339

اُستانی جی قسط2

     بڑی مشکل  سے  انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں  اور آدھی چھٹی کا  ٹل بجا  ۔ ۔ جس کو سنتے ہی   میں نے  کلاس  سے  بستہ لیا  اور دوست کو  بتا  کر کہ میں  پُھٹا  لگا  رہا  ہوں سکول  سے  بھاگ گیا  اور  چلتے چلتے  میڈم کی گلی  میں پہنچ  گیا  یہاں  آ کر میں  نے  ادھر ادھر دیکھا  تو میڈم کی ہمسائ ریڑھی والے سے سبزی خرید رہی تھی میں واپس چلا گیا  اور پھر  ایک چکر کاٹ کر واپس گلی میں آیا  تو وہ  ریڑھی  والا  وہاں سے جا  چکا  تھا سو میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ میڈم کا دروازہ کھٹکھٹا دیا فوراً ہی ندا میڈم نے دروازے سے سر نکالا اور گلی میں دیکھ کر بولی اندر آ جاؤ اور اس طرح میں میڈم کے گھر میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔ میڈم  نے  دروازے کو  کنڈی لگائ  اور  مجھے  اپنے ساتھ ایک کمرے میں لے گئ ۔۔۔ جوشاید   ان  کا  اپنا  بیڈ روم تھا کیونکہ سامنے  دیوار  پر  ان کے کپڑے  ٹنگے  ہوۓ تھے  اور اس کے ساتھ ہی ایک دروازہ تھا جو میرے خیال  میں  واش روم کا  ہو  گا   جبکہ روم کے ایک طرف ایک بڑا سا  ڈبل  بیڈ  بچھا  ہوا  تھا  اور بیڈ  کے دائیں طرف  والی  دیوار کے ساتھ  ایک بڑا  ہی خوبصورت سا  ڈریسنگ  پڑا  ہوا  تھا  جس  کے آگے ایک چھوٹا  سا  سٹول بھی رکھا  تھا جس  پر بیٹھ کر میڈم سنگھار وغیرہ کرتی تھیں ۔۔۔ جبکہ  بیڈ  کی دوسری طرف  دو کرسیاں بھی پڑیں تھیں  اور ان کرسیوں  کے  درمیان  ایک  چھوٹا  سا  ٹیبل بھی  پڑا  تھا  جس کے درمیان   میں    ایک خوبصورت  سا  گلدان   پڑا   تھا  اور اس گل دان میں  مصنوعی گلاب کے پھول لگے  ہوۓ  تھے  میں کمرے  کا جائزہ  لے  رہا  تھا  کہ میڈم کی  آواز  میرے  کانوں  میں گونجی ۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی کہ وہ ۔۔ کرایہ دے  دیا  ہے ناں ۔۔۔ ان کی بات سُن کر  مجھے  یاد  آ  گیا  اور میں  نے  اپنی قیمض کی  سائیڈ جیب سے بقایا نکالا اور میڈم کو دیتے ہوۓ بولا جی میڈم ۔۔۔ کرایہ تو میں صبع ہی دے آیا تھا ۔۔۔ انہوں نے میرے ہاتھ سے پیسے پکڑے اور اپنا ہاتھ برا کی طرف لے جاتے ہوۓ بولی کوئ مسلہ تو نہیں  ہوا  نا؟  تو میں  نے  اپنی  نظریں  ان  کے ہاتھ پر گاڑتے ہوۓ کہا کہ نہیں میڈم ۔۔۔۔ کوئ مسلہ نہیں ہوا   ۔  میں جو بڑے غور سے  ان کی طرف  دیکھ  رہا  تھا  کہ برا  میں   پیسے ڈالتے  ہوۓ ابھی  میڈم اپنا مما باہر نکالے گی اور یہ سوچ کر ہی شلوار میں میرا لن تن گیا ۔۔۔۔ اور میں بڑے اشتیاق سے  میڈم کو دیکھنے لگا کہ  کل کی طرح آج بھی  وہ اپنی  بڑی سی   خوبصورت چھاتی  کا دیدار کراۓ گی ۔۔۔۔ لیکن  ایسا  نہ  ہوا   میڈم نے وہ پیسے ہاتھ بڑھا کر برا میں ڈالے اور پھر برا سے ہاتھ  باہر نکال لیا ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور جب انہوں نے برا سے اپنا ہاتھ باہر  نکالا تو میں خاصہ مایوس ہوا ۔۔ ۔ حالانکہ ٹیکنکلی برا  میں  پیس ے ڈالتے  ہوۓ   وہ   اپنا  مما باہر  نہ نکال سکتی تھی  وہ  تو  تب  دکھا  سکتی تھیں جب برا سے پیسے باہر نکالنے ہوں ۔۔۔ میڈم بڑی غور سے مجھے اور میرے تنے ہوۓ لن کو دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ میرے چہرے  پر  مایوسی  کو دیکھ کر وہ پتہ نہیں کیا سمجھی  اور  بولی ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ پیسے تو نہیں چائیں تم کو تو  میں نے  کہا نہیں  میم ۔۔۔۔  تو  وہ  دوبارہ  سے  اپنی     چھاتی  میں ہاتھ ڈال کر بولی  ارے نہیں  اس میں شرمانے کی کوئ بات نہیں اور پھر سے برا میں ہاتھ ڈال  دیا  اور پہلے کی طرح  اپنی  ایک چھاتی قمیض سے باہر نکالی  اور ۔۔۔ کچھ دیر تک مجھے وہ چھاتی  دیکھنے دی ۔۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤ۔۔۔ ان کی خوبصورت چھاتی دیکھ  کر میرا دل باغ باغ ہو گیا اور میرا ناگ جو مایوس ہو کر سونے کی تیاری کر رہا تھا  وہ پھر  سے پھن  پھیلا کر کھڑا  ہو گیا ۔۔۔     
     کچھ دیرتک میڈم  میرے  لن  اور میں ان کی چھاتی کو دیکھتا  رہا  پھر  انہوں نے  پیسے میری طرف بڑھاتے ہوۓ کہا کہ چاہئے  تو کچھ پیسے رکھ لو ۔۔۔ لیکن میں نے انکار کر دیا  اور انہوں نے  دوبارہ  سے وہ  پیسے  اپنی  برا میں ڈال دیئے  اور بولی بیٹھو میں تمھارے لیئے  شربت لاتی ہوں اور میں ان کے بیڈ روم میں بچھی کرسی پر بیٹھ گیا اور وہ کچن کی طرف روانہ ہو گئیں کچھ دیر بعد وہ واپس آئ اور مجھے شربت پینے کو دیا اور گپ شپ کرنے لگی  دوپٹہ ان کے سینے سے  ہٹا  ہوا  تھا  جس سے قمیض کے اوپر سے ہی    میں ان کے مموں کا نظارہ    لے رہا تھا    اور میں  ان کو  دیکھ دیکھ کر نہال  ہو  رہا  تھا  لیکن میری جرأت نہیں  پڑ  رہی تھی کہ بڑھ کے ہاتھ تھام لوں ۔۔۔ ادھر وہ بھی  اپنا نظارہ  تو  خوب کروا  رہیں تھیں  پر کوئ  واضع  اشارہ  نہ دے  پا  رہی تھیں ۔۔۔۔۔ اسی کشمکش میں کافی دیر گزر گئ اور پھر ایک ٹائم  وہ بھی  آیا کہ میں بھی چُپ وہ بھی چُپ ۔۔۔ لیکن  گرمئ  حالات  ادھر بھی  تھے اور ادھر بھی ۔۔۔ اور ایک دھیمی سی آگ ادھر بھی تھی اور  ادھر بھی ۔۔۔۔۔۔ پر مسلہ یہ تھا کہ پہل کون کرے  ۔۔۔۔  ان کا   تو مجھے پتہ نہیں لیکن میں اس لئے  پہل نہیں  کر پا رہا تھا  کہ کہیں ایسا نہ ہو جاۓ کہیں ویسا نہ ہو جاۓ ۔۔۔۔ خیر کافی      دیر بیٹھ بیٹھ   کے جب  کچھ نہ  ہو سکا  تو میں نے  جانے  کا فیصلہ کیا  اور  بولا  اچھا  میم  اب میں  جاؤں ؟؟؟؟ ۔۔۔ میری بات سُن کر وہ کچھ چونک سی گئ اور بولی ۔۔۔۔ تم جا رہے ہو ؟ ۔۔ تو میں نے کہا جی میڈم ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی جانے کےلئے  اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔ اور بھاری قدموں سے دروازے کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔ تب  اچانک پیچھے  سے  مجھے ان کی آواز  سنائ  دی ۔۔۔ سُنو !!!! ۔۔۔ تو میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا  تو وہ بولی  ۔۔ تیم کیل ٹھونک لیتے ہو؟  تو  میں بولا یہ بھی کوئ  مشکل بات ہے  جی  تو وہ بولی تو پلیز تم کپڑوں  والی کلی کے  ساتھ  ایک  اور کیل ٹھونک دو  اور پھر کہنے لگی رکو میں تم کو ہتھوڑی  اور کیل  لا کر دیتی  ہوں  اور پھر انہوں  نے ڈریسنگ کی ڈرا  سے ایک  ہتھوڑی  اور ایک بڑا  اور موٹا  اور  سا سٹیل کا کیل نکالا  اور ایک طرف لگی  ہوئ  کپڑے  ٹانگنے  والی کلی کی طرف  اشارہ کر کے بولی   پلیز  اسے  اس  کے ساتھ لگا  دو ۔۔۔ اور میں نے ان کے ہاتھ سے ہتھوڑی اور کیل لیا اور جو جگہ انہوں نے بتائ تھی وہاں پر کیل کو  ٹھونکنے کی کوشش کرنے لگا  ۔۔۔ میڈم کی بتائ ہوئ جگہ میرے ہاتھ کے رینج سے تھوڑی سے اوپر  تھی اورمیں پنجوں کے بل کھڑا ہو کر کیل لگانے کی کوشش کرنے لگا لیکن کیل پر میری ضرب ٹھیک سے نہ لگنے کی وجہ سے کیل دیوار کے اندر  نہ جا رہا تھا  ۔۔۔ میں نے کافی ٹرائ کی لیکن ہتھوڑے کی ضرب کبھی کہیں پڑتی کھبی کہیں ۔۔۔ ردا  میڈم جو میرے پاس کھڑی یہ سب دیکھ رہیں تھیں فوراً بولیں ۔۔۔ ٹھہرو میں تمھاری ہیلپ کرتی ہوں اور پھر وہ عین میرے پیچھے کھڑی ہو گئیں  اور بولی تم کیل کو  مضبوطی سے پکڑنا میں ضربیں لگاؤں گی پھر ہتھوڑا پکڑے وہ تھوڑا آگے بڑہیں اور ۔۔۔ اور ان کا فرنٹ جسم میری بیک کے ساتھ ٹچ ہو گیا     آہ       ۔۔۔ ان کا نرم نرم جسم جیسے ہی میری کمر سے ٹکریا تو میرے جسم نے ایک جھرجھری سی لی ۔۔۔۔ جسے انہوں نے بھی محسوس کیا ہو گا لیکن وہ بولی کچھ نہیں اور اسی اینگل میں انہوں نے ایک ضرب لگائ ۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے تھوڑا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ضرب ٹھیک سے نہ لگ سکی ۔۔ یہ دیکھ کر وہ تھوڑا اور آگے کو کھسک گئیں  اور  اب  ان کی فُل باڈی میری باڈی سے ٹچ ہونے لگی ۔۔۔۔ اُف اُف ۔ف۔فف۔ف۔ف۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ ان کا نرم جسم میرے ہارڈ باڈی میں کھُب رہا ہے ۔۔۔ اور مزے کی ایک تیز لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئ ۔۔۔ اور بے اختیار میں نے اپنی بیک ان کی فرنٹ سے کچھ اور جوٖڑ دی ۔۔۔ اور اب انہوں نے بھی اپنے سارے ممے میری کمر سے ٹچ کر دئے بلکہ ہلکے سے رگڑ بھی دیئے  ۔۔     ممے  ساتھ جُڑتے  ہی  مزے کی لہریں میرے جسم میں دوڑنے لگیں اور لن جھوم کر کھڑا ہو گیا   اور اس کے ساتھ میں نے کیل کو بھی پکڑے رکھا ۔  اب انہوں نے دوبارہ کیل پر  ہتھوڑی ماری لیکن میرا خیال ہے کہ اس جگہ پر اینٹ تھی جبکہ تو کیل اندر نہ جا رہا تھا ۔۔۔۔ اس دفعہ ضرب مارنے سے پہلے وہ بولیں یہ کیل کیوں نہیں اندر جا رہا ۔۔۔ تو میں نے کہا شاید میم آپ تھوڑا دور کھڑی ہیں اس لئے  ۔۔۔ ضرب ٹھیک سے نہ لگ رہی ہے آپ ایسا کریں کہ تھوڑا اور آگے آ جائیں میری بات سُن کر وہ منہ سے تو کچھ نہ بولی لیکن مزید کھسک کر میرے ساتھ لگ گئی  کیا لگی تو وہ پہلے کی تھی اب  ان کا  نرم نرم  جسم میرے جسم میں تقریباً  کھُب  سا  گیا   اس  کے ساتھ  ہی  میں نے  اپنی  گانڈ پر   ان کی گرم پھدی کو محسوس کیا  اور میں  نے بے  اختیار  اپنی  گانڈ تھوڑی  پیچھے کر کے  ان کی  پھدی کے ساتھ  جوڑنے کی کوشش کر ۔۔۔۔۔ یہ میرا  پہلا  واضع رسپانس تھا  جو میں نے  ان کو  دیا تھا  ۔۔۔۔  
