2156

اُستانی جی قسط3

     دستک  کے  ساتھ جس  آواز  نے میرا  اور  میڈم کا  پِتہ  پانی  کیا  تھا   وہ    میڈم زیبا  کی  کرخت  آواز تھی  جسے   سُن کر  ایک  دفعہ تو میڈم  کے   پاؤں   تلے  سے بھی   زمین  نکل  گئی تھی  لیکن  دوسرے  ہی لمحے انہوں  نے اپنے آپ کو سنبھال  لیا  ۔۔۔ اور پھر مجھ  سے  سرگوشی  میں  کہنے لگیں ۔ ۔    تم جلدی  سے   بیٹھک  کے راستے سے باہر  نکل  جاؤ ۔ ۔ ۔   ان کی بات سُن کر  جیسے ہی میں جانے کے لئے مڑا  ۔ ۔     تو  وہ  ایک بار پھر ہلکی  آواز میں  تیزی سے بولیں   ۔ ۔ ۔  سنو ۔ ۔   کل چھٹی کے بعد ضرور  آنا   اور میں نے  ہاں میں سر ہلا دیا  ۔ ۔ ۔   جیسے ہی میں بیٹھک کی طرف بڑھا  تو    انہوں  نے   دوبارہ  آواز  دیکر کر  مجھے  روکا اور پھر میرے پاس آ کر  آہستہ سے  بولیں   کہ ۔۔   اور ہاں  ۔۔  جب تک  میں نہ کہوں تم  نے ٹیوشن  پر نہیں  آنا ۔۔۔ کیونکہ  ابھی  زیبا  کا مُوڈ   بہت  سخت خراب  ہے    ان  کی آخری بات  سُن کر  میں نے  وہاں  سے  دوڑ  لگا  دی اور دبے پاؤں چلتا  ہوا  بیٹھک میں پہنچ گیا   اور  پھر  ڈرائینگ روم کی کنڈی   کھول کر  باہر چلا  گیا ۔ باہر نکل کر میں نے  کسی سے  ٹائم  پوچھا  تو  چھٹی ہونے میں ابھی تھوڑا    وقت  تھا  اس لیئے  میں نے  ادھر ادھر  گھوم  کر  ٹائم پاس کیا اور پھر چھٹی کے وقت گھر چلا گیا-
           سوری  دوستو ناول استانی جی کی  کھتا  سنانے میں ، میں آپ  سے  ایک بات  شئیر کرنا  تو  بھول  ہی گیا  اور  وہ  یہ کہ ہم  جب  ہم موجودہ   گھر میں نئے  نئے    شفٹ ہوۓ  تھے  تو  گھر کی سیٹنگ  وغیرہ کے  فوراً  بعد  میں نے جوکام  سب سے پہلے کیا  تھا وہ  یہ تھا کہ میں شام کو اپنی چھت پر چلا  گیا اور آس پاس کی تمام  چھتوں کا   جائزہ  لینا   لگا کہ دیکھوں کہ شام کو  اس محلے کا کون کون سا چہرہ چھت پر آتا ہے اور ان میں  سے   کون سا   ایسا  چہرہ ہے جس کے ساتھ  اپنا  ٹانکا  فٹ ہو  سکتا ہے   لیکن اس دن  شاید میں  کچھ زیادہ ہی  لیٹ ہو  گیا تھا   یا  پتہ نہیں کیا بات تھی کہ مجھے   آس  پاس کی  ساری چھتیں  خالی نظر آئیں  مطلب یہ کہ مجھے  کوئ  بھی  خاتون  یا  کوئ  لڑکی اپنی  چھت پر کھڑی نظر نہ  آئ  میں کچھ دیر تک ادھر ادھر گھومتا رہا  پھر  واپس نیچے آ گیا اور  اگلے دن  میں پھر اسی نیت سے اپنی  چھت پر گیا  اور اتفاق سے  دوسرے دن  بھی ایسا ہی ہوا ۔۔۔ اور میں تھوڑا سا  مایوس ہو گیا اور نیچے جانے کے لئے واپس مُڑنے لگا  عین اسی لمحے کہ جب میں واپس جا رہا تھا میرے سامنے والی کھڑکی۔ ۔ ۔ ۔  نہیں ۔ ۔ ۔  نہیں  ۔ ۔ ۔   یار   کھڑکی نہیں  بلکہ چھت پر ایک چاند چہرہ  ستارہ  آنکھوں والی  بڑی ہی  پیاری سی لڑکی نمودار ہوئ ۔  (یا وہ عمر ہی ایسی تھی کہ ہر گوری عورت خوبصورت لگتی تھی ) اس کا    چہرہ   قدرے لمبوترا اور آنکھیں   بڑی  اور   ہونٹ  قدرتی  سُرخ اور   رس  سے بھرے  ہوۓ  نظر آ رہے تھے  اور اس  نے  اپنے  سینے   کو  ایک  بڑی  سی  چادر سے  ڈھانپا  ہوا  تھا ۔ ۔ ۔ اس لئے میں چاہ کر بھی اس کی چھاتی  کا  ناپ  نہ کر سکا  ۔۔  