953

کبھی یوں بھی آ میرےروبرو      سمیریہ بشیر

کبھی یوں بھی آ میرےروبرو

                             سمیریہ بشیر

   یہ دسمبرکا ایک بھیگا سا دن تھا۔شفق آلودہ شام کے نیلےافق پرسرمِئی بادل پوری شان سے چھا رہے تھے۔دور کہیں آسمانوں میں ڈھلتا ہوا سورج گھر لوٹنے کی تیاریوں میں تھا۔

شاہ ولا میں آج بہت رونق تھی۔ شادی کےہنگامے اورخریداری زوروں پر تھی۔لڑکیاں شاپنگ کے لیے بازار کے چکر لگا رہی تھی۔شادی میں بس چار دن باقی

تھے۔جنت بی بی آج بہت خوش تھیں کیوں کہ ان کے پوتے نے بہت سال بعد شادی کے لیے حامی بھری تھی۔خوشی ان کے چہرے پہ صاف نظر آرہی تھی۔بہت ضیعف ہونے کے باوجود بھی وہ شادی کی تیاریوں میں بھاگ دوڑ کر رہی تھیں۔

مسفرا بیٹا۔۔۔۔مسفرا جو ایک بارپھر بازار کا چکر لگانے جارہی تھی دادی کی آواز پہ رک گئی۔۔۔۔

جی دادی۔۔۔۔مسفرا دادی کے پاس چلی آئی۔

مسفرا بیٹاکہاں جارہی ہو؟؟

دادی جی ٹیلر کے پاس جارہی ہوں کپڑے اٹھانے ہیں اور بازار سے کچھ سامان بھی لینا ھے۔۔

آپ کو کچھ کام تھا دادی جی؟

نہیں بیٹا بس ساحل کو کال کرنی تھی ابھی تک پہنچا کیوں نہیں

آپ پریشان نہ ہوں دادی میں ابھی آپ کی بات کرواتی ہوں مسفرا نے موبائل نکال کر ساحل کا نمبر ملایا۔۔

دوسری بیل پہ ہی کال رسیو کر لی گئی تھی۔۔

لیں بات کریں دادی جی۔۔۔مسفرا نے موبائل پکڑاتے ہوئے کہا۔

ساحل میری جان کہاں ہیں آپ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچے؟  جنت بی بی نے فکر مندی سے پوچھا

سوری دادی جان کچھ کام آگیا تھا۔۔۔بس ابھی نکل رہا ہوں رات سے پہلے پہنچ جاوْ گا آپ پریشان مت ہوں۔۔ ساحل نے پیار بھرے لہجے میں جواب دیا۔

جنت بی بی کے دو بیٹے تھے عمرحیدر اوراذان حیدر ۔عمرحیدر اورشافیہ بیگم پندرہ سال پہلے ایک حادثے میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ساحل حیدر ان کی اکلوتی اولاد تھا۔جس دن حادثہ ہوا وہ گھر پہ دادی کے پاس تھا۔اذان حیدر اور معراج بیگم کی دو بیٹیاں تھیں۔مسفرا اور زینب۔ان کا کوئی بھائی نہیں تھا۔وہ ساحل کو بھائی کہتی تھیں۔کاروبار کی وجہ سے اچانک اذان حیدر کو شاہ ولا چھوڑ کر فیملی کو لے کر لاہور شفٹ ہونا پڑا تھا۔آج بہت وقت کے بعد سب شاہ ولا میں اکٹھے ہوئے تھے۔

جنت بی بی اذان حیدر سے بہت دفعہ شاہ ولا واپس آنے کا کہہ چکی تھیں مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔ان کا سارا کاروبار لاہور میں تھا وہ سب چھوڑ کر شاہ ولا نہیں آسکتے تھے ان کی بھی کچھ مجبوریاں تھیں۔

                      ۔۔۔۔۔۔۔۔

فروا بیگم کو بیوگی کی چادر اوڑے دس سال بیت چکے تھے وہ اب تک بھی اس حادثے کو نہیں بھول پائی تھیں۔ان کی دو بیٹیاں امامہ اورمیزاب تھیں۔کہنے کو وہ دونوں سگی بہنیں تھیں مگر ان کے مزاج میں زمیں آسمان کا فرق تھا۔اک ضدی تھی جبکہ دوسری نرم مزاج۔ہادیہ بیگم کی اپنی ان بلبلوں میں جان بستی تھی یہ دو بیٹیاں ان کا قیمتی اثاثہ تھیں۔امامہ بی۔اے کے بعد پڑھائی کو خیرآباد کہہ چکی تھی میزاب امامہ سے پانچ سال چھوٹی تھی اس نے ابھی میٹرک کا رزلٹ آنے کے بعد کالج شروع کیا تھا۔

میزاب بیٹا....فروا بیگم نے کچن میں کام کرتی میزاب کوآواز دی

 جی امی۔۔۔میزاب سبزی کچن میں چھوڑے باہر چلی آئی

کیا کر رہی تھی بیٹا؟  کچھ نہیں امی بس سبزی بنا رہی تھی۔آپ کو کچھ کام ھے امی جی؟ میزاب نے پوچھا

تم ایساکرو سبزی مجھے دے دو اور یہ کپڑے امامہ کے پاس لے جاوْ اسے کہو چک کر لو اگر کچھ کمی ھے تو ابھی بتا دو شادی میں دن ہی کتنے رہ گئے ہیں میزاب کپڑے لیے امامہ کے کمرے میں چلی آئی۔۔امامہ کا اپنا علحدہ کمرا تھا جبکہ میزاب اپنی امی کے ساتھ ان کے کمرے میں سوتی تھی

آپی امی کہہ رہی ہیں کپڑے دیکھ لیں اگر کچھ ٹھیک کروانا ھے تو بتا دیں

امی سے کہہ دو سب ٹھیک ہیں امامہ نے کپڑے چک کرتے ہوِئے کہا۔

                          ۔۔۔۔۔۔

دادی۔۔دادی مسفرا بھاگتے ہوئے جنت بی بی کے کمرے میں آِئی۔

ارے کیا ہوا لڑکی کون لگ گیا تمھارے پیچھے۔

دادی جی ساحل بھائی کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔

جنت بی بی اس اچانک صدمے کو برداشت نہیں کر پائی تھیں وہ زمیں پہ بیٹھتے چلی گئی۔۔۔

شادی کا گھر جیسے ماتم کا گھر بن گیا تھا۔ساحل کو پتہ بھی نہ چلا تھا اس پے جان قربان کرنے والی دادی آج اسے ظالم دنیا میں تنہا چھوڑ گئی ھیں۔

شاہ ولا میں جیسے قیامت آگئی تھی۔مسفرا اور زینب رورو کے خود کو نڈھال کر چکی تھیں۔اذان حیدر کی انکھیں بھی باربار بھیگ رہی تھی ۔وہ چاہتے ہوئے بھی ساحل کو جنت بی بی کے آخری دیدار کے لیے نہیں لا سکتے تھے۔ساحل کی بائیں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے فوری تور پر آپریشن کرنا پڑا تھا۔

                           ۔۔۔۔۔

قسمت نے اس کے ساتھ یہ کیسا کھیل کھیلا تھا۔وہ اپنا دکھ کس سے شیئر کرتااس کی تو دنیا ہی لٹ گئی تھی۔اس کے ہوش میں آنے کے بعد جو خبر اسے اذان حیدر نے دی تھی وہ ساحل کے لیے ناقابل برداشت تھی۔وہ ایک میچور مرد ہوتے ہوئے بھی بچوں کی طرح رو پرا تھا۔کیسی بے قراری تھی وہ آخری وقت میں دادی کو نہ دیکھ سکا تھا۔اذان حیدر جانتے تھے کہ اس کا غم بہت بڑا ہے

میں جانتا ہوں ساحل بیٹا آپ پر کیا گزر رہی ہے صبر رکھو بیٹا۔اذان حیدر کی بھی آنکھیں بھیگ گئی تھی اسے روتے دیکھ کر۔

…..

فرواجی آپ جانتی ہیں ساحل کی ٹانگ ٹوٹ گِئی ہے اور ڈاکٹر نے چارماہ کی بیڈ ریسٹ بتاِئی ہے۔کیا اب بھی آپ ساحل اور امامہ کی شادی کے لیے راضی ہیں مسفرا کی ماں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ نسیم بیگم۔ساحل مجھے بھی بہت پیارا ہے اور حادثہ تو کبھی بھی کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے

مجھے اب بھی اس رشتے سے کوئی انکار نہیں ہے۔

شکریہ فروا جی آپ نے ہمارے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا

اب آپ مجھے شرمندہ کر رہی ہیں نسیم بیگم۔

۔۔۔۔

میزاب ۔۔امامہ کو لے کر میرے کمرے میں آوْ فروابیگم میزاب سے کہتیں اپنے مرے میں چلی آیئں۔

جی امی آپ نے بلایا۔ دونوں کچھ دیربعد کمرے میں داخل ہویئں

ادھرآو میرے پاس بیٹھو۔میزاب آپ بھی آجاوْ

کیا بات ہے امی آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں امامہ نے پوچھا۔