               میرا خیال ہے بات ان کی بھی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی تھی کیونکہ اس دفعہ وہ کیل کو ضرب کم اور میری گانڈ کے  ساتھ  اپنی  پھدی کو زیادہ رگڑ رہی تھی ۔۔۔۔ دو تین ضربوں  کے بعد میں نے محسوس کیا  کہ انہوں نے  اپنی  ایک ٹانگ میری دونوں ٹانگوں کے بیچ کر دی ہے اور اس کے ساتھ ہی میں نے بھی چپکے  سے اپنی  گانڈ  ان کی چوت  والی جگہ پر رگڑ دی  جس کا نہوں نے فُل    رسپانس دیا  اور چوت کی اچھی سے ٹچ کیا  ۔۔۔ واؤؤؤؤؤ ۔۔۔ ان کی چوت والی جگہ بڑی ہی    ہی ہاٹ تھی  ۔۔۔۔۔ اور پھراس کے ساتھ ہی  گیم شروع  ہو گئ وہ بظاہر تو ضرب کیل پر مارتی لیکن  درپردہ  اپنی  چوت کو میری پیچھے کی طرف نکلی ہوئ گانڈ  سے رگڑتی تھی  اور  مجھے  ایسا  محسوس ہو رہا  تھا  کہ جیسے میڈم کی دونوں ٹانگوں کے بیچ کوئ  انگارہ  رکھا  ہوا  ہے ۔۔۔ جو بار بار میری گانڈ سے ٹکرا رہا ہے  اس کے ساتھ ساتھ میڈم کی رگڑائ میں تھوڑی شدت آتی جا رہی تھی ۔۔۔ اور اب وہ ہتھوڑی کو براۓ نام ہی چلا رہی تھی ۔۔۔ مجھے بھی بہت مزہ آ رہا تھا چانچہ ایک دفعہ جب میڈم تھوڑی پیچھے ہوئ تو میں نے فوراً ہی اپنی گانڈ سے قمیض ہٹا دی اور تھوڑا اور نیچے جھک گیا اور  اس کے ساتھ ہی میں نے دوسرا کام یہ کیا کہ  شلوار کی جو سائیڈ میڈم کی چوت کے ساتھ رگڑ کھا   رہی تھی اس کو  میں  نے  اپنی  ایڑی  کے نیچے  پھنسا  لیا جس سے شلوار کی وہ سائیڈ ایک  دم  ہارڈ  ہو گئ تھی  ظاہر  ہے  میری  اس  ایکٹیوٹی  سے میڈم پوری طرح باخبر تھی لیکن وہ بولی کچھ نہیں اور اس دفعہ جب انہوں نے میری گانڈ پر گھسا مارا ۔۔ تو ۔۔۔ تو اُف کیا بتاؤں دوستو !!!!!!!! ۔۔۔ جیسا کہ آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ میں سکول سے بھاگ کر آیا تھا ۔۔۔۔ اور اس وقت میں نے اپنے سکول کی  وردی پہنے  ہوئ تھی جو کہ ملیشاء کی شلوار قمیض تھی ۔۔ اب جب میڈم نے  اپنی  چوت  کو  میری گانڈ  کے ساتھ رگڑتی تھی  تو  ان  کی ریشمی شلوار  میرے کھردرے ملشیاء کی شلوار سے رگڑائ   ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اس دفعہ کی رگڑ  سے  مجھے  ایسا  لگا  کہ میڈم کی چوت  سے  ایک چنگاری نکلی  ہو ۔۔۔۔ اور پھر میڈم نے ایک دو گھسوں کے بعد تیز تیز سانس لینا شروع کر دیا اور ۔۔۔۔ پھر کچھ مزید گھسوں کے بعد وہ کچھ آؤٹ آف کنٹرول ہو گئ  اور انہوں نے مجھے کمر سے پکڑا اور میری گانڈ پر  ڈائیرکیٹ ہی  گھسے مارنا شروع کر دیئے  اور تیز تیز سانسوں میں بولی ۔۔۔۔ تم سےایک  کیل نہیں ٹھونکا جاتا ۔۔۔َ آہ ۔۔۔۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ ۔۔ پھر ایک زور دار گھسا مارا اور بولی ۔۔۔۔ اتنا موٹا کیل تم سے کیوں نہیں  ٹھونکا گیا   ۔ ۔ ۔سالے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر انہوں نے  اپنی چوت کو میری گانڈ کے ساتھ  بڑی سختی سے جوڑ لیا اور بُری طرح رگڑائ کرتے کرتے میرے اوپر تقریباً گر سی گئیں  اس کے ساتھ  میں نے  محسوس کیا کہ ان کی ریشمی شلوار سے پانی بہہ بہہ   کر میری کھردری ملیشاء کی شلوار کو گیلا کر رہی ہے کچھ دیر تک وہ ایسے ہی رہیں پھر انہوں نے اپنی باڈی کو میری باڈی سے الگ کیا اور گہرے گہرے سانس لیتی ہوئ جا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پڑے سٹول پر بیٹھ گئیں ۔۔۔              
