657

با ل جبر یل علاّمہ اقبال

 

با ل جبر یل

 

علاّمہ اقبال

فہرست

حصہ اول   4

غزلیں   4

حصہ دوم  21

'ما از پے سنائی و عطار آمدیم' 21

غزلیں   23

قطعات    74

منظوما ت    88

دعا 88

مسجد قرطبہ  89

قید خانے میں معتمد کی فریاد  93

عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت  سرزمین اندلس میں   94

ہسپانیہ  95

طارق کی دعا 96

لینن   97

فرشتوں کا گیت    99

فرمان خدا 99

ذوق و شوق   100

پروانہ اور جگنو  102

جاوید کے نام  102

گدائی   103

ملا اور بہشت    104

دین وسیاست    104

الارض للہ   105

ایک نوجوان کے نام  105

نصیحت    106

لالۂ صحرا 106

ساقی نامہ  107

زمانہ  113

فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں   114

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے    115

پیرو مرید  116

جبریل وابلیس    125

اذان   127

محبت    128

ستارے کا پیغام  128

جاوید کے نام  129

فلسفہ و مذہب    129

یورپ سے ایک خط   130

نپولین کے مزار پر   131

مسولینی   132

سوال   133

پنجاب کے دہقان سے    133

نادر شاہ افغان   134

خوشحال خاں کی وصیت    135

تاتاری کا خواب    136

حال و مقام  137

ابوالعلامعری   138

سنیما 139

پنجاب کے پیرزادوں سے    140

سیاست    141

فقر   141

خودی   142

جدائی   142

خانقاہ  143

ابلیس کی عرضداشت    143

لہو  144

پرواز   144

شیخ مکتب سے    145

فلسفی   145

شاہیں   146

باغی مرید  147

ہارون کی آخری نصیحت    147

ماہر نفسیات سے    148

یورپ    148

آزادی افکار   149

شیر اور خچر   149

چیونٹی اور عقاب    150

فطرت مری مانند نسیم سحری ہے    150

قطعہ: کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغاں نے    151

 

حصہ اول

٭ ٭ ٭ ٭

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں

میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش بند

میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود

گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو اک راز تھا سینۂ کائنات میں!

٭ ٭ ٭ ٭

اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے یا میرا؟

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی

خطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا میرا؟

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر

مجھے معلوم کیا ، وہ راز داں تیرا ہے یا میرا؟

محمد بھی ترا ، جبریل بھی ، قرآن بھی تیرا

مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا؟

اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن

زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟

 

٭ ٭ ٭ ٭

 

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

بتا ، کیا تو مرا ساقی نہیں ہے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

 

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر

عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی آبجو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو

میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر

 

اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد

نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مشت خاک ، یہ صرصر ، یہ وسعت افلاک

کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد!

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل

یہی ہے فصل بہاری ، یہی ہے باد مراد؟

قصور وار ، غریب الدیار ہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

وہ دشت سادہ ، وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو ساز گار نہیں

وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں

انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

٭

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک

اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

میری بساط کیا ہے ، تب و تاب یک نفس

شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا

پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو

یا رب ، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!

 

٭ ٭ ٭ ٭

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر

حریم کبریا سے آشنا کر

جسے نان جویں بخشی ہے تو نے

اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر

٭ ٭ 

 

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریں

مرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو

کھٹک سی ہے ، جو سینے میں ، غم منزل نہ بن جائے

بنایا عشق نے دریائے نا پیدا کراں مجھ کو

یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میری

وہی افسانہ دنبالۂ محمل نہ بن جائے

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

٭

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل کی

علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا

کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی

بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

٭ 

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

عشق کی تیغ جگر دار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات

ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

 

٭ 

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو

پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ہو

نہ مے ،نہ شعر ، نہ ساقی ، نہ شور چنگ و رباب

سکوت کوہ و لب جوۓ و لالہ خود رو!

گدائے مے کدہ کی شان بے نیازی دیکھ

پہنچ کے چشمہ حیواں پہ توڑتا ہے سبو!

مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں

کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدو

میں نو نیاز ہوں ، مجھ سے حجاب ہی اولی

کہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے قابو

اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کا

صفائے پاکی طینت سے ہے گہر کا وضو

جمیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس کے

نگاہ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو

٭

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی

حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت کو

میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری

کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی