155

مسکراہٹیں قسط2

 

کون کیا ہے؟

 

    "کون کیا ہے" (who Is Who) کے عنوان سے مشہور ہستیوں کے حالاتِ زندگی اکثر چھپتے ہیں،  جنہیں بیشتر لوگ زیادہ شوق سے نہیں پڑھتے اور اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کچھ تشنگی سی رہ جاتی ہے۔ شاید اس لئے کہ فقط اُن ہستیوں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہیں پبلک پہلے سے جانتی ہے،  یا اس لئے کہ ان ہستیوں کی فقط تعریفیں ہی تعریفیں کی جاتی ہیں۔

    زمانہ بدل چکا ہے۔ قدریں بھی بدل چکی ہیں۔ غالباً ان دنوں پڑھنے والے سوانح عمری کی سرخیاں ہی نہیں جاننا چاہتے۔ وہ کچھ اور باتیں بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ ان کی رائے میں غیر معروف ہستیاں بھی توجہ کی مستحق ہیں۔

    چنانچہ نئے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے "کون کیا ہے" کچھ یوں بھی مرتب کیا جا سکتا ہے:۔

 

    ذکی الحِس۔ نئی دہلوی

 

    اوائلِ جوانی میں (لگاتار سگریٹ اور چاء نوشی سے) کافی بیزار رہے پھر آہستہ آہستہ عادت پڑ گئی۔

    60ء میں ایک دن اچھے بھلے بیٹھے تھے۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ یکایک نقاد بن گئے۔ تب سے نقاد ہیں اور کافی ہاؤس یا چاء خانوں میں رہتے ہیں۔ کبھی کبھار حجامت کے سلسلے میں اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔

    ادبی رسائل کے شروع شروع کے پچیس تیس صفحات آپ کی تنقیدوں کے لئے مخصوص ہو چکے ہیں۔ (جنہیں ایم۔ اے اردو کے طلباء کو مجبوراً پڑھنا پڑتا ہے)۔

    67ء میں کسی نے کہا کہ اردو ادب پر ان کی تنقیدوں کے صفحات تلوائے جائیں اور پھر سارے ادب کا وزن کیا جائے تو تنقیدیں کہیں بھاری نکلیں گی۔ آپ اسے شاباش سمجھ کر بہت خوش ہوئے اور رفتار دُگنی کر دی۔

    یہ اردو نثر کی خوش قسمتی ہے کہ آپ اسے زیادہ نہیں چھیڑتے۔ آپ کا بیشتر وقت اردو شاعری کی خبر لینے میں گزرتا ہے۔

    ان دنوں پی ایچ ڈٰی کے لئے مقالہ لکھ رہے ہیں جس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ غالب کی شاعری پر رنگین کا اثر غالب ہے۔ رنگین نے بیشتر موضوع مصحفی سے اخذ کئے۔ مصحفی کی شاعری کا ماخذ میر کا تخیل ہے جنہوں نے بہت کچھ سراج دکنی سے لیا۔ سراج دکنی نے ولی دکنی سے اور ولی دکنی نے سب کچھ دکن سے چُرایا۔ (چونکہ مقالہ رسائل کے لئے نہیں،  یونیورسٹی کے لئے ہے، اس لئے آپ نے شعراء کو اتنا بُرا بھلا نہیں کہا جتنا کہ اکثر کہا کرتے ہیں)۔

    اگر چاء اور سگرٹوں میں غذائیت ہوتی تو آپ کبھی کے پہلوان بن چکے ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی صحت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہے۔

    دراصل آپ کے رویے (اور تنقید) کا دارومدار سگرٹوں اور چاء کی پیالیوں کی تعداد پر ہے۔ روزانہ پچاس سگرٹوں اور پچیس پیالیوں تک تو آپ شاعری کے گناہ معاف کر سکتے ہیں،  لیکن اس کے بعد آزاد شاعری تک کو نہیں بخشتے۔

    68ء میں آپ کو یونہی وہم سا ہو گیا تھا کہ آپ عوام میں مقبول نہیں ہیں۔۔۔ لیکن چھان بین کرنے کے بعد 69ء میں معلوم ہوا کہ وہم بے بنیاد تھا۔ فقط وہ جو انہیں اچھی طرح نہیں جانتے انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ لیکن جو جانتے ہیں وہ باقاعدہ ناپسند کرتے ہیں۔