ساحل کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے چار ماہ لگ جایئں گیں اسے ریکور ہونے میں۔وہ لوگ چاھتے ہیں کہ ہم سادگی سے نکاح کی رسم کر لیں

مجھے ایک لنگڑے سے شادی نہیں کرنی امی امامہ نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔

خدا کا خوف کرو امامہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو فروابیگم کو اس کی بات سن کر دلی افسوس ہوا تھا

میں جو بھی کہہ رہی ہوں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں امامہ غصے سے کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تھی

۔۔۔۔۔

فروابیگم عشاء کی نماز ادا کر کے امامہ کے کمرے میں چلی آئی تھیں تاکہ اسے پیار سے سمجھا سکیں۔

امی میں نے کہہ دیا نا کہ مجھے شادی نہیں کرنی اب آپ کوئی لیکچر مت دینا مجھے فروابیگم کا دل

چاہاتھپڑوں سے اس کا چہرا لال کر دے جو اپنی ماں سے تمیز سے بات کرنا بھول گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

امی جی آپ کیوں رو رہی ہیں میزاب جو نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی فروابیگم کو روتا دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگی

یہ رونا تو بیٹا اب میری قسمت میں لکھا گیا ہے آپ پریشان نہ ہوں امی آپی مان جائیں گئں۔۔آپ بات کرنا ان سے میزاب نے چپ کرواتے ہوئے کہا

وہ نہیں مان رہی میں ابھی اس سے بات کر کے آرہی ہوں میں ان سب کو کیا جواب دوں گی اور کس منہ سے فروابیگم کی آواز بھراگئی تھی

امی جی آپ کی عزت مجھے اپنی جان سےبھی پیاری ہےمیں آپ کو ایسے ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتی آپ میرا نکاح کردیں مگر آپ رویئں مت میزاب نے پختہ لہجے میں بولتے ہوئےکہا

فروابیگم نے حیرانگی سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھاجو ماں کی خاطر اتنی بڑی قربانی دینے کو تیار تھی

تم ابھی بہت چوٹی ہو بیٹا میں یہ ظلم تم پر کیسے کر سکتی ہوں

آپ میری فکر مت کریں امی میں آپ کی بہادر بیٹی ہوں نہ میں سب سنبھال لوں گی فروابیگم نے اسے گلے لگا لیا تھا وہ بھی ماں سے لپٹ کر رو دی تھی۔

۔۔۔۔۔

آج اس کا نکاح ہوا تھا وہ میزاب حسن سے میزاب ساحل حیدر بن گئی تھی وہ جانتی تھی کہ زندگی بہت کٹھن ہونے والی ہے پر وہ خود کو اس کے لیے تیار کر چکی تھی

نکاح جیسے پاک بندھن میں وہ جس شخص کے ساتھ بندھ چکی تھی اس نے ابھی تک اس کا چہرا بھی نہیں دیکھا تھا۔

نکاح کے بعد اسے ساحل کے کمرے میں لایا گیا تھا یہ کمرا بلکل اس کے خواب کے جیسا تھا ۔۔کمرے کو نفاست سے سجایا کیا تھا کمرے کے درمیان میں ایک ڈبل بیڈ رکھا گیا تھا جس کے عین اوپر فریم میں ساحل کی تصویر لگی ہوئی تھی بلیک اینڈ وائیٹ سوٹ میں کندھے پر بڑی سی شال لیے وہ مسکرا رہا تھا وہ یونانی دیوتاوْں سا حسن رکھتا تھا میزاب تصویر دیکھتے جیسے کھو سی گئی تھی

آپی آپ یہاں آرام کریں میں آپ کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں زینب نے اسے بیڈ پہ بٹھاتے ہوئے کہا۔

مجھے بھوک نہیں ہے پلیز آپ کھانا مت لائیں

ٹھیک ہے آپی آپ آرام کریں میں لائیٹ آف کر دیتی ہوں زینب لائیٹ بند کر کے چلی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔

زینب بیٹا میری بات سنو۔۔نسیم بیگم نے سامان پیک کرتی زینب کو آواز دی

جی ماما۔۔۔زینب سامان چھوڑ کر چلی آئی

بیٹا میں اور تمھارے پاپا چاہتے ہیں کہ تم کچھ دن یہی میزاب کے پاس رک جاوْ

ٹھیک ہے ماما جیسے آپ کی مرضی

نسیم بیگم نے گھر کی تیاری پکڑلی تھی جبکہ اذان شاہ ساحل کے ڈسچارج تک شاہ ولا رک گئے تھے

۔۔۔۔۔۔۔

میزاب اٹھ جاہیں پاپا آپ کو بلا رہے ہیں میزاب نےآنکھیں کھولی تو اسے یاد کرنے می٘ دقعت ہوئی کہ وہ کہاں ہے زینب کو اپنے سر پے کھڑا دیکھ کر جیسے اس کی سمجھ میں سب کچھ آگیا تھا وہ جلدی سے اْٹھ بیٹھی

میزاب آپی آپ تیار ہو جائیں آج آپ نے پاپا کے ساتھ ہاسپٹل جانا ہے

اپ تیار ہوجائیں آپی تب تک میں آپ کے لیے ناشتہ لگاتی ہوں

وہ ساری رات جاگتی رہی تھی وہ ہمیشہ سے اپنی امی کے ساتھ سوتی تھی اس لیے شاید اسے نیند نہیں ائی تھی فجر کی آذان آئی تو وہ نماز پڑھ کر لیٹ گئی پھر ناجانے کب نیند کی پری اس پہ مہربان ہوئی تھی اب زینب کے اٹھانے پے آنکھ کھولی تو دس بج رہے تھے وہ شرمندہ ہوتی واش روم میں چلی آئی تھی

ہاتھ منہ دھو کر اس نے برقعہ پہنا سردی بہت ہو رہی تھی اس لیے وہ بڑی سی شال لیے باہر چلی آئی جہاں زینب ناشتہ لگائے اس کے انتظار میں تھی

                     ۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی ہاسپٹل کی طرف رواں دواں تھی سارا راستہ خاموشی سے کٹ رہا تھا وہ آج پہلی بار اپنے مجازی خدا سے روبرو ہونے جا رہی تھی

وہ ہاسپٹل پہنچ گئے تھے اذان حیدر نے گاڑی پارک کی اور اسے لیے ساحل کے روم کی طرف چلے آئے

ساحل آنکھوں پے ہاتھے رکھے لیٹا ہوا تھا

ساحل بیٹا کیسے ہو ؟ اذان شاہ نے پیار سے اس کے سر پے ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

پہلے سے بہتر ہوں تایا جان وہ اٹھ کر بیٹھنے لگا تو انہوں نے آگے بڑھ کر اسے بیٹھنے میں مدد دی

ساحل کو ابھی تک احساس نہیں ہوا تھا کہ کمرے میں ان کے علاوہ کوئی اور بھی ہے

وہ آنکھیں نیچی کیے زمین کو تکے جا رہی تھی اذان شاہ کی آواز پے چونگ گئی

میزاب بیٹا ادھر آوْ۔۔۔

ساحل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جہاں اسے بڑی سی چادر میں ایک وجود لپٹا نظر آیا

میزاب خاموشی سے ان کے پاس آکر بیٹھ گئی وہ اب بھی زمین پر نظریں ٹکائے بیٹھی تھی

بیٹا مجھے ذرا ڈاکٹر سے ساحل کے ڈسچارج کی بات کرنی ہے آپ یہی بیٹھیں مں ڈاکٹر سے بات کر کے آتا ہوں

                            ۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے تھے

آپ کی طبعیت کیسی ہے اب ؟ میزاب نے آخر ڈرتے ڈرتے کمرے کی خاموشی کو توڑا

مجھے امید ہے کہ آپ کے کان سلامت ہیں ۔۔۔ابھی تایاجان نے بھی یہ ہی پوچھا تھا ۔۔ساحل نے اس کی طرف نہ دیکھتے ہوئے جواب دیا

میزاب چپ ہو کر رہی گئی آنکھوں سے آنسوچھلکنے لگے تھے وہ بے چینی سے تایاجان کا انتظار کرنے لگی اذان حیدرکو آتے دیکھ میزاب نے اطمنان کا سانس لیا

کیا کہا ڈاکٹر نے تایا جان ؟ میں اب گھر جا سکتا ہوں ساحل نے بے چینی سے پوچھا

ساحل بیٹا ڈاکڑ نے ابھی اگلے ہفتے ڈسچارج کا کہا ہے

میں تھک گیا ہوں یہاں لیٹ لیٹ کر پلیز تایا جان مجھے اب گھر جانا ہے ساحل نے ضدی بچے کی طرح کہا

ساحل بیٹا بس کچھ دن کی ہی بات ہے اور پھر میں ہوں نہ تمھارے پاس۔۔

ساحل کو صبر کرنا پڑا کیوں کہ اس کے بنا کوئی چارا نہ تھا

اپنا خیال رکھنا ساحل بیٹا میں میزاب کو گھر چھوڑ کر واپسی پے چکر لگاتا ہوں

۔۔۔۔۔۔۔

دن خاموشی سے گزر رہے تھے وہ روز ہاسپٹل جاتی اور کچھ ٹائم بیٹھ کر خاموشی سے واپس آجاتی نہ  ساحل اسے مخاطب کرتا نہ میزاب میں ہمت رہی تھی اس سے بات کرنے کی