                          وہ تو چھوٹ کے تھوڑی ٹھنڈی ہو گئیں لیکن میں اپنے لن کا کیا کرتا ۔۔۔ وہ تو اتنی سختی  سے کھڑا تھا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں  اتنی  زیادہ سختی آنے کی وجہ سے ٹوٹ  ہی  نہ جاۓ ۔۔ اور ساتھ ساتھ مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ خود تو میڈم نے مزہ لے لیا  اور میرے لن کا کچھ نہ سوچا ۔۔۔۔ پھر میں نے دل میں کہا اس نے منع بھی تو نہیں کیا نہ ۔۔۔ اور میرا لن مجھے تنگ کرنے لگا  اور پھر اسی کشمکش میں  بے  اختیار چلتا  ہوا  میڈم کے  پاس چلا گیا جو سٹول پر بیٹھی  ابھی بھی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی              اور جا کر     ان کے پیچھے کھڑا  ہوا گیا  اور پھر ہمت کر کے تھوڑا  اور   آگے بڑھا  جس سے میڈم کی  بغل سے میرا لن ٹکرایا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ میڈم نے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے  میں سے   ایک نظر  مجھے  دیکھا  اور پھر فوراً  ہی  اپنا بازو  اوپر  کر کے کھول  دیا  جس سے میرا لن  ان کی بغل میں گھس گیا ۔۔  جیسے ہی لن ان کی بغل میں گیا   انہوں نے  فوراً  ہی    اپنا ہاتھ  نیچے کر لیا   اور میرے لن  کو اپنی بغل میں لیکر اس    پر دباؤ بڑھا نا  شروع کر دیا اب میرا لن ان کے بازو اور بغل کے درمیان تھا ۔۔۔۔۔ واہ ہ ہ  ہ ۔۔۔ کیا نرم  بازو تھا  کیا گرم بغل تھی ۔۔۔۔ میڈم نے میرے لن  پر اپنا بازو  دبایا  اور بولی ۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟ تو میں نے کہا میڈم وہ کتاب تو مجھے مل جاۓ گی نہ ۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک گھسہ بھی مارا  جس سےمیرا  لن ان کے بغل کے آر پارہوکر  ان کے ممے سے جا کر ٹکرا یا لیکن انہوں نے   ایسا  شو کیا کہ جیسے کوئ بات ہی  نہ ہوئ ہو ۔۔۔  اور اس کے ساتھ ہی وہ  میرے ساتھ نارمل انداز میں  باتیں کرنا شروع  ہو گئیں   ۔۔۔ کچھ دیر بعد  میڈم  نے  اپنا دوسرا  ہاتھ تھوڑا  آگے  کیا  اور  اپنی   وہ  بغل کہ  جس میں میرا لن پھنسا  ہوا  تھا   وہاں  پر لے  آئ  اور پھر میں نے  اپنے ٹوپے  پر میڈم کی انگلیوں کو رنیگتے ہوۓ محسوس گیا اور پھر کچھ دیر کی مساج کے بعد انہوں نے اپنی رنگ فنگر سے میرے ٹوپے کو کھرچنا شروع کر دیا  ۔ ۔  ۔ ۔ ۔ پھر کچھ دیر بعد انہوں نے  اپنی دو  انگلیوں  میں لن کے  اگلے  حصے کو پکڑا  کر     اس  کے ساتھ   کھیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ میرے ساتھ ایسے باتیں بھی کرتی کہ جیسے ہم دونوں کے بیچ کچھ بھی نہیں چل رہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر کچھ دیر کے بعد انہوں نے انہوں نے اپنی چاروں انگلیوں میں لن کو لیا اور مجھے سامنے آنے کا اشارہ کیا ۔ ۔  ۔۔ اور میں نے ان کی بغل سے لن کو نکالا اور ان کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اور پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا ۔۔۔۔ حیرانگی کی بات ہے کہ اس وقت مجھے ایسے کرتے ہوۓ میڈم سے  زرا بھی ڈر نہیں لگا ۔۔۔۔