اسے  چھت پر آتے دیکھ میں نے  نیچے  جانے  کا  ارادہ ترک کر دیا   اور واپس   جا کر اس لڑکی  کو  تاڑنے  لگا   اور  پھر میں نے دیکھا کہ اس لڑکی نے اپنی چھت کا ایک چکر لگایا اور پھر وہ واپس جانےکے لیئے مڑی   اور  ۔ ۔  ۔ جاتے جاتے اس نے ایک نظر مجھے دیکھا  ۔ ۔ ۔   اور پھر    وہ  اپنے چھت کی  ری لینگ    کی طرف آئ اور ایک نظر  نیچے گلی میں جھانک کر دیکھا اتنی دیر میں میں بھی اپنی چھت کی ری لنگ پر  پہنچ  چکا  تھا     ۔۔۔ چنانچہ جیسےہی اس نے گلی میں جھانکنے کے بعد    اپنا سر اٹھایا  تو اس نے مجھے عین اپنے سامنے والے چھت پر  موجود پایا ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ تھوڑی سی حیران ہوئی  ۔۔   اور  پھر اس کے بعد  اس نے مجھ پر ایک  بھر پوُر نگاہ   ڈالی ۔ ۔  اور    چند سیکنڈ  تک میری آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر دیکھتی رہی  اور ۔ ۔  ۔ اور  ۔۔۔۔ ہائے  مار  ڈالا ۔  ۔  دوستو  جیسا کہ آپ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کچھ تو  ٹھڑکی مزاج تھے ہم بھی ۔  ۔ ۔ اور کچھ اس    خاتون کا  اس طرح  سے مجھ کو دیکھنا     ۔۔۔ سچ کہتا ہوں کہ مجھ سے تو ۔ ۔ ۔  دیکھا  نہ گیا ۔ اس کی نگاہ  میں ایک  عجیب سی مستی اورایک گہری  اداسی تھی      اور  اس مستی اور اداسی   کے امتزاج  نے میرے اندر ایک عجیب سی فیلنگ بھر دی تھی  ۔  ۔ ۔ ۔ ضرور اس کی نگاہ  میں ایسی کوئ بات تھی کہ میں کچھ  بے چین   سا  ہو گیا  اور اس کا  اس طرح  میری طرف دیکھنے  سے ۔  ۔ ۔ سچ مانو  میں تو گھائل   سا ہو گیا  اور مجھے  ایسا  لگا کہ جیسے   کوئ  چیز   میرے دل  میں جا کر کُھب سی گئ ہو 
۔ خیر    وہ   تو  ایک نگاہ  ڈال کر چلی گئی ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ اور   میں کافی دیر تک وہاں کھڑا خالی خالی نظروں سے اس کی چھت کو دیکھتا رہا ۔۔۔ پھر کافی دیر کے بعد میں نیچے اترا  اور  سیدھا  اپنے  ایک  جاننے  والے کے پاس  کہ جو  اسی محلے کا قدیمی  رہنے والا تھا اور جس نے ہمیں یہ گھر لے کر دینے میں بڑی مدد کی تھی کے پاس چلا گیا۔ ۔ ۔  وہ   میرا  دوست  تو نہیں تھا لیکن اچھا جاننے والا   ضرور تھا اور اس کے ساتھ  میری  اچھی خاصی  فرینک نس بھی  تھی  اس کے ساتھ ساتھ وہ میری طبیعت  سے بھی اچھی طرح واقف تھا  اس لیئے سلام دعا کے بعد جب میں نے اس پوچھا کہ ایک بات تو بتا یار   !!!   یہ ہمارے گھر کے سامنے کون لوگ رہتے ہیں ؟ تو میری بات سنتے ہی اس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ارمینہ خان  عرف  مینا کو دیکھ لیا ہے ۔ ۔ ۔ تو میں نے کہا کون سی  ارمینہ اور کون سی مینا  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ تو میری بات سُن کر اس  نے  اپنی  بائیں  آنکھ  میچی  اور ہنس  کر بولا ۔ ۔  ۔ ہم سب  جانتے  ہیں بچہ  ۔ ۔ اور پھر کہنے لگا مینا کے پیچھے ایک تو  ہی نہیں  بیٹا    سارا  محلہ ہی   پاگل   ہوا  پھرتا  ہے  پھر وہ    میری طرف دیکھ کر کہنے  لگا  لیکن  یار  میری بات  کا  یقین کرو کہ وہ  ایک  نہایت شریف عورت ہے تو میں نے اس سے کہا یار توبہ کر وہ عورت نہیں وہ تو ایک سندر سی لڑکی ہے پیاری سی ناری ہے ۔ ۔ ۔  تو میری بات سُن کر وہ ہنس  پڑا   اور کہنے لگا   سالے وہ لڑکی نہیں پوری عورت ہے اور عورت بھی  وہ  جو عمر میں تم  سے   دو گُنی  ہو   گی تو میں نے قدرے حیران ہو کر اس سے  کہا یار لگتی تو وہ  بلکل لڑکی جیسی  ہے تو وہ کہنے لگا  ۔ ۔  تمھاری یہ بات بھی  ٹھیک ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ  وہ  کافی عمر چور  واقعہ ہوئ  ہے اور شکل  واقعہ ہی  کوئ  الہڑ مٹیار لگتی ہے    اور پھر کہنے  لگا ویسے  دوست  وہ ہے  بڑی شریف عورت ۔۔۔۔ تو میں نے جل کر کہا یار تم سے  اس کی شرافت کی گواہی نہیں لینے آیا بلکہ  یہ بتاؤ کہ اس کا حدود  دربہ کیا ہے؟ ۔ ۔  ۔  اور اس کی  بائیو گرافی کے بارے میں کچھ  روشنی ڈالو۔ ۔  ۔تو وہ میری طرف دیکھ کر بولا یار  مینا جتنی خوبصورت عورت ہے نا یہ اتنی ہی بدقسمت واقعہ ہوئ ہے پھر اس نے مجھے مختصراً بتلایا  کہ یہ   ٹال والے کی  سب  چھوٹی بیٹی ہے اور اس کی شادی اپنے کزن سے ہوئ تھی جو شادی کے بعد اپنے سسرال میں ہی  رہتا  تھا  اور اپنے سسر کے ساتھ ٹال پر کام کرتا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ٹال والے کا اپنا کوئ  بیٹا نہیں ہے؟؟؟    تو  جواباً   وہ کہنے  لگا   نہیں یار اس کی پانچ چھ لڑکیاں ہیں اور آخر میں ایک بیٹا پیدا ہوا ہے ارصلا خان ۔۔۔  جو  ابھی بہت چھوٹا  ہے  اور تم نے اسے دیکھا  ہی  ہو گا   وہ بھی تمھارے ساتھ میڈم زیبا کے ہاں پڑھتا ہے پھر کہنے لگا یار مینا کی شادی کے دو سال بعد ٹال والوں کا  کسی تگڑی پارٹی کے ساتھ  لین دین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا تھا جس میں مینا کے شوہر نے  اس پارٹی کے کسی بندے کا کلہاڑا مار کے سر کھول دیا  تھا  اور اس پر دفعہ   307  اقدامِ قتل کا مقدمہ درج  ہو گیا تھا  اوربعد میں  اسے چھ سات سال کی سزا ہو گئی تھی  اور اس بات کو اب  دو سال ہو گئے ہیں اور پھر کہنے لگا یار اس لڑکی مینا پر محلے کے  بہت  سارے  سے لوگوں نے بہت ٹرائ ماری لیکن یہ کسی کے بھی  ہاتھ نہ آئ ہےہاں اسکا دیکھنا اس طرح کا ہے کہ جس کو بھی ایک بار دیکھ لیتی ہے  وہ یہی سمجھتا ہے کہ ۔ ۔  ۔۔  وہ اس کے ساتھ  سیٹ ہو گئی ہے ۔۔ ۔ ۔ ۔ لیکن  ایسی کوئی بات نہ  ہے ۔ ۔ بس    اس کا دیکھنا ہی ایسا ہے ۔ ۔  ۔ سو دوست اگر  اس نے تم کو بھی نظر بھر کے دیکھ لیا ہے تو کسی خوش فہمی میں نہ رہنا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کہنے لگا     میں تم سے دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ    اگر تم اس عورت کے چکر میں ہو تو  اس بات کو بھول جاؤ کیونکہ    وہ تم کو کبھی بھی نہیں ملنے والی ۔