وہ روز رات دیر تک اس کی تصویر دیکھتی تھی گھنٹوں اس کی تصویر کو دیکھنا اب تو جیسے میزاب کی عادت بن گئی تھی

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ایسا کیون کرتی ہے مگر اسے بہت دیر تک ساحل کی تصویر کو دیکھتے رہنا اچھا لگتا تھا اب یہ اس کا روز کا معمول تھا

۔۔۔۔۔۔

آج ساحل ڈسچارج ہو کر گھر آرہا تھا میزاب نے زینب کے ساتھ مل کر گھر کی تفصیلی صفائی کی تھی وہ دونوں اب آپس میں گھل مل گئی تھی

ساحل بھائی آگئے ہیں زینب نے کچن میں آکر اسے اطلاع دی وہ زینب کے ساتھ لان میں چلی آئی جہاں اذان حیدر اسے وہیل چیئر پے بیٹھا کر اندر لارہے تھے۔

اذان شاہ کو آج ہی لاہور واپس جانا تھا ان کے کاروبار کا بہت حرج ہو رہا تھا

زینب اپنا سامان پیک کر رہی تھی کیوں کہ آج اسے بھی پاپا کے ساتھ جانا تھا میزاب بہت اداس تھی زینب اس کی اچھی دوست بن چکی تھی

اذان شاہ ساحل کو بیڈ پے لیٹا کر میزاب کے پاس چلے آئے تھے

میزاب بیٹا اب ہمیں نکلنا ہوگا ورنہ پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی

بیٹا اپنا اورساحل کا خیال رکھنامیں کچھ دن تک چکر لگاوْں گا

میزاب انہیں الودع کہہ کر ساحل کے پاس چلی آئی تھی

آج اسے ایک دفعہ بھر ہمت کر کے بولنا تھا

آپ کے لیے کھانا لے آوْں۔۔۔میزاب نے جیسے اجازت مانگی تھی

ملازمہ کہاں ہےاسے بیجھوں میرے پاس۔۔۔اس نے حکم جاری کیا

ملازمہ کو چھٹی دے دی۔ میزاب نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا

کیوں دی؟ساحل نے غصے سے پوچھا

ان کے بیٹے کی طبعیت خراب تھی اس لیے زینب آپی نے انہیں کچھ دن کی چھٹی دے دی تھی

وہ بنا جواب دیئے آنکھوں پہ ہاتھ رک کے لیٹ گیا

میزاب خاموشی سے باہر چلی آئی

میزاب نے ایک برتن میں ساحل کے لیے کھانا نکالااور کمرے میں چلی آئی ساحل ابھی بھی آنکھوں ہی ہاتھ رکھے لیٹا ہوا تھا

کھانا کھا لیں۔ میزاب نے آہستہ آواز میں کہا

مجھے نہیں کھانا لے جاوْ۔۔۔اور سونے دو مجھے۔ساحل نے بنا اس کی طرف دیکھے غصے سے جواب دیا

آپ پلیز تھوڑا سا کھا لیں ۔پھر میدیسن بھی لینی ہے

تم میری ڈاکٹر نہ بنو۔سکون سے سونے دو مجھے

وہ برتن لیے کچن میں چلی آئی تھی۔

                         ۔۔۔۔۔۔

آج شام کچھ مہمان آرہے ہیں تم تیار رہنا۔فروابیگم نے امامہ کو بولا کر اطلاع دی تھی

میں نے تیار ہو کر کیا کرنا ہے امی؟امامہ نے لاپرواہی سے کہا

تمھیں دیکھنے آرہے ہیں۔مجھے وہ لوگ اچھے لگے اس لیے بولا لیا فروا بیگم نے جیسے اس کے سر پہ بم پھوڑا تھا

 آپ میرا رشتہ دیکھ آئی امی اور مجھ سے ذکر تک نہیں کیا آپ نے۔امامہ نے بے یقینی سے پوچھا

تم نے جو کرنا تھا تم کر چکی میں اب تمھاری کوئی بات نہیں سنوں گی۔ فروا بیگم حکم صادرکرتے ہوئے باہر چلی آئی تھیں۔

فروابیگم سارا دن تیاریوں میں لگی رہی تھی ان نے امامہ کو کام کرنے سے منہ کردیا تھا تاکہ وہ مہمانوں کے سامیے فریش حلیے میں آئے

امامہ بے دلی سے تیار ہو رہی تھی جب فروا بیگم نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی

امامہ کو وہ لوگ بہت سوبر اور رکھ رکھاوْ والے لگے

فروا جی ہمیں آپ کی بیٹی پسند ہےاب یہ آپ کے پاس ہماری امانت ہے روحیلہ بیگم جو کڑک کی ماں تھی نے امامہ کو انگوٹھی پہناتے ہوئے کہا

امامہ ان کی اتنی جلدی پے حیران رہ گئی

۔۔۔۔۔۔

ہر طرف سناٹوں کا راج تھا ساحل کے ہوتے ہوئے بھی اس کو بہت اکیلا پن محسوس ہوتا۔میزاب نے کھانا نکالا اور کمرے میں آگئی ساحل سو رہا تھا

خندہ پیشانی پہ بےجا بال بکھرے ہوئے تھے میزاب وہی کھڑی اسے سوتا دیکھتی رہی میزاب کا دل چاہا کہ اسے سوتا رہنے دے مگر میڈ یسن بھی ضروری تھی

کھانا کھالیں میزاب نے آہستہ سے ساحل کی پیشانی پے ہاتھ رکھا اس نے آنکھیں کھولی تومیزاب نے جلدی سے ہا تھ اٹھا لیا

کھانا کھا لیں میزاب نے کھانا سائیڈ ٹیبل پہ رکھتے ہوئے کہا

ساحل نے بیٹھنے کی کوشش کی تو میزاب نے آگے بڑھ کے اسے بیٹھنے میں مدد دی

ساحل خاموشی سے کھانا کھاتا رہا اتنے وقت میں اس نے ایک دفعہ بھی نظر اْٹھا کر میزاب کو نہیں دیکھا تھا

ساحل نے کھانا ختم کیا تو وہ چائے بنا کر لے آئی میڈیسن کھلا کے میزاب نے چائے دی اور کچن میں چلی آئی

وہ عشاء کی نماز ادا کر کے کمرے میں آئی تو ساحل ابھی بھی بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

میزاب آکر سکون سے صوفے پہ بیٹھ گئی  کچھ پل گزرے تھے کہ ساحل کی کراہ نکلی تھی۔میزاب بھاگ کے اس کے پاس آئی۔کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہیں میزاب نے پریشانی سے پوچھا

ساحل حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس کی ذرا سی تکلیف پہ تڑپ اٹھی تھی

میں ٹھیک ہوں بس ذرا سی درد اْٹھی تھی۔آپ سو جائیں میں یہی آپ کے پاس ہوں

ساحل نے غور سے اس کی طرف دیکھا جس نے نماز کے سٹائل میں ڈوپٹہ لیا ہوا تھا اس کی اداس آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا

نہیں میں اب ٹھیک ہوں تم سو جاوْ۔ ساحل نے کہا اور آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیے

وہ کچھ دیر وہی کھڑی رہی پھر صوفے پر آکر لیٹ گئی

وہ شادی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی پہ بوجھ بنے مگر اذان شاہ کی ضد کے آگے اسے ہارنا پڑا تھا مگر جب نکاح خواں نے امامہ کی جگہ میزاب کا نام لیا تو وہ چونک گیا تھا مگر پھر تایا جان کے کہنے پہ اس نے خاموشی سے قبول کر لیا تھا

دیکھا تو اس نے امامہ کو بھی نہیں تھا کیوں کہ اس نے یہ ساری ذمہ داری دادی کو دے دی تھی

وہ سونا چاہتا تھا مگر میزاب کی اداس آنسو سے بھری آنکھیں اسے ڈسٹرب کر رہی تھیں۔اسے یاد آیا ہسپتال میں اس نے میزاب سے غصے سے بات کی تھی۔۔میزاب کا ان سب میں کیا قصور تھا۔ساحل نے خود کو گھرکا

میزاب بھی سونے کے لیے لیٹ گئی تھی نجانے کب نیند کی پری اس پہ مہربان ہو گئی تھی

                     ۔۔۔۔۔۔

امامہ کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی آج امامہ کی مہندی تھی وہ ساحل کو گھر اکیلا چھوڑ کر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔مگر اب اذان شاہ کے آجانے پر وہ تیار ہو رہی تھی

میزاب بیٹا آپ آج رات وہی رک جانا میں یہی ساحل کے پاس ہوں۔۔ ٹھیک ہے تایا جی ۔۔وہ خاموشی سے مان گئی تھی۔

وہ گھر آئی تو سب ہلےگلے میں مصروف تھے پر اس کا دھیان ابھی بھی ساحل میں اٹکا ہوا تھا۔۔وہ ساری رات بے سکون رہی تھی

امامہ رخصت ہو کر جاچکی ھی۔۔میزاب کو اکیلا بیٹھا دیکھ کر فروابیگم اس کے پاس چلی آئیں

تم ٹھیک ہو بیٹا؟ فروابیگم نے اسے اداس سا دیکھ کر پوچھا

جی امی۔۔میزاب نے مختصر جواب دیا

تم خوش تو ہو نا میزاب؟

جی امی میں خوش ہوں آپ پریشان مت ہوا کریں

میزاب اذان انکل آئے ہیں باہر تمھیں لینے۔۔ میزاب کی کزن نے آکر اسے انفام کیا

وہ امی کو الودع کہہ کر باہر چلی آئی جہاں تایا جان اس کا انتظار کر رہے تھے

                      ۔۔۔۔۔۔

ساحل کو جب سے پتہ چلا تھا کہ تایا جان میزاب کو لینے گئے ہیں وہ ہر سانس کے ساتھ شدت سےاس کا انتظار کر رہا تھا وہ اپنی فیلنگز کو سمجھ نہیں پا رہا تھا وہ کل ساری رات سو بھی نہیں پایا تھا

تایاجان اسے لان میں بیٹھا کر گئے تھے وہ تب سے مین ڈور پے نگاہیں ٹکائے بیٹھا تھا مگر انتظار تھا کہ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا ایک ایک پل صدی کی طرح گزر رہا تھا

آخر اس کا انتظار ختم ہو چکا تھا میزاب گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی

ساحل بیٹا اب میں چلتا ہوں اذان شاہ نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

اذان شاہ جا چکے تھے

میں آپ کو روم میں لے جاوْں سری ہو رہی ہے؟ میزاب نے پوچھا

ساحل کے کہنے پہ وہ اسے اندر لے آئی تھی

سہارا دے کر لیٹاتے ہوئے اس نے پہلی دفعہ ساحل کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔دونوں کی نظریں ملی تھیں مگر اگلے ہی پل میزاب نظریں جھکا گئی تھی

آپ کے لیے کھانا لاوْں میزاب نے پوچھا

ادھر آوْ ساحل نے تحکم بھرے لہجے مں کہا

وہ بیڈ کے ایک کنارے پہ ٹک کر بیٹھ گئی

سوری' آخر کچھ دیر خاموچ رہنے کے بعد ساحل نے ہم کلام ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا

سوری کس لیے میزاب نے حیرانگی سے پوچھا

اس دن ہسپتال میں اور پھر گھر آکر بھی میں نے تم پے غصہ کیا تھا ان سب کے لیے 'سوری'

لیکن میں تو آپ سے ناراض نہیں ہوئی تھی

تم رہ رہی تھی اس دن ساحل نے یاد دیلایا تو وہ اپنی چوری پکڑے جانے پہ شرمندہ ہوئی تھی

وہ تو میں آپ کو اتنی تکلیف میںں دیکھ کے روئی تھی میزاب نے معصومیت سے جواب دیا

اس نے بولا بھی تو کیا۔۔ساحل ایک پل لو جیسے حیران رہ گیا

میں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں کہہ کر وہ جلدی سے باہر چلی آئی تھی

                       ۔۔۔۔۔

دن جیسے پر لگا کر اْڑ گئے تھے آج ساحل کی پٹی کھل جانی تھی آج ساحل نے چار ماہ بعد اپنے قدموں پہ کھڑے ہونا تھا

ڈاکٹر اسکی پٹی کھول کر جا چکے تھے اور میزاب کو روز دس منٹ ساحل کو واک کروانے کی ہدایت کر کے گئے تھے

وہ ڈاکٹر کو دروازے پہ چھوڑ کر کمرے میں آئی تو ساحل اپنی کوشش سے کھڑا ہو چکا تھا۔ساحل کو اپنے قدموں پہ کھڑا دیکھ ۔میزاب بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی تھی ساحل کے دل کو کچھ ہوا تھا وہ ساکت رہ گیا تھا اگلے ہی پل ساحل نے بھی اپنے مضبوط بازوْں کا گھیرااس پہ تنگ کر دیا تھا

جب اسے احساس ہوا تو وہ آہستہ سے علحدہ ہوتی کچن میں بھاگ آئی تھی

اس کا دل عجب لے میں دھڑک رہا تھا۔پتہ نہیں ساحل میرے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے اس نے دل ہی دل میں خود کو کوسا اور کھانا تیار کرنے لگی

وہ ابھی تک ساکت کھڑا تھا جس سوال کا جواب وہ کئی دنوں سے تلاش کر رہا تھا آج اس کا جواب اسے مل چکا تھا