    اپنے آپ کو (پتہ نہیں کیوں) مظلوم اور ستایا ہوا سمجھتے ہیں اور اکثر زندگی کی محرومیوں کی داستان(کافی ہاؤس میں) سنایا کرتے ہیں۔۔۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے :۔ پہلے ان کے خواب تمام ہوئے۔ پھر دانت تمام ہوئے۔ پھر دوست تمام ہوئے (کم از کم آپ کا یہی خیال تھا کہ وہ دوست تھے)۔ اکثر کہا کرتے ہیں کہ آپ کو بنی نوعِ انسان سے قطعاً نفرت نہیں۔۔ فقط انسان اچھے نہیں لگتے۔

    کھیل کُود کو انٹلکچوئل پنے کا دشمن سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ لمبے لمبے سانس لینے سے بھی نفرت ہے۔

    69ء میں وزن کرتے وقت مشین سے کارڈ نکلا جس پر وزن پونے اُنتالیس سیر کے علاوہ یہ لکھا تھا۔۔ " ابھی کچھ امید باقی ہے۔ غیر صحت مند حرکتیں چھوڑ کر ورزش کیجئے۔ صحیح غذا اور اچھی صحبت کی عادت ڈالئے اور قدرت کو موقع دیجئے کہ آپ کی مدد کر سکے۔"

    آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا۔ حالانکہ اگر کسی مشین نے کبھی سچ بولا ہے تو اُس وزن کی مشین نے 69ء میں بولا تھا۔

 

 

صحیح رقم خوش نویس

 

    پہلے کچھ اور کیا کرتے تھے۔ ایک دن جھنجھلا کر کاتب بن گئے۔

    آپ کی لکھی ہوئی تحریر پر پروئے ہوئے موتیوں کا گماں گزرتا ہے۔

    زبان کے پکے ہیں۔ جب وعدہ کرتے ہیں تو اُسی سال کام مکمل کر کے رہتے ہیں۔

    لکھتے وقت موقعے (اور اپنے موڈ کے مطابق) عبارت میں ترمیم کرتے جاتے ہیں۔ عالمِ دلسوزی کو عالمِ ڈلہوزی،  بِچھڑا عاشق کو بَچھڑا عاشق،  سہروردی کو سردردی، سماجی بہبودی کو سماجی بیہودگی،  وادیء نیل کو وادیء بیل بنا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔

    کسی غلام حسن کے نواسے نے اپنے آپ کو نبیرہء غلام حسن لکھا جو آپ کو نامانوس سا معلوم ہُوا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سوچ کر اسے بٹیرہء غلام حسن تحریر فرمایا۔

    ایک رومانی افسانے میں حُور شمائل نازنین کو چور شمائل نازنین لکھ کر کہانی کو چار چاند لگا دیئے۔ اسی طرح قہقہے کو قمقمے،  موٹے موٹے انجیروں کو موٹے موٹے انجینیئروں، اپنا حصّہ کو اپنا حقّہ،  پھُلواری کو پٹواری بنا دیتے ہیں۔

    پروازِ تخیل کی انتہا ہے کہ جہاں شبلی عفی عنہ لکھنا چاہئیے تھا وہاں لکھا۔ ستلی کئی عدد۔

    اس وقت ملک میں آپ سے بہتر کاتب ملنا محال ہے۔

 

 

 

استفسارات و جوابات

 

 

سوال:

میں لٹریچر کی طالبہ ہوں۔ عمر تقریباً انیس سال ہے اور مجھے تھامس ہارڈی، ترگنیف اور کیپلینگ کی مسحور کن اور دلکش تحریروں سے اس قدر الفت ہے کہ بیان نہیں کر سکتی۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کہیں یہ حضرات شادی شدہ تو نہیں؟

 

جواب:

یہ حضرات شادی شدہ ہی نہیں بلکہ ان کا انتقال بھی ہو چکا ہے۔

 

سوال:

میرا خیال ہے کہ قدرت ایسی اشیائے مدرکہ سے مل کر بنی ہے جو ایک دوسرے کے کُل اور جزو کی حیثیت سے شامل ہیں جہاں اضدادی اسلوبِ تفکر تمام اشیائے مدرکہ کو سمجھنے کے لئے کیا گیا ہے وہاں فلسفیانہ دقیقہ رسی، توازنِ اتصال اور اضدادی مادیت کو قوتیاتی رتبہ حاصل ہے۔ کائنات کی حیاتِ مادی ہی مقدم ہے۔ اس کی حیاتِ روحانی ثانوی اور استخراجی ہے۔ اعصابی کیفیتیں اور نا آسودہ جبلتیں در اصل خارجی چیزوں اور ان کے ارتقا کا عکس نہیں ہیں بلکہ خارجی چیزیں ہیں اور ان کا ارتقا حقیقت کی شکل میں او تصور کا محض عکس ہیں جو وجودِ کائنات سے قبل تھا۔ مفکروں کے نزدیک کائنات اور جملہ نظامات ابدی اور استقراری ہیں اور خیالِ نفسِ ناطقہ پر عالمِ بالا لے ترشحات کا نتیجہ ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات کا ارتقا تجویز اور تردید کے تصادم سے عبارت ہو گا تو پھر تدریجی وقفے کے بعد نقطۂ تغیر کب ظہور پذیر ہو گا؟ وہ کون سی تردید ہو گی جو تجویز سے متصادم ہو کر نئی ترکیب کو وجود میں لائے گی؟

 

جواب:

اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

 

سوال:

مجھے تین کہاوتیں بہت پسند ہیں:

زر، زمین، زن فساد کی جڑ ہیں

اصل دوست وہ ہے جو ضرورت کے وقت کام آئے۔

دوسروں سے وہی سلوک کرو جس کی توقع تمہیں ان سے ہو سکتی ہو۔

 

یہی سوچتا رہتا ہوں کہ اگر سب لوگ ان پر عمل کرنے لگیں تو دنیا کتنی بہتر جگہ بن سکتی ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

 

جواب:

غالباً آپ نہیں جانتے کہ بدلی ہوئی قدروں کے ساتھ پرانی کہاوتیں بھی بدل چکی ہیں، فی زمانہ انہیں یوں پڑھنا چاہیئے۔

 

زر، زمین، زن کی کمی ہی فساد کی جڑ ہیں۔

اصلی دوست وہ ہے جسے کوئی ضرورت نہ ہو

دوسرے کے ساتھ فوراً وہی سلوک کرو، بیشتر اس کے کہ وہ تم سے وہی سلوک کر سکیں

 

سوال:

مجھے جس لڑکی سے محبت ہے وہ حسین ہونے کے علاوہ انٹیلیکچول بھی ہے۔ میں "ڈاکٹر " ہوں اس لیے علم و ادب میں دلچسپی رکھنے کی قطعاً فرصت نہیں۔ ابھی تک پیغام نہیں بھجوایا کیوں کہ میرے خیال میں وہ ولی دکنی، ہربٹ سپینسر، ابو نواس اور بھرتری ہری کے جانب مائل ہے، جب کبھی اس سے ملتا ہوں، یہی نام سننے میں آتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟ آپ کے مشورے کا منتظر ہوں۔

 

جواب:

ہمارے خیال آپ کو فوراً پیغام بھیجنا چاہئے، اتنے حضرات کے موجودگی میں ذرا سی دیر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

 

سوال:

ان اشعار کا کیا مطلب ہے؟

 

لیا جس نے مجھ سے عداوت کا پنجا

"سنلقی علیہم عذاباً ثقیلاً

نکل اس کی زلفوں کے کوچے سے اے دل

تو پڑھنا " قم الیلِ الا قلیلاً

 

جواب:

ان کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کو عربی بھی آتی ہے

 

سوال:

میں ہائی سکول میں پڑھتا ہوں لیکن کورس کی کتابوں کے علاوہ لائبریری کے رسالوں اور کتب کے مطالعے کا بھی شوق ہے۔ آپ سے پوچھنا ہے کہ ایک طرف تو خودی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ادھر ایک بڑے مشہور شاعر نے "اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے" کی خواہش ظاہر کی ہے، بھلا کس پر عمل کیا جائے؟

 

جواب:

ہم نے آپ کے سوال کے سلسلے میں تین شاعروں، چار نقادوں اور پانچ پروفیسروں سے رابطہ قائم کیا، لیکن وہ اب تک خاموش ہیں۔ جوں ہی ہمیں کوئی تسلی بخش جواب ملا،  فوراً شایع کر دیں گے۔ مطمئن رہیں۔

 

 

 

بچے

 