       اس کی بات سُن کر  ایک بات تو کلیئر ہوگئی  کہ  ارمینہ خان  عرف  مینا  ایک شریف عورت تھی لیکن اس نے جس انداز میں مجھ کو دیکھا تھا میرا دل اس بارے میں کچھ اور ہی گواہی  دے  رہا  تھا ۔۔ کہ آخر وہ بھی ایک عورت تھی  ۔ ۔ ۔ایسی عورت جو  شادی شدہ  اور لن آشنا تھی اور گزشتہ   کافی عرصہ سے ۔ ۔  ۔ ۔ پیاسی تھی     اور ظاہر ہے جزبات بھی رکھتی ہو گئی ۔۔۔   مزید کچھ گپ شپ کے بعد میں وہاں سے آ گیا لیکن میں نے اسے یہ بات ہر گز  نہ بتائ تھی کہ اس دن ارمینہ  نے مجھے کن نظروں سے دیکھا تھا  ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ ٹھیک ہی کہہ رہا ہو  ۔۔ اور  جو میں سمجھ رہا ہوں  وہ  میرا وہم ہی ہو ۔ ۔ ۔ لیکن میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ٹرائی کرنے میں کیا حرج ہے ضروری نہیں مجھے بھی  اورں  کی  طرح      No response   ہی  ملے  ۔۔۔ کیونکہ اس قسم کی خواتین  کے  معاملے میں  میری قسمت بہت   اچھی  تھی ۔   سو  اس  دن کے بعد میں    ارمینہ  کی  تاڑ  میں   اپنے چھت پر کھڑا ہونا شروع ہو گیا ۔ ۔ ۔  مینا کبھی آتی کھبی نا   آتی۔ ۔ ۔ لیکن جب بھی  وہ   اپنی  چھت  پر آتی تو میں یوں ظاہر کرتا کہ میں صرف اسی کے لیئے کھڑا ہوتا ہوں ۔۔۔  رفتہ رفتہ اس نے  میری اس  ان کہی بات کو  پِک کر لیا  اور مجھے لفٹ تو ہر گز  نہ کرائی۔۔۔۔   لیکن    اس نے میرے چھت پر کھڑے ہونے کا نوٹس لینا  شروع کر دیا  تھا چنانچہ اب  وہ  بھی اسی  مخصوص ٹائم پر چھت پر آنے لگی  جس ٹائم میں چھت پر کھڑاہوتا تھا ۔ ۔ ۔ اب اس کی روز کی روٹین  یہ ہو گئی تھی کہ وہ   اپنی چھت پر آتی پھر وہاں سے باؤنڈری وال کی طرف جاتی جس کے سامنے میں کھڑا ہوتا تھا  اور پھر وہ   ایک گہری نظر مجھ پرڈالتی اور پھر  واپس چلی جاتی تھی ۔۔۔ میرے لیئے یہی بہت تھا ۔ اس کی نظروں میں ایسا طلسم تھا کہ میں کافی دیر تک اس کی ان نظروں کو سوچ سوچ کر دل ہی دل میں مختلف منصوبے بناتا  رہتا تھا    ۔  ۔ ۔  ۔ ایک دن کی بات ہے کہ وہ  حسبِ معمول اپنے ٹائم پر آئی  اور پھر اپنی چھت کے ایک کی بجاۓدوتین چکر لگاۓ آج  وہ  مجھے  کچھ  بے چین سی  لگ رہی تھی کیونکہ  چھت پر چکر لگاتے ہوۓوہ چور نظروں سے مجھے بھی دیکھتی جاتی تھی ۔ ۔ ۔  پھر حسبِ  روایت  وہ  اپنی  چھت کی ری لنگ   کی طرف آئی  اور اس نے ایک نظر نیچے گلی میں ڈالی ۔ ۔ ۔  میں بھی حسبِ روایت اس کے بلکل سامنے والی چھت پر کھڑا اسی کی طرف  دیکھ رہا تھا گلی میں نظر ڈالنے کے بعد اس ے اپنا سر اٹھایا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ پہلے کی نسبت آج اس کا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کا دورانیہ کچھ طویل تھا ۔۔  اور اس پھر اس نے جاتے جاتے  دوبارہ  ایک نظر مجھ پر ڈالی۔ ۔ ۔ ۔ اور  پھر ۔ ۔ ۔  اپنا  نیچے  والا ہونٹ اپنے دانتوں میں داب لیا ۔۔۔۔۔ اُف ف فف اس کی یہ ادا  اس قدر  دل کش اور سیکسی تھی کہ بے اختیار میں نے اپنا ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھا   اور اپنی طرف سے تو بڑے  ہی   رومینٹک انداز میں ۔ ۔  ۔   ایک آہ بھر ی  ۔ ۔ جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے کہ اپنی طرف سے تو میں نے بڑا  ہی رومینٹک انداز اپنایا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ میں رومینٹک انداز اپناتے اپناتے کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو گیا تھا  یا پھر   میں   اس انداز میں مصالحہ کچھ زیادہ ہی ڈال گیا تھا  نتیجہ یہ نکلا کہ میرا یہ    انداز  اس کو متاثر کرنے کے چکر میں کچھ زیادہ ہی      بھونڈا اور مزاحیہ    ہو گیا تھا اتنا مزاحیہ کہ میرا  وہ   ایکشن   .... دیکھتے ہی  اس کے منہ  سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ  گیا  لیکن فوراً ہی اس  نے ( بڑی مشکل سے )  اپنی ہنسی پر  قابو پایا   اور پھر  وہ  اپنے منہ  پر  ہاتھ رکھ کر میری طرف دیکھتے ہوۓ   نیچے کی طرف بھاگ گئی اس کی یہ  ادا    دیکھ کر میرے دل میں مسرت کے لڈو  پھوٹ گئے ۔ ۔ ۔
 آمنے سامنے گھر ہونے کی وجہ سے ہمارا  ایک دوسرے کے گھر آنا جانا   تو شروع ہو گیا تھا لیکن یہ آنا  جانا  ابھی  صرف  لیڈیز تک ہی محدودتھا  وہ بھی بہت کم    . . . مطلب ابھی اتنی بے تکلفی نہ ہوئی تھی کہ ہم لوگ  مطلب میں  بھی  ان کے گھر فرینڈلی آ جا سکوں  ۔ خیر  اس سے    اگلے  دن  وہ  مجھ  سے  پہلے ہی چھت پر موجود تھی شاید کپڑے دھو رہی تھی اور اس کے ساتھ اس کی امی بھی تھی جسے سب لوگ ماسی پٹھانی کہتے تھے   ماسی  پٹھانی سفید ٹوپی والا برقعہ پہنتی تھی جس کی ٹوپی کم از کم میں نے تو  کبھی بھی نیچے گری ہوئی  نہ  دیکھی تھی   وہ سارا  دن محلے میں  ادھر ادھر پھرتی  رہتی تھی جبکہ  گھر کے سارے کام کاج ارمینہ ہی کرتی تھی – اور مزے کی بات یہ ہے کہ میں نے آج پہلی دفعہ  ماسی پٹھانی کو  بغیر  برقعے کے  دیکھا  تھا    ماسی کو دیکھ کر میں ادھر ادھر ہو گیا   اور  ارمینہ کی طرف دیکھنے  سے  پرہیز  ہی  کیا ۔۔۔ ماسی کچھ دیر تک ارمینہ کے پاس کھڑی رہی پھر وہ واپس نیچے چلی  گئی اسے نیچے جاتے دیکھ کر میں بھی اپنے خفیہ ٹھکانے سےباہر  نکل آیا   اور  ارمینہ کو  تاڑنے   لگا  جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی وہ مسکرا دی اور پھر  کچھ دیر بعد وہ  حسبِ معمول اپنی گرل کے پاس آئی اور ایک نظر نیچے گلی میں جھانکا اور پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے دیکھنے لگی پھر کچھ دیر کے بعد  وہ  واپس جا کر اپنے کپڑوں کے ساتھ لگ گئی یہ دیکھ کر میں نے بھی اپنا  ناکا  سخت کر دیا اور وہیں کھڑا  رہا    اب  وہ  کپڑے دھونے کے ساتھ ساتھ کھبی کھبی  میری طرف بھی دیکھ لیتی تھی  ۔۔۔۔  اس وقت شام اندھیرے میں بدل رہی تھی جب اس نے اپنے آخری  کپڑے  مشین میں ڈالے اور  پھر  اس  نے مشین کو چلا دیا      اور  وہاں  سے ہوتے  ہوۓ  وہ ان کپڑوں کی طرف گئی کہ جو اس نے پہلے سے سوکھنے کے لئے  تار پر ڈالے ہوئے تھے پھر  اس نے تار سے سوکھے ہوۓ کپڑے اتارے اور میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگی   اب میں نے بات آگے بڑھانے کی غرض کسی پرانے  عاشق  کی طرح  اس کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنے سر پر ہاتھ پھیرا مطلب میں نے اس کو سلام کیا اس نے میرے اشارے کو بڑے غور سے دیکھا لیکن کوئی رسپانس  دئیے بغیر وہ  نیچے کی طرف اتر گئی