                         ۔۔۔۔۔۔

امامہ بیگ اٹھائے گھر میں داخل ہوئی تھی

امامہ بیٹا تم اکیلی آئی ہو عدنان نہیں آیا تمہارے ساتھ

فروابیگم کو اس پی گزری قیامت کی ابھی خبر نہیں ہوئی تھی

وہ اب کبھی نہیں آئیں گئے

یہ کیسی باتیں کر رہی ہو ؟کیا ہو ہے تم لڑھ کے آئی ہو۔ فروابیگم نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کیے تھے۔

ان کا ایکسڈینت ہو گیا ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے ان کی ریڈ کی ہڈی میں کچھ مسلہ ہو گیا ہے اب ان کے دوبارہ چلنے کے چانس بہت کم ہیں

آج جب اْسے تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے تم اسے چھوڑ کے آگئی ہو۔۔فروابیگم کو دلی افسوس ہوا

امی پلیز اب آپ کوئی لیکچر مت دینا مجھے اب وہاں اس گھر میں واپس نہیں جانا

وہ سامان اْٹھائے اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک میزاب آگئی۔۔اور میزاب کے پیچھے اپنے پاوْں پہ چلتا ساحل اندر داخل ہوا۔۔امامہ ایک پل کو حیران رہ گئی

اسے احساس ندامت ہوئی کہ جب میزاب اتنی ہمت دیکھا سکتی ہے تو وہ کیوں نہیں اس اگلے ہی پل وہ فیصلہ کر چکی تھی

امامہ آپی آپ کب آئیں ؟میزاب نے امامہ کے گلے لگتے ہوئے پوچھا

آئی نہیں بلکہ اب جا رہی ہوں

سوری امی میں نے آپ کو ہمیشہ پریشان کیا آپ کو بہت دکھ دیا میں آج اپنے گھر جا رہی ہوں آپ بس دعا کیجیئے گا میرے لیے۔۔امامہ نے ماں کے گلے لگتے ہوئے کہا

وہ جانتی تھی کہ سب اس کے گھر چھوڑ کے آنے پہ اس سے بہت خفا ہوں گے لیکن وہ خود کو اس مشکل وقت کے لیے تیار کر چکی تھی

ایک اچھی سوچ کے ساتھ امامہ نے باہر کی طرف قدم بڑھا دئیے تھے

                          ۔۔۔۔۔۔

کبھی خود بھی میرے پاس آ

میری بات سن میرا ساتھ دے

جو خلش ہے دل سے نکال کر

مجغے الجھنوں سے نجات دے

تجھے سوچنا میرا مشغلہ

تجھے دیکھنا میری آرزو

مجھے دن دے اپنے خیال کے

مجھے اپنے قرْب کی رات دے

میں اکیلی بٹھکوں کہاں کہاں

میری زندگی میرا ساتھ دے

میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے

ساحل نے واپسی پہ گاڑی ساحل سمندر پہ بنے ہوٹل پہ روک لی تھی

میزاب جیسے ہی گاڑی سے نکلی خوشگوار ہوا کے جھونکوں نے اس کا استقبال کیا تھا

سمندر کی لہریں جوش میں آکر کناروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں چاند کی چاندنی نے پورے سمندر پی عجیب سا طلسم قائم کر رکھا تھا

ساحل آڈر نوٹ کروا کے میزاب کی طرف متوجہ ہوا

میزاب۔۔۔ ساحل نے مدھم مگر گھمبر لہجے میں اسے مخاطب کیا

میں جانتا ہوں کہ میری وجہ سے تم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے لیکن اب اور نہیں۔۔۔میں اپنے سارے دکھوں کا ازالہ کروں گا کوشش کروں گا کہ تمہیں میری وجہ سے اب کوئی اور دکھ نا ملے

ساحل نے جیب سے انگوٹھی نکال کے اس کے ہا تھ میں پہنا دی تھی۔۔ساحل نے خاموشی سے اپنے لب اس کے ہا تھ پہ رکھ دئے تھے میزاب ساکت رہ گئی اسے لگا ابھی دل پسلیاں تورڑ کے باہر آجائے گا

میزاب میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی پڑھائی دوبارہ سے شروع کرو جو تمہیں میری وجہ سے چھوڑنی پڑی

وہ جانتی تھی کہ واپسی کا یہ سفر خوشیاں تھامے ان کا انتظار کر رہا ہے میزاب سب سوچتے ہوئے مسکرا دی تھی

اس کے چہرے پہ اطمنان اور مسکراہٹ دیکھ کر ساحل بھی مسکرا دیا تھا اس کا دل میزاب میں دھڑکتا تھا اسے یہ ادرک بہت پہلے ہی ہوچکا تھا اور وہ جانتا تھا کے میزاب بھی اس سے اتنا ہی پیار کرتی ہے جتنا وہ میزاب سے کرتا ہے ملن کا ستارہ آسمان میں کہیں جگمگا رہا تھا