206

عزت سے غیرت تک از سمیریہ بشیر

لفظ عزت اور غیرت۔۔۔بس زراسا نقطوں کا ہیر پھیر ہو تو یہ لفظ نسلیں اجاڑ دیتے ہیں۔۔۔

ہر روز سننے میں آتا ہے۔۔۔آج کسی باپ نے بیٹی کو۔۔۔شوہر نے بیوی کو۔۔۔بھای نے بہن کو۔۔۔غیرت کے نام پہ قتل کر دیا۔۔۔

ایسا کیوں ہے؟؟؟

آخر کیوں ہے ایسا کہ۔۔۔غیرت کے نام پہ ہمیشہ ایک لڑکی کو ہی سولی پہ چڑھایا جاتا رہے؟؟؟

کیا لڑکے ازل سے ابد تک معصوم اور عزت دار ہی رھیں گیں؟؟؟کیا ان کے حصے میں کبھی کوی گناہ نہیں لکھا جاے گا؟؟؟ یا پھر ایسا ہے کہ ان کا گناہ ثواب میں بدل جاتا ہے۔۔۔

عزت اور غیرت کے نام پہ کھیلا جانے والا کھیل شاید بس ایک لڑکی کے لیے ہے۔۔۔لڑکے کے لیے تو شاید سب معافی ہے۔۔۔

دکھ ہوتا ہے ان لوگوں پہ۔۔۔جو شاید یہ سوچتے ہیں کہ۔۔۔جان لینے سے عزت لوٹ آتی ہے۔۔۔

اگر اسلام اور سے قرآن کی رو سے بھی دیکھا جاءے تو کہاں لکھا ہے کہ غیرت کے نام پہ قتل کرنا جایزہے؟؟؟

ناجانے کتنی لڑکیوں کو موت کی نیند سُلادیا۔۔۔اس عزت اور غیرت کی جنگ نے۔۔۔

کیا انسانی جان کی بس اتنی ہی قیمت ہے؟؟؟

کبھی سوچا ہے کسی نے''کیوں بیٹیاں ماں باپ کی عزت روندھ کررات کے اندھرے میں روپوش ہوجاتی ہیں۔۔۔کیوں اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر کسی غیر پہ اندھا بھروسہ کرنے لگتی ہیں۔۔۔

نہیں شاید یہ سوچنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔کیونکہ شاید اس بات پہ غور کرنے سے ہم اس مسلے پہ قابو پا سکتے ہیں۔۔۔جو کہ ہم شاید کرنا نہیں چاہتے۔۔۔

اسلام نے لڑکی کو حق دیا ہے۔۔۔اپنی پسند سے اپنا ہمسفر چننے کا۔۔۔اور ماں باپ نے یہ حق ان سے چھین لیا ہے۔۔۔

اگر ماں باپ اس بات کو سمجھ جاہیں۔۔۔تو کبھی کسی لڑکی کو گھر سے بھاگنے کی ضرورت نہ پڑے۔۔۔کسی لڑکی کا غیرت کے نام پہ قتل نہ ہو۔۔۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ ماں باپ ان کا حق لُٹا کر ان سے بے خبر ہوجاہیں۔۔۔نہیں بلکہ وہ ان کے دوست بن جاہیں۔۔۔انہیں اچھے اور بُرے میں پہچان کروایں۔۔۔تاکہ انہیں کسی اور پہ اندھا بھروسہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔۔۔

پر کوی یہ بات سمجھنا نہیں چاہتا۔۔۔

لوگ ہر دفعہ درخت کی شاخیں تو کاٹ دیتے ہیں۔۔۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ۔۔۔شاخیں کاٹ دینے سے جڑ کو کبھی فرق نہیں پڑتا۔۔۔

جڑ تو وقت کے ساتھ ساتھ اور بھی مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