87

با ل جبر یل علاّمہ اقبال قسط2

 

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

وہ ادب گہ محبت ، وہ نگہ کا تازیانہ

یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں

نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش آزرانہ

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت

یہ جہاں عجب جہاں ہے ، نہ قفس نہ آشیانہ

رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی

کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے مغانہ

مرے ہم صفیر اسے بھی اثر بہار سمجھے

انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا

صلہ شہید کیا ہے ، تب و تاب جاودانہ

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں

نہ گلہ ہے دوستوں کا ، نہ شکایت زمانہ

2

 

یا رب! یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنرمند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ

دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگ گیا ہے ندہی اہل خرد را

او کشت گل و لالہ بنجشد بہ خرے چند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مے گلگوں

مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر

تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

فردوس جو تیرا ہے ، کسی نے نہیں دیکھا

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مدت سے ہے آوارہ افلاک مرا فکر

کر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظر بند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی

خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی

گھر میرا نہ دلی ، نہ صفاہاں ، نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نے ابلہ مسجد ہوں ، نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیش

خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش

میں بندہ مومن ہوں ، نہیں دانہ اسپند

پر سوز و نظرباز و نکوبین و کم آزار

آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم

کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خند!

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال

کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند!

حصہ دوم

'ما از پے سنائی و عطار آمدیم'

ا علیٰ حضرت شہید امیرالمومنین نادر شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے لطف و کرم سے نومبر1933ء میں مصنف کو حکیم سنائی غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقدس کی زیارت نصیب ہوئی - یہ چند افکار پریشاں جن میں حکیم ہی کے ایک مشہور قصیدے کی پیروی کی گئی ہے ، اس روز سعید کی یادگار میں سپرد قلم کیے گئے-:

 

 

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازہ صحرا

خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں

یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہے

کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی

کہ وہ حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں ، غلامی میں

زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کی

تن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اولی!

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے

یہاں ساقی نہیں پیدا ، وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی ، نہ توراں میں رہے باقی

وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و کسری

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا!

حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی

یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم ہے

'گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا1 '!

لبالب شیشہ تہذیب حاضر ہے مے 'لا' سے

مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ 'الا'

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے

بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

غلامی کیا ہے ؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی

جسے زیبا کہیں آزاد بندے ، ہے وہی زیبا

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے

زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہو گئے پانی

مری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختی خارا

رہے ہیں ، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک

مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید بیضا

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے

جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا

محبت خویشتن بینی ، محبت خویشتن داری

محبت آستان قیصر و کسری سے بے پروا

عجب کیا رمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں

'کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سر خود را'2

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر

وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ

سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ

ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا

۔۔۔۔

 

یہ کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز

اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں آمیز

گو فقر بھی رکھتا ہے انداز ملوکانہ

نا پختہ ہے پرویزی بے سلطنت پرویز

اب حجرہ صوفی میں وہ فقر نہیں باقی

خون دل شیراں ہو جس فقر کی دستاویز

اے حلقہ درویشاں! وہ مرد خدا کیسا

ہو جس کے گریباں میں ہنگامہ رستا خیز

جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح روشن

جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ تیز!

کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا

اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا چنگیز

یوں داد سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و پارس

یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خوں ریز


.....

 

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی

خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں

عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر

وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں

ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق

نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے 'کن فیکوں'

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن

اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں

..

 

عالم آب و خاک و باد! سر عیاں ہے تو کہ میں

وہ جو نظر سے ہے نہاں ، اس کا جہاں ہے تو کہ میں

وہ شب درد و سوز و غم ، کہتے ہیں زندگی جسے

اس کی سحر ہے تو کہ میں ، اس کی اذاں ہے تو کہ میں

کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرم سیر

شانہ روزگار پر بار گراں ہے تو کہ میں

تو کف خاک و بے بصر ، میں کف خاک و خود نگر

کشت وجود کے لیے آب رواں ہے تو کہ میں

لندن میں لکھے گئے

 

تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے گزر

مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر

جس کا عمل ہے بے غرض ، اس کی جزا کچھ اور ہے

حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر

گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی بہار

طائرک بلند بال ، دانہ و دام سے گزر

کوہ شگاف تیری ضرب ، تجھ سے کشاد شرق و غرب

تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور

ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے گزر!

امین راز ہے مردان حر کی درویشی

کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے

فقیہ و صوفی و شاعر کی نا خوش اندیشی

نگاہ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ جائیں

نہ آہ سرد کہ ہے گوسفندی و میشی

طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو فرمایا

ترا مرض ہے فقط آرزو کی بے نیشی

وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جان پاک جسے

یہ رنگ و نم ، یہ لہو ، آب و ناں کی ہے بیشی

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن

پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار

اودے اودے ، نیلے نیلے ، پیلے پیلے پیرہن

برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح

اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن

حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لیے

ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن

من کی دنیا ! من کی دنیا سوز و مستی ، جذب و شوق

تن کی دنیا! تن کی دنیا سود و سودا ، مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے ، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج

من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے ، نہ من تیرا نہ تن

 

کابل میں لکھے گئے

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندان مکتب سے

سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا