کی پشت کے ساتھ لگا لیا ۔ ۔  آہ ۔ ۔  کیا مزے کی پشت تھی ۔۔۔ اور  ارمینہ کا ردِعمل دیکھنے لگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  لیکن وہ  بڑی مگن ہو کر  برتن  ہنگال  ۔ ۔  رہی تھی  اب میں تھوڑا اور آگے بڑھا اور اپنا لن اس کی نرم گانڈ پر لگا کر جان بوجھ کر  ایک گلاس  (جو کہ سٹیل کا تھا ) اٹھایا اور ارمینہ کے سامنے کر کے بولا  باجی  یہ ٹھیک رہے گا ؟
 تو وہ میری طرف دیکھ کر  بولی  بےوقوف مہمانوں کو کانچ کے گلاس میں پانی دیتے ہیں  اس کی بات سُن کر میں  دوبارہ آگے بڑھا اتنی دیر میں میرا لن ارمینہ کی نرم گانڈ کا لمس پا کر  نیم کھڑا ہو چکا تھا  ۔ ۔ ۔ اور اتنی دیر میں ۔۔  میں  یہ بی جان گیا تھا کہ ۔ ۔ ۔  ارمینہ اب کچھ نہ کہے گی چنانچہ میں نے  بے دھڑک  ہو کر ارمینہ کے گانڈ کے ساتھ اپنا نیم کھڑا لن چپکا  کر ایک کانچ  کا  گلاس لیا اور لن کو  اس کی گانڈ کے ساتھ چپکائے ہوئے بولا ۔۔ ۔ ۔ باجی یہ کیسا ہے ؟ تو و  ہ بولی ٹھیک ہے پر تم ایسا کرو  کہ جگ اور دو تین گلاس اور بھی نکال لو ایسا نہ ہو کہ اور خواتین بھی پانی مانگ لیں اور میں اس کی وہ بات سمجھ گیا جو اس نے نہیں کہی تھی اور  بظاہر اس سے بولا اچھا باجی ۔ ۔ ۔ ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے  اپنا لن  جو اس وقت تک فُل کھڑا ہو چکا تھا ارمینہ  کی گانڈ  کی دراڑ میں پھنسا  لیا  اور شلیف سے  گلاس نکالنے لگا  ۔۔۔ اور پھر  ایک ایک کر کے سارے گلاس وہاں سے نیچے اتار کر سنک کے  پاس پڑی  ٹوکری میں رکھتا گیا ۔ ۔ جب سارے گلاس اُتر گئے تو وہ بولی ۔ ۔ ۔ ارے اتنے سارے گلاسوں کا کیا کرنا ہے ۔۔  وہاں  تو       بس ایک دو گلاس  بھی کافی ہوں گے ۔ ۔ ۔  دو تین گلاس نیچے چھوڑ کر باقی واپس رکھ دو ۔ ۔ ۔ ۔ یہ اس بات کا واضع اشارہ تھا کہ وہ  اپنی  گانڈ  میں میرے لن کوابھی مزید انجوائے کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔
     اتنے واضع اشارے کے بعد بھی اگر میں موقعہ سے فائدہ نہ اُٹھاتا تو میرے جیسا  چُغد اور  بے وقوف اور کوئی نہ تھا  چنانچہ اس کی بات سُن کر میں نے اپنا لن   ہاتھ میں  پکڑا۔ ۔ ۔ اور  ارمینہ جو کہ تھوڑا جھک کر برتن  ہنگال رہی تھی کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو تھوڑا  سا اور نیچے کی طرف  جھکایا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور حیرت انگیز طور پر۔ ۔ ۔  جیسے ہی ارمینہ نے   میرا  ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کیا  وہ خود ہی کچھ  اس طرح  سے نیچے کو جھکی کہ جس سے اس کی بہت خوبصورت اور موٹی گانڈ مزید باہر کو نکل  آئی  اور اس نے سنک پر اپنی دونوں کہنیاں ٹکا دیں  ۔ ۔ ۔ یہ دیکھ کر  میں نے  اس کی گانڈ کے  دونوں پٹ الگ الگ کر کے  اپنی ایک انگلی اس کی گانڈ کی دراڑ میں ڈالی اور  سیدھا  اس کی  موری  پر لے گیا اور پھر وہاں اپنی انگلی رکھ کر دوسرے ہاتھ سے لن کو پکڑا اور  اپنا ٹوپا  عین ارمینہ  کی موری پر رکھ کر پیچھے  سےایک ہلکا سا دھکا لگایا اور  ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔میرے اس عمل سے  ٹوپا سیدھا جا کر اس کی گانڈ کی موری سے  ٹچ ہوگیا  ۔اُف ۔ف۔ف۔ اس کی  گانڈ کا رنگ بہت ہی گرم اور نرم تھا جسے محسوس کرنےہی میرا لن اور بھی تن گیا ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی میں     نے آگے بڑھ کر  ایک گلاس اٹھایا اور اس کو اوپر  شلیف پر رکھنے سے پہلے ایک نظر ارمینہ  پر ڈالی تو ۔ ۔ ۔ ۔ میں  نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک چائے کی پیالی تھی  ۔ ۔  سنک کا نل کھلا ہو تھا جس سے پانی نکل کر بہہ  رہا تھا ، ، ،   ارمینہ کی آنکھیں بند تھیں اور وہ سٹل حالت میں  جھکی  میرے  لن کو  اپنی خوبصورت گانڈ میں انجوائے کر رہی تھی ۔۔  ۔ ۔ یہ دیکھ کر میرا جوش کچھ اور بڑھ گیا اور میں نے وہ گلاس نیچے سنک پر رکھا اور  ارمینہ کو کمر سے پکڑ لیا اور ایک ذور دار گھسا مارا ۔ ۔ ۔۔ لن کا اگلا سرا جو پہلے ہی ارمینہ کی گانڈ کے رنگ کر ٹچ کر رہا تھا اب تھوڑا کھسک کر اس کے رنگ میں داخل ہو گیا اور  ۔ ۔ ۔  جیسے ہی ٹوپا اس کی موری میں داخل ہوا  ۔ ۔ ۔ پہلی بار میں نے ارمینہ کے منہ سے ایک ہلکی مگر لذت آمیز سسکی کی آواز سُنی ۔۔۔ وئی  ۔ ۔وئی  ۔  ۔  اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کو تھوڑا گھوٹ لیا ۔ ۔ ۔  ۔ جس سے مجھے  کنفرم ہو  گیا کہ لن کا تھوڑا سا  اگلا حصہ اس کی گانڈ میں داخل ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔  اور پھر اس نے مستی میں آ کر دو تین دفع اپنی گانڈ کو اوپن کلوز کیا ۔۔ ۔ ۔ آہ کیا بتاؤں دوستو. . . !! ۔۔۔۔۔ کہ مجھے اس کام میں کتنی لزت ملی ۔۔۔۔ اور میرا لن لوہے کی طرح سخت ہو گیا اور بُری طرح سے اکڑ گیا  ۔ ۔ ۔ پھر میں نے اس کو کمر سے پکڑا اور تھوڑا پیچھے ہو کر پہلے سے زرا زیادہ گھسہ مارا  ۔  ۔۔ اور اس دفعہ کپڑوں سمیت  تقریباً آدھا ٹوپا اس کی  گرم گانڈ میں اُتر گیا ۔۔ ۔ اور ارمینہ نے اس دفعہ پھر پہلے سے کچھ بلند آواز ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔  فُل   لزت میں ڈوبی ہوئی سسکی لی ۔ ۔ اُف ۔ف۔ف۔ مم ۔ ۔ آہ ہ ہ ہ ۔  مورے ۔ ۔ ۔۔ ۔اور اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھے پیچھے سے اپنی طرف پُش کرنے لگی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ابھی میں تیسرا گھسا مارنے  ہی والا تھا کہ اچانک ماسی کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہی تھی ارمینہ بچہ ۔  ۔ ۔ پانی جلدی سے بھیجو ۔ ۔   ماسی کی آواز سُن کر  ہمارا لزت بھرا سارا طلسم  ٹوٹ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور آواز سنتے ہی ارمینہ بجلی کی سی پھرتی سے میرے آگے سے ہٹی اور سنک سے  فوراً ایک گلاس اٹھا کراس میں پانی بھرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مجھے دیتے ہوئے بولی جلدی جاؤ ۔۔ ورنہ امی آگئیں نا تو  ہمیں اس حالت میں دیکھ کر ہم دونوں کے ہی  ڈکرے (ٹکڑے )  کر دے گی ۔۔
پھر اس کی نظر میری شلوار میں تنے ہوۓ لن پر پڑی جس کی وجہ سے شلوار آگے کو کافی آگے کو اُٹھی ہوئی تھی اور ایک  تنبو سا بنا نظر آ رہا تھا  کو دیکھ کر  فکر مندی سے بولی اس کو کیا کرو گے؟؟  تو میں نے اس سے کہا کہ باجی آپ  اس کی پرواہ  نہ کریں اس  کا  بھی  بندوبست  ہے میرے پاس ۔ ۔  ۔۔ اور پھر بنا کوئی بات کیے میں نے لن پکڑ کر اپنی  شلوار کے نیفے میں اڑوس لیا اور پھر شرارتاً اپنی قمیض کو آگے سے اُٹھا کر اسے  اپنا موٹا سا ٹوپا دکھایا جو شلوار کے نیفے سے باہر نکلا   ہوا  صاف نظر آ رہا تھا اور منہ کھولے کھڑا تھا   ارمینہ نے تھوڑا  آگے بڑھ کے میرے ٹوپے کا یہ حال دیکھا اور  بولی ۔۔۔ بے چارہ ۔۔۔   پھر میں نے اس نے پوچھا یہ بندبست ٹھیک ہے نا  ارمینہ باجی ؟ ۔ ۔ تو وہ میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔۔ مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ اور پھر مصنوعی غصے سے مجھے دھکا دیکر کر  بولی  ۔۔۔ اب  دفعہ بھی ہو جاؤ  ۔۔۔۔  اور میں وہاں سے چلا گیا ۔۔۔   اور آنٹی کو پانی کا  گلاس دیکر بھاگا بھاگا    گھر پہنچا   کیونکہ میرا لن  مجھے کسی طور بھی چین نہیں لینے دے رہا تھا  کہ آنکھوں کےسامنے ابھی تک ارمینہ کی نرم گانڈ کا ہیولا  آ رہا تھا  اس لیئے لن کا علاج کرنے کے لیئے میں سیدھا   واش روم میں  گیا  اور ارمینہ کی مست اور نرم  گانڈ کے نام پر  ایک زور دار مُٹھ ماری کہ اس کے بغیرچارہ نہ تھا ۔   
  مُٹھ مار کے جب میں  کچھ ٹھنڈا ہوا  اور ارمینہ کی گانڈ کی خماری کچھ کم ہوئی  تو   مجھے یاد آیا کہ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔  میں نے تو  میڈم  کے گھر جانا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سوچ آتے ہی میں  وہاں سے بھاگا  بھاگا میڈم کے گھر پہنچا ۔ ۔ اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔  ۔ ۔ تو میڈم نے اندر سے ہی  آواز  دی  کون  ہے؟؟  آ جاؤ  دروازہ کھلا ہے ان کی آواز سُن کر میں گھر کے اندر داخل ہو گیا    دیکھا  تو   وہ  سامنے برآمدے میں کھڑی  دروازے  ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ بولی  ۔ ۔ تم۔۔ !! ۔تم نے تو  کافی دیر پہلے آنا  تھا یہ اتنی لیٹ کیوں  آئے  ہو ؟؟ تو میں نے جواباًً    ا رمینہ کے بھائی کا سارا واقعہ سُنا دیا  لیکن درمیان میں      ارمینہ والی بات سرے سے ہی گول کر گیا سُن کر  بولی خیر یہ کام بھی تم نے اچھا کیا ہے۔ ۔ ۔ پھر میری طرف دیکھ کر بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولی ۔ ۔   پر تم لیٹ ہو گئے ہو؟؟   تو میں نے جواب دیا وہ کیسے  میڈم ۔ ۔ ۔  تو وہ کہنے لگی  وہ اس طرح جان  ۔ ۔ کہ تمھاری استانی جی  میرا مطلب  ہے  زیبا کی  امی  جو کہ لاہور کے ایک مشہور ہسپتال میں  گزشتہ  کافی دنوں سے داخل تھیں   کو آج  ڈاکٹروں  نے جواب دے دیا ہے اور وہ آج کل والی پوزیشن میں آ گئی ہے سو اس کو لیکر زیبا کے بھائی اپنے گاؤں چلے گئے ہیں اور اس کے ساتھ یہاں سے میں اور زیبا بھی ابھی اس کے گاؤں کے لیئے روانہ  ہو  رہے  ہیں  میرا بیٹا  دکان سے گاڑی لیکر کر  آتا ہی ہو گا اور پھر ہم نکل جائیں گے میڈم کی یہ بات سن کر میرے تو ٹٹے  ہی ہوائی ہو گئے اور میں نے  انتہائی پریشانی سے کہا  کہ ۔ ۔ میڈم وہ میرا ناول ۔۔۔؟؟؟  میری بات سُن کر وہ اچانک ہی چونک اٹھی اور سر پر ہاتھ مار کر بولی ۔ ۔ ۔ اوہ ۔ ۔ ۔ سوری یار مجھے یاد نہیں رہا پھر مجھ سے کہنے لگی ۔ ۔ ۔۔ یقین کرو میں صبع  زیبا کے پاس تمھارے ہی کام گئی تھی لیکن اس کی امی کی پریشانی سُن کر بھول گئی اور جب میں واپس آ رہی تھی یقین کرو میرے دماغ میں یہ بات گھوم رہی تھی کہ میں زیبا کے پاس کسی کام سے آئی تھی وہ کیا کام تھا ۔۔۔ یقین کرو یاد  نہیں آ رہا تھا اب تم نے بتایا تو یاد آ گیا ہے کہ میں کس کام  سے  وہاں گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ تو میں  نے کہا میڈم سے کہا کہ پلیز میڈم اب جا کر میرا کام کر دیں  نا  تو  وہ کہنے لگی  سمجھا کرو نا  اس  وقت تو یہ بات ناممکن ہے ۔ ۔ ۔ ۔  ان کی بات سُن کر میں نے مایوسی سے ان کی طرف دیکھا اور بولا ۔  ۔۔ میڈم آپ لوگ کب واپس آؤ گے ؟ تو وہ بولی یار کچھ کہہ نہیں سکتے اگر خدانخواستہ  زیبا کہ امی فوت ہو گئیں تو  ظاہر ہے کہ  ہم لوگ   دسواں کر کے ہی آئیں گے یہ سُن کر میں نے ان سے کہا  اتنی دیر میں تو میڈم ربا میری جان نکال دے گا ۔ ۔ ۔ ۔