    ایک صاحب جو غالباً شکاری تھے اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے کہ کس طرح وہ جنگل میں چھُپتے پھر رہے تھے اور ایک شیر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ بچے طرح طرح کے سوال پوچھ رہے تھے۔ شیر کا رنگ کیسا تھا؟ آپ کی شیر سے دشمنی تھی کیا؟ شیر دُبلا تھا یا موٹا؟ آپ نے شیر کی کمر پر لٹھ کیوں نہیں مارا؟ کیا آپ ڈرپوک تھے جو شیر سے ڈر رہے تھے؟۔۔۔۔  وہ تھوڑی سی بات کرتے اور سب بچے چلّا کر پوچھتے، پھر کیا ہوا؟ اور ساتھ ہی بے تُکے سوالات کی بوچھاڑ ہو جاتی۔ وہ بالکل تنگ آ چکے تھے۔ ایک مرتبہ بچوں نے پھر پوچھا کہ پھر کیا ہُوا؟

    " پھر کیا ہونا تھا۔" وہ اپنے بال نوچ کر بولے۔ " پھر شیر نے مجھے کھا لیا۔"

    اور بچوں نے تالیاں بجائیں۔ ہپ ہپ ہرے کیا۔ ایک ننھا اپنا ڈھول اٹھا لایا اور ساتھ ہی لکڑی کا نصف گھوڑا، جسے آری سے کاٹا گیا تھا۔ اس گھوڑے کا نام لوئی ساڑھے تین تھا۔ انہوں نے وجہ بتائی کہ پہلے انہوں نے اُسے کسی دوست کے ساتھ مل کر خریدا تھا۔ تب اس کا نام لوئی ہفتم تھا۔ دونوں‌دوستوں کی لڑائی ہوئی تو گھوڑے کو آری سے آدھا آدھا تقسیم کیا گیا۔ چنانچہ اس کا نام لوئی ساڑھے تین رکھ دیا گیا۔

   ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

 

    اُدھر بچوں نے ہمیں پریشان کر دیا۔ ایک پوچھتا تھا، بھائی جان چڑیا گھر کو چڑیا گھر کیوں کہتے ہیں؟ دوسرا یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ یہ چیتے اور شیر وغیرہ سرکس سے پہلے کیا کیا کرتے تھے؟ ایک کا غبارہ اُڑ گیا۔ وہ یہ دریافت فرما رہے تھے کہ کششِ ثقل  نے غبارے کو روکا کیوں نہیں؟ کششِ ثقل سے اُن کا اعتبار اُٹھ چلا تھا۔

    ایک بچے نے بتایا کہ اس نے ایک شخص دیکھا تھا جس کا نصف چہرہ بالکل سیاہ تھا۔

    "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" روفی نے پوچھا۔

    "اس کا بقیہ نصف چہرہ بھی سیاہ تھا۔"

    ایک بزرگ فرما رہے تھے۔ " جب میں چھوٹا سا تھا تو اس قدر نحیف تھا،  اتنا کمزور تھا کہ میرا وزن چار پونڈ تھا۔ مجھے دنیا کی بیماریوں نے گھیرے رکھا۔"

    "تو کیا آپ زندہ رہے تھے؟" ایک ننھے نے دریافت کیا۔

    ایک خاتون فرما رہی تھیں۔" اس وقت اپنے ملک میں ہم جاگ رہے ہیں، لیکن امریکہ کے بعض حصوں میں لوگ سو رہے ہوں گے۔"

    " سُست الوجود کہیں کے۔" ایک ننھے نے بات کاٹی۔

 

   ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

 

    دوسرے کمرے سے ایک بچے نے صدائے احتجاج بلند کی اور نعرہ لگایا۔ ہم بھاگ کر پہنچے تو دیکھا کہ دو بچے لڑ رہے ہیں۔

    بڑا چھوٹے کی خوب تواضع کر رہا تھا۔ مشکل سے دونوں کو علیحدہ کیا۔ دادی جان کے سامنے مقدمہ پیش ہوا۔ لڑائی کی تفصیل بیان کی جا رہی تھی۔ چھوٹا بچہ ڈینگیں مار رہا تھا کہ میں نے یہ کیا،  میں نے وہ کیا۔ وہ کہہ رہا تھا۔ " میں نے اس کو پکڑ کر اپنے اوپر گرا لیا اور اپنی ناک اس کے دانتوں میں دے دی۔ پھر میں نے اس کی کُہنی اپنی پسلیوں میں چبھو دی اور دھڑام سے اس کا مُکہ اپنی کمر میں رسید کیا۔ پھر زور سے اس کا تھپڑ اپنے منہ پر مارا۔ پھر میں نے اس کی ٹھوکر جو اپنے سینے میں لگائی ہے تو بس۔۔"

 

 

 

دجلہ

 

اقتباس

 

    خبردار یہ پہلی دفعہ ہے

    اگلے روز منصور نے پوچھا کہ اب ایک صحرا نشیں شیخ سے ملو گے، میں نے بدوں کی مہمان نوازی کی کہانیاں سنی تھیں کہ جو بدو شہروں سے دور صحرا میں رہتے ہیں وہ واقعی مہمانوں کو سرآنکھوں پر لیتے ہیں۔ کوئی آ جائے تو یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ صاحب گھر میں نہیں ہیں،یا نہا رہے ہیں بلکہ یہ شعر پڑھا جاتا ہے اے ہمارے معزز مہمان آپ دور سے تشریف لائے، ہماری عزت افزائی ہوئی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم مہمان ہیں اور آپ صاحب خانہ۔ (مہمان بھی شرافت سے کام لیتا ہے اور اگلی صبح کو روانہ ہو جاتا ہے:))ایسے موقعوں پر میزبان کی بیوی کا نام نہیں لیا جاتا (اگر وہ ڈنر میں شامل نہ ہو تواسے دقیانوسی نہیں سمجھا جاتا;))اتفاقااس کا ذکر آ جائے تو مہمان ادب سے اسے العیال کہتے ہیں۔

    یہ بھی سنا تھا کہ بدو کی دعوت ہمیشہ قبول کر لینی چاہئے۔ایک مرتبہ کسی شیخ نے ایک غیر ملکی کو شادی کی تقریب پر مدعو کیا اس نے معذوری ظاہر کی اور معافی مانگ لی۔چنانچہ صحیح تاریخ پر اسے اغوا کر لیا گیا اور دعوت میں شامل کر کے بعد میں واپس بھیج دیا گیا۔اگلے روز اسے شیخ کا خط ملا ج سمیں شمولیت کا شکریہ ادا کیا  گیا تھا۔

    شیخ کا دعوت نامہ آیا تو ہم سبب بھول گئے۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد نخلستان آیا،شیخ ہمارا منتظرتھا۔ اسی کے لگ بھگ عمر،تانبے جیسارنگ،کشادہ سینہ مسکراتاہواچہرہ،بتیس دانتوں میں سے ایک بھی مصنوعی نہیں تھا اس جوان بوڑھے کو دیکھ کر ہم جوانوں پر بڑھاپا طاری ہو گیا۔کئی مودب ملازم کھڑے تھے لیکن وہ کسی کو ہمارے قریب نہ آنے دیتا، خود سگریٹ پیش کرتا، سلگاتا،راکھدانی سامنے رکھتا،شربت بنا کر دیتا۔ پھر ہم سب کو دوسرے کمرے میں لے گیا دروازہ بند کر کے الماری کھولی"میں خود تواس سے محروم ہوں لیکن معزز مہمان شوق فرمائیں"،اس نے انگریزی میں مخاطب ہو کر کہا۔ الماری میں وہسکی اورسوڈے کی بوتلیں تھیں جن پر گرد جمع تھی۔ طشت میں برف کی ڈالیاں تھیں سب خاموش ہو گئے، کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا۔

    ضیافت بے حد پر تکلف تھی لیکن اس نے ایک لقمہ نہ چکھا مہمانوں کے سامنے چیزیں رکھتا رہا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا۔

    "اس عمر میں ایسی قابل رشک صحت کا راز کیا ہے"برٹن نے پوچھا۔ (جس کے آدھے حصے سے زیادہ دانت مصنوعی تھے)

    "نخلستان میں کئی ایسے ہیں جو مجھ سے بڑے اور مجھ سے زیادہ تندرست ہیں"

    "منصور کہتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی بے حد خوشگوار رہی ہے۔ شادی ہوئے ساٹھ برس گزر گئے لیکن کبھی ام العیال سے لڑائی نہیں ہوئی۔ آپ نے یہ معرکہ کیسے مارا؟"برٹن نے پوچھا۔

    میں اپنے کام میں مصروف رہتا ہوں وہ اپنے کام میں‌لگی رہتی ہے۔اس کی نوبت ہی نہیں آتی۔

    "آپ چھپا رہے ہیں کوئی وجہ تو ضرور ہو گی"۔

    "مدتیں گزری ایک معمولی ساواقعہ پیش آیا تھا میں بے حد مفلس تھا۔ کسی سے اونٹنی مانگ کر شادی کرنے گیا۔ سادہ سی رسم کے بعد بیوی کو اونٹنی پر بٹھا کر واپس روانہ ہوا ایک جگہ اونٹنی بلاکسی وجہ کے مچلنے لگے بہتیرا پیار سے تھپتھپایا لیکن قابو میں نہ آئی۔نیچے اتر کر مہار کھینچی۔ بڑی مشکل سے سیدھی ہوئی۔ تواسے تنبیہ کی۔  اونٹنی!یہ حرکت پہلی دفعہ کی ہے۔ پھر مت کرنا۔ ہم روانہ ہوئے بمشکل آدھ میل گئے ہوں گے کہ جھاڑیوں سے چند پرندے اڑے اور وہ بدک کر کودنے لگے میں چھلانگ لگا کر نیچے اترا، بڑی مصیبتوں سے اسے رام کیا۔اوراس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا خبردار اونٹنی!یہ دوسری دفعہ ہے۔ آگے ایک کھیت میں ذرا ذرا پانی کھڑا تھا وہ پھر مستیاں کرنے لگی میں نے کندھے سے بندوق اتار کر وہیں ہلاک کر دیا۔ بیوی یا تو اب تک بالکل گونگی تھی یا یکلخت بر س پڑی۔ مجھے خر دماغ، ظالم اور بیوقوف کہا کہ طیش میں آ کر اپنا نقصان کر لیا۔ میں نے سب کچھ سن کر اسے تنبیہ کی۔ خبردار بیوی!یہ پہلی دفعہ ہے۔ حضرات ساٹھ برس گزر گئے اوردوسری مرتبہ خبردار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی:)۔

   

 

 

 

انسانی ناک

 

 

    انسانی ناک پر ایک تقریر۔( ولیم سروین کے ناول دی ہیومن کامیڈی سے ایک باب۔ ترجمہ کرنل شفیق الرحمٰن)

 

    ‘‘ تھوڑے ہی دنوں کی بات ہے کہ ایشیائے کوچک میں کھدائی ہوئی تو ایک عظیم الشان سلطنت کے آثار برآمد ہوئے۔۔۔ ’’

    ہومر غنودگی میں تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ عظیم الشان سلطنت کہاں تھی؟ اتھاکا میں؟ کیلیفورنیا میں؟ پھر کیا ہوئی؟ اب نہ اس میں عظیم انسان ہیں، نہ ایجادیں نہ دھوپ گھڑیاں، نہ اعداد و شمار نہ رات منڈل نہ کوئی راگ رنگ، نہ کچھ اور۔ اور کہاں ہے یہ عظیم الشان سلطنت؟

    وہ ہڑ بڑا کر اٹھا اور ادھر ادھر جھانکنے لگا۔ جدھر نگاہیں جاتیں، ہیلن کا چہرہ سامنے آ جاتا۔ سب سے بڑی سلطنت تو یہ چہرہ تھا۔

    ’’ حطیطی مصر کے ساحل پر جا پہنچے اور ملک بھر میں پھیل گئے۔ عبرانی خون میں آمیزش کر کے انہوں نے عبرانیوں کو حطیطیوں جیسی ناک عطا کی۔‘‘

    ہیلن خاموش ہو گئی۔سبق ختم ہو گیا تھا۔

    ‘‘ شاباش ہیلن!۔۔۔ ’’ استانی نے کہا۔

    ہیلن اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔ استانی نے پوچھا۔‘‘ بچو! آج کے سبق سے کیا سیکھا؟’’

    ‘‘یہی کہ دنیا میں ہر شخص کے ناک ہوتی ہے۔’’ ہومر نے جواب دیا۔

    ‘‘ اور کیا سیکھا؟’’

    ‘‘ اور یہ کہ ناک صرف صاف کرنے یا زکام کروانے کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ تاریخ قدیم کے سلسلے میں بھی کام آتی ہے۔’’