ادھر  میڈم نے بھی  فوراً ہی میرے لن کو اپنی مٹھی میں دبا لیا اور کچھ دیر آگے پیچھے کرنے کے بعد انہوں نے اپنا دوسرا ہاتھ آگے بڑھایا اور میرا شلوار کا آزار بند کھول دیا ۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میری شلوار میری  ٹانگوں  میں  چلی  گئ  پھر انہوں  نے مجھ ے اپنی قمیض  اوپر کرنے  کا اشارہ کیا  کیونکہ لن کے سامنے  جو آ گئی تھی  اور میں نےجھٹ سے اپنی قمیض کو  اوپر  اٹھا کر اس کا دامن      اپنے گریبان  میں  پھنسا  لیا  اور میڈم کی طرف  دیکھنے  لگا  ا اب انہوں نے میرے لن کو اپنے  دونوں ہاتھوں میں پکڑا   اور مجھے  اپنی طرف کھینچا  اور خود بھی  سٹول  سے تھوڑا  سا کھسک کر  آگے کی طرف    ہو گئیں  مجھے  ان کے نیکسٹ  سٹیپ کا کوئ  اندازہ  نہ ہو رہا  تھا کہ وہ آگے کیا کرنے  والی  ہیں اس لیئے   چُپ  چاپ  کھڑا ان کو  دیکھتا رہا    اب انہوں نے میرے  ننگے لن  پر اپنا   ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا  اور پھر میری طرف دیکھ کر  پہلی دفعہ    سیکسی ٹون    میں  بولی ۔۔۔۔۔ تمھارا  سودا   (لن)  بہت  مست  ہے ۔۔  ۔ ۔۔ تو میں نے بھی   ان  سے کہا کہ آپ کو پسند آیا ؟؟  تو  انہوں  نے  میرے لن کو   سہلاتے ہوۓ مختصر سا ۔۔۔ جواب دیا ۔۔۔۔۔ بہت ۔۔۔ تو ان کی بات سن کو میں تھوڑا  سا  اور   آگے  بڑھا اور بولا میڈم اگر آپ کو میرا  یہ سودا   پسند آیا ہے تو  پلیز  اس  پر ایک چھوٹا  سا کس  تو  کر دیں  تو  انہوں نے  بجاۓ کوئ جواب دینے کے فوراً ہی منہ آگے کیا اور میرا ٹوپے کو  اپنے  ہونٹوں میں جکڑ  لیا ۔۔۔۔  ۔ ان کے نرم و نازک سے ہونٹوں نے جیسےہی میرے ٹوپے کو چھوا ۔۔۔۔۔ میری سارے بدن میں مستی کی مست  لہریں  سی چلنے لگیں ۔۔۔ ادھر انہوں نے  اپنے  ہونٹوں  میں  جکڑا   ہوا  میرا  ٹوپا  تھوڑا  اور آگے  کی طرف اپنے منہ میں لے گئیں  اور پھر ہونٹوں کے  اندر  ہی  اندر   ان کی زبان نے میرے پی ہول کو چاٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔۔ مجھے  ان کے اس عمل سے اس قدر زیادہ   مزہ آیا  کہ ۔۔۔۔نجانے کہاں سے   مزی  کا  ایک موٹا  سا  قطرہ  بھاگتا  ہوا  آیا  اور  میرے ٹوپے سے  نکل کر  ان کے منہ میں جا گرا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  مزی  کا   یہ قطرہ  ان کے  منہ میں   جانے کے بعد  فوراً  ہی انہوں نے  اسے  اپنی  زبان کی نوک پر رکھا    اور زبان   باہر نکال کر مجھے دکھانے لگی       پھر انہوں نے   اس  میں تھوڑا  سا تھوک  ایڈ کیا  اور میرے لن  پر مل دیا  جس سے میرے لن کی بیرونی سطع  کافی  چکنی ہو گئ  پھر اس کے بعد انہوں  نے اپنا  بایاں  ہاتھ  آگے کیا  اور میرے چکنے لن کو پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگیں۔

                                  ان کو مُٹھ مارتے ہوۓ ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئ تھی کہ مجھے  اپنے لن سے منی نکلنے کے اشارے ملنا شروع ہو گئے  اور شاید انہوں نے بھی یہ بات محسوس کر لی تھی چانچہ وہ  میری طرف  دیکھتے  ہوۓ  بولیں ۔۔۔ چُھوٹنے لگے ہو۔۔ ؟؟؟؟؟  اور اس سے قبل کہ میں کوئ  جواب  دیتا ۔۔۔ انہوں نے میرے  لن کے پیچھے  کو سختی سے دبا  لیا    اور لن کے نچلے حصے میں وہ   میری  رگ کہ جہاں سے منی کا اخراج ہونا تھا    کو اپنے انگھوٹھے سے دبا کر   بلاک کر دیا     اور  پھر  ڈریسنگ پر پڑے  ٹشو   پپیر  کے ڈبے سے دو تین ٹشو نکالے     اس ان کے میرے لن       کے آگے کر دیا ۔۔۔۔۔۔  اور  اس  کے ساتھ  ہی انہوں نے   اپنا  وہ انگھوٹھا  کہ  جس  نے میرے لن کی  نیچے  والی  رگ کو بلاک کیا  ہوا  تھا  اس کو  وہاں  سے  ہٹا لیا   لن کی  رگ سے  دباؤ  ہٹتے   ہی  میں نے  ایک  زور دار جھٹکا  مارا  اور  جھٹکے کی  وجہ سے  میرا   زاویہ خراب  ہو گیا جس سے  ۔۔۔۔۔ میری منی کی پہلی دھار سیدھی     ان کے  خوبصورت  چہرے پر   جا گری  یہ دیکھ کر انہوں نے جلدی سے ٹشو کو میرے لن کے آگے کر دیا  اور میری باقی  ماندہ منی  اس ٹشو پیپر  پر گرنی  لگی  اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے دوسرے ہاتھ سے میرے  لن کو پکڑا  اور میری طرف  دیکھتے  ہوۓ اسے آگے پیچھے کرنے لگی اور اس طرح انہوں نے میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر ٹشو پیپر پر ڈال دیا اور پھر اس ٹشو کو رول کر کے بیڈ کے ایک طرف  پڑی ڈسٹ بن میں  پھینک  دیا ۔۔ اس  کے  ساتھ ہی  میں نے بھی  اپنے  پاؤں  میں پڑی  شلوار  اوپر  اٹھائ  اور آزار  بند   باندھ لیا  اور ان  سے  اجازت لیکر کر باہر جانے  لگا وہ بھی  مجھے چھوڑنے کے لیئے  باہر آئ اور راستے  میں  بولی ۔۔ کیسا  لگا  آج  کا تجربہ تو میں نے کہا بہت اچھا ۔۔۔ ۔۔ ۔ تو وہ  بولی  مزہ آیا کہ نہیں ؟  تو میں نے جواب دیا کہ  جی   بہت  مزہ آیا  تو میری   یہ بات سُن کر وہ   چلتے چلتے  رُک گئ  اور بولی  میں تم کو اس سے زیادہ بھی  مزہ  دے سکتی  ہوں ۔۔ تو  میں  نے کی طرف  سوالیہ نظروں  سے  دیکھتے  ہولے سے کہا  وہ کیسے  ؟؟ لیکن شاید  انہوں  نے میری  یہ  بات نہ سنی تھی یا سنی ان سنی کر تے ہوۓ کہنے لگی  ۔ اور یہ جو آج تمھاری منی ٹشو پیپر پر گری ہے اگلی دفعہ کہیں اور بھی گر سکتی ہے ۔۔۔ پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ اور یہ لفظ کہہ کر وہ  ڈرامائ  انداز  میں میری طرف  دیکھتے ہوۓ خاموش ہو گئیں اور میں ان کو چُپ دیکھ کر بے چین سا ہو گیا اور  پوچھا   پر ۔ر۔۔ر ۔۔۔۔ پر ۔۔۔ کیا میڈم ؟ تو وہ ہولے سے بولی ۔ ۔ ۔ ۔ پر اگر تم  میری دوستی راز میں رکھو تو  پھر کہنے لگی پہلے کبھی کیا ہے ؟     تو میں نے سفید جھوٹ   بولتے ہوکہا نہیں میڈم  تو وہ بولی میں تم کو سب سکھا دوں گی   پر شرط وہی ہے کہ  یہ راز  راز  ہی  رہے  گا  ۔۔۔ تو  میں پُر جوش انداز میں کہا  کہ  میڈم میں اس چیز کی آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ میرے آور آپ کے علاوہ یہ بات کسی تیسرے بندے کو  پتہ  نہ چلے  گی تو وہ بولی میں کیسے یقین کروں ؟ تو میں نے  اسی پُر جوش  لہجے  میں جواب دیتے ہو کہا  کہ  میڈم میں بڑی سے بڑی قسم دینے کو تیار ہوں اور اس کے ساتھ جس قسم کی آپ کو تسلی چاہئیے میں دینے کو تیار ہوں ۔۔۔ تو وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولیں ۔۔۔۔ قسموں کی ضرورت نہیں ۔۔۔ راز کو راز رکھو گے تو اس میں تمھارا  ہی  فائدہ  ہے ۔۔۔ پھر انہوں نے  اپنا  دایاں  ہاتھ  آگے کیا اور  بولیں وعدہ ۔۔۔ کرو کہ ہمارے تعلقات کے بارے میں تم کسی کو بھی نہیں  بتاؤ  گے ؟ تو میں نےہاتھ آگے کیا  اور بولا کہ میں وعدہ کرتا ہوں   اور میں قسم کھاتا  ہو ں کہ میں آپ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کسی کو کچھ    بھی نہیں بتاؤں  گا ۔۔۔ میری بات سنتے ہی   انہوں نے مجھے  اپنے سینے کے ساتھ لگا  لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور ایک بڑا ہی گرم جوشی کے ساتھ مجھے جھپی لگائ ۔۔۔ جس سے ان کی موٹی چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ رگڑ کھانے لگیں اور جب ہم ایک دوسرے سے علحٰیدہ ہو ۓ تو میں نے ڈرتے ڈرتے ان سےکہا کہ میڈم ایک بات کہوں آپ ناراض  تو نہیں ہوں گی  ۔۔ تو وہ بڑے پیار سے  بولی   ایک نہیں  دس کہو ۔۔۔ میں بھلا تم سے کیوں ناراض ہوں گی تو میں نے پھر ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔ کہ  کیا  میں آپ کی یہ چھاتیاں ننگی دیکھ سکتا ہوں ۔۔۔ میری یہ بات سُن کر انہوں نے ایک ہلکا سا قہقہ لگایا اور بولیں ۔۔۔ ارے بدھو تم ان کو نہ صرف ننگا  دیکھ سکتے ہو     بلکہ  چاہو  تو ان کو   چوس بھی سکتے  ہو  اس اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی قمیض کو اوپر  اٹھایا  اور   برا  سے اپنی    دونوں چھاتیاں  باہر نکال کر   بولیں  آ جاؤ  ان کو جی بھر کو چوسو ۔۔۔ اور اب میرے سامنے میڈم کی ننگی چھاتیں تھیں ۔۔ موٹی گوری اور دلکش  چھاتیا ں  کہ  جن کے تصور میں میں نے کل رات مُٹھ ماری تھی ۔۔۔ میرے سامنے بلکل ننگی   میڈم کے جسم پر جمی  ہوئیں تھیں  اور  ان  بھاری  چھاتیوں کے  دلکش نپل  مجھے  اپنے منہ میں لینے کو اکسا  رہے تھے میڈم کی جھاتیوں کو یوں ننگا دیکھ کر  میرے  ہونٹ خشک  ہو  رہے تھے  اور میرا نیچے سے میرا لن   پھر سے کھڑا ہونا شروع  ہو  گیا تھا ۔۔۔ اور میں  اپنے  ہونٹوں  پر زبان پھیرتا  ہوا  میڈم کی ننگی چھاتیوں کی طرف بڑھا ۔ ادھر میڈم مست ٹون میں بار بار مجھے ہلا شیری دیکتے ہو ۓ  کہہ رہی تھی  شرما  نہ   آ جا   میری جان  میری چھاتیوں    کو  اپنے ہونٹوں میں   لیکر  جی بھر کر چوسو  اور ان کو اپنے ہاتھوں  میں پکڑ کو خوب  دباؤ   ۔۔ اور  پھر  جیسے ہی میں نے آگے بڑھ کر  ان کی ایک چھاتی کو  پکڑ کر اپنے ہونٹوں میں  لینا  چاہا  بلکل فلمی سین ہو گیا  عین اسی وقت کسی نے باہر سے میڈم کا بڑی  زور سے  دروازہ  کھٹکھٹایا ۔ ۔ ۔ ۔۔ ایک  دم سے    مجھے  اور میڈم کو ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہمارے قدموں میں بمب پھوڑ دیا  ہو ۔اور ہم اچھل کر دور جا کھڑے  ہوۓ ۔۔۔ میڈم نے جلدی سے اپنی قمیض نیچے کی  اور دوسرے ہی لمحے وہ  حیرت انگیز طور پر پُر سکونآواز  میں بولی کون ۔ ۔ ۔  ؟ اور اس کے ساتھ ہی باہر سے آواز سنائ دی ۔۔۔۔۔ میں ۔ ۔ ۔ دروازہ کھولو ۔۔۔۔ باہر کی  آواز  سنتے  ہی  کم  از کم   مجھے تو  ایسا محسوس ہوا    کہ جیسے میرے   بدن کا   سارا  لہو  خشک  ہو گیا  ہو ۔۔ اور میں نے میڈم کی طرف دیکھا  تو  آواز سُن کر ان کا بھی  سارا   اعتماد   ہوا   ہو گیا  تھا   اور اب   ان کےچہرے    پر بھی  ہوائیاں اُڑی  ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ ابھی  وہ  کچھ بولنے    ہی  والی  تھیں کہ باہر   سے   ایک دفعہ پھر زور دار    دستک  ہوئ  ۔۔۔۔   اور ۔۔۔۔۔۔