136

رَبِ کائنات سے محبت


انتہائی عشق ہے 
مجھے اپنے پروردگار سے 
جو کبھی ساتھ چھوڑتا نہیں 
میں گناہ گار ٹھہری 
اس ذات نے اور نواز دیا
میں نے ناشکری کی اور گِلہ کیا
وہ مسکرا دیا 
پھر سے نواز دیا 
میں معافی مانگ کر 
پھر سے گناہ کی مرتکب ٹھہری 
اس نے نظرانداز کیا 
اور رحمتوں سے نواز دیا 
میں نے دعا کے لیئے ہاتھ اُٹھائے 
اس نے لب کھلنے سے پہلے نواز دیا
میرا تکبر ، میرے گناہ بڑھتے گئے 
اسکی نوازشیں بھی بڑھتی گئیں 
ہر ناکامی کا گِلہ اس سے کیا 
ہر کامیابی پر اس کو بھلا دیا 
لیکن پھر بھی وہ نوازتا گیا 
صرف فرض سمجھ کر سجدہ کیا 
اس نے اس کو بھی قبول کیا 
وہ میرے گناہوں پر 
میری کوتاہیوں پر نہیں گیا 
بس اپنی رحمتوں کے در کھولتا گیا 
محبت کو زمانے میں تلاش کیا 
اور اس کو بھلا دیا 
جس نے ہر دکھ سکھ میں ساتھ دیا 
اپنا ہاتھ اس سے چھڑا لیا 
جس نے کبھی میرا دامن خالی نہ چھوڑا 
جب بھی خود کو تنہا پایا 
اس کو اپنی شہ رگ سے زیادہ قریب پایا 
پھر بھی اس کو بھلا دیا 
اور دنیا کو گلے سے لگا لیا 
اور وہ ربِ کائنات ہمیشہ 
میرے لوٹنے کے انتظار میں رہا