    ‘‘ کوئی اور بچہ جواب دے۔’’ استانی نے جماعت کی طرف دیکھا۔

    ‘‘ جی میں تو سبق کی باتیں بتا رہا ہوں۔ ناک اتنی اہم چیز نہ ہوتی تو اس کا ذکر کیوں کیا جاتا۔۔’’ ہومر بولا۔

    ‘‘ تو پھر اٹھو اور انسانی ناک پر تقریر کرو۔’’ استانی نے کہا۔

    تقریر تو کیا کرسکتا ہوں لیکن تاریخ کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ زمانہ ماضی سے لے کر آج تک چہروں پر ہمیشہ ناک رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کلاس میں ہر چہرے کے ساتھ ایک ناک ہے۔ چاروں طرف ناکیں ہی ناکیں ہیں۔ ناک انسانی چہرے کا غالباً مہمل ترین حصہ ہے۔ بنی نوع انسان کو جتنا ناک نے پریشان کیا کسی اور چیز نے نہیں کیا۔ حطیطیوں کی اور بات ہے،  ان کی ناک بے حد نفیس اور عام ناکوں سے مختلف تھی۔ لیکن دھوپ گھڑی کی کی ایجاد کو زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی کیونکہ بعد میں کسی نے اصل گھڑی بنادی۔ اگر اہم ہے تو بس ایک چیز۔۔۔ ناک۔۔۔ ’’

    مسخرہ جوزف بڑے شوق سے سن رہا تھا۔ اسے ہومر کی یہ باتیں بہت اچھی معلوم ہوئیں۔

    کچھ لوگ بالکل ناک میں بولتے ہیں۔ کئی ناک کے ذریعے خراٹے لیتے ہیں۔ کچھ ہمیشہ ناک کی سیدھ میں چلتے ہیں۔ کیئوں کو ناک میں نکیل ڈال کر مطیع کیا جا سکتا ہے۔ انسان ناک گھس کر منتیں کرتا ہے۔ توبہ کرتے وقت ناک رگڑتا ہے۔ ناک میں دم آ جائے تو ناک سے تین سیدھی لکیریں کھینچتا ہے۔ خاندان کی ناک بنا رہتا ہے۔ اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا۔ کسی کی بیہودہ حرکت سے خاندان کی ناک کٹ جاتی ہے۔ موم کی ناک کو جدھر چاہو موڑ لو۔ ناک کا بال ناک سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ بعض لوگ دوسروں کے معاملے میں خواہ مخواہ اپنی ناک ٹھونس دیتے ہیں۔ ناک ساکن ہے لیکن چہرہ متحرک ہے۔ اس لیے جہاں چہرہ جاتا ہے ناک کو بھی جاتا پڑتا ہے۔ ناک صرف سونگھنے کے لیے ہے۔ بہت سے لوگ اپنی ناک سے ہی بہت کچھ تاڑ جاتے ہیں۔’’

    ہومر نے ہیوبرٹ کی طرف دیکھا، پھر ہیلن کی طرف، جس کی ناک میں ذرا سا خم تھا۔

    ایسے لوگوں کی ناکوں کا رخ آسمان کی طرف رہتا ہے،  جیسے ناک کے رخ ہی تو بہشت جائیں گے۔ ایک دو جانوں کو چھوڑ کر سب کے نتھنے ہوتے ہیں۔ مکمل ناک فقط انسان کے حصے میں آئی ہے۔ پھر بھی حیوانوں کی قوت شامہ ہم سے تیز ہے۔ میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ناک ہی فساد کی جڑ ہے۔ اسی سے دوستی ٹوٹتی ہے،  لڑائیاں ہوتی ہیں، کنبوں میں پھوٹ پڑتی ہے۔ جنگوں کی اصل وجہ ناک ہے۔ مس ہکس ! میں دوڑ میں چلا جاؤں؟’’

    استانی خوش تھی کہ چھوٹی سی بات کو ہومر نے کس طرح بڑھا چڑھا کر بیان کیا،  لیکن بچوں کو قابو میں رکھنا بھی ضروری تھا۔ اس نے سر ہلا کر کہا‘‘ نہیں ہومر، تم یہیں رہو گے، اور ہیوبرٹ تم بھی۔ اچھا،  اب ناک کو دفع کرو اور جو کچھ پڑھا ہے اس کے متعلق بتاؤ۔’’

    کلاس خاموش تھی۔‘‘ کچھ تو کہو۔’’

کیٹاگری: ادب ومزاح